ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 61

اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِتَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَ النَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اللہ وہ ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی، تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن(بنایا)۔ بے شک اللہ یقینا لوگوں پر بڑے فضل والا ہے اور لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ En
خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا (کہ اس میں کام کرو) بےشک خدا لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
En
اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے رات بنادی کہ تم اس میں آرام حاصل کرو اور دن کو دیکھنے واﻻ بنا دیا، بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل وکرم واﻻ ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 61) ➊ { اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ:} ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بیان کرتے ہوئے توحید اور آخرت دونوں مضامین ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
➋ { وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا:} اس جملے میں احتباک ہے، یعنی دو جملوں کا ایک ایک حصہ دوسرے جملے کے قرینے کی وجہ سے حذف کر دیا ہے، جو کلام کے کمال جامعیت اور بلاغت کا آئینہ دار ہے۔ مفصل عبارت یوں تھی: { اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ مُظْلِمًا لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا لِتَعْمَلُوْا فِيْهِ } یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے رات کو تاریک بنا دیا، تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا، تاکہ تم اس میں کام کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ نعمت متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے یاد کروائی ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۷)، فرقان (۴۷)، بنی اسرائیل (۱۲)، قصص (۷۱ تا ۷۳) اور لقمان (۲۹)۔
➌ { اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ: لَذُوْ فَضْلٍ } پر تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو کچھ عطا فرمایا ہے (زمین و آسمان، رات، دن، سورج، چاند اور خود ان کا وجود وغیرہ) وہ ان کا اللہ پر کوئی حق یا قرض نہیں بلکہ محض اس کا فضل ہے اور فضل بھی بہت بڑا کہ اس نے انھیں ضرورت کی ہر چیز بخشی، فرمایا: «وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا» ‏‏‏‏ [إبراہیم: ۳۴] اور تمھیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پاؤ گے۔ پھر انھیں عقل و تمیز عطا فرما کر مہلت بخشی اور نافرمانیوں کے باوجود فوراً گرفت نہیں فرمائی۔ مومن و کافر سب کو نعمتوں سے نوازتا ہے۔ یہ سب اس اکیلے کی پیدا کردہ اور عطا کردہ نعمتیں ہیں۔
➍ {وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ:} جب اس اکیلے نے رات دن کا یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور یہ تمام نعمتیں عطا فرمائی ہیں، کسی اور کا ان میں ذرہ برابر دخل نہیں، تو حق تو یہ تھا کہ اس کا شکر ادا کرتے، صرف اسی کو اپنا رب مانتے، اسی سے دعا کرتے اور اس کی آیات اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے، مگر ایسے لوگ بہت کم نکلے۔ اکثر لوگ ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتے، بلکہ مالک کے ساتھ شریک بنا کر اس کی ناشکری اور غداری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہر روز انھیں نیند اور بیداری کی صورت میں موت کے بعد زندگی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ حق یہ تھا کہ اس روزانہ کے موت وحیات کے مشاہدے کے بعد قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے تمام مخلوق کو زندہ کرنے کی قدرت پر ایمان رکھتے اور اس دن کے لیے تیاری کرتے، مگر انھوں نے اللہ کی نعمتوں کا شکر نہیں کیا، بلکہ ناشکری کی اور قیامت کے انکار پر جمے رہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

61۔ 1 یعنی رات کو تاریک بنایا، تاکہ کاروبار زندگی معطل ہوجائیں اور لوگ امن اور سکون سے سو سکیں۔ 61۔ 2 یعنی روشن بنایا تاکہ معاشی محنت اور تگ و دو میں تکلیف نہ ہو۔ 61۔ 2 اللہ کی نعمتوں کا اور نہ ان کا اعتراف ہی کرتے ہیں یا تو کفر وجحود کی وجہ سے جیسا کہ کافروں کا شیوہ ہے یا منعم کے واجبات شکر سے اہمام و غفلت کی وجہ سے جیسا کہ جاہلوں کا شعار ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی [80] تاکہ تم اس میں آرام کر سکو اور دن کو روشن بنا دیا۔ اللہ تو یقیناً لوگوں پر بڑا صاحب فضل [81] ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
[80] ہر جاندار میں کام اور آرام کا خود کار نظام :۔
رات کو نہ سورج کی گرمی ستاتی ہے اور نہ ہی سورج جیسی تیز روشنی ہوتی ہے۔ تاریکی اور مناسب حد تک ٹھنڈک یہ دونوں باتیں نیند اور آرام کرنے کے لئے ساز گار ہیں۔ اور دن کو کام کاج کے لئے روشن بنایا کہ اس میں کسی مصنوعی روشنی کے بغیر ہی کام چل سکتا ہے۔ رات اور دن کو اللہ تعالیٰ نے دلیل توحید کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دن اور رات سورج کے اور زمین کے درمیان ایک انتہائی باقاعدہ نظام کی نشان دہی کرتے ہیں۔ جس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ سورج اور اس زمین کا خالق، مالک اور ان پر کنٹرول کرنے والی ہستی ایک ہی ہو سکتی ہے۔ اگر ان سیاروں کے مالک الگ الگ دیوتا ہوتے جیسا کہ مشرکوں کا خیال ہے تو یہ دن رات کا نظام کبھی باقاعدگی کے ساتھ چل نہیں سکتا تھا۔ پھر اسی رات اور دن کے نظام میں اور رات کو آرام کرنے اور دن کو کام کرنے میں اللہ تعالیٰ کے حیران کن عجائبات ہیں۔ دن کو کام کرتے وقت انسان کے بے شمار خلیے ضائع اور تباہ ہوتے رہتے ہیں۔ رات کو جب انسان آرام کرتا ہے تو نیند کی حالت میں ان ضائع شدہ خلیوں کی جگہ دوسرے نئے خلیے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور جب یہ کام ٹھیک طور پر مکمل ہو چکتا ہے تو انسان جاگ اٹھتا ہے۔ گویا اس کا آرام کا وقت پورا ہو گیا۔ پھر وہ نئے سرے سے تازہ دم ہو کر صبح کو پھر سے کام کاج کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا یہ نظام خود کار ہے۔ اگر انسان کام کرنے کے بعد آرام نہ کرے تو نیند اسے جہاں بھی ہو دبا لیتی ہے اور اسے اضطراراً آرام کرنا پڑتا ہے۔ اگر پھر بھی انسان اپنے اس فطری تقاضے کو پورا نہ کرے یا پورا کرنے میں کوتاہی کرے تو انسان کی صحت تباہ ہو جاتی ہے۔
[81] یعنی اللہ تعالیٰ کی تو انسان پر اس قدر عنایات ہیں۔ مگر انسان ایسا ناشکرا اور نمک حرام واقع ہوا ہے کہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

