تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور حدیث میں ہے لوگو بخیلی سے بچو اسی نے تم سے اگلوں کو تاخت و تاراج کیا اسی کے باعث ان سے قطع رحمی اور فسق و فجور جیسے برے کام نمایاں ہوئے۔۱؎ [سنن ابوداود:1698،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا یہ لوگ ان دونوں برائیوں کے ساتھ ہی ساتھ ایک تیسری برائی کے بھی مرتکب ہیں یعنی اللہ کی نعمتوں کو چھپاتے ہیں انہیں ظاہر نہیں کرتے نہ ان کے کھانے پینے میں وہ ظاہر ہوتی ہیں نہ پہننے اوڑھنے میں نہ دینے لینے میں جیسے اور جگہ ہے «اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ وَاِنَّهٗ عَلٰي ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ» ۱؎ [100-العاديات:6-7] یعنی ’ انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے اور وہ خود ہی اپنی اس حالت اور اس خصلت پر گواہ ہے ‘، پھر «وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ» ۱؎ [100-العاديات:8] ’ وہ مال کی محبت میں مست ہے ‘، پس یہاں بھی فرمان ہے کہ اللہ کے فضل کو یہ چھپاتا رہتا ہے۔
حدیث شریف میں ہے اللہ جب کسی بندے پر اپنی نعمت انعام فرماتا ہے تو چاہتا ہے کہ اس کا اثر اس پر ظاہر ہو۔ ۱؎ [مسند احمد:3/473،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دعا نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے «وَاجْعَلنَْا شَاکِرِیْنَ لِنِعْمَتِکَ مُثْنِیْنَ بِھَا عَلَیْکَ قَابِلِیْھَاوَاتِمَّـهَا عَلَیْناَ» اے اللہ! ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار بنا اور ان کی وجہ سے ہمیں اپنا ثنا خوان بنا ان کا قبول کرنے والا بنا اور ان کی نعمتوں کو ہمیں بھرپور عطا فرما۔ ۱؎ [سنن ابوداود:969،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بعض سلف کا قول ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے اس بخل کے بارے میں ہے جو وہ اپنی کتاب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کے چھپانے میں کرتے تھے اسی لیے اس کے آخر میں ہے کہ کافروں کے لیے ذلت آمیز عذاب ہم نے تیار کر رکھے ہیں۔
کوئی شک نہیں کہ اس آیت کا اطلاق ان پر بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ بظاہر یہاں مال کا بخل بیان ہو رہا ہے گو علم کا بخل بھی اس میں بطور اولیٰ داخل ہے۔ خیال کیجئے کہ بیان آیت «اقرباضعفا» کو مال دینے کے بارے میں ہے اسی طرح اس کے بعد والی آیت میں ریاکاری کے طور پر فی سبیل اللہ مال دینے کی مذمت بھی بیان کی جا رہی ہے۔ پہلے ان کا بیان ہوا جو ممسک اور بخیل ہیں کوڑی کوڑی کو دانتوں سے تھام رکھتے ہیں۔
اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تیرے باپ نے اپنی سخاوت سے جو چاہتا تھا وہ اسے مل گیا۔ ۱؎ [مسند احمد:258/4:حسن بالشواھد]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عبداللہ بن جدعان تو بڑا سخی تھا جس نے مساکین و فقراء کے ساتھ بڑے سلوک کئے اور نام الہ بہت سے غلام آزاد کئے تو کیا اسے ان کا نفع نہ ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں اس سے تو عمر بھر میں ایک دن بھی نہ کہا کہ اے اللہ میرے گناہوں کو قیامت کے دن معاف فرما دینا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:214]
اسی لیے یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان کا ایمان اللہ اور قیامت پر نہیں۔ ورنہ شیطان کے پھندے میں نہ پھنس جاتے اور بد کو بھلا نہ سمجھ بیٹھتے یہ شیطان کے ساتھی ہیں اور شیطان ان کا ساتھی ہے ساتھی کی برائی پر ان کی برائی بھی سوچ لو عرب شاعر کہتا ہے «عن المرء لا تسال وسل عن قرینہ» * «فکل قرین بالمقارن یقتدی» انسان کے بارے میں نہ پوچھ اس کے ساتھیوں کا حال دریافت کر لے۔ ہر ساتھی اپنے ساتھی کا ہی پیرو کار ہوتا ہے۔
اللہ کی محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ اللہ انہیں خوب جانتا ہے ان کی بھلی اور بری نیتوں کا اسے علم ہے، اہل توفیق اور غیر اہل توفیق سب اس پر ظاہر ہیں، وہ بھلوں کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما کر اپنی خوشنودی کے کام ان سے لے کر اپنی قربت انہیں عطا فرماتا ہے اور بروں کو اپنی عالی جناب اور زبردست سرکاری سے دھکیل دیتا ہے جس سے ان کی دنیا اور آخرت برباد ہوتی ہے۔ «عَیَاذًا ابِاللہِ مِنْ ذٰلِکَ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر عن النفقة الصادرة عن رياءٍ وسُمْعَة وعدم إيمان به، فقال: {والذين ينفقون أموالهم رئاء الناس}؛ أي: ليروهم ويمدحوهم ويعظموهم. {ولا يؤمنون بالله ولا باليوم الآخِرِ}؛ أي: ليس إنفاقهم صادراً عن إخلاص وإيمان بالله ورجاء ثوابه؛ أي: فهذا من خطوات الشيطان وأعماله، التي يدعو حزبه إليها ليكونوا من أصحاب السعير، وصدرت منهم بسبب مقارنته لهم وأزِّهم إليها؛ فلهذا قال: {ومن يَكُنِ الشيطانُ له قريناً فساءَ قريناً}؛ أي: بئس المقارن والصاحب الذي يريد إهلاك مَن قارنه ويسعى فيه أشدَّ السعي؛ فكما أن مَن بخل بما آتاه الله وكَتَمَ ما منَّ به الله عليه عاصٍ آثمٌ مخالفٌ لربِّه؛ فكذلك من أنفق وتعبَّد لغير الله؛ فإنه آثم عاصٍ لربِّه مستوجبٌ للعقوبة؛ لأن الله إنما أمر بطاعتِهِ وامتثال أمره على وجه الإخلاص؛ كما قال تعالى: {وما أُمِروا إلا ليعبدوا الله مُخلصينَ له الدِّين}؛ فهذا العمل المقبول الذي يستحقُّ صاحبُهُ المدح والثواب؛ فلهذا حثَّ تعالى عليه بقوله: