ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 1

حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
حم۔ En
حٰم
En
حٰم En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

سورهٔ مومن کا ایک نام سورهٔ غافر بھی ہے۔
(آیت 1) {حٰمٓ:} یہ حروف مقطعات ہیں، تشریح کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

حم

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

حٰمۤ

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ٭٭
سورتوں کے اول میں حم وغیرہ جیسے جو حروف آئے ہیں ان کی پوری بحث سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں جس کے اعادہ کی اب چنداں ضرورت نہیں۔ بعض کہتے ہیں حم اللہ کا ایک نام ہے اور اس کی شہادت میں وہ یہ شعر پیش کرتے ہیں «یذکرنی حم والرمح شاجر» «فھلا تلا حم قبل التقدم» یعنی یہ مجھے حم یاد دلاتا ہے جب کہ نیزہ تن چکا پھر اس سے پہلے ہی اس نے حٰمٗ کیوں نہ کہہ دیا۔
ابوداؤد اور ترمذی کی حدیث میں وارد ہے کہ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو «" حم " لا ينصرون "» کہنا،[سنن ترمذي:1682،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اس کی سند صحیح ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں مجھے یہ پسند ہے کہ اس حدیث کو یوں روایت کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کہو «حم لاینصروا» یعنی نون کے بغیر، تو گویا ان کے نزدیک لاینصروا جزا ہے فقولوا کی یعنی جب تم یہ کہو گے تم مغلوب نہیں ہو گے۔ تو قول صرف حم رہا یہ کتاب یعنی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل شدہ ہے جو عزت و علم والا ہے، جس کی جناب ہر بےادبی سے پاک ہے اور جس پر کوئی ذرہ بھی مخفی نہیں گو وہ کتنے ہی پردوں میں ہو، وہ گناہوں کی بخشش کرنے والا اور جو اس کی طرف جھکے اس کی جانب مائل ہونے والا ہے۔ اور جو اس سے بےپرواہی کرے اس کے سامنے سرکشی اور تکبر کرے اور دنیا کو پسند کر کے آخرت سے بے رغبت ہو جائے۔ اللہ کی فرمانبرداری کو چھوڑ دے اسے وہ سخت ترین عذاب اور بدترین سزائیں دینے والا ہے۔
جیسے فرمان ہے «‏‏‏‏نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ» ‏‏‏‏ [15- الحجر: 50، 49]‏‏‏‏ یعنی میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ میں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا بھی ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے درد ناک عذاب ہیں۔ اور بھی اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں بہت سی ہیں جن میں رحم و کرم کے ساتھ عذاب و سزا کا بیان بھی ہے تاکہ بندہ خوف و امید کی حالت میں رہے۔ وہ وسعت و غنا والا ہے۔ وہ بہت بہتری والا ہے بڑے احسانوں، زبردست نعمتوں اور رحمتوں والا ہے۔ «وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّـهِ لَا تُحْصُوهَا» [14-إبراهيم: 34]‏‏‏‏ بندوں پر اس کے انعام، احسان اس قدر ہیں کہ کوئی انہیں شمار بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ اس کا شکر ادا کر سکے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک نعمت کا بھی پورا شکر کسی سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اس جیسا کوئی نہیں اس کی ایک صفت بھی کسی میں نہیں اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش کرنے والا ہے۔ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کے مطابق جزا سزا دے گا۔ «وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [13-الرعد: 41]‏‏‏‏ اور بہت جلد حساب سے فارغ ہو جائے گا۔
امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ایک شخص آ کر مسئلہ پوچھتا ہے کہ میں نے کسی کو قتل کر دیا ہے کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے شروع سورت کی دو آیتیں تلاوت فرمائیں اور فرمایا ناامید نہ ہو اور نیک عمل کئے جا۔ [ابن ابی حاتم]‏‏‏‏
سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شامی کبھی کبھی آیا کرتا تھا اور تھا ذرا ایسا ہی آدمی ایک مرتبہ لمبی مدت تک وہ آیا ہی نہیں تو امیر المؤمنین رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے اس کا حال پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے بہ کثرت شراب پینا شروع کر دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کاتب کو بلوا کر کہا لکھو یہ خط ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے فلاں بن فلاں کی طرف بعد از سلام علیک میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی معبود نہیں جو گناہوں کو بخشنے والا توبہ کو قبول کرنے والا سخت عذاب والا بڑے احسان والا ہے جس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ خط اس کی طرف بھجوا کر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا اپنے بھائی کیلئے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو متوجہ کر دے اور اس کی توبہ قبول فرمائے جب اس شخص کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا خط ملا تو اس نے اسے باربار پڑھنا اور یہ کہنا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی سزا سے ڈرایا بھی ہے اور اپنی رحمت کی امید دلا کر گناہوں کی بخشش کا وعدہ بھی کیا ہے کئی کئی مرتبہ اسے پڑھ کر رو دیئے پھر توبہ کی اور سچی پکی توبہ کی۔
جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو یہ پتہ چلا تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اور فرمایا اسی طرح کیا کرو۔ جب تم دیکھو کہ کوئی مسلمان بھائی لغزش کھا گیا تو اسے سیدھا کرو اور مضبوط کرو اور اس کیلئے اللہ سے دعا کرو۔ شیطان کے مددگار نہ بنو۔
حضرت ثابت بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کوفے کے گرد و نواح میں تھا میں نے ایک باغ میں جا کر دو رکعت نماز شروع کی اور اس سورۃ مومن کی تلاوت کرنے لگا میں ابھی «الیہ المصیر» تک پہنچا ہی تھا کہ ایک شخص نے جو میرے پیچھے سفید خچر پر سوار تھا جس پر یمنی چادریں تھیں مجھ سے کہا جب «‏‏‏‏غافر الذنب» پڑھو تو کہو «یاغافر الذنب اغفرلی ذنبی» اور جب «قابل التوب» پڑھو تو کہو «یَا قَاُبَل الثّْوبْ اِقْبَْل تَْوبَتِیْ» ‏‏‏‏ اور جب «‏‏‏‏شدید العقاب» ‏‏‏‏ تو کہو «یاشدید العقاب لا تعاقبنی» ۔
۔
سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے گوشہ چشم سے دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا فارغ ہو کر میں دروازے پر پہنچا وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان سے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص تمہارے پاس سے گذرا جس پر یمنی چادریں تھیں انہوں نے کہا نہیں ہم نے تو کسی کو آتے جاتے نہیں دیکھا۔ اب لوگ یہ خیال کرنے لگے کہ یہ الیاس علیہ السلام تھے۔ یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں الیاس کا ذکر نہیں۔ «واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم» ۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عظیم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی اور اس کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ جو اپنے کمال اور اپنے افعال میں انفرادیت کی بنا پر عبادت کا مستحق ہے۔ ﴿الْ٘عَزِیْزِ جو اپنے غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے۔ ﴿الْعَلِیْمِ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ﴿غَافِرِ الذَّنْۢبِ وہ گناہ بخش دینے والا گناہ گاروں کے ﴿وَقَابِلِ التَّوْبِ توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرنے والا ﴿شَدِیْدِ الْعِقَابِ جوگناہوں کا ارتکاب کریں اور ان گناہوں سے توبہ نہ کریں ان کو سخت سزا دینے والا ہے ﴿ذِی الطَّوْلِ فضل و احسان کامالک ہے یعنی ایسا فضل واحسان جو سب کو شامل ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال کو متحقق کر دیا اور یہ کمال اس حقیقت کا موجب ہے کہ وہ اکیلا ہی معبود ہو جس کے لیے تمام اعمال خالص کیے جائیں، تو فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
ان اوصافِ حمیدہ سے موصوف اللہ تعالیٰ کی طرف سےقرآن مجید کے نازل ہونے کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ یہ اوصاف ان تمام معانی کو مستلزم ہیں جن پر یہ مشتمل ہے۔ کیونکہ قرآن کریم یا تو اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال کے بارے میں خبر دیتا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اور افعال ہیں یا گزشتہ زمانوں اور آنے والے واقعات کی خبر دیتا ہے اور یہ علیم کی طرف سے اپنے بندوں کی تعلیم ہے یا وہ اپنی عظیم نعمتوں اور جسمانی احسانات اور ان احسانات تک پہنچانے والے اوامر کی خبر ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ذِی الطَّوْلِ دلالت کرتا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضی اور ان معاصی کے بارے میں خبر ہے جو اس ناراضی کے موجب ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿شَدِیْدِ الْعِقَابِ دلالت کرتا ہے۔ یا اس قرآن عظیم میں گناہ گاروں کو توبہ، انابت اور استغفار کی دعوت دی گئی ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ دلالت کرتا ہے۔ یا اس میں اس حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے، اس پر عقلی و نقلی دلائل دیے گئے ہیں۔ اور اس مضمون کو بہت تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ نیز قرآن کریم میں غیراللہ کی عبادت سے روکا گیا ہے، اس کے فساد پر عقلی و نقلی دلائل قائم کیے گئے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت سے ڈرایا گیا ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ہے۔ یا اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم جزائی، یعنی بھلائی کرنے والوں کے ثواب اور نافرمانوں کی سزا کے بارے میں خبر دی گئی ہے اور یہ حکم جزائی عدل پر مبنی ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ دلالت کرتا ہے۔ یہ تمام عالی شان مطالب و معانی ہیں جن پر قرآن مشتمل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن كتابِهِ العظيم وأنَّه صادرٌ ومنزَّلٌ من الله المألوه المعبود لكمالِهِ وانفرادِهِ بأفعالِهِ. {العزيز}: الذي قَهَرَ بعزَّته كلَّ مخلوق. {العليم}: بكل شيء، {غافرِ الذنبِ}: للمذنبين، {وقابلِ التَّوْبِ}: من التائبين، {شديدِ العقابِ}: على من تجرَّأ على الذُّنوب ولم يَتُبْ منها، {ذي الطَّوْلَ}؛ أي: التفضُّل والإحسان الشامل. فلمَّا قرَّر ما قرَّر من كماله، وكان ذلك موجباً لأن يكون وحدَه المألوهَ الذي تُخْلَصُ له الأعمالُ؛ قال: {لا إله إلاَّ هو إليه المصيرُ}.