احسانات و انعامات کا تذکرہ ٭٭
اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کر دینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔
پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو؟ جو خود مخلوق ہیں۔ کسی چیز کو انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ جن بتوں کی تم پرستش کر رہے ہو وہ تو خود تمہارے اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے ہیں، ان سے پہلے کے مشرکین بھی اسی طرح بہکے اور بیدلیل و حجت، غیر اللہ کی عبادت کرنے لگے۔ خواہش نفسانی کو سامنے رکھ کر اللہ کے دلائل کی تکذیب کی۔ اور جہالت کو آگے رکھ کر بہکتے بھٹکتے رہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لیے قرار گاہ بنایا۔ یعنی ٹھہری ہوئی اور فرش کی طرح بچھی ہوئی کہ اس پر تم اپنی زندگی گزارو چلو پھر آؤ جاؤ۔ پہاڑوں کو اس پر گاڑ کر اسے ٹھہرا دیا کہ اب ہل جل نہیں سکتی۔ اس نے آسمان کو چھت بنایا جو ہر طرح محفوظ ہے۔ اسی نے تمہیں بہترین صورتوں میں پیدا کیا۔ ہر جوڑ ٹھیک ٹھاک اور نظر فریب بنایا۔ موزوں قامت مناسب اعضاء سڈول بدن خوبصورت چہرہ عطا فرمایا۔ نفیس اور بہتر چیزیں کھانے پینے کو دیں۔ پیدا کیا، بسایا، اس نے کھلایا پلایا، اس نے پہنایا اوڑھایا۔
پس صحیح معنی میں خالق و رازق وہی رب العالمین ہے۔ جیسے سورۃ البقرہ میں فرمایا «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ» ‏‏‏‏ [2-البقرہ: 21]‏‏‏‏، یعنی لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے بارش نازل فرما کر اس کی وجہ سے زمین سے پھل نکال کر تمہیں روزیاں دیں پس تم ان باتوں کے جاننے کے باوجود اللہ کے شریک اوروں کو نہ بناؤ۔ یہاں بھی اپنی یہ صفتیں بیان فرما کر ارشاد فرمایا کہ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اور سارے جہان کا رب بھی وہی ہے۔ وہ بابرکت ہے۔ وہ بلندی پاکیزگی برتری اور بزرگی والا ہے، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں۔ وہی اول و آخر، ظاہر و باطن ہے۔ اس کا کوئی وصف کسی دوسرے میں نہیں۔ اس کا نظیر یا برابر کوئی نہیں۔ تمہیں چاہیئے کہ اس کی توحید کو مانتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہو، اور اس کی عبادت میں مشغول رہو۔ تمام تر تعریفوں کا مالک اللہ رب العالمین ہی ہے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل علم کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ» ‏‏‏‏پڑھنے والے کو ساتھ ہی «‏‏‏‏الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» بھی پڑھنا چاہیئے تاکہ اس آیت پر عمل ہو جائے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مرودی ہے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہی جب تک «‏‏‏‏فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» پڑھے تو «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ» کہہ لیا کر اور اس کے ساتھ ہی «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ لیا کر۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے سلام کے بعد «‏‏‏‏لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ لاَ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِیَّاہُ لَہُ النِّعْمَة وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَاء الْحَسَنُ، لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ، وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ» پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:594:صحیح]‏‏‏‏۔