ہُوَ الَّذِیۡ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُنَزِّلُ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ رِزۡقًا ؕ وَ مَا یَتَذَکَّرُ اِلَّا مَنۡ یُّنِیۡبُ ﴿۱۳﴾
وہی ہے جو تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمھارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے اور اس کے سوا کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا جو رجوع کرے۔
En
وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اُتارتا ہے۔ اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے
En
وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے اور تمہارے لیےآسمان سے روزی اتارتا ہے، نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو (اللہ کی طرف) رجوع کرتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 13) ➊ { هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ:} یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو تمھیں اپنے وجود اور اپنی وحدانیت کی بے شمار نشانیاں دکھاتا ہے، جو اس وقت بھی موجود تھیں جب تمھارے بنائے ہوئے معبودوں کا وجود تک نہ تھا۔ اب بھی کوئی داتا یا دستگیر یہ دعویٰ نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے کہ یہ سب کچھ اس نے پیدا کیا ہے، یا اس کے پیدا کرنے میں اس کا کوئی حصہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بہت سی نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے، وہ نشانیاں آفاق (کائنات) میں بھی ہیں اور خود انسان کی ذات میں بھی۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶)، حم السجدہ (۵۳)، روم (۲۰ تا ۲۷)، بقرہ (۱۶۴)، جاثیہ (۳۵) اور سورۂ مومن (۷۹، ۸۰)۔ اللہ تعالیٰ کی آیات سے مراد انبیاء علیھم السلام کو عطا کردہ معجزے بھی ہیں اور اس کی قدرت پر دلالت کرنے والے عجیب و غریب واقعات و حوادث بھی، جو وقتاً فوقتاً انسان کے سامنے آتے رہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے متعلق فرمایا: «وَ لَقَدْ اَرَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى» [طٰہٰ: ۵۶] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس (فرعون) کو اپنی تمام آیات (نشانیاں) دکھائیں، پس اس نے جھٹلایا اور انکار کر دیا۔“
➋ { وَ يُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا:} یہ کہنے کے بعد کہ وہی ہے جو تمھیں اپنی آیات (نشانیاں) دکھاتا ہے، اپنی ایک عظیم نشانی کا ذکر فرمایا۔ {” رِزْقًا “} سے مراد یہاں بارش ہے، کیونکہ وہ انسان کے رزق کا سبب ہے۔ تمام نباتات اسی سے اگتی ہیں، جنھیں کھا کر وہ تمام جانور پلتے ہیں جو انسان کی خوراک ہیں یا اس کے کام آتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۲)، جاثیہ (۵)، ابراہیم (۳۲)، ق (۹ تا ۱۱) اور سورۂ نحل (۱۰، ۱۱)۔
➌ {وَ مَا يَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ يُّنِيْبُ:} یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں تو بے شمار ہیں، مگر ان سے نصیحت رجوع کرنے والے ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ اگر آدمی اپنی روزی ہی کو دیکھ لے کہ اسے مہیا کرنے میں قدرت کی کون کون سی چیزیں مصروف عمل ہیں اور کس طرح ایک دوسرے کی موافقت کے ساتھ کام کر رہی ہیں تو کبھی شرک کی جرأت نہ کرے، کیونکہ ان تمام چیزوں کو بنانے اور چلانے والا ایک ہے۔ اگر وہ ایک نہ ہو تو کائنات ایک لمحہ کے لیے بھی باقی نہیں رہ سکتی۔ مگر جو شخص اللہ تعالیٰ سے منہ موڑ لے اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہ کرے، وہ بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی کوئی نصیحت حاصل نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کی آنکھوں پر تقلید آباء، تعصب اور عناد کے پردے پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
