ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 78

اَیۡنَ مَا تَکُوۡنُوۡا یُدۡرِکۡکُّمُ الۡمَوۡتُ وَ لَوۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ بُرُوۡجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ؕ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ حَسَنَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّقُوۡلُوۡا ہٰذِہٖ مِنۡ عِنۡدِکَ ؕ قُلۡ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ فَمَالِ ہٰۤؤُلَآءِ الۡقَوۡمِ لَا یَکَادُوۡنَ یَفۡقَہُوۡنَ حَدِیۡثًا ﴿۷۸﴾
تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمھیں پا لے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔ اور اگر انھیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے۔ کہہ دے سب اللہ کی طرف سے ہے، پھر ان لوگوں کو کیا ہے کہ قریب نہیں ہیں کہ کوئی بات سمجھیں۔ En
(اے جہاد سے ڈرنے والو) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہے گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمدﷺ تم سے) کہتے ہیں کہ یہ گزند آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج وراحت) سب الله ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے
En
تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آپکڑے گی، گو تم مضبوط قلعوں میں ہو، اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے۔ انہیں کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ انہیں کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے بھی قریب نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 78) ➊ {اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ: بُرُوْجٍ } یہ {بُرْجٌ} کی جمع ہے، مضبوط عمارت، قلعہ۔ { مُشَيَّدَةٍ } جو { اَلشِّيْدُ } یعنی چونے سے بنے ہوئے ہوں۔ یہ جہاد کے لیے حوصلہ بڑھانے والی دوسری بات ہے کہ جب موت سے تمھیں کسی حال میں چھٹکارا نہیں تو پھر اللہ کی راہ میں جہاد سے کیوں ہچکچاتے ہو۔ اس مطلب کی آیات قرآن کریم میں بہت ہیں، چنانچہ فرمایا: «{ قُلْ لَّنْ يَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ [الأحزاب: ۱۶] کہہ دے تمھیں بھاگنا ہرگز نفع نہ دے گا اگر تم مرنے یا قتل ہونے سے بھاگو گے۔ اور فرمایا: «{ قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِيْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِيْكُمْ [الجمعۃ: ۸] کہہ دے بلاشبہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو سو یقینا وہ تم سے ملنے والی ہے۔ اور فرمایا: «{ كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِ [آل عمران: ۱۸۵] ہر جان موت کو چکنے والی ہے۔
➋ {وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ …:} اوپر منافقین کی دو مذموم خصلتیں بتائیں، ایک جہاد سے جی چرانا دوسری موت سے ڈرنا، اب یہاں ان کی ایک اور مذموم خصلت کا ذکر فرمایا جو پہلی دونوں سے بری ہے، یعنی نحوست کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا۔ یہاں {حَسَنَةٌ} (بھلائی) سے مراد فتح، نصرت، غلبہ اور خوش حالی وغیرہ ہے اور { سَيِّئَةٌ } سے مراد لڑائی میں نقصان، مصیبت، قتل اور ہزیمت وغیرہ ہے۔
