وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِی الۡیَتٰمٰی فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ۚ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَلَّا تَعُوۡلُوۡا ؕ﴿۳﴾
اور اگر تم ڈروکہ یتیموں کے حق میں انصاف نہیں کرو گے تو (اور) عورتوں میں سے جو تمھیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو، دو دو سے اور تین تین سے اور چار چار سے، پھر اگر تم ڈرو کہ عدل نہیں کرو گے تو ایک بیوی سے، یا جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں (یعنی لونڈیاں)۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو۔
En
اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے
En
اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیاده قریب ہے، کہ (ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 3) ➊ {وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا …:} اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کے ایک سوال کے جواب میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”بعض یتیم لڑکیاں کچھ لوگوں کی پرورش میں ہوتیں، وہ ان لڑکیوں کے مال اور جمال کی وجہ سے ان سے نکاح کر لیتے، لیکن انھیں اپنے گھر کی لڑکیاں سمجھ کر پرائے گھر کی لڑکیوں جیسا نہ تو مہر دیتے اور نہ ان کے دوسرے حقوق ویسے ادا کرتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انھیں ایسا کرنے سے منع فرمایاکہ اگر تم یتیم لڑکیوں سے ان کے مہر اور نفقات میں انصاف نہیں کر سکتے تو ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے، جو تمھیں پسند ہوں، نکاح کر لو۔“ [بخاری، التفسیر، باب: «و إن خفتم ألا تقسطوا فی الیتمٰی» : ۴۵۷۴]
➋ {مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ:} اس آیت سے دلیل لیتے ہوئے ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور علماء نے لکھا ہے کہ ایک شخص کے لیے بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں اپنے حرم میں رکھنا جائز نہیں، یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنت سے بصراحت یہ مسئلہ ثابت ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شافعی رحمہ اللہ نے جو فرمایا اس پر علماء کا اجماع ہے۔ غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے چار کا انتخاب کر لو۔“ [أحمد: 14/2، ح: ۴۶۳۰۔ ابن ماجہ، النکاح، باب الرجل یسلم و عندہ …: ۱۹۵۳، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما و قال الألبانی صحیح] مزید صحابہ کے واقعات ابن کثیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”رافضی (شیعہ) اور بعض دوسرے لوگ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ شادیاں چار سے زائد بھی جائز ہیں، مگر یہ لغت اور سنت سے جہالت کا نتیجہ ہے۔“
➌ {فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا …:} اس سے بعض لوگوں نے ایک سے زیادہ شادیوں کے ناجائز ہونے پر استدلال کیا ہے کہ اگر تمھیں خوف ہو کہ عدل نہیں کرو گے تو ایک بیوی پر اکتفا کرو یا لونڈی پر۔ اس کے ساتھ وہ دوسری آیت بھی ملاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَنْ تَسْتَطِيْعُوْۤا۠ اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ» [النساء: ۱۲۹] ”اور تم ہر گز نہ کر سکو گے کہ عورتوں کے درمیان برابری (عدل) کرو، خواہ تم حرص بھی کرو۔“ خلاصہ دونوں کا یہ نکالا کہ جب عدل ہو ہی نہیں سکتا تو مرد ایک سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ ان حضرات نے وہی کام کیا ہے جو «لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ» والے حضرات کرتے ہیں کہ آگے «وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى» [النساء: ۴۳] پڑھتے ہی نہیں۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کا پورا فرمان یوں ہے: ” اور تم ہرگز نہ کر سکو گے کہ عورتوں کے درمیان برابری کرو، خواہ تم حرص بھی کرو، پس مت جھک جا ؤ (ایک کی طرف) مکمل جھک جانا کہ اس (دوسری) کو لٹکائی ہوئی کی طرح چھوڑ دو، اور اگر تم اصلاح کرو اور ڈرتے رہو تو بے شک اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، بے حد مہربان ہے۔“ [النساء: ۱۲۹] معلوم ہوا وہ عدل جو انسان کر ہی نہیں سکتا، یعنی دلی میلان، وہ واجب ہی نہیں۔ زیادہ بیویاں ہمارے نبی اور اصحاب کی سنت ہے۔
➍ {ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْا:} یعنی اگر کسی کو خوف ہے کہ وہ اتنا عدل بھی نہیں کر سکتا جتنا واجب ہے کہ رات رہنے اور نان و نفقہ میں بھی برابری نہیں کر سکتا، کیونکہ دلی محبت اور میلان و صحبت میں تو برابری ممکن ہی نہیں، تو ایک بیوی رکھے یا لونڈیاں، یہ زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو۔ بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ”یہ زیادہ قریب ہے کہ تمھارے عیال زیادہ نہ ہو جائیں اور تم فقیر نہ ہو جاؤ “ اور پھر اس پر برتھ کنٹرول کی بنیاد رکھ دی ہے کہ بچے کم پیدا کرو۔ حالانکہ بچے تو لونڈیوں سے بھی پیدا ہوتے ہیں اور لونڈیوں کی تعداد بھی مقرر نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا: ”ان عورتوں سے نکاح کرو جو بہت بچے جننے والی اور بہت محبت کرنے والی ہوں، کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمھاری کثرت پر فخر کروں گا۔“ [أبو داوٗد، النکاح، باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء: ۲۰۵۰، عن معقل بن یسار رضی اللہ عنہ، قال الألبانی حسن صحیح]
پھر {”اَلَّا تَعُوْلُوْا“} کا معنی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”یہ زیادہ قریب ہے کہ تم ظلم نہ کرو، انصاف سے نہ ہٹو۔“ [ابن حبان: ۴۰۲۹، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا، و صححہ الألبانی الصحیحۃ: ۳۲۲۲]
➋ {مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ:} اس آیت سے دلیل لیتے ہوئے ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور علماء نے لکھا ہے کہ ایک شخص کے لیے بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں اپنے حرم میں رکھنا جائز نہیں، یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنت سے بصراحت یہ مسئلہ ثابت ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شافعی رحمہ اللہ نے جو فرمایا اس پر علماء کا اجماع ہے۔ غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے چار کا انتخاب کر لو۔“ [أحمد: 14/2، ح: ۴۶۳۰۔ ابن ماجہ، النکاح، باب الرجل یسلم و عندہ …: ۱۹۵۳، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما و قال الألبانی صحیح] مزید صحابہ کے واقعات ابن کثیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”رافضی (شیعہ) اور بعض دوسرے لوگ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ شادیاں چار سے زائد بھی جائز ہیں، مگر یہ لغت اور سنت سے جہالت کا نتیجہ ہے۔“