➋ { وَ يُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا:} یہ کہنے کے بعد کہ وہی ہے جو تمھیں اپنی آیات (نشانیاں) دکھاتا ہے، اپنی ایک عظیم نشانی کا ذکر فرمایا۔ {” رِزْقًا “} سے مراد یہاں بارش ہے، کیونکہ وہ انسان کے رزق کا سبب ہے۔ تمام نباتات اسی سے اگتی ہیں، جنھیں کھا کر وہ تمام جانور پلتے ہیں جو انسان کی خوراک ہیں یا اس کے کام آتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۲)، جاثیہ (۵)، ابراہیم (۳۲)، ق (۹ تا ۱۱) اور سورۂ نحل (۱۰، ۱۱)۔
➌ {وَ مَا يَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ يُّنِيْبُ:} یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں تو بے شمار ہیں، مگر ان سے نصیحت رجوع کرنے والے ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ اگر آدمی اپنی روزی ہی کو دیکھ لے کہ اسے مہیا کرنے میں قدرت کی کون کون سی چیزیں مصروف عمل ہیں اور کس طرح ایک دوسرے کی موافقت کے ساتھ کام کر رہی ہیں تو کبھی شرک کی جرأت نہ کرے، کیونکہ ان تمام چیزوں کو بنانے اور چلانے والا ایک ہے۔ اگر وہ ایک نہ ہو تو کائنات ایک لمحہ کے لیے بھی باقی نہیں رہ سکتی۔ مگر جو شخص اللہ تعالیٰ سے منہ موڑ لے اور اس کی نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہ کرے، وہ بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی کوئی نصیحت حاصل نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کی آنکھوں پر تقلید آباء، تعصب اور عناد کے پردے پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
13۔ 1 یعنی پانی جو تمہارے لئے تمہاری روزیوں کا سبب ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اظہار آیات کو انزال رزق کے ساتھ جمع کردیا اس لئے کہ آیات قدرت کا اظہار، مذا ہب کی بنیاد ہے اور روزیاں اجسام کی بنیاد ہیں، یوں دونوں بنیادوں کو جمع فرما دیا ہے۔ (فتح القدیر) 13۔ 1 اللہ کی اطاعت کی طرف جس سے ان کے دلوں میں آخرت کا خوف پیدا ہوتا ہے اور احکام و فرائض الہی کی پایندی کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ وہی تو ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لئے رزق [16] اتارتا ہے مگر (ان باتوں سے) سبق تو وہی حاصل کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہو
[16] بارش کے نظام میں اللہ کی نشانیاں :۔
یعنی آسمان سے بارش نازل فرماتا ہے جو زمینی پیداوار اور تمہارے رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس پورے نظام پر اگر غور کیا جائے کہ اس کائنات میں کون سی قوتیں سرگرم عمل ہوتی ہیں جن کے نتیجے میں بارش برستی ہے پھر اس بارش سے رزق حاصل ہونے تک کون کون سی کائناتی اور زمینی قوتیں کام میں لگی رہتی ہیں۔ کس طرح سورج کی حرارت سے سطح سمندر پر سے آبی بخارات اوپر اٹھتے ہیں، پھر کس طرح ہوائیں انہیں اپنے دوش پر اٹھائے پھرتی ہیں اور جس طرف اللہ کا حکم ہوتا ہے، لے جاتی ہیں۔ پھر یہی آبی بخارات کیونکر پھر سے بارش کے قطروں میں منتقل ہوتے ہیں۔ پھر جب کسی خطہ زمین پر بارش برستی ہے تو زمین کی تاریکیوں میں بیج کی پرورش کون کرتا ہے اور کس طرح پودے کی نہایت نرم و نازک کونپل سطح زمین کو چیرتی ہوئی باہر نکل آتی ہے۔ غرضیکہ اس نظام میں بے شمار عجائبات قدرت ہیں۔ پھر ان قوتوں کے باہمی تعاون سے جو مثبت قسم کے نتائج برآمد ہوتے ہیں اس سے از خود معلوم ہو جاتا ہے کہ ان تمام قوتوں پر کنٹرول کرنے والی صرف ایک ہی ہستی ہو سکتی ہے۔ اگر ہواؤں کا دیوتا الگ ہوتا، سورج کا الگ، بارش کا الگ اور زمین کا کوئی الگ ہوتا تو ان میں ایسا باہمی ارتباط ناممکن تھا کہ ان قوتوں سے ہمیشہ مثبت نتائج ہی حاصل ہو سکیں۔ لیکن یہ باتیں تو صرف وہ لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں جو اللہ کی ان نشانیوں میں کچھ غور و فکر بھی کرتے ہوں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