➌ {قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ:} یہ ان کے کلام کا جواب ہے کہ برائی اور بھلائی دونوں اسی کی طرف سے اور اسی کے حکم سے ہیں، ہر چیز کا پیدا کرنے والا وہی ہے، بلا اور مصیبت کو کسی کی نحوست قرار دینا قطعی غلط اور پہلے کافروں کا طریقہ ہے، جیسا کہ قوم ثمود کا کہنا: «{ قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ [النمل: ۴۷]انھوں نے کہا ہم نے تیرے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں، بد شگونی پکڑی ہے۔ اور سورۂ یٰس میں ہے: «{ اِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ [یٰسٓ: ۱۸] بے شک ہم نے تمھیں منحوس پایا ہے۔ اور فرعون کی قوم کے بارے میں ہے: «{ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ [الأعراف: ۱۳۱] اور اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں کے ساتھ نحوست پکڑتے۔
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ منافقوں کا ذکر ہے کہ اگر تدبیر جنگ درست آئی اور فتح اور غنیمت ملی توکہتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے ہوئی، یعنی اتفاقاً بن گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدبیر کے قائل نہ ہوتے تھے اور اگر بگڑ گئی تو الزام رکھتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدبیر پر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سب اللہ کی طرف سے ہے، یعنی پیغمبر کی تدبیر اللہ کا الہام ہے، غلط نہیں اور اگر بگڑی تو اس کو بگڑا نہ بوجھو، یہ اللہ تم کو سدھاتا ہے تمھاری تقصیر پر۔ اگلی آیت میں کھول کر بیان فرما دیا۔ (موضح)
➍ {فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ …:} یعنی تعجب ہے کہ کسی غور و فکر کے بغیر سمجھ میں آنے والی حقیقت بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ (رازی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

78۔ 1 ایسے کمزور مسلمانوں کو سمجھانے کے لئے کہا جا رہا ہے کہ ایک تو یہ دنیا فانی ہے اور اس کا فائدہ عارضی ہے جس کے لئے تم کچھ مہلت طلب کر رہے ہو۔ اس کے مقابلے میں آخرت بہت بہتر اور پائیدار ہے جس کے اطاعت الٰہی کے صلے میں تم سزاوار ہوگے۔ دوسرے یہ جہاد کرو یا نہ کرو، موت تو اپنے وقت پر آکر رہے گی چاہے تم مضبوط قلعوں میں بند ہو کر بیٹھ جاؤ پھر جہاد سے گریز کا کیا فائدہ؟ مضبوط برجوں سے مراد مضبوط اور بلند وبالا فصیلوں والے قلعے ہیں۔ 78۔ 2 یہاں سے پھر منافقین کی باتوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ سابقہ امت کے منکرین کی طرح انہوں نے بھی کہا کہ بھلائی (خوش حالی، غلے کی پیداوار، مال اولاد کی فروانی وغیرہ) اللہ کی طرف سے ہے اور برائی (قحط سالی، مال و دولت میں کمی وغیرہ) اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیری طرف سے ہے یعنی تیرے دین اختیار کرنے کے نتیجے میں آئی ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ ؑ اور قوم فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' جب انہیں بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں، یہ ہمارے لئے ہے، یعنی ہم اس کے مستحق ہیں اور جب کوئی برائی پہنچتی ہے تو حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے پیروکاروں سے بدشگوفی پکڑتے ہیں یعنی نعوز باللہ ان کی نحوست کا نتیجہ بتلاتے ہیں۔ (الاعراف۔ 131) 78۔ 3 یعنی بھلائی اور برائی دونوں اللہ کی طرف سے ہی ہے لیکن یہ لوگ قلت فہم و علم اور کثرت جہل اور ظلم کی وجہ سے اس بات کو سمجھ نہیں پاتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