➌ {فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا …:} اس سے بعض لوگوں نے ایک سے زیادہ شادیوں کے ناجائز ہونے پر استدلال کیا ہے کہ اگر تمھیں خوف ہو کہ عدل نہیں کرو گے تو ایک بیوی پر اکتفا کرو یا لونڈی پر۔ اس کے ساتھ وہ دوسری آیت بھی ملاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ لَنْ تَسْتَطِيْعُوْۤا۠ اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ» [النساء: ۱۲۹] ”اور تم ہر گز نہ کر سکو گے کہ عورتوں کے درمیان برابری (عدل) کرو، خواہ تم حرص بھی کرو۔“ خلاصہ دونوں کا یہ نکالا کہ جب عدل ہو ہی نہیں سکتا تو مرد ایک سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ ان حضرات نے وہی کام کیا ہے جو «لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ» والے حضرات کرتے ہیں کہ آگے «وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى» [النساء: ۴۳] پڑھتے ہی نہیں۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ کا پورا فرمان یوں ہے: ” اور تم ہرگز نہ کر سکو گے کہ عورتوں کے درمیان برابری کرو، خواہ تم حرص بھی کرو، پس مت جھک جا ؤ (ایک کی طرف) مکمل جھک جانا کہ اس (دوسری) کو لٹکائی ہوئی کی طرح چھوڑ دو، اور اگر تم اصلاح کرو اور ڈرتے رہو تو بے شک اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، بے حد مہربان ہے۔“ [النساء: ۱۲۹] معلوم ہوا وہ عدل جو انسان کر ہی نہیں سکتا، یعنی دلی میلان، وہ واجب ہی نہیں۔ زیادہ بیویاں ہمارے نبی اور اصحاب کی سنت ہے۔
➍ {ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْا:} یعنی اگر کسی کو خوف ہے کہ وہ اتنا عدل بھی نہیں کر سکتا جتنا واجب ہے کہ رات رہنے اور نان و نفقہ میں بھی برابری نہیں کر سکتا، کیونکہ دلی محبت اور میلان و صحبت میں تو برابری ممکن ہی نہیں، تو ایک بیوی رکھے یا لونڈیاں، یہ زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو۔ بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے: ”یہ زیادہ قریب ہے کہ تمھارے عیال زیادہ نہ ہو جائیں اور تم فقیر نہ ہو جاؤ “ اور پھر اس پر برتھ کنٹرول کی بنیاد رکھ دی ہے کہ بچے کم پیدا کرو۔ حالانکہ بچے تو لونڈیوں سے بھی پیدا ہوتے ہیں اور لونڈیوں کی تعداد بھی مقرر نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ بچے پیدا کرنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا: ”ان عورتوں سے نکاح کرو جو بہت بچے جننے والی اور بہت محبت کرنے والی ہوں، کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمھاری کثرت پر فخر کروں گا۔“ [أبو داوٗد، النکاح، باب النھی عن تزویج من لم یلد من النساء: ۲۰۵۰، عن معقل بن یسار رضی اللہ عنہ، قال الألبانی حسن صحیح]
پھر {”اَلَّا تَعُوْلُوْا“} کا معنی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”یہ زیادہ قریب ہے کہ تم ظلم نہ کرو، انصاف سے نہ ہٹو۔“ [ابن حبان: ۴۰۲۹، عن عائشۃ رضی اللہ عنہا، و صححہ الألبانی الصحیحۃ: ۳۲۲۲]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 اس کی تفسیر حضرت عائشہ ؓ سے اس طرح مروی ہے کہ صاحب حیثیت اور صاحب جمال یتیم لڑکی کسی ولی کے زیر پرورش ہوتی تو اس کے مال اور حسن و جمال کی وجہ سے اس سے شادی تو کرلیتا لیکن اس کو دوسری عورتوں کی طرح پورا حق مہر نہ دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ظلم سے روکا، کہ اگر تم گھر کی یتیم بچیوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو ان سے نکاح ہی مت کرو، تمہارے لئے دوسری عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کا راستہ کھلا ہے (صحیح بخاری) ایک کی بجائے دو سے، تین سے حتیٰ کے چار عورتوں تک سے تم نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے کرسکو ورنہ ایک ہی نکاح کرو یا اس کے بجائے لونڈی پر گزارا کرو۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمان مرد (اگر وہ ضرورت مند ہے) تو چار عورتیں بیک وقت اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے لیکن اس سے زیادہ نہیں جیسا کہ صحیح احادیث میں اس کی مذید صراحت اور تحدید کردی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چار سے زائد شادیاں کیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ہے جس پر کسی امتی کے لیے عمل کرنا جائز نہیں۔ (ابن کثیر) 3۔ 2 یعنی ایک ہی عورت سے شادی کرنا کافی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی صورت میں انصاف کا اہتمام بہت مشکل ہے جس کی طرف قلبی میلان زیادہ ہوگا، ضروریات زندگی کی فراہمی میں زیادہ توجہ بھی اسی کی طرف ہوگی۔ یوں بیویوں کے درمیان وہ انصاف کرنے میں ناکام رہے گا اور اللہ کے ہاں مجرم قرار پائے گا۔ قرآن نے اس کی حقیقت کو دوسرے مقام پر نہایت اچھے انداز میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔ (تم ہرگز اس بات کی طاقت نہ رکھو گے) کہ بیویوں کے درمیان انصاف کرسکو، اگرچہ تم اس کا اہتمام کرو۔ (اس لئے اتنا کرو) کہ ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ کہ دوسری بیویوں کو بیچ ادھڑ میں لٹکا رکھو، اس سے معلوم ہوا کہ ایک سے زیادہ شادی کرنا اور بیویوں کے ساتھ انصاف نہ کرنا نامناسب اور نہایت خطرناک ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں ان سے انصاف [5] نہ کر سکو گے تو پھر دوسری عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں، دو، دو، تین، تین، چار، چار تک نکاح کر لو۔ [6] لیکن اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ ان میں انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔ یا پھر وہ کنیزیں ہیں جو تمہارے قبضے میں ہوں۔ [6۔ 1] بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ بات قرین صواب ہے
[5] یتیم لڑکیوں سے نا انصافی:۔
اور زیادہ حق تلفی یتیم لڑکیوں کی ہوتی تھی۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ یتیم لڑکی کا ولی کوئی قریبی رشتہ دار ہی ہو سکتا ہے اور وراثت میں بھی ولی اور یتیم لڑکی کا اشتراک ممکن ہے۔ اب لڑکی کے جوان ہونے پر تین صورتیں پیش آ سکتی تھیں: ایک یہ کہ لڑکی خوبصورت نہ ہو اور ولی کے دل میں اس کی الفت بھی نہ ہو اور وہ محض اس طمع سے اس سے نکاح کر لے کہ اس کا ورثہ کا مال ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اس طرح کا نکاح کرنا بھی اس لڑکی پر ظلم ہے۔ دوسرے یہ کہ لڑکی خوبصورت بھی ہو اور صاحب جائیداد بھی ہو، اس صورت میں ولی اس سے نکاح کر لیتا مگر جتنا حق مہر اسے دوسروں سے مل سکتا تھا اسے اس سے بہت کم دیتا اور دوسرا کوئی شخص ولی کی موجودگی میں اس سے نکاح کر بھی نہیں سکتا تھا۔ جبکہ ولی خود اس کا خواہش مند ہو۔ یہ بھی یتیم لڑکیوں کے حقوق پر ڈاکہ کی ایک صورت تھی۔ یہی نا انصافیاں تھیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا ہے۔ اس آیت کے شان نزول کے بارے میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص ایک یتیم لڑکی کی پرورش کرتا تھا اس نے صرف اس غرض سے اس کے ساتھ نکاح کر لیا کہ وہ ایک کھجور کے درخت کی مالکہ تھی ورنہ اس کے دل میں اس لڑکی کی کوئی الفت نہ تھی۔ اس کے حق میں یہ آیت اتری۔ اس حدیث کے ایک راوی ابن جریج کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ لڑکی اس درخت اور دوسرے مال اسباب میں اس مرد کی حصہ دار تھی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ سیدہ عائشہؓ کے بھانجے عروہ بن زبیرؓ نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا: بھانجے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک یتیم لڑکی اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور ترکہ کی رو سے اس کی جائیداد میں حصہ دار ہو اور ولی کو اس کا مال اور جمال تو پسند آئے مگر وہ اسے اتنا مہر دینے پر آمادہ نہ ہو جتنا اسے دوسرے لوگ دیتے ہیں تو وہ اس سے نکاح نہ کرے۔ ہاں اگر اتنا ہی دے دے تو پھر نکاح کر سکتا ہے۔ ورنہ وہ ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے جو انہیں پسند ہو نکاح کر لے۔ اور چار تک ایسی بیویوں کی اجازت دی گئی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير] اور تیسری صورت یہ کہ لڑکی نہ خوبصورت ہو اور نہ صاحب مال ہو اس صورت میں ولی کو اس سے نکاح کرنے میں کوئی دلچسپی نہ ہوتی تھی۔
1۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک شخص ایک یتیم لڑکی کی پرورش کرتا تھا اس نے صرف اس غرض سے اس کے ساتھ نکاح کر لیا کہ وہ ایک کھجور کے درخت کی مالکہ تھی ورنہ اس کے دل میں اس لڑکی کی کوئی الفت نہ تھی۔ اس کے حق میں یہ آیت اتری۔ اس حدیث کے ایک راوی ابن جریج کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ لڑکی اس درخت اور دوسرے مال اسباب میں اس مرد کی حصہ دار تھی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ سیدہ عائشہؓ کے بھانجے عروہ بن زبیرؓ نے ان سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا: بھانجے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک یتیم لڑکی اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور ترکہ کی رو سے اس کی جائیداد میں حصہ دار ہو اور ولی کو اس کا مال اور جمال تو پسند آئے مگر وہ اسے اتنا مہر دینے پر آمادہ نہ ہو جتنا اسے دوسرے لوگ دیتے ہیں تو وہ اس سے نکاح نہ کرے۔ ہاں اگر اتنا ہی دے دے تو پھر نکاح کر سکتا ہے۔ ورنہ وہ ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے جو انہیں پسند ہو نکاح کر لے۔ اور چار تک ایسی بیویوں کی اجازت دی گئی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير] اور تیسری صورت یہ کہ لڑکی نہ خوبصورت ہو اور نہ صاحب مال ہو اس صورت میں ولی کو اس سے نکاح کرنے میں کوئی دلچسپی نہ ہوتی تھی۔
[6] چار تک بیویوں سے نکاح کی اجازت:۔
یتیم لڑکیوں کے سرپرستوں کو ان دونوں نا انصافیوں سے روکا گیا اور فرمایا کہ اگر تم صاحب جمال لڑکی کا اتنا مہر ادا کر سکو جتنا باہر سے مل سکتا ہے تو تم اس سے نکاح کر سکتے ہو ورنہ اور تھوڑی عورتیں ہیں ان میں سے اپنی حسب پسند چار تک بیویاں کر سکتے ہو۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ ان میں مساوات کا لحاظ رکھو اور اگر یہ کام نہ کر سکو تو پھر ایک بیوی پر اکتفا کرو۔ یا پھر ان کنیزوں پر جو تمہارے ملک میں ہوں۔ مندرجہ ذیل دو احادیث بھی ان احکام پر روشنی ڈالتی ہیں۔
1۔
1۔
چار سے زیادہ بیویاں:۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفیؓ جب اسلام لائے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”ان میں سے کوئی سی چار پسند کر لو (باقی چھوڑ دو۔)“
[ابن ماجہ۔ کتاب النکاح۔ باب الرجل یسلم و عندہ أکثر من أربع نسوۃ]
2۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ جس کے نام قرعہ نکلتا اسے اپنے ہمراہ لے جاتے اور آپ ہر بیوی کی باری ایک دن اور ایک رات مقرر کرتے تھے۔
[بخاری۔ کتاب الہبہ۔ باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا]
البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بالکل الگ ہے کیونکہ آپ کی ازواج مطہرات امت کی مائیں ہیں جو کسی دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی تھیں۔ لہٰذا جتنے نکاح آپ کر چکے تھے وہ سب آپ کے لیے حلال اور جائز قرار دیئے گئے۔ اس آیت سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ اسلام میں تعدد ازواج کی کوئی حد نہیں اور قرآن میں جو دو دو تین تین، چار چار کے الفاظ آئے ہیں یہ بطور محاورہ زبان ہیں یعنی دو دو کی بھی اجازت ہے، تین تین کی بھی اور چار چار کی بھی، اور اسی طرح پانچ پانچ اور چھ چھ کی بھی فصاعداً۔ یہ استدلال دو وجہ سے غلط ہے: ایک یہ کہ اگر اجازت عام ہی مقصود ہوتی تو صرف
﴿مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ﴾
کہہ دینا ہی کافی تھا۔ چار تک تعین کرنے کی قطعاً ضرورت نہ تھی اور دوسرے یہ کہ سنت نے چار تک حد کی تعیین کر دی تو پھر اس کے بعد کسی مسلمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا کہ وہ کوئی دوسری بات کرے۔ جیسے کہ اوپر سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ لوگ تو وہ تھے جو افراط کی طرف گئے اور کچھ لوگ تفریط کی طرف چلے گئے کہ عام اصول یہی ہے کہ صرف ایک عورت سے شادی کی جائے، ان کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تمہیں خدشہ ہو کہ ان میں انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔ پھر اسی سورۃ کی آیت نمبر 129 میں فرمایا کہ ”اگر تم چاہو بھی کہ اپنی بیویوں کے درمیان انصاف کرو تو تم ایسا نہ کر سکو گے۔“ گویا آیت نمبر 3 میں تعدد ازواج کی جو مشروط اجازت دی گئی تھی وہ اس آیت کی رو سے یکسر ختم کر دی گئی۔ لہٰذا اصل یہی ہے کہ بیوی ایک ہی ہونی چاہیے۔
[ابن ماجہ۔ کتاب النکاح۔ باب الرجل یسلم و عندہ أکثر من أربع نسوۃ]
2۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ جس کے نام قرعہ نکلتا اسے اپنے ہمراہ لے جاتے اور آپ ہر بیوی کی باری ایک دن اور ایک رات مقرر کرتے تھے۔
[بخاری۔ کتاب الہبہ۔ باب ھبۃ المرأۃ لغیر زوجھا]
البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بالکل الگ ہے کیونکہ آپ کی ازواج مطہرات امت کی مائیں ہیں جو کسی دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی تھیں۔ لہٰذا جتنے نکاح آپ کر چکے تھے وہ سب آپ کے لیے حلال اور جائز قرار دیئے گئے۔ اس آیت سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ اسلام میں تعدد ازواج کی کوئی حد نہیں اور قرآن میں جو دو دو تین تین، چار چار کے الفاظ آئے ہیں یہ بطور محاورہ زبان ہیں یعنی دو دو کی بھی اجازت ہے، تین تین کی بھی اور چار چار کی بھی، اور اسی طرح پانچ پانچ اور چھ چھ کی بھی فصاعداً۔ یہ استدلال دو وجہ سے غلط ہے: ایک یہ کہ اگر اجازت عام ہی مقصود ہوتی تو صرف
﴿مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ﴾
کہہ دینا ہی کافی تھا۔ چار تک تعین کرنے کی قطعاً ضرورت نہ تھی اور دوسرے یہ کہ سنت نے چار تک حد کی تعیین کر دی تو پھر اس کے بعد کسی مسلمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا کہ وہ کوئی دوسری بات کرے۔ جیسے کہ اوپر سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ لوگ تو وہ تھے جو افراط کی طرف گئے اور کچھ لوگ تفریط کی طرف چلے گئے کہ عام اصول یہی ہے کہ صرف ایک عورت سے شادی کی جائے، ان کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تمہیں خدشہ ہو کہ ان میں انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔ پھر اسی سورۃ کی آیت نمبر 129 میں فرمایا کہ ”اگر تم چاہو بھی کہ اپنی بیویوں کے درمیان انصاف کرو تو تم ایسا نہ کر سکو گے۔“ گویا آیت نمبر 3 میں تعدد ازواج کی جو مشروط اجازت دی گئی تھی وہ اس آیت کی رو سے یکسر ختم کر دی گئی۔ لہٰذا اصل یہی ہے کہ بیوی ایک ہی ہونی چاہیے۔
نظریہ یک زوجگی کی دلیل اور اس کا رد:۔
