رَفِیۡعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الۡعَرۡشِ ۚ یُلۡقِی الرُّوۡحَ مِنۡ اَمۡرِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ لِیُنۡذِرَ یَوۡمَ التَّلَاقِ ﴿ۙ۱۵﴾
وہ بہت بلند درجوں والا، عرش کا مالک ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی اتارتا ہے، تاکہ ملاقات کے دن سے ڈرائے۔
En
مالک درجات عالی اور صاحب عرش ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈراوے
En
بلند درجوں واﻻ عرش کامالک وه اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے، تاکہ وه ملاقات کے دن سے ڈرائے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 15) ➊ {رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ:” الدَّرَجٰتِ “ ” دَرَجَةٌ “} کی جمع ہے، جس کا معنی مرتبہ بھی ہے اور سیڑھی بھی۔ {” رَفِيْعُ “ ”رَفَعَ يَرْفَعُ“} (ف) سے ہے، لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی۔ لازم سے ہو تو معنی {” مُرْتَفِعُ الدَّرَجَاتِ“} ہے، اس کا اصل {”رَفِيْعٌ دَرَجَاتُهُ“} ہے۔ یعنی وہ بہت بلند مراتب اور سیڑھیوں والا اور عرش والا ہے، اس کی ذات مخلوق سے جدا عرش کے اوپر ہے۔ فرشتوں کو عرش تک پہنچنے کے لیے بہت سی سیڑھیوں پر چڑھنا پڑتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ (1) لِّلْكٰفِرِيْنَ لَيْسَ لَهٗ دَافِعٌ (2) مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ (3) تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍ» [المعارج: ۱ تا ۴] ”ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کے متعلق سوال کیا جو واقع ہونے والا ہے۔ کافروں پر، اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔ اللہ کی طرف سے، جو سیڑھیوں والا ہے۔ فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں، (وہ عذاب) ایک ایسے دن میں(ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے۔“ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ معارج کی انھی آیات کی تفسیر۔
{” رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ “} میں {” رَفِيْعُ “} کو اگر متعدی مانا جائے تو معنی ہو گا، وہ درجوں کو بہت بلند کرنے والا ہے، جیسا کہ فرمایا: «نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ» [یوسف: ۷۶] ”ہم جسے چاہتے ہیں درجوں میں بلند کر دیتے ہیں۔“
➋ {يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ:” الرُّوْحَ “} سے مراد یہاں ”وحی “ ہے، جیسا کہ فرمایا: «يُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ» [النحل: ۲] ”وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے کہ خبردار کر دو کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو مجھ سے ڈرو۔“ مزید تشریح سورۂ نحل کی اس آیت کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
➌ { لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ: ” التَّلَاقِ “ ” لَقِيَ يَلْقٰي“} (ع) سے باب تفاعل کا مصدر ہے، اصل میں {”تَلَاقِيْ“} ہے، ایک دوسرے سے ملنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ وحی اس لیے نازل فرماتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈرائے۔ مراد قیامت کا دن ہے، جس میں جانیں جسموں کے ساتھ ملیں گی اور سب لوگ ایک دوسرے سے ملیں گے۔ ہر عمل کرنے والا اپنے عمل کی جزا سے ملے گا، ظالم و مظلوم ملیں گے، آسمان والے فرشتے زمین کے انسانوں سے ملیں گے اور مخلوق خالق سے ملے گی، جو ان کا حساب لے گا۔
{” رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ “} میں {” رَفِيْعُ “} کو اگر متعدی مانا جائے تو معنی ہو گا، وہ درجوں کو بہت بلند کرنے والا ہے، جیسا کہ فرمایا: «نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ» [یوسف: ۷۶] ”ہم جسے چاہتے ہیں درجوں میں بلند کر دیتے ہیں۔“
➋ {يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ:” الرُّوْحَ “} سے مراد یہاں ”وحی “ ہے، جیسا کہ فرمایا: «يُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ» [النحل: ۲] ”وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے کہ خبردار کر دو کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو مجھ سے ڈرو۔“ مزید تشریح سورۂ نحل کی اس آیت کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
