ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 53

اَمۡ لَہُمۡ نَصِیۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡکِ فَاِذًا لَّا یُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِیۡرًا ﴿ۙ۵۳﴾
یا ان کے پاس سلطنت کا کچھ حصہ ہے؟ تو اس وقت تو وہ لوگوں کو کھجور کی گٹھلی کے نقطہ کے برابر نہ دیں گے۔ En
کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے تو لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں گے
En
کیا ان کا کوئی حصہ سلطنت میں ہے؟ اگر ایسا ہو تو پھر یہ کسی کو ایک کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی کچھ نہ دیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 53) اوپر کی آیت میں یہود کی جہالت بیان کی کہ وہ بتوں کی پوجا کو اللہ واحد کی عبادت پر ترجیح دیتے ہیں، اس آیت میں ان کے بخل اور حسد کو بیان فرمایا۔ بخل تو یہ ہے کہ جو نعمت اللہ تعالیٰ نے کسی کو دی ہو دوسروں سے اسے روک لینا اور حسد یہ ہے کہ جو نعمت اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو دی ہے اس پر جلے بھنے اور آرزو کرے کہ اس سے چھن جائے، پھر خواہ مجھے ملے یا نہ ملے۔ پس حسد اور بخل دونوں میں یہ بات قدرے مشترک ہے کہ دوسروں سے نعمت کو روکنا اور یہ گوارا نہ کرنا کہ اپنی ذات کے سوا دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔ (کبیر، قرطبی) یہود میں یہ دونوں صفتیں اتم اور اکمل طور پر پائی جاتی تھیں، قرآن نے بتایا کہ یہ مسلمانوں سے حسد کرتے ہیں اور ان کے بخل کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ملک و سلطنت میں ان کو کچھ اختیار ہوتا تو کسی کو تل برابر بھی نہ دیتے۔ {نَقِيْرًا} دراصل اس نقطے کو کہتے ہیں جو گٹھلی کی پشت پر ہوتا ہے اور یہ قلت میں ضرب المثل ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

53۔ 1 یہ انکاری ہے یعنی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے اگر اس میں ان کا کچھ حصہ ہوتا تو یہ یہود اتنے بخیل ہیں کہ لوگوں کو بالخصوص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا بھی نہ دیتے جس سے کھجور کی گٹھلی کا شگاف ہی پر ہوجاتا نَقَیْرًا اس نقطے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے اوپر ہوتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ یا ان کا حکومت [84] میں کوئی حصہ ہے؟ اگر ایسی صورت ہو تو وہ لوگوں کو پھوٹی کوڑی بھی نہ دیں گے
[84] یہود کا بخل اور تنگ نظری:۔
یہاں یہود کی ایک مشہور رذیل صفت بخل کا ذکر کیا گیا ہے کہ اگر ان کے پاس کسی ملک کی حکومت بھی ہو تو بھی وہ کسی کو پھوٹی کوڑی تک نہ دیں گے اور ان کے بخل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ اتنے تنگ نظر ہیں کہ حق بات کا اعتراف کرنا بھی ان کے لیے محال ہے۔ کیونکہ یہ مشرکین مکہ کو توحید پرستوں سے برتر قرار دے رہے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یہودیوں کی دشمنی کی انتہا اور اس کی سزا ٭٭
یہاں بطور انکار کے سوال ہوتا ہے کہ کیا وہ ملک کے کسی حصہ کے مالک ہیں؟ یعنی نہیں ہیں، پھر ان کی بخیلی بیان کی جاتی ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو یہ کسی کو ذرا سا بھی نفع پہنچانے کے روادار نہ ہوتے خصوصاً اللہ کے اس آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا بھی نہ دیتے جتنا کھجور کی گٹھلی کے درمیان کا پردہ ہوتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:100]‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تم تو خرچ ہو جانے کے خوف سے بالکل ہی روک لیتے ‘ گو ظاہر ہے کہ وہ کم نہیں ہو سکتے تھے لیکن تمہاری کنجوسی تمہیں ڈرا دیتی اسی لیے فرما دیا کہ ’ انسان بڑا ہی بخیل ہے۔ ‘
ان کے ان بخیلانہ مزاج کے بعد ان کا حسد واضح کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جو نبوت کا عظیم تر منصب بخشا ہے چونکہ وہ عرب میں سے ہیں بنی اسرائیل سے نہیں اس لیے ان سے حسد کی آگ میں جل رہے ہیں اور لوگوں کو آپ کی تصدیق سے روک رہے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہاں «الناس» سے مراد ہم ہیں کوئی اور نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے آل ابراہیم کو جو بنی اسرائیل کے قبائل میں اولاد ابراہیم سے ہیں نبوت دی کتاب نازل فرمائی جینے مرنے کے آداب سکھائے بادشاہت بھی دی اس کے باوجود ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اس انعام و اکرام کو مانا لیکن بعض نے پھر بھی اسے تسلیم نہ کیا اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے روکا حالانکہ وہ بھی بنی اسرائیل ہی تھے تو جبکہ یہ اپنے والوں سے بھی منکر ہو چکے ہیں تو پھر اے نبی آخر الزمان آپ کا انکار ان سے کیا دور ہے۔؟
جب کہ آپ ان میں سے بھی نہیں، یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ بعض اس پر یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے پس یہ کافر اپنے کفر میں بہت سخت اور نہایت پکے ہیں اور ہدایت و حق سے بہت ہی دور ہیں پھر انہیں ان کی سزا سنائی جا رہی ہے کہ جہنم کا جلنا انہیں بس ہے، ان کے کفر و عناد کی ان کی تکذیب اور سرکشی کی یہ سزا کافی ہے۔