78۔ جہاں کہیں بھی تم ہو، موت تمہیں آ ہی لے گی خواہ تم مضبوط [108] قلعوں میں محفوظ ہو جاؤ۔ اور اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچے تو کہتے ہیں کہ ”یہ اللہ کی طرف سے پہنچا ہے“ اور اگر کوئی مصیبت پڑ جائے تو کہتے ہیں کہ: ”یہ تمہاری وجہ سے [109] پہنچی ہے“ آپ (ان سے) کہئے کہ: ”سب کچھ ہی اللہ کی طرف سے ہوتا ہے“ آخر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ بات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے
[108] موت اپنے وقت پر ہی آئے گی اور آ کے رہے گی: یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا مسلمان تو درکنار کوئی کافر بھی انکار نہیں کرتا۔ یہاں اس حقیقت کے ذکر کا مقصود یہ ہے کہ اگر یہ کمزور دل مسلمان اس حقیقت کو ہر وقت سامنے رکھیں تو لڑائی سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ موت کا وقت بھی مقرر ہے اور جگہ بھی۔ لہٰذا اگر وہ تمہارا مقدر ہو چکی ہے تو گھر پر بھی یقیناً آ کے رہے گی اور اگر تمہاری زندگی ابھی باقی ہے تو پھر میدان جنگ میں بھی یقیناً موت نہیں آئے گی۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ خطاب منافقین کو ہے جو جنگ احد میں شکست دیکھ کر اپنے بھائی بندوں سے کہتے تھے کہ اگر تم ہماری بات مان لیتے تو تمہارے عزیز اس لڑائی میں نہ مارے جاتے۔ اور یہ قول اس لحاظ سے درست معلوم ہوتا ہے کہ اسی آیت میں آگے منافقوں سے ہی خطاب ہے۔
[109] مصیبت کو رسول کی طرف منسوب کرنے والے:۔
یہ خطاب منافقوں سے ہے جس میں ان کے ساتھی یہود بھی شامل تھے۔ اگر انہیں کوئی راحت اور سکون کے لمحات میسر آتے اور خوشی نصیب ہوتی جیسے غلہ کی ارزانی یا جنگ میں مال غنیمت ہاتھ آتا تو اسے تو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہتے کہ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے اور اگر کوئی دکھ یا مصیبت پہنچے، تو پھر یہ الزام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے اور کہتے کہ یہ آپ کی بے تدبیری یا غلط تدبیر کا نتیجہ ہے۔ جیسا کہ جنگ احد کے موقعہ پر شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اور خود اپنے آپ کو ہر طرح سے بری الذمہ قرار دیتے۔ اگر منافق یوں سمجھتے کہ اگر فتح ہوتی ہے تو وہ بھی آپ کی حسن تدبیر سے آپ کے ذریعہ اور آپ کی برکت سے ہوتی ہے تب بھی بات کسی حد تک درست بن جاتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فائدہ ہو یا نقصان سب کچھ اللہ کی ہی طرف سے ہوتا ہے اور یہ مسلمانوں کے عقیدہ کا ایک اہم جزو ہے اور اس پر واضح دلیل یہی آیت ہے۔ نیز فرمایا
﴿وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ [37: 96]
اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور ان اعمال کو بھی جو تم کرتے ہو یعنی اگر فائدہ یا تکلیف کو اعمال ہی کا نتیجہ قرار دیا جائے تب بھی چونکہ تمہارے اعمال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے لہٰذا نفع و نقصان بھی اللہ ہی کی طرف سے ہوا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر فرماتا ہے موت کے پنجے سے بلند و بالا مضبوط اور مضبوظ قلعے اور محل بھی بچا نہیں سکتے۔ بعض نے کہا مراد اس سے آسمان کے برج ہیں، لیکن یہ قول ضعیف ہے صحیح یہی ہے کہ مراد محفوظ مقامات ہیں یعنی کتنی ہی حفاظت موت سے کی جائے۔ لیکن وہ اپنے وقت سے آگے پیچھے نہیں ہو سکتی زہیر کا شعر ہے کہ موت سے بھاگنے والا گو زینہ لگا کر اسباب آسمانی بھی جمع کر لے تو بھی اسے کوئی نفع نہیں پہنچ سکتا۔
