وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾
اور جو اللہ اور رسول کی فرماںبرداری کرے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں۔
En
اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے
En
اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے، وه ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 70،69) ➊ { ”الصِّدِّيْقِيْنَ“ } یہ صدق سے مبالغہ ہے، یعنی جو بہت سچا ہو۔ بعض نے کہا، جو کبھی جھوٹ نہ بولے۔ بعض نے کہا، صدیق وہ ہے کہ صدق کی عادت کی وجہ سے اس سے جھوٹ نا ممکن ہو اور بعض نے کہا کہ جو اپنے اعتقاد اور قول میں سچا ہو اور اپنے فعل کے ساتھ اپنے صدق کو ثابت کرے۔ (مفردات) استاد محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ صدیق صدق سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی جو جملہ امور دین کی تصدیق کرنے والا ہو اور کبھی کسی معاملے میں خلجان اور شک اس کے دل میں پیدا نہ ہو، یا وہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق میں سبقت کرنے کی وجہ سے دوسروں کے لیے اسوہ بنے، اس اعتبار سے اس امت کے صدیق ابو بکر رضی اللہ عنہ ہی ہو سکتے ہیں، کیونکہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ دوسرے افاضل صحابہ کے لیے نمونہ بنے ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ بھی اول مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں، مگر چھوٹے بچے ہونے کی وجہ سے دوسروں کے لیے نمونہ نہیں بن سکے۔ چونکہ نبی کے بعد صدیق کا درجہ ہے، اس لیے علمائے اہل سنت کا اجماع ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ہیں۔ { ”الشُّهَدَآءِ“ } یہ شہید کی جمع ہے، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان دی اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شہداء ہونے کا شرف حاصل ہے۔ {”الصّٰلِحِيْنَ“} اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہر طرح عقیدہ و عمل کے اعتبار سے صالح اور درست رہے اور ہر قسم کے فساد سے محفوظ رہے۔ (رازی)
➋ { مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ …: } یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے انعام کا ذکر ہے کہ انھیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت، یعنی ان کا ساتھ نصیب ہو گا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا شوق بہت زیادہ تھا، دنیا میں بھی وہ اس کے بہت مشتاق تھے اور انھیں جنت میں آپ کی معیت کا شوق تو حد سے زیادہ تھا۔ ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات بسر کیا کرتا تھا اور آپ کے لیے پانی اور دیگر ضروریات کا اہتمام کر دیا کرتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کچھ مانگ لو!“ میں نے عرض کی: ”میں آپ سے جنت میں آپ کی مرافقت (ساتھ) کا سوال کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی اور سوال؟“ میں نے عرض کی: ”وہ بھی یہی ہے۔“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھر سجدوں کی کثرت کے ساتھ اپنے بارے میں میری مدد کرو۔ “ [مسلم، الصلاۃ، باب فضل السجود والحث علیہ: ۴۸۹] یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالص محبت اور اطاعت کی برکت ہے کہ اگر عمل میں کچھ کمی ہوئی تب بھی اطاعت و اخلاص کی وجہ سے اتنے اونچے لوگوں کا ساتھ مل جائے گا۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں سے محبت رکھتا ہے، مگر ابھی تک (اعمال میں) ان سے نہیں مل سکا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے اسے محبت ہو گی۔“ [بخاری، الأدب، باب علامۃ الحب فی اللہ…: ۶۱۶۹] حقیقت یہ ہے کہ اطاعت اور محبت لازم و ملزوم ہیں، وہ محبت جس میں اطاعت نہ ہو جھوٹی ہے اور وہ اطاعت جس کی بنیاد محبت نہ ہو، دکھاوا ہے۔ ہاں، محبت و اخلاص کے ساتھ عمل و اطاعت میں کچھ کمی ہو گی تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے پورا کر دے گا، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین سے زیادہ اچھا ساتھی کوئی نہیں اور اللہ کے فضل سے بڑی نعمت کوئی نہیں اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کے حالات خوب جانتا ہے کہ کسے کس کے ساتھ رکھنا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے، ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما سے محبت ہے، لہٰذا مجھے امید ہے کہ ان کے ساتھ محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے ان کے ساتھ ہی اٹھائیں گے، گو میں ان جیسے عمل نہیں کر سکا۔“ [بخاری، فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ …: ۳۶۸۸]
