یَوۡمَ ہُمۡ بٰرِزُوۡنَ ۬ۚ لَا یَخۡفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنۡہُمۡ شَیۡءٌ ؕ لِمَنِ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ؕ لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۱۶﴾
جس دن وہ صاف ظاہر ہوں گے، ان کی کوئی چیز اللہ پر چھپی نہ ہوگی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ اللہ ہی کی جو ایک ہے، بہت دبدبے والا ہے۔
En
جس روز وہ نکل پڑیں گے ان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہت ہے؟ خدا کی جو اکیلا اور غالب ہے
En
جس دن سب لوگ ﻇاہر ہو جائیں گے، ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیده نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ فقط اللہ واحد و قہار کی
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 16) ➊ {يَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ …:} یعنی ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہر وقت ظاہر ہے، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ اگرچہ دنیا میں کچھ لوگ اپنے خیال کے مطابق اپنے آپ کو کسی مکان یا غار وغیرہ میں یا کپڑوں میں چھپا لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے چھپ گئے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اَلَاۤ اِنَّهُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَ مَا يُعْلِنُوْنَ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ» [ھود: ۵] ”سن لو! بلاشبہ وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں، تاکہ اس سے اچھی طرح چھپے رہیں، سن لو! جب وہ اپنے کپڑے اچھی طرح لپیٹ لیتے ہیں وہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ بے شک وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے۔“ مگر قیامت کے دن زمین پر کوئی اوٹ نہیں رہے گی، جس میں وہ چھپ سکیں، بلکہ سب کے سب صاف ظاہر ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا (105) فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا (106) لَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًا» [طٰہٰ: ۱۰۵ تا ۱۰۷] ”اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو تٌو کہہ دے میرا رب انھیں اڑا کر بکھیر دے گا۔ پھر انھیں ایک چٹیل میدان بنا کرچھوڑے گا۔ جس میں تو نہ کوئی کجی دیکھے گا اور نہ کوئی ابھری جگہ۔“ اس دن تو کسی کے جسم پر کوئی کپڑا بھی نہیں ہو گا، ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّكُمْ مُّلاَقُو اللّٰهِ حُفَاةً عُرَاةً مُشَاةً غُرْلاً] [بخاري، الرقاق، باب کیف الحشر: ۶۵۲۴]”تم اللہ تعالیٰ سے ننگے پاؤں، ننگے بدن، پیدل چلنے والے، بغیر ختنہ کیے ہوئے ملو گے۔“ مزید دیکھیے سورۂ ابراہیم (۲۱، ۴۸) اور سورۂ حاقہ (۱۳ تا ۱۸)۔
➋ { لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ:} یعنی دنیا میں بہت سے لوگ اپنی بادشاہی اور بڑائی کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے اور بہت سے لوگ ان کی بادشاہی اور کبریائی مانتے رہے، مگر اب بتاؤ کہ آج ساری بادشاہی کا مالک کون ہے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: [يَقْبِضُ اللّٰهُ الْأَرْضَ، وَيَطْوِي السَّمٰوَاتِ بِيَمِيْنِهِ، ثُمَّ يَقُوْلُ أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوْكُ الْأَرْضِ؟] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «والأرض جمیعًا قبضتہ…» : ۴۸۱۲] ”اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا، میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟“
➌ { لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ:} جب کوئی جواب دینے والا نہیں ہو گا تو اللہ تعالیٰ خود ہی یہ بات فرمائے گا، جیسا کہ پچھلے فائدے میں حدیث گزری۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ آیت میں اس وقت کا ذکر ہے جب سب لوگ میدان حشر میں صاف ظاہر ہوں گے، ان کی کوئی چیز اللہ پر چھپی نہ ہو گی، اس وقت اللہ تعالیٰ پوچھے گا: «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ» ” آج کس کی بادشاہی ہے؟“ ظاہر ہے اس وقت وہ سب لوگ جو وہاں جمع ہوں گے وہی یہ جواب دیں گے۔ نیک لوگ خوشی سے اور برے لوگ یہ بات بادل ناخواستہ کہیں گے، کیوں کہ کسی کے پاس اس کے سوا چارہ نہیں ہو گا۔ رہی حدیث، تو وہ اس موقع کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو لپیٹے گا اور یہ بات فرمائے گا۔ گویا اللہ تعالیٰ اکیلے کی بادشاہت کا اظہار و اقرار متعدد بار ہو گا۔
➋ { لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ:} یعنی دنیا میں بہت سے لوگ اپنی بادشاہی اور بڑائی کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے اور بہت سے لوگ ان کی بادشاہی اور کبریائی مانتے رہے، مگر اب بتاؤ کہ آج ساری بادشاہی کا مالک کون ہے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: [يَقْبِضُ اللّٰهُ الْأَرْضَ، وَيَطْوِي السَّمٰوَاتِ بِيَمِيْنِهِ، ثُمَّ يَقُوْلُ أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوْكُ الْأَرْضِ؟] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «والأرض جمیعًا قبضتہ…» : ۴۸۱۲] ”اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا، میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟“
