یَعۡلَمُ خَآئِنَۃَ الۡاَعۡیُنِ وَ مَا تُخۡفِی الصُّدُوۡرُ ﴿۱۹﴾
وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔
En
وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)
En
وه آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیده باتوں کو (خوب) جانتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 19) {يَعْلَمُ خَآىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ …: ” خَآىِٕنَةَ “ ”خَانَ يَخُوْنُ“} (ن) سے {”فَاعِلَةٌ“} کے وزن پر مصدر ہے، جیسا کہ {”عَافِيَةٌ“ } ہے اور یہ اسم فاعل بھی ہو سکتا ہے۔ اسم فاعل ہونے کی صورت میں دراصل {”اَلْأَعْيُنُ الْخَائِنَةُ“} تھا، پھر صفت کو موصوف کی طرف مضاف کر دیا۔ معنی ” خیانت کرنے والی آنکھیں“ ہو گا۔ مصدر ہونے کی صورت میں معنی واضح ہے اور وہ ہے ”آنکھوں کی خیانت“، یعنی اللہ تعالیٰ کفار کے حق میں سفارش قبول نہیں کرے گا۔ اگر کسی نے کسی شبہ کی بنا پر غلطی سے کر بھی دی تو مانی نہیں جائے گی، کیونکہ سفارش کرنے والے کو اس کے کفر کا پورا اندازہ نہیں ہو گا، جب کہ اللہ تعالیٰ نہ ایسے لوگوں کے حق میں سفارش کی اجازت دے گا نہ سفارش قبول کرے گا، کیونکہ وہ تو آدمی کے ظاہر اعمال ہی نہیں پوشیدہ معاملات کو بھی جانتا ہے، جن میں سے آنکھوں کی خیانت اور دلوں کی چھپائی ہوئی باتیں سب سے زیادہ مخفی چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں بھی جانتا ہے، تو وہ کسی کے دل کے کفر و شرک کا علم رکھتے ہوئے اس کے حق میں سفارش کیسے قبول کر سکتا ہے؟ انسان کے ظاہری اعضا کے اعمال میں سب سے پوشیدہ عمل آنکھ کے مختلف اعمال ہیں۔ مثلاً لوگوں سے چوری کسی کو دیکھنا جسے دیکھنا حرام ہے اور آنکھ کے اشارے سے ناجائز تعلق قائم کر لینا وغیرہ اور باطنی اعضا میں سے دل کے وہ اعمال ہیں جن کا آدمی کبھی اظہار نہیں کرتا،بلکہ انھیں چھپا کر رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے آنکھوں کی خیانت اور دل کے چھپائے ہوئے سب اعمال معلوم ہیں۔ قیامت کے دن ایسی تمام خیانتیں اور دلوں میں چھپائے ہوئے اعمال سب ظاہر کر دیے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُ» [الطارق: ۹] ”جس دن چھپی ہوئی باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس میں اللہ تعالیٰ کے علم کامل کا بیان ہے کہ اسے تمام اشیا کا علم ہے چھوٹی ہو یا بڑی باریک ہو یا موٹی اعلی مرتبے کی ہو یا چھوٹے مرتبے کی اس لیے انسان کو چاہیے کہ جب اس کے علم و احاطہ کا یہ حال ہے تو اس کی نافرمانی سے اجتناب اور صحیح معنوں میں اس کا خوف اپنے اندر پیدا کرے آنکھوں کی خیانت یہ ہے کہ دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا جائے جیسے راہ چلتے کسی حسین عورت کو کنکھیوں سے دیکھنا سینوں کی باتوں میں وہ وسوسے بھی آجاتے ہیں جو انسان کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں وہ جب تک وسوسے ہی رہتے ہیں یعنی ایک لمحہ گزراں کی طرح آتے اور ختم ہوجاتے ہیں تب تک تو وہ قابل مواخذہ نہیں ہوگے لیکن جب وہ عزائم کا روپ دھار لیں تو پھر ان کا مواخذہ ہوسکتا ہے چاہے ان پر عمل کرنے کا انسان کو موقع نہ ملے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ اللہ تعالیٰ نگاہوں کی خیانت [27] کو بھی جانتا ہے اور ان مخفی باتوں کو بھی جو سپنوں نے چھپا رکھی ہیں
[27] آنکھوں کی حرکات کی اقسام :۔
