(آیت 6){ وَكَذٰلِكَحَقَّتْكَلِمَتُرَبِّكَ …:} اس کی دو تفسیریں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ جس طرح پہلی قوموں پر تیرے رب کے عذاب آنے کی بات ثابت ہو چکی اور وہ تباہ و برباد کر دی گئیں، اسی طرح اب جو لوگ کفر کر رہے ہیں ان پر بھی تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ آگ میں جانے والے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان قوموں پر دنیا میں جو عذاب آیا اسی پر بس نہیں، بلکہ ان کے متعلق دنیا کے عذاب کی طرح تیرے رب کی یہ بات بھی طے ہو چکی ہے کہ آخرت میں بھی وہ آگ میں رہنے والے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 4 مقصد اس سے اس بات کا اظہار ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں پر تیرے رب کا عذاب ثابت ہوا اور وہ تباہ کردی گئیں اگر یہ اہل مکہ بھی تیری تکذیب اور مخالفت سے باز نہ آئے اور جدل بالباطل کو ترک نہ کیا تو یہ بھی اسی طرح عذاب الہی کی گرفت میں آجائیں گے پھر کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ اسی طرح آپ کے پروردگار کا یہ حکم ان لوگوں پر صادق آ گیا کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہی اہل دوزخ [5] ہیں
[5] ایسے منکرین حق کے معاملہ میں ایک تو یہ بات حق ثابت ہو کے رہتی ہے کہ اللہ انہیں ایسا کچل کے رکھ دیتا ہے کہ ان کا زمین میں دندنانا یکسر موقوف ہو جاتا ہے۔ اور یہ سزا تو انہیں دنیا میں ملتی ہے اور دوسری یہ بات حق ثابت ہوتی ہے کہ آخرت میں انہیں جہنم کے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں