ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 62

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ ۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۫ۚ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۶۲﴾
یہی ہے اللہ تمھارا رب، ہر چیز کا پیدا کرنے والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں بہکائے جاتے ہو۔ En
یہی خدا تمہارا پروردگار ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو؟
En
یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر کہاں تم پھرے جاتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) ➊ { ذٰلِكُمُ اللّٰهُ: ذٰلِكُمْ } اسم اشارہ بعید کے لیے استعمال ہوتا ہے، مگر یہاں قریب کے لیے استعمال ہوا ہے۔ قریب کے لیے اسم اشارہ بعید لا کر اس ذات کی عظمت و بلندی اور اس کے انسانی سوچ سے بے حساب بالاتر ہونے کا اظہار مقصود ہے اور {ذٰلِكَ} کے بجائے { ذٰلِكُمْ} کے استعمال کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف کی آیت (۳۲): «‏‏‏‏قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ» کی تفسیر۔
➋ خبر معرفہ ہو تو کلام میں حصر پیدا ہوتا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے یہی ہے اللہ تمھارا رب۔ یہاں { ذٰلِكُمْ} مبتدا ہے، جس کے بعد چار خبریں ہیں، یعنی وہ جس کے متعلق تم نے ابھی سنا کہ وہ آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، جو رات کو سکون کے لیے تاریک اور دن کو حرکت و عمل کے لیے روشن بنانے والا ہے، اسی کا نام اللہ ہے (جس میں تمام صفاتِ کمال جمع ہیں)، کوئی اور اللہ ہونے کا دعوے دار ہے تو لاؤ۔ زمین و آسمان اور لیل و نہار کو پیدا کرنے اور چلانے والے کے سوا کوئی نہیں کہہ سکے گا کہ میں اللہ ہوں۔
➌ {رَبُّكُمْ:} یہی تمھارا رب ہے، تمھاری پرورش کرنے والا اور تمھیں ضرورت کی ہر چیز مہیا کرنے والا۔ اس کے علاوہ اور کوئی تمھارا رب نہیں۔
➍ { خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ:} زمین و آسمان اور دن رات ہی کا نہیں بلکہ وہ ہر چیز کا خالق ہے، اس کے سوا کسی نے ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حج (۷۳، ۷۴)۔
➎ { لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} یہ چوتھی خبر ہے جو پہلے سارے کلام کا خلاصہ ہے کہ (یہ جو رات کو سکون والا اور دن کو روشن بنانے والا ہے) (1) یہی اللہ (تمام صفاتِ کمال کا جامع) ہے۔ (2) یہی رب ہے۔ (3) یہی ہر چیز کا خالق ہے۔ (4) اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
➏ { فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ: أَنّٰي} اصل میں جگہ کے متعلق استفہام کے لیے آتا ہے، یعنی کہاں سے؟ کس جگہ سے؟ مگر موقع محل کے مطابق کیفیت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، یعنی کس طرح؟ کیسے؟ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اکیلا مستحق عبادت اور پکارنے کے لائق ہونا ان دلائل کی روشنی میں بالکل واضح ہے، پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں سے کسی نے تمھیں اس کی عبادت سے پھیر کر اس مخلوق کی عبادت اور اسے پکارنے کی طرف لگا دیا جس کا اپنا وجود اس کے اختیار میں نہیں؟ اور تم کس طرح اس واضح اور روشن راستے سے بھٹک کر شرک و ضلالت کے اندھیروں میں گم ہو رہے ہو؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62۔ 1 یعنی پھر تم اس کی عبادت سے کیوں بدکتے ہو اور اس کی توحید سے کیوں پھرتے اور بھاگتے ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ یہ ہے تمہارا پروردگار! جو ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پھر تم کہاں سے بہکائے جاتے ہو [82]
[82] یعنی ایک عام اور معمولی عقل رکھنے والے انسان کو بھی ایسے سادہ اور عام فہم دلائل کی سمجھ آسکتی ہے مگر اسے بہکانے والے کوئی اور حضرات ہیں جن کے شرکیہ رسوم کے ساتھ اپنے ذاتی مفادات وابستہ ہیں۔ ایسے ہی لوگوں نے عام الناس کو اپنے جال میں اس طرح پھنسا رکھا ہے کہ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آنے دیتے کہ کس خوبصورتی کے ساتھ انہیں اصل راہ سے پھیر دیا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

احسانات و انعامات کا تذکرہ ٭٭
اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کر دینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔
پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بیدلیل و حجت، غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لیے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضاء سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔
پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورۃ البقرہ میں فرمایا «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ» ‏‏‏‏ [2-البقرہ: 21]‏‏‏‏، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر، ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ» ‏‏‏‏پڑھنے والے کو ساتھ ہی «‏‏‏‏الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» بھی پڑھنا چاہیئے تاکہ اس آیت پر عمل ہو جائے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہی جب تک «‏‏‏‏فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» پڑھے تو «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ» کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ لیا کر۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے سلام کے بعد «‏‏‏‏لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ لاَ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِیَّاہُ لَہُ النِّعْمَة وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَاء الْحَسَنُ، لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ، وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ» پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:594:صحیح]‏‏‏‏۔