➌ { لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ:} جب کوئی جواب دینے والا نہیں ہو گا تو اللہ تعالیٰ خود ہی یہ بات فرمائے گا، جیسا کہ پچھلے فائدے میں حدیث گزری۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ آیت میں اس وقت کا ذکر ہے جب سب لوگ میدان حشر میں صاف ظاہر ہوں گے، ان کی کوئی چیز اللہ پر چھپی نہ ہو گی، اس وقت اللہ تعالیٰ پوچھے گا: «لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ» ” آج کس کی بادشاہی ہے؟“ ظاہر ہے اس وقت وہ سب لوگ جو وہاں جمع ہوں گے وہی یہ جواب دیں گے۔ نیک لوگ خوشی سے اور برے لوگ یہ بات بادل ناخواستہ کہیں گے، کیوں کہ کسی کے پاس اس کے سوا چارہ نہیں ہو گا۔ رہی حدیث، تو وہ اس موقع کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کو لپیٹے گا اور یہ بات فرمائے گا۔ گویا اللہ تعالیٰ اکیلے کی بادشاہت کا اظہار و اقرار متعدد بار ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
16۔ 1 یعنی زندہ ہو کر قبروں سے نکل کھڑے ہونگے۔ 16۔ 1 یہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ پوچھے گا جب سارے انسان اس کے سامنے میدان محشر میں جمع ہوں گے اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور کہے گا میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ (صحیح بخاری)، 16۔ 1 جب کوئی نہیں بولے گا تو یہ جواب اللہ تعالیٰ خود ہی دے گا بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک فرشتہ منادی کرے گا جس کے ساتھ ہی تمام کافر اور مسلمان بیک آواز یہی جواب دیں گے۔ فتح القدیر
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ جس دن سب لوگ کھلے میدان میں ہوں گے اور ان کی کوئی بات بھی اللہ سے چھپی نہ رہے گی (اور پوچھا جائے گا کہ) آج حکومت کس [21] کی ہے؟ (پھر خود ہی فرمائے گا:) اللہ اکیلے کی جو سب پر غالب ہے
[21] قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ کا دنیا کے بادشاہوں سے خطاب :۔
قیامت کے دن ایک وقت ایسا آئے گا جب ہر ایک کو اپنی اپنی ہی پڑی ہو گی۔ سب قیامت کی ہولناکیوں سے دہشت زدہ ہوں گے کسی کو کلام کرنے کی نہ فرصت ہو گی اور نہ جرأت۔ ہر طرف مکمل سکوت اور سناٹا چھایا ہو گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ سب کو مخاطب کر کے پوچھے گا۔ آج دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں؟ جابر کہاں ہیں اور متکبرین کہاں ہیں؟ بولو! آج کے دن بادشاہی کس کی ہے؟ اس سوال کا کوئی جواب نہ دے گا۔ حتیٰ کہ چالیس برس ایسے ہی سناٹے میں گزر جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ خود ہی اس سوال کا جواب دیں گے کہ آج بادشاہی صرف اکیلے اللہ کی ہے۔ جو ہر چیز کو دبا کے رکھے ہوئے ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے جیسے ارشاد ہے «مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ» [70- المعارج: 4، 3]، یعنی وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے۔ کہ فرشتے اور روح اس کے پاس چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور اس بات کا بیان ان شاءاللہ آگے آئے گا کہ یہ دوری ساتویں زمین سے لے کر عرش تک کی ہے، جیسے سلف و خلف کی ایک جماعت کا قول ہے اور یہی راجح بھی ہے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی وسعت پچاس ہزار سال کی ہے اور جس کی اونچائی ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال کی ہے اور اس سے پہلے اس حدیث میں جس میں فرشتوں کا عرش اٹھانا بیان ہوا ہے یہ بھی گذر چکا ہے کہ ساتوں آسمانوں سے بھی وہ بہت بلند اور بہت اونچا ہے وہ جس پر چاہے وحی بھیجے۔ جیسے «يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ» [16- النحل: 2]، وہ فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے ڈرتے رہو اور جگہ فرمان ہے «وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [26- الشعراء: 194-192] یعنی یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے۔ جسے معتبر فرشتے نے تیرے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ جس میں آدم خود اور ان کی اولاد میں سے سب سے آخری بچہ ایک دوسرے سے مل لے گا۔
بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی وسعت پچاس ہزار سال کی ہے اور جس کی اونچائی ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال کی ہے اور اس سے پہلے اس حدیث میں جس میں فرشتوں کا عرش اٹھانا بیان ہوا ہے یہ بھی گذر چکا ہے کہ ساتوں آسمانوں سے بھی وہ بہت بلند اور بہت اونچا ہے وہ جس پر چاہے وحی بھیجے۔ جیسے «يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ» [16- النحل: 2]، وہ فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے ڈرتے رہو اور جگہ فرمان ہے «وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [26- الشعراء: 194-192] یعنی یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے۔ جسے معتبر فرشتے نے تیرے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ جس میں آدم خود اور ان کی اولاد میں سے سب سے آخری بچہ ایک دوسرے سے مل لے گا۔