➋ { مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ …: } یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے انعام کا ذکر ہے کہ انھیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت، یعنی ان کا ساتھ نصیب ہو گا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا شوق بہت زیادہ تھا، دنیا میں بھی وہ اس کے بہت مشتاق تھے اور انھیں جنت میں آپ کی معیت کا شوق تو حد سے زیادہ تھا۔ ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات بسر کیا کرتا تھا اور آپ کے لیے پانی اور دیگر ضروریات کا اہتمام کر دیا کرتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کچھ مانگ لو!“ میں نے عرض کی: ”میں آپ سے جنت میں آپ کی مرافقت (ساتھ) کا سوال کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی اور سوال؟“ میں نے عرض کی: ”وہ بھی یہی ہے۔“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پھر سجدوں کی کثرت کے ساتھ اپنے بارے میں میری مدد کرو۔ “ [مسلم، الصلاۃ، باب فضل السجود والحث علیہ: ۴۸۹] یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالص محبت اور اطاعت کی برکت ہے کہ اگر عمل میں کچھ کمی ہوئی تب بھی اطاعت و اخلاص کی وجہ سے اتنے اونچے لوگوں کا ساتھ مل جائے گا۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں سے محبت رکھتا ہے، مگر ابھی تک (اعمال میں) ان سے نہیں مل سکا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے اسے محبت ہو گی۔“ [بخاری، الأدب، باب علامۃ الحب فی اللہ…: ۶۱۶۹] حقیقت یہ ہے کہ اطاعت اور محبت لازم و ملزوم ہیں، وہ محبت جس میں اطاعت نہ ہو جھوٹی ہے اور وہ اطاعت جس کی بنیاد محبت نہ ہو، دکھاوا ہے۔ ہاں، محبت و اخلاص کے ساتھ عمل و اطاعت میں کچھ کمی ہو گی تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے پورا کر دے گا، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین سے زیادہ اچھا ساتھی کوئی نہیں اور اللہ کے فضل سے بڑی نعمت کوئی نہیں اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کے حالات خوب جانتا ہے کہ کسے کس کے ساتھ رکھنا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے، ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما سے محبت ہے، لہٰذا مجھے امید ہے کہ ان کے ساتھ محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے ان کے ساتھ ہی اٹھائیں گے، گو میں ان جیسے عمل نہیں کر سکا۔“ [بخاری، فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ …: ۳۶۸۸]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
69۔ 1 اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا صلہ بتلایا جا رہا ہے اس لئے حدیث میں آتا ہے۔ آدمی انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی ' حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ' صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو جتنی خوشی اس فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سن کر ہوتی اتنی خوشی کبھی نہیں ہوئی، کیونکہ وہ جنت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت پسند کرتے تھے۔ اس کی شان نزول کی روایات میں بتایا گیا ہے کہ بعض صحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اور ہمیں اس سے فروتر مقام ہی ملے گا اور یوں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ورفاقت اور دیدار سے محروم رہیں گے۔ جو ہمیں دنیا میں حاصل ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر ان کی تسلی کا سامان فرمایا (ابن کثیر) بعض صحابہ ؓ نے بطور خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت میں رفاقت کی درخواست کی (اسالک مرافقتک فی الجنۃ) جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کثرت سے نفلی نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی (فأعنی علی نفسک بکثرۃ السجود) پس تم کثرت سجود کے ساتھ میری مدد کرو۔ علاوہ ازیں ایک اور حدیث ہے (التاجر الصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء) (ترمذی۔ کتاب البیوع باب ماجاء فی التجار و تسمیۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایاھم) راست باز، امانت دار، تاجر انبیا، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوگا۔ صدیقیت، کمال ایمان و کمال اطاعت کا نام ہے، نبوت کے بعد اس کا مقام ہے امت محمدیہ میں اس مقام میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سب سے ممتاز ہیں۔ اور اسی لیے بالاتفاق غیر انبیاء میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ہیں، صالح وہ ہے جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کامل طور پر ادا کرے اور ان میں کوتاہی نہ کرے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
69۔ اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرتا ہے تو ایسے لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء، صدیقین، شہیدوں اور صالحین [99] کے ساتھ اور رفیق ہونے کے لحاظ سے یہ لوگ کتنے اچھے ہیں
[99] منعم علیہم کون کون ہیں؟
اس آیت میں چار قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ فضیلت اور درجہ کے لحاظ سے بلند تر مقام رکھتے ہیں۔
(1) انبیاء۔ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ نبی ہی اپنی امت کا افضل ترین فرد ہوتا ہے جسے اللہ نبوت کے لیے چن لیتا ہے۔
(2) صدیق سے مراد ایسا شخص ہے جو اپنے ہر معاملہ میں راست باز ہو حق کا ساتھ دینے والا، ہمیشہ سچ بولنے والا، حق کی فوراً گواہی دینے والا اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے والا ہو۔
(3) شہید کا بنیادی معنیٰ گواہ ہے۔ اور اللہ کی راہ میں جان دینے والے کو شہید اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اپنے ایمان کی صداقت پر اپنی زندگی کے پورے طرز عمل سے شہادت دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اپنی جان دے کر یہ ثابت کر دیتا ہے کہ وہ جس چیز پر ایمان لایا تھا اسے فی الواقع درست سمجھتا تھا۔
(4) صالح سے مراد ایسا نیک سرشت آدمی ہے جس کے ہر عمل اور ہر حرکت سے اس کی نیکی ظاہر ہوتی ہو اور اپنی پوری زندگی میں نیک رویہ رکھتا ہو۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی بسر و چشم اطاعت کرتا ہو، اس آیت میں اسے اخروی زندگی میں مندرجہ بالا چار قسم کے لوگوں کی رفاقت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اور یہ در اصل اس کے اعمال کا بدلہ نہیں بلکہ محض اللہ کا فضل ہو گا۔
مندرجہ ذیل احادیث اسی مضمون کی تفسیر پیش کرتی ہیں:
1 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کیسے؟ سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ دروازے پر ہمیں ایک آدمی ملا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا ”کیا تو نے قیامت کے لیے کچھ تیاری کر رکھی ہے؟“ وہ کچھ جھینپ سا گیا اور کہنے لگا۔ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے نہ کچھ لمبے چوڑے روزے رکھے ہیں نہ نماز ہے اور نہ صدقہ۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ”(قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھتا ہے۔“
[بخاری، کتاب الاحکام، باب القضاء والفتیا فی الطریق]
2۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر نبی کو اس کے مرض میں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہے تو دنیا میں رہے اور چاہے تو آخرت کو پسند کرے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مرض الموت میں سخت دھچکا لگا تو میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ﴿مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ﴾
تو میں سمجھ گئی کہ آپ کو بھی یہ اختیار ملا (اور آپ نے سفر آخرت کو پسند فرمایا)۔ [بخاري، كتاب التفسير]