➌ { لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ: ” التَّلَاقِ “ ” لَقِيَ يَلْقٰي“} (ع) سے باب تفاعل کا مصدر ہے، اصل میں {”تَلَاقِيْ“} ہے، ایک دوسرے سے ملنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ وحی اس لیے نازل فرماتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈرائے۔ مراد قیامت کا دن ہے، جس میں جانیں جسموں کے ساتھ ملیں گی اور سب لوگ ایک دوسرے سے ملیں گے۔ ہر عمل کرنے والا اپنے عمل کی جزا سے ملے گا، ظالم و مظلوم ملیں گے، آسمان والے فرشتے زمین کے انسانوں سے ملیں گے اور مخلوق خالق سے ملے گی، جو ان کا حساب لے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 روح سے مراد وحی ہے جو وہ بندوں میں سے ہی کسی کو رسالت کے لیے چن کر اس پر نازل فرماتا ہے وحی کو روح سے اس لیے تعبیر فربایا کہ جس طرح روح میں انسانی زندگی کی بقا و سلامتی کا راز مضمر ہے اسی طرح وحی سے بھی ان انسانی قلوب میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے جو پہلے کفر و شرک کی وجہ سے مردہ ہوتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ وہ بلند [18] درجوں والا ہے، عرش کا مالک ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح [19] (وحی) نازل کرتا ہے تاکہ وہ (لوگوں کو) ملاقات کے دن [20] سے ڈرائے
[18] یعنی وہ اتنے بلند درجات کا مالک ہے کہ مخلوق کا اس کے قریب ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ چہ جائیکہ اللہ کی صفات اور ان کے اختیارات میں کسی دوسری مخلوق کے شریک ہونے کا تصور کیا جا سکے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مخلص اور فرمانبرداروں کے درجات کو بلند کرنے والا ہے جس حد تک کوئی شخص اللہ کا فرمانبردار بنتا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند کرتا جاتا ہے اور قیامت کے دن انہیں درجات کے لحاظ سے اہل جنت کو جنت میں مقام عطا کیا جائے گا۔ [19] (روح کے مختلف معانی کے لئے دیکھئے سورۃ النحل کی آیت نمبر 2 کا حاشیہ نمبر 3) مطلب یہ ہے کہ اللہ کو اپنے کسی بندے پر وحی بھیجنے کے سلسلہ میں تمہارے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ہی تم وحی کے ٹھیکیدار ہو کہ تمہاری مرضی کے خلاف اللہ تعالیٰ کسی کی طرف وحی نہ بھیج سکے۔ وہ خالصتاً اپنی مرضی اور اپنی صوابدید کے مطابق جس پر چاہتا ہے اپنی وحی نازل فرماتا ہے۔
[20] ملاقات سے مراد بندے کی اپنے پروردگار سے ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔ اور جنوں، انسانوں اور شیطانوں کی ایک دوسرے سے بھی۔ قیامت کے دن سب کی ایک دوسرے سے ملاقات ہو جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے جیسے ارشاد ہے «مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ» [70- المعارج: 4، 3]، یعنی وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے۔ کہ فرشتے اور روح اس کے پاس چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور اس بات کا بیان ان شاءاللہ آگے آئے گا کہ یہ دوری ساتویں زمین سے لے کر عرش تک کی ہے، جیسے سلف و خلف کی ایک جماعت کا قول ہے اور یہی راجح بھی ہے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی وسعت پچاس ہزار سال کی ہے اور جس کی اونچائی ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال کی ہے اور اس سے پہلے اس حدیث میں جس میں فرشتوں کا عرش اٹھانا بیان ہوا ہے یہ بھی گذر چکا ہے کہ ساتوں آسمانوں سے بھی وہ بہت بلند اور بہت اونچا ہے وہ جس پر چاہے وحی بھیجے۔ جیسے «يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ» [16- النحل: 2]، وہ فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے ڈرتے رہو اور جگہ فرمان ہے «وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [26- الشعراء: 194-192] یعنی یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے۔ جسے معتبر فرشتے نے تیرے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ جس میں آدم خود اور ان کی اولاد میں سے سب سے آخری بچہ ایک دوسرے سے مل لے گا۔
بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی وسعت پچاس ہزار سال کی ہے اور جس کی اونچائی ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال کی ہے اور اس سے پہلے اس حدیث میں جس میں فرشتوں کا عرش اٹھانا بیان ہوا ہے یہ بھی گذر چکا ہے کہ ساتوں آسمانوں سے بھی وہ بہت بلند اور بہت اونچا ہے وہ جس پر چاہے وحی بھیجے۔ جیسے «يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ» [16- النحل: 2]، وہ فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے ڈرتے رہو اور جگہ فرمان ہے «وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ» [26- الشعراء: 194-192] یعنی یہ قرآن تمام جہانوں کے رب کا اتارا ہوا ہے۔ جسے معتبر فرشتے نے تیرے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ تو ڈرانے والا بن جائے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ بھی قیامت کا ایک نام ہے جس سے اللہ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے۔ جس میں آدم خود اور ان کی اولاد میں سے سب سے آخری بچہ ایک دوسرے سے مل لے گا۔