یہ استدلال اس لحاظ سے غلط ہے کہ اسی سورت کی آیت 129 میں آگے یوں مذکور ہے ”لہٰذا اتنا تو کرو کہ بالکل ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ اور دوسری کو لٹکتا چھوڑ دو۔“ اور جن باتوں کی طرف عدم انصاف کا اشارہ ہے وہ یہ ہیں کہ مثلاً ایک بیوی جوان ہے دوسری بوڑھی ہے۔ یا ایک خوبصورت ہے اور دوسری بدصورت یا قبول صورت ہے۔ یا ایک کنواری ہے دوسری ثیب (شوہر دیدہ) ہے۔ یا ایک خوش مزاج ہے اور دوسری تلخ مزاج یا بدمزاج ہے۔ یا ایک ذہین و فطین ہے اور دوسری بالکل جاہل اور کند ذہن ہے۔ اب یہ تو واضح بات ہے کہ اگرچہ ان صفات میں بیوی کا اپنا عمل دخل کچھ نہیں ہوتا، تاہم یہ باتیں خاوند کے لیے میلان یا عدم میلان کا سبب ضرور بن جاتی ہیں۔ اور یہ فطری امر ہے اسی قسم کی نا انصافی کا یہاں ذکر ہے۔ اور چونکہ اس قسم کے میلان یا عدم میلان میں انسان کا اپنا کچھ اختیار نہیں ہوتا لہٰذا ایسے امور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی گرفت اور مواخذہ نہیں۔ خاوند سے انصاف کا مطالبہ صرف ان باتوں میں ہے جو اس کے اختیار میں ہیں۔ جیسے نان و نفقہ، اس کی ضروریات کا خیال رکھنا اور شب بسری کے سلسلہ میں باری مقرر کرنا وغیرہ۔ کون نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں میں سے سیدہ عائشہؓ سے زیادہ محبت تھی اور اس کی وجوہ یہ تھیں کہ آپ کنواری تھیں، نو عمر تھیں، ذہین و فطین تھیں اور خوش شکل تھیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا بھی فرمایا کرتے تھے کہ ”یا اللہ! جن باتوں میں مجھے اختیار ہے ان میں سب بیویوں سے میں یکساں سلوک کرتا ہوں اور جو باتیں میرے اختیار میں نہیں تو وہ مجھے معاف فرما دے۔“ تفریط کی طرف جانے والے لوگ در اصل تہذیب مغرب سے سخت مرعوب ہیں جن کے ہاں صرف ایک ہی بیوی کی اجازت ہے آج کل اس طبقہ کی نمائندگی غلام احمد پرویز صاحب فرما رہے ہیں۔ انہوں نے اس آیت میں یتامیٰ کا لفظ دیکھ کر تعدد ازواج کی اجازت کو ہنگامی حالات اور جنگ سے متعلق کر دیا چنانچہ ”طاہرہ کے نام خطوط“ کے صفحہ 315 پر فرماتے ہیں: ”مطلب صاف ہے کہ اگر کسی ہنگامی حالت مثلاً جنگ کے بعد جب جوان مرد بڑی تعداد میں ضائع ہو چکے ہوں اور ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ معاشرہ میں یتیم بچے اور لا وارث جوان عورتیں شوہر کے بغیر رہ جائیں تو اس کا کیا علاج کیا جائے۔ اس ہنگامی صورت سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے اس کی اجازت دی جاتی ہے کہ ایک بیوی کے قانون میں عارضی طور پر لچک پیدا کر لی جائے۔“ پھر آگے چل کر
﴿فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنيٰ وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ﴾
کے معنی بیان فرماتے ہیں کہ ان میں سے ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں نکاح کر لو۔ اس طرح انہیں (اور بیواؤں کی صورت میں ان کے ساتھ ان کے بچوں کو بھی) خاندان کے اندر جذب کر لو۔ یہی ان سے منصفانہ سلوک ہے۔ یہ مسئلہ اگر دو دو بیویاں کرنے سے حل ہو جائے تو دو دو کر لو اور اگر تین تین سے ہو تو تین تین اور چار چار سے ہو تو چار چار۔۔ یہ تو رہا اجتماعی فیصلہ۔ [طاهره كے نام خطوط: ص 316] اب یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہنگامی حالات اور جنگ کی قید آ کہاں سے گئی؟ کیا ہنگامی حالات یا جنگ کے بغیر کسی معاشرہ میں یتیموں کا وجود نا ممکن ہے؟ یا قرآن کے کسی لفظ سے ہنگامی حالات یا جنگ کا اشارہ تک بھی ملتا ہے؟ خیر اس بات کو بھی جانے دیجئے، ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ پرویز صاحب بجا فرما رہے ہیں تو اس کے مطابق صرف جنگ احد ہی ایسی جنگ قرار دی جا سکتی ہے جو پرویز صاحب کے نظریہ کا مصداق بن سکے۔ کیونکہ اس میں ستر مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ دوسری کسی بھی جنگ میں مسلمانوں کا اتنا زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس جنگ میں شریک ہونے والے مسلمانوں کی تعداد سات سو تھی اور منافقین کو بھی مسلمانوں میں شامل سمجھا جائے تو ایک ہزار تھی۔ اور یہ وہ تعداد تھی جو میدان جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے ورنہ سب مسلمانوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ اور ان میں سے ستر مسلمانوں کے شہید ہونے سے ستر عورتیں بیوہ ہو گئیں (کیونکہ پرویز صاحب کے نظریہ کے مطابق اصل صرف یک زوجگی ہے) اب ان میں ان کی یتیم اولاد یعنی جوان لڑکیاں۔ اس تعداد کو چار گنا کر دیجئے۔ یعنی تقریباً 300 عورتوں کی شادی کا مسئلہ تھا اور بقول پرویز صاحب چونکہ یہ اجتماعی مسئلہ تھا لہٰذا ڈیڑھ ہزار مسلمانوں میں سے صرف تین سو مسلمانوں کے مزید ایک بیوی کر لینے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا تھا اور یہ کام ہو بھی حکومتی سطح پر رہا تھا۔ پھر جب سارے مسلمانوں کو دو دو بھی حصہ میں نہ آسکیں تو تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کے کیا معنی؟ اور یہ اجتماعی فیصلہ والی بات بھی عجیب قسم کی دھاندلی ہے۔ قرآن کہہ رہا ہے
﴿ فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ﴾
یعنی مسلمان انفرادی طور پر جس جس عورت کو پسند کریں اس سے نکاح کر لیں اور آپ اسے اجتماعی فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ سو یہ ہے پرویز صاحب کی قرآنی بصیرت، جو در اصل اس مغربی تخیل کی پیداوار ہے جس میں ایک سے زائد بیویوں سے نکاح کو مذموم فعل سمجھا جاتا ہے۔ بات بالکل صاف تھی کہ اسلام نے حکم تو ایک بیوی سے نکاح کر لینے کا دیا ہے۔ البتہ اجازت چار بیویوں تک ہے۔ تعدد ازواج اجازت ہے حکم نہیں۔ اور اس اجازت کی وجہ یہ ہے کہ قرآن ہر ایک کے لیے اور ہر دور کے لیے تا قیامت دستور حیات ہے۔ لہٰذا کسی بھی ملک اور کسی بھی دور کے لوگ اپنے اپنے رسم و رواج یا ضروریات کے مطابق اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مثلاً ہمارے ملک پاکستان میں عورت کی علیحدہ ملکیت کا تصور نہیں۔ مرد اگر گھر والا ہے تو عورت گھر والی ہے لہٰذا یہاں اگر کوئی دو بیویاں کر لے تو بے شمار پریشان کن مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہاں اگر کوئی دوسری یا تیسری بیوی کرتا ہے تو یقیناً کسی خاص ضرورت کے تحت کرتا ہے اور ملک کی 95 فیصد آبادی اس اجازت سے فائدہ نہیں اٹھاتی اور ایک ہی بیوی کو درست سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس عرب میں آج بھی بیوی کی الگ ملکیت کا تصور موجود ہے۔ لہٰذا وہاں چار تک بیویاں کرنے پر بھی بیویوں کی باہمی رقابت اور خاوند کو پریشان کرنے والے مسائل بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ پھر وہاں طلاق کو بھی کوئی ایسا جرم نہیں سمجھا جاتا جس سے دو خاندانوں میں ایسی عداوت ٹھن جائے جیسی پاکستان میں ٹھن جاتی ہے۔ لہٰذا وہاں نصف سے زیادہ آبادی قرآن کی اس اجازت سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ لہٰذا شرعی لحاظ سے نہ پاکستان کے رواج کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے اور نہ عرب کے رواج کو۔ ایک سے زیادہ بیویوں کو مذموم فعل سمجھنے کے اس مغربی تخیل کی بنیادیں دو ہیں: پہلی بنیاد فحاشی، بد کاری، داشتائیں رکھنے کی عام اجازت اور جنسی آوارگی ہے جسے مغرب میں مذموم فعل کی بجائے عین جائز بلکہ مستحسن فعل سمجھا جاتا ہے۔ اور دوسری بنیاد مادیت پرستی ہے۔ جس میں ہر شخص یہ تو چاہتا ہے کہ اس کا معیار زندگی بلند ہو اور اولاد کو اعلیٰ تعلیم دلائے مگر ان باتوں پر چونکہ بے پناہ اخراجات اٹھتے ہیں جو ہر انسان پورے نہیں کر سکتا، لہٰذا وہ اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہی نہ ہو یا کم سے کم ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا معاشرہ تو ایک بیوی بھی بمشکل برداشت کرتا ہے اور وہ بہتر یہی سمجھتا ہے کہ بیوی ایک بھی نہ ہو اور سفاح یا بد کاری سے ہی کام چلتا رہے۔ لیکن اسلام سب سے زیادہ زور ہی مرد اور عورت کی عفت پر دیتا ہے اور ہر طرح کی فحاشی کو مذموم فعل قرار دیتا ہے اور معیار زندگی کو بلند کرنے کی بجائے سادہ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے اسی لیے اس نے اقتضاء ات اور حالات کے مطابق چار بیویوں تک کی اجازت دی ہے۔ اب بتائیے کہ اس مغربی تخیل اور اسلامی تخیل میں مطابقت کی کوئی صورت پیدا کی جا سکتی ہے؟
