تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[مسلم: کتاب النکاح، باب الصداق]
اسی سلسلہ میں دوسری روایت اس طرح ہے کہ ابو العجفاء کہتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا عمر بن خطابؓ نے اپنے خطبہ کے دوران لوگوں سے فرمایا کہ ”دیکھو! عورتوں کے حق مہر بڑھ چڑھ کر نہ باندھا کرو، کیونکہ اگر مہر بڑھانا دنیا میں کوئی عزت کی بات ہوتی یا اللہ کے ہاں تقویٰ کی بات ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سب سے زیادہ حقدار تھے۔ اور میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کا یا اپنی کسی بیٹی کا حق مہر بارہ اوقیہ چاندی سے زیادہ باندھا ہو۔“
[ترمذی: ابواب النکاح: باب ماجاء فی مھور النساء]
ہم ان دونوں روایات میں سے مسلم میں سیدہ عائشہؓ والی حدیث کے مطابق ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی (ایک اوقیہ = 40 درہم) یا 500 درہم والی روایت کو ترجیح دیتے ہیں۔ درہم چاندی کا ایک سکہ تھا۔ جس کا وزن 2/1۔ 4 ماشہ چاندی تھا۔ اس حساب سے یہ 500 x 2/9 x 12/1 = 2/375=2/1۔ 187 تولے چاندی ہوئی اور اگر موجودہ حساب سے 150 روپیہ فی تولہ فرض کیا جائے تو یہ آج کل =/28125 روپے پاکستانی بنتے ہیں۔ اور اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ 20 درہم=ایک دینار۔ اور دینار 2/1۔ 3 ماشہ سونے کا سکہ تھا۔ اس لحاظ سے یہ 20/500= 25 دینار ہوئے۔ جن کا وزن 25 x 24/7 تولے بنتا ہے اور اگر ایک تولہ سونا کا نرخ 4500 روپے فی تولہ لگایا جاے تو یہ =/32812 روپے پاکستانی بنتے ہیں اور اگر ان دونوں رقموں کا اوسط نکالا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں کا پاکستان کی موجودہ کرنسی کے حساب سے تیس ہزار روپے حق مہر مقرر کیا تھا اور یہ وہ رقم ہے جس کے متعلق سیدنا عمرؓ نے فرمایا تھا کہ لوگو! اس سے زیادہ حق مہر نہ باندھا کرو۔ اب اسی سے متعلق ایک تیسری روایت بھی ملاحظہ فرمائیے۔ جب سیدنا عمرؓ لوگوں سے یہ خطاب فرما رہے تھے تو ایک عورت پکار اٹھی (کیونکہ یہ بات عورتوں کے حقوق سے تعلق رکھتی تھی) کہ ”تم یہ کیسے پابندی لگا سکتے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے:
﴿ وَّاٰتَيْتُمْ اِحْديٰهُنَّ قِنْطَارًا ﴾ [4: 2]
یعنی اگرچہ تم اپنی کسی بیوی کو خزانہ بھر بھی بطور حق مہر دے چکے ہو۔ عورت کی یہ بات سن کر سیدنا عمرؓ بے ساختہ پکار اٹھے۔ ”پروردگار! مجھے معاف فرما، یہاں تو ہر شخص عمرؓ سے زیادہ فقیہ ہے۔“ پھر منبر پر چڑھے اور کہا ”لوگو! میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ حق مہر باندھنے سے روکا تھا۔ میں اپنی رائے واپس لیتا ہوں۔ تم میں سے جو جتنا چاہے، مہر میں دے۔“ ان احادیث کے علاوہ ایک اور متفق علیہ حدیث ہمیں سیدنا عبد الرحمن بن عوفؓ سے متعلق ملتی ہے کہ انہوں نے ایک کھجور کی گٹھلی بھر سونا حق مہر کے عوض ایک انصاری عورت سے نکاح کیا تھا لیکن یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ وہ گٹھلی کتنی بڑی یا چھوٹی تھی اور اس کا وزن کتنا تھا۔ سونا چونکہ سب سے وزنی دھات ہے اس لیے گمان یہی ہے کہ وہ بھی چھ سات تولے سونے کے لگ بھگ ہو گی۔ کم سے کم حق مہر کے متعلق بھی ایک حدیث تقریباً سب کتب حدیث میں موجود ہے کہ ”ایک عورت نے اپنا نفس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا مگر آپ خاموش رہے۔ اتنے میں ایک شخص بول اٹھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ نہیں چاہتے تو اس عورت کا مجھ سے نکاح کر دیجئے! آپ نے اس سے پوچھا تمہارے پاس حق مہر دینے کے لیے کوئی چیز ہے؟ وہ کہنے لگا کچھ نہیں ماسوائے اس چادر کے جو میں نے لپیٹ رکھی ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ چادر تم رکھو گے یا اسے دو گے۔ جاؤ کوئی لوہے کی انگوٹھی ہی ڈھونڈ لاؤ۔ وہ گیا لیکن اسے وہ بھی نہ ملی اور واپس آ گیا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ کچھ قرآن یاد ہے؟ کہنے لگا ہاں! فلاں فلاں سورت یاد ہے۔ آپ نے فرمایا، اچھا وہی سورتیں اس کو (بطورِ حق مہر) زبانی یاد کرا دینا۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک لوہے کی انگوٹھی بھی حق مہر ہو سکتی ہے۔ اس حدیث سے بعض فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ حق مہر کی کم از کم حد ربع دینار یا پانچ درہم ہے اور بعض یہ حد نصف دینار یا دس درہم قرار دیتے ہیں۔ ان تمام احادیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حق مہر خاوند کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے اور ایسا ہونا چاہیے جس پر فریقین راضی اور مطمئن ہوں اور آج کل پاکستانی کرنسی کے حساب سے اس کا درمیانی سا معیار تیس ہزار روپے ہے۔
[مسلم۔ کتاب النکاح باب تحریم نکاح الشغار و بطلانہ]
یعنی ہر لڑکی کا ولی یا باپ حق مہر کا ذکر تک اس لیے نہ کرتا تھا کہ وہ اسے ادا کرنا پڑتا تھا اس طرح وہ حق مہر سے لڑکیوں کو محروم کر کے یہ رقم خود ہضم کر جاتے تھے۔ پھر کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اگر عورت حق مہر کی رقم معاف نہ کرے تو اسے طرح طرح سے دکھ پہچانا شروع کر دیتے ہیں اور اس دکھ پہچانے کی بھی بہت سی صورتیں ہیں۔ ایسی سب باتیں حرام اور گناہ ہیں راہ صواب یہی ہے کہ جو حق مہر طے ہوا ہو وہ بیویوں کو بخوشی ادا کر دیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما كان كثير من الناس يظلمون النساء ويهضمونهنَّ حقوقَهنَّ، خصوصاً الصداق الذي يكون شيئاً كثيراً ودفعةً واحدةً يشقُّ دفعُه للزوجةِ؛ أمرهم وحثَّهم على إيتاء النساء {صَدُقاتهنَّ}، أي: مهورهنَّ {نِحْلَةً}؛ أي: عن طيب نفس وحال طمأنينة؛ فلا تمطلوهنَّ أو تبخسوا منه شيئاً؛ وفيه أن المهر يُدْفَع إلى المرأة إذا كانت مكلفةً، وأنها تملكه بالعقد؛ لأنه أضافه إليها، والإضافة تقتضي التمليك؛ {فإن طبن لكم عن شيء منه}؛ أي: من الصداق {نفساً}؛ بأن سَمَحْنَ لكم عن رضا واختيار بإسقاط شيء منه أو تأخيره أو المعاوضة عنه؛ {فكلوه هنيئاً مريئاً}؛ أي: لا حرج عليكم في ذلك ولا تَبِعَة. وفيه دليل على أن للمرأة التصرف في مالها ولو بالتبرع إذا كانت رشيدةً؛ فإن لم تكن كذلك؛ فليس لعطيَّتِها حكم، وأنه ليس لوليها من الصداق شيء غير ما طابت به. وفي قوله: {فانكحوا ما طاب لكم من النساء}: دليلٌ على أن نكاح الخبيثة غير مأمور به، بل منهيٌّ عنه كالمشركة وكالفاجرة؛ كما قال تعالى: {ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمنَّ}، وقال: {الزانية لا ينكحها إلا زانٍ أو مشركٌ}.