ووجهُ المناسبة بذِكْر نزول القرآن من الله الموصوفِ بهذه الأوصافِ أنَّ هذه الأوصافَ مستلزمةٌ لجميع ما يشتملُ عليه القرآنُ من المعاني؛ فإنَّ القرآن: إما إخبارٌ عن أسماء اللهِ وصفاتِهِ وأفعالِهِ، وهذه أسماءٌ وأوصافٌ وأفعالٌ. وإمَّا إخبارٌ عن الغيوبِ الماضيةِ والمستقبلةِ؛ فهي من تعليم العليم لعبادِهِ. وإمَّا إخبارٌ عن نعمه العظيمة وآلائِهِ الجسيمة وما يوصِلُ إلى ذلك من الأوامر؛ فذلك يدلُّ عليه قوله: {ذي الطَّوْل}. وإما إخبارٌ عن نقمِهِ الشديدةِ وعمَّا يوجِبُها ويقتضيها من المعاصي؛ فذلك يدلُّ عليه قولُه: {شديد العقاب}. وإما دعوةٌ للمذنبين إلى التوبةِ والإنابةِ والاستغفار؛ فذلك يدلُّ عليه قوله: {غافرِ الذَّنْبِ وقابلِ التَّوْبِ شديدِ العقابِ}. وإما إخبارٌ بأنَّه وحدَه المألوهُ المعبودُ وإقامةُ الأدلةِ العقليةِ والنقليةِ على ذلك والحث عليه والنهي عن عبادة ما سوى الله وإقامةِ الأدلة العقليَّة والنقليَّة على فسادِها والترهيب منها؛ فذلك يدلُّ عليه قولُهُ تعالى: {لا إله إلاَّ هو}. وإمَّا إخبارٌ عن حكمِهِ الجزائيِّ العدل وثواب المحسنين وعقاب العاصينَ؛ فهذا يدلُّ عليه قوله: {إليه المصيرُ}. فهذا جميعُ ما يشتملُ عليه القرآنُ من المطالبِ العالياتِ.