﴿فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنيٰ وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ﴾
کے معنی بیان فرماتے ہیں کہ ان میں سے ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں نکاح کر لو۔ اس طرح انہیں (اور بیواؤں کی صورت میں ان کے ساتھ ان کے بچوں کو بھی) خاندان کے اندر جذب کر لو۔ یہی ان سے منصفانہ سلوک ہے۔ یہ مسئلہ اگر دو دو بیویاں کرنے سے حل ہو جائے تو دو دو کر لو اور اگر تین تین سے ہو تو تین تین اور چار چار سے ہو تو چار چار۔۔ یہ تو رہا اجتماعی فیصلہ۔ [طاهره كے نام خطوط: ص 316] اب یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہنگامی حالات اور جنگ کی قید آ کہاں سے گئی؟ کیا ہنگامی حالات یا جنگ کے بغیر کسی معاشرہ میں یتیموں کا وجود نا ممکن ہے؟ یا قرآن کے کسی لفظ سے ہنگامی حالات یا جنگ کا اشارہ تک بھی ملتا ہے؟ خیر اس بات کو بھی جانے دیجئے، ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ پرویز صاحب بجا فرما رہے ہیں تو اس کے مطابق صرف جنگ احد ہی ایسی جنگ قرار دی جا سکتی ہے جو پرویز صاحب کے نظریہ کا مصداق بن سکے۔ کیونکہ اس میں ستر مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ دوسری کسی بھی جنگ میں مسلمانوں کا اتنا زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس جنگ میں شریک ہونے والے مسلمانوں کی تعداد سات سو تھی اور منافقین کو بھی مسلمانوں میں شامل سمجھا جائے تو ایک ہزار تھی۔ اور یہ وہ تعداد تھی جو میدان جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے ورنہ سب مسلمانوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ اور ان میں سے ستر مسلمانوں کے شہید ہونے سے ستر عورتیں بیوہ ہو گئیں (کیونکہ پرویز صاحب کے نظریہ کے مطابق اصل صرف یک زوجگی ہے) اب ان میں ان کی یتیم اولاد یعنی جوان لڑکیاں۔ اس تعداد کو چار گنا کر دیجئے۔ یعنی تقریباً 300 عورتوں کی شادی کا مسئلہ تھا اور بقول پرویز صاحب چونکہ یہ اجتماعی مسئلہ تھا لہٰذا ڈیڑھ ہزار مسلمانوں میں سے صرف تین سو مسلمانوں کے مزید ایک بیوی کر لینے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا تھا اور یہ کام ہو بھی حکومتی سطح پر رہا تھا۔ پھر جب سارے مسلمانوں کو دو دو بھی حصہ میں نہ آسکیں تو تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کے کیا معنی؟ اور یہ اجتماعی فیصلہ والی بات بھی عجیب قسم کی دھاندلی ہے۔ قرآن کہہ رہا ہے
﴿ فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ﴾
یعنی مسلمان انفرادی طور پر جس جس عورت کو پسند کریں اس سے نکاح کر لیں اور آپ اسے اجتماعی فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ سو یہ ہے پرویز صاحب کی قرآنی بصیرت، جو در اصل اس مغربی تخیل کی پیداوار ہے جس میں ایک سے زائد بیویوں سے نکاح کو مذموم فعل سمجھا جاتا ہے۔ بات بالکل صاف تھی کہ اسلام نے حکم تو ایک بیوی سے نکاح کر لینے کا دیا ہے۔ البتہ اجازت چار بیویوں تک ہے۔ تعدد ازواج اجازت ہے حکم نہیں۔ اور اس اجازت کی وجہ یہ ہے کہ قرآن ہر ایک کے لیے اور ہر دور کے لیے تا قیامت دستور حیات ہے۔ لہٰذا کسی بھی ملک اور کسی بھی دور کے لوگ اپنے اپنے رسم و رواج یا ضروریات کے مطابق اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مثلاً ہمارے ملک پاکستان میں عورت کی علیحدہ ملکیت کا تصور نہیں۔ مرد اگر گھر والا ہے تو عورت گھر والی ہے لہٰذا یہاں اگر کوئی دو بیویاں کر لے تو بے شمار پریشان کن مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہاں اگر کوئی دوسری یا تیسری بیوی کرتا ہے تو یقیناً کسی خاص ضرورت کے تحت کرتا ہے اور ملک کی 95 فیصد آبادی اس اجازت سے فائدہ نہیں اٹھاتی اور ایک ہی بیوی کو درست سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس عرب میں آج بھی بیوی کی الگ ملکیت کا تصور موجود ہے۔ لہٰذا وہاں چار تک بیویاں کرنے پر بھی بیویوں کی باہمی رقابت اور خاوند کو پریشان کرنے والے مسائل بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ پھر وہاں طلاق کو بھی کوئی ایسا جرم نہیں سمجھا جاتا جس سے دو خاندانوں میں ایسی عداوت ٹھن جائے جیسی پاکستان میں ٹھن جاتی ہے۔ لہٰذا وہاں نصف سے زیادہ آبادی قرآن کی اس اجازت سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ لہٰذا شرعی لحاظ سے نہ پاکستان کے رواج کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے اور نہ عرب کے رواج کو۔ ایک سے زیادہ بیویوں کو مذموم فعل سمجھنے کے اس مغربی تخیل کی بنیادیں دو ہیں: پہلی بنیاد فحاشی، بد کاری، داشتائیں رکھنے کی عام اجازت اور جنسی آوارگی ہے جسے مغرب میں مذموم فعل کی بجائے عین جائز بلکہ مستحسن فعل سمجھا جاتا ہے۔ اور دوسری بنیاد مادیت پرستی ہے۔ جس میں ہر شخص یہ تو چاہتا ہے کہ اس کا معیار زندگی بلند ہو اور اولاد کو اعلیٰ تعلیم دلائے مگر ان باتوں پر چونکہ بے پناہ اخراجات اٹھتے ہیں جو ہر انسان پورے نہیں کر سکتا، لہٰذا وہ اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہی نہ ہو یا کم سے کم ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا معاشرہ تو ایک بیوی بھی بمشکل برداشت کرتا ہے اور وہ بہتر یہی سمجھتا ہے کہ بیوی ایک بھی نہ ہو اور سفاح یا بد کاری سے ہی کام چلتا رہے۔ لیکن اسلام سب سے زیادہ زور ہی مرد اور عورت کی عفت پر دیتا ہے اور ہر طرح کی فحاشی کو مذموم فعل قرار دیتا ہے اور معیار زندگی کو بلند کرنے کی بجائے سادہ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے اسی لیے اس نے اقتضاء ات اور حالات کے مطابق چار بیویوں تک کی اجازت دی ہے۔ اب بتائیے کہ اس مغربی تخیل اور اسلامی تخیل میں مطابقت کی کوئی صورت پیدا کی جا سکتی ہے؟
نکاح ثانی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت لینے کا قانون:۔