حضرت ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں بندے اللہ سے ملیں گے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں آسمان والے اور زمین والے آپس میں ملاقات کریں گے۔ خالق و مخلوق، ظالم و مظلوم ملیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر ایک دوسرے سے ملاقات کرے گا۔ بلکہ عامل اور اس کا عمل بھی ملے گا۔ آج سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔ بالکل ظاہر باہر ہوں گے، چھپنے کی تو کہاں سائے کی جگہ بھی کوئی نہ ہو گی۔ سب اس کے آمنے سامنے موجود ہوں گے۔ اس دن خود اللہ فرمائے گا کہ آج بادشاہت کس کی ہے؟ کون ہو گا جو جواب تک دے؟ پھر خود ہی جواب دے گا کہ اللہ اکیلے کی جو ہمیشہ واحد ہے اور سب پر غالب و حکمراں ہے۔
پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کو لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا۔ میں بادشاہ ہوں، میں جبار ہوں متکبر ہوں۔ زمین کے بادشاہ اور جبار اور متکبر لوگ آج کہاں ہیں؟ [صحیح مسلم:2788]
صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب تمام مخلوق کی روح قبض کر لے گا۔ اور اس وحدہ لاشریک لہ کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کس کا ہے؟ پھر خود ہی جواب دے گا اللہ اکیلے غالب کا۔ یعنی اس کا جو واحد ہے اس کا جو ہرچیز پر غالب ہے جس کی ملکیت میں ہرچیز ہے۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے قائم ہونے کے وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ لوگو! قیامت آ گئی جسے مردے زندے سب سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرمائے گا اور کہے گا آج کس کے لیے ملک ہے صرف اللہ اکیلے غلبہ والے کے لیے، پھر اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ ذرا سا بھی ظلم اس دن نہ ہو گا بلکہ نیکیاں دس دس گنا کر کے ملیں گی اور برائیاں اتنی ہی رکھی جائیں گی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اے میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے۔ پس تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں۔ جن پر میں نگاہ رکھتا ہوں اور جن کا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے تئیں ہی ملامت کرے۔[صحیح مسلم:2577]
پھر اپنے جلد حساب لینے کو بیان فرمایا کہ ساری مخلوق سے حساب لینا اس پر ایسا ہے جیسے ایک شخص کا حساب لینا جیسے ارشاد باری ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ» [31- لقمان: 28] یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد زندہ کر دینا میرے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کر دینے کی مانند ہے اور آیت میں ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ» [54- القمر: 50] یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ہی کام ہو جاتا ہے اتنی دیر میں جیسے کسی نے آنکھ بند کر کے کھول لی۔
صور کی حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل جب تمام مخلوق کی روح قبض کر لے گا۔ اور اس وحدہ لاشریک لہ کے سوا اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اس وقت تین مرتبہ فرمائے گا آج ملک کس کا ہے؟ پھر خود ہی جواب دے گا اللہ اکیلے غالب کا۔ یعنی اس کا جو واحد ہے اس کا جو ہرچیز پر غالب ہے جس کی ملکیت میں ہرچیز ہے۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے قائم ہونے کے وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ لوگو! قیامت آ گئی جسے مردے زندے سب سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرمائے گا اور کہے گا آج کس کے لیے ملک ہے صرف اللہ اکیلے غلبہ والے کے لیے، پھر اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ ذرا سا بھی ظلم اس دن نہ ہو گا بلکہ نیکیاں دس دس گنا کر کے ملیں گی اور برائیاں اتنی ہی رکھی جائیں گی۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اے میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر بھی حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے۔ پس تم میں سے کوئی کسی پر ظلم نہ کرے آخر میں ہے اے میرے بندو! یہ تو تمہارے اپنے اعمال ہیں۔ جن پر میں نگاہ رکھتا ہوں اور جن کا پورا بدلہ دوں گا۔ پس جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے تئیں ہی ملامت کرے۔[صحیح مسلم:2577]
پھر اپنے جلد حساب لینے کو بیان فرمایا کہ ساری مخلوق سے حساب لینا اس پر ایسا ہے جیسے ایک شخص کا حساب لینا جیسے ارشاد باری ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ» [31- لقمان: 28] یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور تم سب کو مرنے کے بعد زندہ کر دینا میرے نزدیک ایک شخص کے پیدا کرنے اور زندہ کر دینے کی مانند ہے اور آیت میں ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ» [54- القمر: 50] یعنی ہمارے حکم کے ساتھ ہی کام ہو جاتا ہے اتنی دیر میں جیسے کسی نے آنکھ بند کر کے کھول لی۔