3۔ سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمیؓ کہتے ہیں کہ میں رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا کرتا اور آپ کے پاس وضو اور حاجت کا پانی لایا کرتا۔ ایک دفعہ (میں آپ کو وضو کروا رہا تھا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خوش ہو کر) فرمایا ”مانگ کیا مانگتا ہے؟“ میں نے کہا ”میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس کے علاوہ کوئی اور بات بتاؤ“ میں نے کہا ”میں تو یہی چیز مانگتا ہوں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا تو پھر کثرت سجود (نماز نوافل وغیرہ) کو اپنے آپ پر لازم کر لو اور اس طرح اس سلسلہ میں میری مدد کرو۔“ کیونکہ سجدہ ہی وہ عبادت ہے جس میں بندے کو اللہ سے نہایت قرب حاصل ہوتا ہے۔
[مسلم، کتاب الصلوۃ باب مایقال فی الرکوع والسجود]
(1) انبیاء۔ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ نبی ہی اپنی امت کا افضل ترین فرد ہوتا ہے جسے اللہ نبوت کے لیے چن لیتا ہے۔
(2) صدیق سے مراد ایسا شخص ہے جو اپنے ہر معاملہ میں راست باز ہو حق کا ساتھ دینے والا، ہمیشہ سچ بولنے والا، حق کی فوراً گواہی دینے والا اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے والا ہو۔
(3) شہید کا بنیادی معنیٰ گواہ ہے۔ اور اللہ کی راہ میں جان دینے والے کو شہید اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اپنے ایمان کی صداقت پر اپنی زندگی کے پورے طرز عمل سے شہادت دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اپنی جان دے کر یہ ثابت کر دیتا ہے کہ وہ جس چیز پر ایمان لایا تھا اسے فی الواقع درست سمجھتا تھا۔
(4) صالح سے مراد ایسا نیک سرشت آدمی ہے جس کے ہر عمل اور ہر حرکت سے اس کی نیکی ظاہر ہوتی ہو اور اپنی پوری زندگی میں نیک رویہ رکھتا ہو۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی بسر و چشم اطاعت کرتا ہو، اس آیت میں اسے اخروی زندگی میں مندرجہ بالا چار قسم کے لوگوں کی رفاقت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اور یہ در اصل اس کے اعمال کا بدلہ نہیں بلکہ محض اللہ کا فضل ہو گا۔
مندرجہ ذیل احادیث اسی مضمون کی تفسیر پیش کرتی ہیں:
1 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کیسے؟ سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ دروازے پر ہمیں ایک آدمی ملا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا ”کیا تو نے قیامت کے لیے کچھ تیاری کر رکھی ہے؟“ وہ کچھ جھینپ سا گیا اور کہنے لگا۔ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے نہ کچھ لمبے چوڑے روزے رکھے ہیں نہ نماز ہے اور نہ صدقہ۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ”(قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھتا ہے۔“
[بخاری، کتاب الاحکام، باب القضاء والفتیا فی الطریق]
2۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر نبی کو اس کے مرض میں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہے تو دنیا میں رہے اور چاہے تو آخرت کو پسند کرے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مرض الموت میں سخت دھچکا لگا تو میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ﴿مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ﴾
تو میں سمجھ گئی کہ آپ کو بھی یہ اختیار ملا (اور آپ نے سفر آخرت کو پسند فرمایا)۔ [بخاري، كتاب التفسير]
3۔ سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمیؓ کہتے ہیں کہ میں رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا کرتا اور آپ کے پاس وضو اور حاجت کا پانی لایا کرتا۔ ایک دفعہ (میں آپ کو وضو کروا رہا تھا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خوش ہو کر) فرمایا ”مانگ کیا مانگتا ہے؟“ میں نے کہا ”میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس کے علاوہ کوئی اور بات بتاؤ“ میں نے کہا ”میں تو یہی چیز مانگتا ہوں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا تو پھر کثرت سجود (نماز نوافل وغیرہ) کو اپنے آپ پر لازم کر لو اور اس طرح اس سلسلہ میں میری مدد کرو۔“ کیونکہ سجدہ ہی وہ عبادت ہے جس میں بندے کو اللہ سے نہایت قرب حاصل ہوتا ہے۔
[مسلم، کتاب الصلوۃ باب مایقال فی الرکوع والسجود]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