اسی مغربی تخیل سے اور بعض ”مہذب خواتین“ کے مطالبہ سے متاثر ہو کر صدر ایوب کے دور میں پاکستان میں مسلم عائلی قوانین کا آرڈیننس 1961ء پاس ہوا۔ جس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ اگر مرد شادی شدہ ہو اور دوسری شادی کرنا چاہتا ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی پہلی بیوی سے اس دوسری شادی کی رضا مندی اور اجازت تحریراً حاصل کرے، پھر ثالثی کونسل سے اجازت نامہ حاصل کرے اور اگر ثالثی کونسل بھی اجازت دے تو تب ہی وہ دوسری شادی کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اس آرڈیننس کی شق نمبر 21 اور 22 سے واضح ہوتا ہے۔ گویا حکومت نے نکاح ثانی پر ایسی پابندیاں لگا دیں کہ کوئی شخص کسی انتہائی مجبوری کے بغیر دوسرے نکاح کی بات سوچ بھی نہ سکے اور عملاً اس اجازت کو ختم کر دیا جو اللہ تعالیٰ نے مرد کو دی تھی۔ کیونکہ کوئی عورت یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ اس کے گھر میں اس کی سوکن آجائے۔ اب جو لوگ دوسری شادی کرنا چاہتے تھے اور پہلی بیوی کے رویہ سے نالاں تھے یا کسی اور مقصد کے لیے دوسری شادی ضروری سمجھتے تھے انہوں نے اس غیر فطری پابندی کا آسان حل یہ سوچا کہ پہلی بیوی کو طلاق دے کر رخصت کر دیا جائے اور بعد میں آزادی سے دوسری شادی کر لی جائے۔ اس طرح جو قانون عورتوں کے حقوق کی محافظت کے لیے بنایا گیا تھا وہ خود انہی کی پریشانی کا موجب بن گیا۔ کیونکہ اللہ کے احکام کی ایسی غیر فطری تاویل اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اور ایسے معاشرہ کو اس کی سزا مل کے رہتی ہے۔
ایک عورت چار اور چار شوہر:۔
پھر کچھ دریدہ دہن مغرب زدہ آزاد خیال عورتوں نے یہ اعتراض بھی جڑ دیا کہ یہ بھلا کہاں کا انصاف ہے کہ مرد تو چار چار عورتوں سے شادی کر لے اور عورت صرف ایک ہی مرد پر اکتفا کرے؟ اور یہ تو ظاہر ہے کہ ایسا اعتراض کوئی ایسی حیا باختہ عورت ہی کر سکتی ہے جو یہ چاہتی ہے کہ اسے بھی بیک وقت کم از کم چار مردوں تک سے نکاح کی اجازت ہونی چاہیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جنسی خواہش جیسے انسانوں میں ہوتی ہے ویسے ہی حیوانوں میں بھی ہوتی ہے۔ اور مرد کو تو چار بیویوں کی اجازت ہے جبکہ ہم گوالوں کے ہاں دیکھتے ہیں کہ اگر ایک گوالے نے بیس بھینسیں رکھی ہوئی ہیں تو بھینسا صرف ایک ہی ہوتا ہے۔ کیا کبھی ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی گوالے نے بھینسے تو بیس رکھے ہوں اور بھینس صرف ایک ہی ہو خود ہی غور فرما لیجئے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ بات در اصل یہ ہے کہ مرد تو اپنی جوانی کے ایام میں اپنی جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت مستعد ہوتا ہے مگر عورت کی ہرگز یہ کیفیت نہیں ہوتی۔ ہر ماہ حیض کے ایام میں اسے اس فعل سے طبعاً نفرت ہوتی ہے۔ پھر مرد تو صحبت کے کام سے دو تین منٹ میں فارغ ہو جاتا ہے اور اس سے آگے اولاد کی پیدائش میں کچھ حصہ نہیں ہوتا۔ جبکہ عورت کو حمل قرار پا جائے تو پورے ایام حمل میں، پھر اس کے بعد رضاعت کے ایام میں بھی وہ طبعاً اس فعل کی طرف راغب نہیں ہوتی۔ البتہ اپنے خاوند کی محبت اور اصرار کی وجہ سے اس کام پر آمادہ ہو جائے تو اور بات ہے اور بسا اوقات عورت انکار بھی کر دیتی ہے۔ لیکن مرد اتنی مدت صبر نہیں کر سکتا۔ اب اس کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں۔ یا تو اور نکاح کرے یا پھر فحاشی کی طرف مائل ہو۔ اور اسلام نے پہلی صورت کو ہی اختیار کیا ہے۔ پھر مرد اگر چار بیویاں بھی رکھ لے تو اس سے نہ نسب میں اختلاط پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی میراث کے مسائل میں کوئی الجھن پیش آتی ہے۔ جبکہ عورت اگر دو مردوں سے بھی اختلاط رکھے تو اس سے نسب بھی مشکوک ہو جاتا ہے۔ کیونکہ نسب کا تعلق مرد سے ہے، عورت سے نہیں۔ اور میراث کے مسائل میں بھی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اب ان باتوں کو درخور اعتناء نہ سمجھئے اور صرف اس بات پر غور فرمائیے کہ اگر عورت کو چار شوہروں کی اجازت دی جائے تو وہ رہے گی کس کے گھر میں؟ اور کون اس کے نان و نفقہ اور اس کی اولاد کے اخراجات کا ذمہ دار بنے گا؟ پھر کیا ایک شوہر یہ برداشت کر لے گا کہ اس کی بیوی علیٰ الاعلان دوسروں کے پاس بھی جاتی رہے۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ آپ شریعت کو بالائے طاق رکھئے اور چار شوہروں والی بات کا تجربہ کر کے دیکھئے کہ اس سے کس طرح ایک معاشرہ چند ہی سالوں میں تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔ کوئی اسلام سے انکار کرتا ہے تو کرے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ شرعی احکام انسانی مصالح پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔ اب اس مسئلہ پر ایک اور پہلو سے غور فرمائیے۔ اس حقیقت سے تو سب لوگ آشنا ہیں کہ جوانی کے ایام میں ہر شخص میں شہوانی جذبات اپنی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر نوجوان اور تندرست مرد اس قابل ہوتا ہے کہ کم از کم ایک دن میں ایک بار جماع کرے تب بھی اس کی صحت خراب نہ ہو۔ اور اگر اس جذبہ شہوانی کو طویل مدت تک دبائے رکھا جائے تو اس سے انسان کے بیمار پڑ جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ان حالات میں انسان کے سامنے تین ہی راستے ہوتے ہیں:
رہبانیت کے نتائج:۔
پہلا یہ کہ اس جذبہ کو مختلف تدبیروں سے دبا دیا جائے۔ خواہ یہ خصی ہونے سے ہو یا انتہائی قلیل خوری سے۔ جیسا کہ جو گی، سادھو یا رہبان قسم کے لوگ کرتے ہیں۔ اس طریق کے غیر فطری ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور اس کا سب سے بڑا نقصان نسل انسانی کا انقطاع ہے اور اس کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ فحاشی چور دروازے تلاش کرنے لگتی ہے۔ اس قسم کے لوگ تقدس کے پردوں میں زنا کاری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عیسائی مذہب میں اس کا رواج عام تھا۔ ایسے درویش قسم کے مرد اور عورتیں جو ساری عمر جنسی جھمیلوں سے آزاد رہ کر کلیسا کی خدمت کے لیے مامور ہوتے تھے ان میں خفیہ طور پر حرام کاری کا وسیع سلسلہ پایا جاتا تھا اور حرامی بچوں کو مختلف طریقوں سے ٹھکانے لگا دیا جاتا تھا اور ایسے بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات پر آج بھی ثبت ہیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ شہوانی خواہشات کو بلا جھجک کھلے بندوں پورا کیا جائے۔ اہل مغرب کے ادیب قسم کے لوگوں نے نکاح کی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک صدی سے زیادہ عرصہ اس مہم پر صرف کیا اور بالآخر وہ ایسی فحاشی کو عام کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان لوگوں کا طرز استدلال یہ تھا کہ انسان کی تین ضرورتیں لابدی ہیں: بھوک، نیند اور جنسی ملاپ۔ ان کو اگر پورا نہ کیا جائے تو انسان کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ نیند تو بہرحال اپنا حق وصول کر ہی لیتی ہے۔ بھوک کا معاملہ یہ ہے کہ اگر وہ بھوک کے وقت گھر پر نہیں تو بازار سے، ہوٹل سے، عزیز و اقارب سے، جہاں بھی وہ ہو اپنی یہ ضرورت پوری کر ہی لیتا ہے اور اس کے لیے وہ محض اپنے گھر کا محتاج نہیں ہوتا۔ تو جیسی ضرورت غذائی بھوک کی ہے ویسی ہی جنسی بھوک کی بھی ہے لہٰذا صرف اپنی بیوی سے ہی ملاپ کا تصور غیر فطری ہے۔ نیز اگر کسی کو بیوی بھی میسر نہ آ سکے تو وہ کیا کرے؟
کیا جنسی آوارگی ایک لابدی ضرورت ہے:۔
اس استدلال میں غذائی بھوک اور جنسی بھوک کو ایک ہی سطح پر رکھ کر پیش کیا گیا ہے حالانکہ یہ بات اصولی طور پر غلط ہے اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں:
1۔ غذائی بھوک کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ پیٹ کا تنور غذا سے پر کیا جائے لیکن جنسی بھوک کا علاج فطرت نے از خود کر دیا ہے۔ جب انسان میں مادہ منویہ زیادہ ہو جائے تو بذریعہ احتلام یہ مادہ خارج ہو جاتا ہے اور یہ جنسی بھوک از خود کم ہوتی رہتی ہے۔
2۔ جنسی بھوک کو کم خوری اور روزہ رکھنے سے بھی کم کیا جا سکتا ہے لیکن غذائی بھوک کا شکم پروری کے سوا کوئی علاج نہیں ہوتا۔
3۔ غذائی بھوک از خود پیدا ہوتی ہے جبکہ جنسی بھوک کو بہت حد تک خود پیدا کیا جاتا ہے۔ آپ خود کو شہوانی خیالات اور ماحول سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور اگر آپ شہوانی جذبات کے ماحول میں مستغرق رہنے کے بجائے دوسرے مفید کاموں میں اپنے آپ کو مصروف رکھیں گے تو یہ جنسی بھوک بیدار ہی نہ ہو گی۔ اور اگر شہوانی خیالات اور ماحول میں مستغرق رہیں گے، فحش قسم کا لٹریچر اور ناول پڑھیں گے، سنیما اور ٹیلی ویژن پر رقص و سرود کے پروگرام دیکھیں گے، زہد شکن قسم کے گانے سنیں گے اور جنسی جذبات کو ہیجان میں رکھنے والے ماحول میں رہیں گے تو یہ جنسی بھوک اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔ گویا اس جنسی بھوک کو پیدا کرنا نہ کرنا، اعتدال پر رکھنا اور پروان چڑھانا بہت حد تک انسان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے جبکہ غذائی بھوک پر کنٹرول انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔ ہمارے اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے کیا یہ بات کافی نہیں کہ آج کے معاشرہ میں بھی آپ کو ایسے تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان اور عفیف بچے کافی تعداد میں مل سکتے ہیں جن کی بیس پچیس برس کی عمر تک شادی نہیں ہوتی اور ان کی زندگی بے داغ ہوتی ہے۔ حالانکہ جنسی جذبات دس گیارہ سال کی عمر کے بعد بیدار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
1۔ غذائی بھوک کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ پیٹ کا تنور غذا سے پر کیا جائے لیکن جنسی بھوک کا علاج فطرت نے از خود کر دیا ہے۔ جب انسان میں مادہ منویہ زیادہ ہو جائے تو بذریعہ احتلام یہ مادہ خارج ہو جاتا ہے اور یہ جنسی بھوک از خود کم ہوتی رہتی ہے۔
2۔ جنسی بھوک کو کم خوری اور روزہ رکھنے سے بھی کم کیا جا سکتا ہے لیکن غذائی بھوک کا شکم پروری کے سوا کوئی علاج نہیں ہوتا۔
3۔ غذائی بھوک از خود پیدا ہوتی ہے جبکہ جنسی بھوک کو بہت حد تک خود پیدا کیا جاتا ہے۔ آپ خود کو شہوانی خیالات اور ماحول سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور اگر آپ شہوانی جذبات کے ماحول میں مستغرق رہنے کے بجائے دوسرے مفید کاموں میں اپنے آپ کو مصروف رکھیں گے تو یہ جنسی بھوک بیدار ہی نہ ہو گی۔ اور اگر شہوانی خیالات اور ماحول میں مستغرق رہیں گے، فحش قسم کا لٹریچر اور ناول پڑھیں گے، سنیما اور ٹیلی ویژن پر رقص و سرود کے پروگرام دیکھیں گے، زہد شکن قسم کے گانے سنیں گے اور جنسی جذبات کو ہیجان میں رکھنے والے ماحول میں رہیں گے تو یہ جنسی بھوک اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔ گویا اس جنسی بھوک کو پیدا کرنا نہ کرنا، اعتدال پر رکھنا اور پروان چڑھانا بہت حد تک انسان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے جبکہ غذائی بھوک پر کنٹرول انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔ ہمارے اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے کیا یہ بات کافی نہیں کہ آج کے معاشرہ میں بھی آپ کو ایسے تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان اور عفیف بچے کافی تعداد میں مل سکتے ہیں جن کی بیس پچیس برس کی عمر تک شادی نہیں ہوتی اور ان کی زندگی بے داغ ہوتی ہے۔ حالانکہ جنسی جذبات دس گیارہ سال کی عمر کے بعد بیدار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
اعتدال کا راستہ:۔
اور تیسرا راستہ دونوں کے درمیان اعتدال کا ہے جو اسلام نے اختیار کیا ہے کہ شہوانی جذبہ چونکہ فطری جذبہ ہے لہٰذا اسے روکنا غیر فطری بات ہے۔ تاہم اسے ایسا بے لگام بھی نہیں چھوڑا گیا جس سے معاشرتی بنیادوں کے انجر پنجر ہی ہل جائیں بلکہ اسے نکاح کی شرائط سے پابند بنا دیا گیا ہے۔ اور یہ بات تو ہم پہلے واضح کر چکے ہیں کہ شہوانی ہیجان مرد میں اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات ایک بیوی اس کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ لہٰذا فحاشی اور بے حیائی سے اجتناب کے لیے تعدد ازواج ضروری تھا اور یہی راستہ فطری اور اسلامی ہے اور اسی راستہ کو اکثر انبیائے کرام نے اختیار کیا ہے جو مختلف ادوار میں انسانی معاشرہ کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ اور اس سے ان لوگوں کے نظریہ کی تردید بھی ہو جاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں اصل حکم صرف ایک عورت سے نکاح کا ہے۔ حالانکہ یہ مسئلہ معاشرہ کا ایک نہایت اہم اور بنیادی مسئلہ ہے لہٰذا اگر اسلام یک زوجگی کا قائل ہوتا تو اس کے متعلق نہایت واضح اور صریح حکم کا آنا لابدی تھا اس لیے کہ عرب میں تعدد ازواج کا رواج اس قدر زیادہ تھا کہ اسلام کو اس میں تحدید کرنا پڑی۔
[6۔ 1] کنیزوں سے تمتع کی شرائط کے لیے اسی سورۃ کا حاشیہ نمبر 40 ملاحظہ فرمائیے۔
[6۔ 1] کنیزوں سے تمتع کی شرائط کے لیے اسی سورۃ کا حاشیہ نمبر 40 ملاحظہ فرمائیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یتیموں کی نگہداشت اور چار شادیوں کی اجازت ٭٭
اللہ تعالیٰ یتیموں کے والیوں کو حکم دیتا ہے کہ جب یتیم بلوغت اور سمجھداری کو پہنچ جائیں تو ان کے جو مال تمہارے پاس ہوں انہیں سونپ دو، پورے پورے بغیر کمی اور خیانت کے ان کے حوالے کرو، اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر گڈمڈ کر کے کھا جانے کی نیت نہ رکھو، حلال رزق جب اللہ رحیم تمہیں دے رہا ہے پھر حرام کی طرف کیوں منہ اٹھاؤ؟
تقدیر کی روزی مل کر ہی رہے گی اپنے حلال مال چھوڑ کر لوگوں کے مالوں کو جو تم پر حرام ہیں نہ لو، دبلا پتلا جانور دے کر موٹا تازہ نہ لو، بوٹی دے کر بکرے کی فکر نہ کرو، ردی دے کر اچھے کی اور کھوٹا دے کر کھرے کی نیت نہ رکھو، پہلے لوگ ایسا کر لیا کرتے تھے کہ یتیموں کی بکریوں کے ریوڑ میں سے عمدہ بکری لے لی اور اپنی دبلی پتلی بکری دے کر گنتی پوری کر دی، کھوٹا درہم اس کے مال میں ڈال کر کھرا نکال لیا اور پھر سمجھ لیا کہ ہم نے تو بکری کے بدلے بکری اور درہم کے بدلے درہم لیا ہے۔ ان کے مالوں میں اپنا مال خلط ملط کر کے پھر یہ حیلہ کر کے اب امتیاز کیا ہے؟ ان کے مال تلف نہ کرو، یہ بڑا گناہ ہے، ایک ضعیف حدیث میں بھی یہی معنی آخری جملے کے مروی ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:525/7:ضعیف]
ابوداؤد کی حدیث میں ایک دعا میں بھی «حوب» کا لفظ گناہ کے معنی میں آیا ہے ۱؎ [سنن ابوداود:3892،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جب اپنی بیوی صاحبہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا تھا کہ اس طلاق میں گناہ ہے، ۱؎ [طبرانی کبیر:136/25:ضعیف] چنانچہ وہ اپنے ارادے سے باز رہے، ایک روایت میں یہ واقعہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا مروی ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:302/2:ضعیف]