ایک قول ہے «مُّشَيَّدَةٍ» بہ تشدید «مَشِـْید» بغیر تشدید ایک ہی معنی میں ہیں اور بعض ان دونوں میں فرق کے قائل ہیں کہتے ہیں کہ اول کا معنی مطول دوسرے کا معنی مزین یعنی چونے سے ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں اس موقعہ پر ایک مطول قصہ بزبان مجاہد رحمہ اللہ مروی ہے کہ اگلے زمانے میں ایک عورت حاملہ تھی جب اسے درد ہونے لگے اور بچی تولد ہوئی تو اس نے اپنے ملازم سے کہا کہ جاؤ کہیں سے آگ لے آؤ وہ باہر نکلا تو دیکھا کہ دروازے پر ایک شخص کھڑا ہے پوچھتا ہے کہ کیا ہوا لڑکی یا لڑکا؟ اس نے کہا لڑکی ہوئی ہے کہا سن یہ لڑکی ایک سو آدمیوں سے زنا کرائے گی پھر اس کے ہاں اب جو شخص ملازم ہے اسی سے اس کا نکاح ہو گا اور ایک مکڑی اس کی موت کا باعث بنے گی۔ یہ شخص یہیں سے پلٹ آیا اور آتے ہی ایک تیز چھری لے کر اس لڑکی کے پیٹ کو چیر ڈالا اور اسے مردہ سمجھ کر وہاں سے بھاگ نکلا۔
اس کی ماں نے یہ حال دیکھ کر اپنی بچی کے پیٹ کو ٹانکے لگا دئیے اور علاج معالجہ شروع کیا جس سے اس کا زخم بھر گیا اب ایک زمانہ گزر گیا ادھر یہ لڑکی بلوغت کو پہنچ گئی اور تھی بھی اچھی شکل و صورت کی بدچلنی میں پڑگئی ادھر ملازم سمندر کے راستے کہیں چلا گیا کام کاج شروع کیا اور بہت رقم پیدا کی کل مال سمیٹ کر بہت مدت بعد یہ پھر اسی اپنے گاؤں میں آ گیا ایک بڑھیا عورت کو بلا کر کہا کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں گاؤں میں جو بہت خوبصورت عورت ہو اس سے میرا نکاح کرا دو، یہ عورت گئی اور چونکہ شہر بھر میں اس لڑکی سے زیادہ خوش شکل کوئی عورت نہ تھی یہیں پیغام بھیجا، منظور ہو گیا، نکاح بھی ہو گیا اور وداع ہو کر یہ اس کے ہاں آ بھی گئی دونوں میاں بیوی میں بہت محبت ہو گئی۔
ایک دن ذکر اذکار میں اس عورت نے اس سے پوچھا آخر آپ کون ہیں کہاں سے آئے ہیں یہاں کیسے آ گئے؟ وغیرہ اس نے اپنا تمام ماجرا بیان کر دیا کہ میں یہاں ایک عورت کے ہاں ملازم تھا اور وہاں سے اس کی لڑکی کے ساتھ یہ حرکت کر کے بھاگ گیا تھا اب اتنے برسوں کے بعد یہاں آیا ہوں تو اس لڑکی نے کہا جس کا پیٹ چیر کر تم بھاگے تھے میں وہی ہوں یہ کہہ کر اپنے اس زخم کا نشان بھی اسے دکھایا تب تو اسے یقین ہو گیا اور کہنے لگا جب تو وہی ہے تو ایک بات تیری نسبت مجھے اور بھی معلوم ہے وہ یہ کہ تو ایک سو آدمیوں سے مجھ سے پہلے مل چکی ہے اس نے کہا ٹھیک ہے یہ کام تو مجھ سے ہوا ہے لیکن گنتی یاد نہیں۔
اس نے کہا کہ مجھے تیری نسبت ایک اور بات بھی معلوم ہے وہ یہ کہ تیری موت کا سبب ایک مکڑی بنے گی، خیر چونکہ مجھے تجھ سے بہت زیادہ محبت ہے میں تیرے لیے ایک بلند و بالا پختہ اور اعلیٰ محل تعمیر کرا دیتا ہوں اسی میں تو رہ تاکہ وہاں تک ایسے کیڑے مکوڑے پہنچ ہی نہ سکیں چنانچہ ایسا ہی محل تیار ہوا اور یہ وہاں رہنے سہنے لگی۔
ایک مدت کے بعد ایک روز دونوں میاں بیوی بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک چھت پر ایک مکڑی دکھائی دی اسے دیکھتے ہیں اس شخص نے کہا دیکھو آج یہاں مکڑی دکھائی دی عورت بولی اچھا یہ میری جان لیوا ہے؟ تو میں اس کی جان لوں گی غلاموں کو حکم دیا کہ اسے زندہ پکڑ کر میرے سامنے لاؤ نوکر پکڑ کر لے آئے اس نے زمین پر رکھ کر اپنے پیر کے انگوٹھے سے اسے مل ڈالا اس کی جان نکل گئی لیکن اس میں سے پیپ کا ایک آدھ قطرہ اس کے انگوٹھے کے ناخن اور گوشت کے درمیان اڑ کر چپک گیا اس کا زہر چڑھا پیر سیاہ پڑ گیا اور اسی میں آخر مر گئی۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر جب باغی چڑھ دوڑے تو آپ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خیر خواہی اور ان کے اتفاق کی دعا کے بعد دو شعر پڑھے جن کا مطلب بھی یہی ہے کہ موت کو ٹالنے والی کوئی چیز اور کوئی حیلہ کوئی قوت اور کوئی چالاکی نہیں، حضر کے بادشاہ ساطرون کو کسریٰ سابور ذوالا کتاف نے جس طرح قتل کیا وہ واقعہ بھی ہم یہاں لکھتے ہیں، ابن ہشام میں ہے جب سابور عراق میں تھا تو اس کے علاقہ یر ساطرون نے چڑھائی کی تھی اس کے بدلے میں جب اس نے چڑھائی کی تو یہ قلعہ بند ہو گیا دو سال تک محاصرہ رہا لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا۔
ایک روز ساطرون کی بیٹی نضیرہ اپنے باپ کے قلعہ کا گشت لگا رہی تھی اچانک اس کی نظرسابور پر پڑھ گئی یہ اس وقت شاہانہ پرتکلف ریشمی لباس میں تاج شاہی سر پر رکھے ہوئے تھا نضیرہ کے دل میں آیا کہ اس سے میری شادی ہو جائے تو کیا ہی اچھا ہو؟ چنانچہ اس نے خفیہ پیغام بھیجنے شروع کیے اور وعدہ ہو گیا کہ اگر یہ لڑکی اس قلعہ پر سابور کا قبضہ کرا دے تو سابور اس سے نکاح کر لیگا۔
اس کا باپ ساطرون بڑا شرابی تھا اس کی ساری رات نشہ میں کٹتی تھی اس کی لڑکی نے موقعہ پا کر رات کو اپنے باپ کو نشہ میں مد ہوش دیکھ کر اس کے سرہانے سے قلعہ کے دروازے کی کنجیاں چپکے سے نکال لیں اور اپنے ایک با اعتماد غلام کے ہاتھ سابور تک پہنچا دیں جس سے اس نے دروازہ کھول لیا اور شہر میں قتل عام کرایا اور قابض ہو گیا یہ بھی کہا گیا کہ اس قلعہ میں ایک جادو تھا جب تک اس طلسم کو توڑا نہ جائے قلعہ کا فتح ہونا ناممکن تھا اس لڑکی نے اس کے توڑنے کا گر اسے بتا دیا کہ ایک چت کبرا کبوتر لے کر اس کے پاؤں کسی باکرہ کے پہلے حیض کے خون سے رنگ لو پھر اس کبوتر کو چھوڑو وہ جا کر قلعہ کی دیوار پر بیٹھے تو فوراً وہ طلسم ٹوٹ جائے گا اور قلعہ کا پھاٹک کھل جائے گا۔
چنانچہ سابور نے یہی کیا اور قلعہ فتح کر کے ساطرون کو قتل کر ڈالا تمام لوگوں کو تیغ کیا اور تمام شہر کو اجاڑ دیا اور اس لڑکی کو اپنے ہمراہ لے گیا اور اس سے نکاح کر لیا۔ ایک رات جبکہ لڑکی نضیرہ اپنے بسترے پر لیٹی ہوئی تھی اسنے نیند نہ آ رہی تھی تلملا رہی تھی اور بے چینی سے کروٹیں بدل رہی تھی تو سابور نے پوچھا کیا بات ہے اس نے کہا شاید میرے بستر میں کچھ ہے جس سے مجھے نیند نہیں آ رہی، شمع جلائی گئی بستر ٹٹولا گیا تو گل آس کی ایک بتی نکلی۔
سابور اس نزاکت پر حیران رہ گیا کہ ایک اتنی چھوٹی سی پتی بستر میں ہونے پر اسے نیند نہیں آئی؟ پوچھا تیرے والد کے ہاں تیرے لیے کیا ہوتا تھا؟ اس نے کہا نرم ریشم کا بسترا تھا صرف باریک نرم ریشمی لباس تھا صرف نلیوں کا گودا کھایا کرتی تھی اور صرف انگوری خالص شراب پیتی تھی۔ یہ انتظام میرے باپ نے میرے لیے کر رکھا تھا۔ یہ تھی بھی ایسی کہ اس کی پنڈلی کا گودا تک باہر سے نظر آتا تھا۔
ان باتوں سے سابور پر ایک اور رنگ چڑھا دیا اور اس نے کہا جس باپ نے تجھے اس طرح پالا پوسا اس کے ساتھ تو نے یہ سلوک کیا کہ میرے ہاتھوں اسے قتل کرایا اس کے مالک کو تاخت و تاراج کرایا پھر مجھے تجھ سے کیا امید رکھنی چاہیئے؟ اللہ جانے میرے ساتھ تو کیا کرے؟ اسی وقت حکم دیا کہ اس کے سر کے بال گھوڑے سے باندھ دیئے جائیں اور گھوڑے کو بیلگام چھوڑ دیا جائے، چنانچہ یہی ہوا گھوڑا بد کا بھاگا اچھلنے کودنے لگا اور اس کی ٹاپوں سے زمین پر پچھاڑیں کھاتے ہوئے اس کے جسم کا چورا چورا ہو گیا۔ چنانچہ اس واقعہ کو عرب شعراء نے نظم بھی کیا ہے۔