تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 1) {حٰمٓ:} یہ حروف مقطعات ہیں، تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس کی سند صحیح ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کہو «حم لاینصروا» یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے نزدیک لاینصروا جزا ہے فقولوا کی یعنی جب تم یہ کہو گے تم مغلوب نہیں ہو گے۔ تو قول صرف حم رہا یہ کتاب یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے جو عزت و علم والا ہے، جس کی جناب ہر بےادبی سے پاک ہے اور جس پر کوئی ذرہ بھی مخفی نہیں گو وہ کتنے ہی پردوں میں ہو، وہ گناہوں کی بخشش کرنے والا اور جو اس کی طرف جھکے اس کی جانب مائل ہونے والا ہے۔ اور جو اس سے بےپرواہی کرے اس کے سامنے سرکشی اور تکبر کرے اور دنیا کو پسند کر کے آخرت سے بے رغبت ہو جائے۔ اللہ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دے اسے وہ سخت ترین عذاب اور بدترین سزائیں دینے والا ہے۔
جیسے فرمان ہے «نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ» [15- الحجر: 50، 49] یعنی میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ میں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا بھی ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے درد ناک عذاب ہیں۔ اور بھی اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں جن میں رحم و کرم کے ساتھ عذاب و سزا کا بیان بھی ہے تاکہ بندہ خوف و امید کی حالت میں رہے۔ وہ وسعت و غنا والا ہے۔ وہ بہت بہتری والا ہے بڑے احسانوں، زبردست نعمتوں اور رحمتوں والا ہے۔ «وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا» [14-إبراهيم: 34] بندوں پر اس کے انعام، احسان اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اس کا شکر ادا کر سکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک نعمت کا بھی پورا شکر کسی سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں اس کی ایک صفت بھی کسی میں نہیں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش کرنے والا ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کے مطابق جزا سزا دے گا۔ «وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [13-الرعد: 41] اور بہت جلد حساب سے فارغ ہو جائے گا۔
امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ایک شخص آ کر مسئلہ پوچھتا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کر دیا ہے کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے شروع سورت کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا ناامید نہ ہو اور نیک عمل کئے جا۔ [ابن ابی حاتم]
جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو یہ پتہ چلا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی مسلمان بھائی لغزش کھا گیا تو اسے سیدھا کرو اور مضبوط کرو اور اس کیلئے اللہ سے دعا کرو۔ شیطان کے مددگار نہ بنو۔
حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کوفے کے گرد و نواح میں تھا میں نے ایک باغ میں جا کر دو رکعت نماز شروع کی اور اس سورۃ مومن کی تلاوت کرنے لگا میں ابھی «الیہ المصیر» تک پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے جو میرے پیچھے سفید خچر پر سوار تھا جس پر یمنی چادریں تھیں مجھ سے کہا جب «غافر الذنب» پڑھو تو کہو «یاغافر الذنب اغفرلی ذنبی» اور جب «قابل التوب» پڑھو تو کہو «یَا قَاُبَل الثّْوبْ اِقْبَْل تَْوبَتِیْ» اور جب «شدید العقاب» تو کہو «یاشدید العقاب لا تعاقبنی» ۔
۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن كتابِهِ العظيم وأنَّه صادرٌ ومنزَّلٌ من الله المألوه المعبود لكمالِهِ وانفرادِهِ بأفعالِهِ. {العزيز}: الذي قَهَرَ بعزَّته كلَّ مخلوق. {العليم}: بكل شيء، {غافرِ الذنبِ}: للمذنبين، {وقابلِ التَّوْبِ}: من التائبين، {شديدِ العقابِ}: على من تجرَّأ على الذُّنوب ولم يَتُبْ منها، {ذي الطَّوْلَ}؛ أي: التفضُّل والإحسان الشامل. فلمَّا قرَّر ما قرَّر من كماله، وكان ذلك موجباً لأن يكون وحدَه المألوهَ الذي تُخْلَصُ له الأعمالُ؛ قال: {لا إله إلاَّ هو إليه المصيرُ}.
ووجهُ المناسبة بذِكْر نزول القرآن من الله الموصوفِ بهذه الأوصافِ أنَّ هذه الأوصافَ مستلزمةٌ لجميع ما يشتملُ عليه القرآنُ من المعاني؛ فإنَّ القرآن: إما إخبارٌ عن أسماء اللهِ وصفاتِهِ وأفعالِهِ، وهذه أسماءٌ وأوصافٌ وأفعالٌ. وإمَّا إخبارٌ عن الغيوبِ الماضيةِ والمستقبلةِ؛ فهي من تعليم العليم لعبادِهِ. وإمَّا إخبارٌ عن نعمه العظيمة وآلائِهِ الجسيمة وما يوصِلُ إلى ذلك من الأوامر؛ فذلك يدلُّ عليه قوله: {ذي الطَّوْل}. وإما إخبارٌ عن نقمِهِ الشديدةِ وعمَّا يوجِبُها ويقتضيها من المعاصي؛ فذلك يدلُّ عليه قولُه: {شديد العقاب}. وإما دعوةٌ للمذنبين إلى التوبةِ والإنابةِ والاستغفار؛ فذلك يدلُّ عليه قوله: {غافرِ الذَّنْبِ وقابلِ التَّوْبِ شديدِ العقابِ}. وإما إخبارٌ بأنَّه وحدَه المألوهُ المعبودُ وإقامةُ الأدلةِ العقليةِ والنقليةِ على ذلك والحث عليه والنهي عن عبادة ما سوى الله وإقامةِ الأدلة العقليَّة والنقليَّة على فسادِها والترهيب منها؛ فذلك يدلُّ عليه قولُهُ تعالى: {لا إله إلاَّ هو}. وإمَّا إخبارٌ عن حكمِهِ الجزائيِّ العدل وثواب المحسنين وعقاب العاصينَ؛ فهذا يدلُّ عليه قوله: {إليه المصيرُ}. فهذا جميعُ ما يشتملُ عليه القرآنُ من المطالبِ العالياتِ.