آنکھوں کی بے شمار حرکات ہوتی ہیں۔ جن میں اکثر مذموم اور خَائِنَۃَ الاَعْیُنِ کے ضمن میں آتی ہیں۔ مثلاً بطور طعن و تشنیع آنکھیں مارنا پھر استہزاء کی نظر اور طرح ہوتی ہے پھر آنکھوں آنکھوں میں باتیں بھی ہوتی ہیں۔ دوسروں سے آنکھیں بچا کر غیر محرم عورتوں کو بد نظری سے چوری چھپے دیکھا بھی جاتا ہے۔ اللہ آنکھوں کے ان سب قسم کے اشاروں کو بھی جانتا ہے اور دلوں میں پیدا ہونے والے جن خیالات کے نتیجہ میں آنکھیں ایسے اشارے اور حرکات کرتی ہیں وہ ان خیالات تک سے بھی واقف ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے ٭٭
«الْآزِفَةِ» قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لیے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے «اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ» [53- النجم: 57]، یعنی قریب آنے والی قریب ہو چکی ہے، جس کا کھولنے والا بجز اللہ کے کوئی نہیں اور جگہ ارشاد ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54- القمر: 1]، قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمان ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» [21- الأنبياء: 1] لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور فرمان ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» [16-النحل: 1] اللہ کا امر آ چکا اس میں جلدی نہ کرو اور آیت میں ہے «فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقِيْلَ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ» [67- الملك: 27] جب اسے قریب دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے سیاہ پڑ جائیں گے۔
الغرض اسی نزدیکی کی وجہ سے قیامت کا نام «ازِفَةِ» ہے۔ اس وقت کلیجے منہ کو آ جائیں گے۔ وہ خوف و ہراس ہو گا کہ کسی کا دل ٹھکانے نہ رہے گا۔ سب پر غضب کا سناٹا ہو گا۔ کسی کے منہ سے کوئی بات نہ نکلے گی۔ کیا مجال کہ بے اجازت کوئی لب ہلا سکے۔ سب رو رہے ہوں گے اور حیران و پریشان ہوں گے۔
جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کا آج کوئی دوست غمگسار نہ ہو گا جو انہیں کام آئے۔ نہ شفیع اور سفارشی ہو گا جو ان کی شفاعت کے لیے زبان ہلائے۔ بلکہ ہر بھلائی کے اسباب کٹ چکے ہوں گے، اس اللہ کا علم محیط کل ہے۔ تمام چھوٹی بڑی چھپی کھلی باریک موٹی اس پر یکساں ظاہر باہر ہیں، اتنے بڑے علم والے سے جس سے کوئی چیز مخفی نہ ہو ہر شخص کو ڈرنا چاہیئے اور کسی وقت یہ خیال نہ کرنا چاہیئے کہ اس وقت وہ مجھ سے پوشیدہ ہے اور میرے حال کی اسے اطلاع نہیں۔ بلکہ ہر وقت یہ یقین کر کے وہ مجھے دیکھ رہا ہے اس کا علم میرے ساتھ ہے اس کا لحاظ کرتا رہے اور اس کے رو کے ہوئے کاموں سے رکا رہے۔ آنکھ جو خیانت کے لیے اٹھتی ہے گو بظاہر وہ امانت ظاہر کرے۔ لیکن رب علیم پر وہ مخفی نہیں سینے کے جس گوشے میں جو خیال چھپا ہو اور دل میں جو بات پوشیدہ اٹھتی ہو اس کا اسے علم ہے۔
جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کا آج کوئی دوست غمگسار نہ ہو گا جو انہیں کام آئے۔ نہ شفیع اور سفارشی ہو گا جو ان کی شفاعت کے لیے زبان ہلائے۔ بلکہ ہر بھلائی کے اسباب کٹ چکے ہوں گے، اس اللہ کا علم محیط کل ہے۔ تمام چھوٹی بڑی چھپی کھلی باریک موٹی اس پر یکساں ظاہر باہر ہیں، اتنے بڑے علم والے سے جس سے کوئی چیز مخفی نہ ہو ہر شخص کو ڈرنا چاہیئے اور کسی وقت یہ خیال نہ کرنا چاہیئے کہ اس وقت وہ مجھ سے پوشیدہ ہے اور میرے حال کی اسے اطلاع نہیں۔ بلکہ ہر وقت یہ یقین کر کے وہ مجھے دیکھ رہا ہے اس کا علم میرے ساتھ ہے اس کا لحاظ کرتا رہے اور اس کے رو کے ہوئے کاموں سے رکا رہے۔ آنکھ جو خیانت کے لیے اٹھتی ہے گو بظاہر وہ امانت ظاہر کرے۔ لیکن رب علیم پر وہ مخفی نہیں سینے کے جس گوشے میں جو خیال چھپا ہو اور دل میں جو بات پوشیدہ اٹھتی ہو اس کا اسے علم ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت سے مراد وہ شخص ہے جو مثلاً کسی گھر میں گیا وہاں کوئی خوبصورت عورت ہے یا وہ آ جا رہی ہے یا تو یہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتا ہے جہاں کسی کی نظر پڑی تو نگاہ پھیرلی اور جب موقعہ پایا آنکھ اٹھا کر دیکھ لیا پس خائن آنکھ کی خیانت کو اور اس کے دل کے راز کو اللہ علیم خوب جانتا ہے کہ اس کے دل میں تو یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو پوشیدہ عضو بھی دیکھ لے۔ حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آنکھ مارنا اشارے کرنا اور بن دیکھی چیز کو دیکھی ہوئی یا دیکھی ہوئی چیز کو ان دیکھی بتانا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ نگاہ جس نیت سے ڈالی جائے اللہ پر روشن ہے۔ پھر سینے میں چھپا ہوا خیال کہ اگر موقعہ ملے اور بس ہو تو آیا یہ بدکاری سے باز رہے گا یا نہیں۔ یہ بھی وہ جانتا ہے۔ حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دلوں کے وسوسوں سے وہ آگاہ ہے، وہ عدل کے ساتھ حکم کرتا ہے قادر ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی دے اور برائی کی سزا بری دے۔ وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ وہ بروں کو ان کی کرنے کی سزا اور بھلوں کو ان کی بھلائی کی جزا عنایت فرمائے گا۔
جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں خواہ وہ بت اور تصویریں ہوں خواہ اور کچھ وہ چونکہ کسی چیز کے مالک نہیں ان کی حکومت ہی نہیں تو حکم اور فیصلے کریں گے ہی کیا؟ اللہ اپنی مخلوق کے اقوال کو سنتا ہے۔ ان کے احوال کو دیکھ رہا ہے جسے چاہے راہ دکھاتا ہے جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اس کا اس میں بھی سرا سر عدل و انصاف ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ نگاہ جس نیت سے ڈالی جائے اللہ پر روشن ہے۔ پھر سینے میں چھپا ہوا خیال کہ اگر موقعہ ملے اور بس ہو تو آیا یہ بدکاری سے باز رہے گا یا نہیں۔ یہ بھی وہ جانتا ہے۔ حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دلوں کے وسوسوں سے وہ آگاہ ہے، وہ عدل کے ساتھ حکم کرتا ہے قادر ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی دے اور برائی کی سزا بری دے۔ وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ وہ بروں کو ان کی کرنے کی سزا اور بھلوں کو ان کی بھلائی کی جزا عنایت فرمائے گا۔
جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں خواہ وہ بت اور تصویریں ہوں خواہ اور کچھ وہ چونکہ کسی چیز کے مالک نہیں ان کی حکومت ہی نہیں تو حکم اور فیصلے کریں گے ہی کیا؟ اللہ اپنی مخلوق کے اقوال کو سنتا ہے۔ ان کے احوال کو دیکھ رہا ہے جسے چاہے راہ دکھاتا ہے جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اس کا اس میں بھی سرا سر عدل و انصاف ہے۔