حضرت ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندے اللہ سے ملیں گے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں آسمان والے اور زمین والے آپس میں ملاقات کریں گے۔ خالق و مخلوق، ظالم و مظلوم ملیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے ملاقات کرے گا۔ بلکہ عامل اور اس کا عمل بھی ملے گا۔ آج سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔ بالکل ظاہر باہر ہوں گے، چھپنے کی تو کہاں سائے کی جگہ بھی کوئی نہ ہو گی۔ سب اس کے آمنے سامنے موجود ہوں گے۔ اس دن خود اللہ فرمائے گا کہ آج بادشاہت کس کی ہے؟ کون ہو گا جو جواب تک دے؟ پھر خود ہی جواب دے گا کہ اللہ اکیلے کی جو ہمیشہ واحد ہے اور سب پر غالب و حکمراں ہے۔
پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کو لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا۔ میں بادشاہ ہوں، میں جبار ہوں متکبر ہوں۔ زمین کے بادشاہ اور جبار اور متکبر لوگ آج کہاں ہیں؟ [صحیح مسلم:2788]
صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب تمام مخلوق کی روح قبض کر لے گا۔ اور اس وحدہ لاشریک لہ کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کس کا ہے؟ پھر خود ہی جواب دے گا اللہ اکیلے غالب کا۔ یعنی اس کا جو واحد ہے اس کا جو ہرچیز پر غالب ہے جس کی ملکیت میں ہرچیز ہے۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے قائم ہونے کے وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ لوگو! قیامت آ گئی جسے مردے زندے سب سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرمائے گا اور کہے گا آج کس کے لیے ملک ہے صرف اللہ اکیلے غلبہ والے کے لیے، پھر اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ ذرا سا بھی ظلم اس دن نہ ہو گا بلکہ نیکیاں دس دس گنا کر کے ملیں گی اور برائیاں اتنی ہی رکھی جائیں گی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اے میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے۔ پس تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں۔ جن پر میں نگاہ رکھتا ہوں اور جن کا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے تئیں ہی ملامت کرے۔[صحیح مسلم:2577]
پھر اپنے جلد حساب لینے کو بیان فرمایا کہ ساری مخلوق سے حساب لینا اس پر ایسا ہے جیسے ایک شخص کا حساب لینا جیسے ارشاد باری ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ» [31- لقمان: 28] یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد زندہ کر دینا میرے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کر دینے کی مانند ہے اور آیت میں ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ» [54- القمر: 50] یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ہی کام ہو جاتا ہے اتنی دیر میں جیسے کسی نے آنکھ بند کر کے کھول لی۔
صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب تمام مخلوق کی روح قبض کر لے گا۔ اور اس وحدہ لاشریک لہ کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کس کا ہے؟ پھر خود ہی جواب دے گا اللہ اکیلے غالب کا۔ یعنی اس کا جو واحد ہے اس کا جو ہرچیز پر غالب ہے جس کی ملکیت میں ہرچیز ہے۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے قائم ہونے کے وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ لوگو! قیامت آ گئی جسے مردے زندے سب سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرمائے گا اور کہے گا آج کس کے لیے ملک ہے صرف اللہ اکیلے غلبہ والے کے لیے، پھر اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ ذرا سا بھی ظلم اس دن نہ ہو گا بلکہ نیکیاں دس دس گنا کر کے ملیں گی اور برائیاں اتنی ہی رکھی جائیں گی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اے میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے۔ پس تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں۔ جن پر میں نگاہ رکھتا ہوں اور جن کا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے تئیں ہی ملامت کرے۔[صحیح مسلم:2577]
پھر اپنے جلد حساب لینے کو بیان فرمایا کہ ساری مخلوق سے حساب لینا اس پر ایسا ہے جیسے ایک شخص کا حساب لینا جیسے ارشاد باری ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ» [31- لقمان: 28] یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد زندہ کر دینا میرے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کر دینے کی مانند ہے اور آیت میں ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ» [54- القمر: 50] یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ہی کام ہو جاتا ہے اتنی دیر میں جیسے کسی نے آنکھ بند کر کے کھول لی۔