ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 53

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡہُدٰی وَ اَوۡرَثۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ ﴿ۙ۵۳﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو ہدایت دی اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا۔ En
اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت (کی کتاب) دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا
En
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ عطا فرمایا اور بنو اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 53) ➊ { وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْهُدٰى:} اس آیت میں اس نصرت کا بیان ہے جس کا ذکر پچھلی آیت { اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا } میں ہوا۔ واؤ کے ساتھ عطف اس بات پر ہے جس کا ذکر پیچھے گزرا اور جو یہاں مقدر ہے کہ ہم نے موسیٰ اور ایمان والوں کی مدد فرعون اور اس کے لشکروں کو غرق کرکے انھیں نجات دینے کے ساتھ کی اور یقینا ہم نے موسیٰ کو ہدایت عطا فرمائی۔ اس ہدایت میں نبوت، معجزات، تورات اور ہر مشکل میں رہنمائی سب شامل ہیں۔
➋ {وَ اَوْرَثْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ الْكِتٰبَ:} نبوت تو موسیٰ علیہ السلام کو ملی اور وہ صرف نبی ہی کو ملتی ہے، البتہ اس کی کتاب اور اس کے علوم کی وارث اس کی امت بنتی ہے، جیسا کہ ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: [إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَ إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوْا دِيْنَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ] [أبوداوٗد، العلم، باب في فضل العلم: ۳۶۴۱] علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار اور درہم کا وارث نہیں بنایا، انھوں نے صرف علم کا وارث بنایا۔ تو جس نے اسے حاصل کر لیا، اس نے بہت زیادہ حصہ حاصل کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ملنے والی کتاب تورات کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا، وہ نسلاً بعد نسل اسے پڑھتے پڑھاتے اور اس پر عمل کرتے رہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

53۔ 1 یعنی نبوت اور تورات عطا کی جیسے فرمایا (اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ) 5۔ المائدہ:44) 53۔ 1 یعنی تورات، حضرت موسیٰ ؑ کے بعد بھی باقی رہی، جس کے نسلاً بعد نسل وہ وارث ہوتے رہے۔ یا کتاب سے مراد وہ تمام کتابیں ہیں جو انبیائے بنی اسرائیل پر نازل ہوئیں، ان سب کتابوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ ہم نے موسیٰ کو ہدایت [69] عطا کی اور بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) کا وارث بنا دیا [70]۔
[69] یعنی سیدنا موسیٰؑ کو فرعون جیسے جابر اور ظالم حکمران کے پاس بھیجا۔ تو ساتھ ہی ساتھ ان کی رہنمائی بھی کرتے رہے کہ اب آگے انہیں کون سا قدم اٹھانا چاہئے تاآنکہ انہیں اور ان کی مظلوم قوم کو فرعون کی چیرہ دستیوں سے نجات دلا کر انہیں کامیابی سے ہمکنار کریں۔
[70] کتاب کے وارثوں کی ذمہ داریاں :۔
فرعون کی غرقابی کے بعد موسیٰؑ کو جو کتاب تورات عطا فرمائی اس میں اہل عقل و خرد کے لئے سبق حاصل کرنے کے لئے بھی بہت کچھ سامان موجود تھا اور دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے بھی وہ زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی مہیا کرتی تھی۔ ہم نے اس عظیم الشان کتاب کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا تاکہ وہ دنیا میں ہدایت کے علمبردار بن کر اٹھیں۔ ان آیات میں دراصل مسلمانوں کو تسلی بھی دی گئی ہے اور خوشخبری بھی۔ مسلمان اس وقت ایسے ہی حالات سے دوچار تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ وہ اپنے نبی اور مسلمانوں کو اسی حال میں نہیں چھوڑے گا بلکہ قدم قدم پر ان کی رہنمائی بھی فرمائے گا۔ تاآنکہ وہ کامیابی سے ہمکنار ہو جائیں پھر انہیں جو کتاب (قرآن) دی جا رہی ہے مسلمانوں کو ہی اس کا وارث بنایا جائے گا تاکہ وہ اسے دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں اور تمام لوگوں کی ہدایت کا فریضہ سرانجام دیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