تقدیر کی روزی مل کر ہی رہے گی اپنے حلال مال چھوڑ کر لوگوں کے مالوں کو جو تم پر حرام ہیں نہ لو، دبلا پتلا جانور دے کر موٹا تازہ نہ لو، بوٹی دے کر بکرے کی فکر نہ کرو، ردی دے کر اچھے کی اور کھوٹا دے کر کھرے کی نیت نہ رکھو، پہلے لوگ ایسا کر لیا کرتے تھے کہ یتیموں کی بکریوں کے ریوڑ میں سے عمدہ بکری لے لی اور اپنی دبلی پتلی بکری دے کر گنتی پوری کر دی، کھوٹا درہم اس کے مال میں ڈال کر کھرا نکال لیا اور پھر سمجھ لیا کہ ہم نے تو بکری کے بدلے بکری اور درہم کے بدلے درہم لیا ہے۔ ان کے مالوں میں اپنا مال خلط ملط کر کے پھر یہ حیلہ کر کے اب امتیاز کیا ہے؟ ان کے مال تلف نہ کرو، یہ بڑا گناہ ہے، ایک ضعیف حدیث میں بھی یہی معنی آخری جملے کے مروی ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:525/7:ضعیف]
ابوداؤد کی حدیث میں ایک دعا میں بھی «حوب» کا لفظ گناہ کے معنی میں آیا ہے ۱؎ [سنن ابوداود:3892،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے جب اپنی بیوی صاحبہ کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا تھا کہ اس طلاق میں گناہ ہے، ۱؎ [طبرانی کبیر:136/25:ضعیف] چنانچہ وہ اپنے ارادے سے باز رہے، ایک روایت میں یہ واقعہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا مروی ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:302/2:ضعیف]
پھر فرماتا ہے کہ تمہاری پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو اور تم اس سے نکاح کرنا چاہتے ہو لیکن چونکہ اس کا کوئی اور نہیں اس لیے تم تو ایسا نہ کرو کہ مہر اور حقوق میں کمی کر کے اسے اپنے گھر ڈال لو اس سے باز رہو اور عورتیں بہت ہیں جس سے چاہو نکاح کر لو۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک یتیم لڑکی تھی جس کے پاس مال بھی تھا اور باغ بھی جس کی پرورش میں وہ تھی اس نے صرف اس مال کے لالچ میں بغیر اس کا پورا مہر وغیرہ مقرر کرنے کے اس سے نکاح کر لیا جس پر یہ آیت اتری میرا خیال ہے کہ اس باغ اور مال میں یہ لڑکی حصہ دار تھی ۱؎ [صحیح بخاری:4573]
صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا: بھانجے، یہ ذکر اس یتیم لڑکی کا ہے جو اپنے ولی کے قبضہ میں ہے اس کے مال میں شریک ہے اور اسے اس کا مال و جمال اچھا لگتا ہے چاہتا ہے کہ اس سے نکاح کر لے لیکن جو مہر وغیرہ اور جگہ سے اسے ملتا ہے اتنا یہ نہیں دیتا تو اسے منع کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اپنی نیت کو چھوڑ دے اور کسی دوسری عورت سے جس سے چاہے اپنا نکاح کر لے، پھر اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی بابت دریافت کیا اور آیت «وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ» ۱؎ [4-النساء:127] نازل ہوئی وہاں فرمایا گیا ہے کہ جب یتیم لڑکی کم مال والی اور کم جمال والی ہوتی ہے اس وقت تو اس کے والی اس سے بیرغبتی کرتے ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ مال و جمال پر مائل ہو کر اس کے پورے حقوق ادا نہ کر کے اس سے اپنا نکاح کر لیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4574]
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک یتیم لڑکی تھی جس کے پاس مال بھی تھا اور باغ بھی جس کی پرورش میں وہ تھی اس نے صرف اس مال کے لالچ میں بغیر اس کا پورا مہر وغیرہ مقرر کرنے کے اس سے نکاح کر لیا جس پر یہ آیت اتری میرا خیال ہے کہ اس باغ اور مال میں یہ لڑکی حصہ دار تھی ۱؎ [صحیح بخاری:4573]
صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا: بھانجے، یہ ذکر اس یتیم لڑکی کا ہے جو اپنے ولی کے قبضہ میں ہے اس کے مال میں شریک ہے اور اسے اس کا مال و جمال اچھا لگتا ہے چاہتا ہے کہ اس سے نکاح کر لے لیکن جو مہر وغیرہ اور جگہ سے اسے ملتا ہے اتنا یہ نہیں دیتا تو اسے منع کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اپنی نیت کو چھوڑ دے اور کسی دوسری عورت سے جس سے چاہے اپنا نکاح کر لے، پھر اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی بابت دریافت کیا اور آیت «وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ» ۱؎ [4-النساء:127] نازل ہوئی وہاں فرمایا گیا ہے کہ جب یتیم لڑکی کم مال والی اور کم جمال والی ہوتی ہے اس وقت تو اس کے والی اس سے بیرغبتی کرتے ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ مال و جمال پر مائل ہو کر اس کے پورے حقوق ادا نہ کر کے اس سے اپنا نکاح کر لیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4574]
ہاں عدل و انصاف سے پورا مہر وغیرہ مقرر کریں تو کوئی حرج نہیں، ورنہ پھر عورتوں کی کمی نہیں اور کسی سے جس سے چاہیں نکاح کر لیں اگر چاہیں دو دو عورتیں اپنے نکاح میں رکھیں اگر چاہیں تین تین رکھیں اگر چاہیں چار چار، جیسے اور جگہ یہ الفاظ ان ہی معنوں میں ہیں، فرماتا ہے: «الْحَمْدُ لِلَّـهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ» [35- فاطر:1] الخ یعنی ’ جن فرشتوں کو اللہ تعالیٰ اپنا قاصد بنا کر بھیجتا ہے ان میں سے بعض دو دو پروں والے ہیں بعض تین تین پروں والے بعض چار پروں والے فرشتوں میں اس سے زیادہ پر والے فرشتے بھی ہیں ‘ کیونکہ دلیل سے یہ ثابت شدہ ہے۔
لیکن مرد کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویوں کا جمع کرنا منع ہے جیسے کہ اس آیت میں موجود ہے اور جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور کا قول ہے، یہاں اللہ تعالیٰ اپنے احسان اور انعام بیان فرما رہا ہے پس اگر چار سے زیادہ کی اجازت دینی منظور ہوتی تو ضرور فرما دیا جاتا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث جو قرآن کی وضاحت کرنے والی ہے اس نے بتلا دیا ہے کہ سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کے لیے چار سے زیادہ بیویوں کا بیک وقت جمع کرنا جائز نہیں اسی پر علماء کرام کا اجماع ہے۔
البتہ بعض شیعہ کا قول ہے کہ نو تک جمع کرنی جائز ہیں، بلکہ بعض شیعہ نے تو کہا ہے کہ نو سے بھی زیادہ جمع کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں کوئی تعداد مقرر ہے ہی نہیں، ان کا استدلال ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے کہ آپ کی نو بیویاں تھیں ۱؎ [صحیح بخاری:5067] اور بخاری شریف کی معلق حدیث کے بعض راویوں نے گیارہ کہا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:267]
لیکن مرد کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویوں کا جمع کرنا منع ہے جیسے کہ اس آیت میں موجود ہے اور جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور کا قول ہے، یہاں اللہ تعالیٰ اپنے احسان اور انعام بیان فرما رہا ہے پس اگر چار سے زیادہ کی اجازت دینی منظور ہوتی تو ضرور فرما دیا جاتا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حدیث جو قرآن کی وضاحت کرنے والی ہے اس نے بتلا دیا ہے کہ سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کے لیے چار سے زیادہ بیویوں کا بیک وقت جمع کرنا جائز نہیں اسی پر علماء کرام کا اجماع ہے۔
البتہ بعض شیعہ کا قول ہے کہ نو تک جمع کرنی جائز ہیں، بلکہ بعض شیعہ نے تو کہا ہے کہ نو سے بھی زیادہ جمع کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں کوئی تعداد مقرر ہے ہی نہیں، ان کا استدلال ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے کہ آپ کی نو بیویاں تھیں ۱؎ [صحیح بخاری:5067] اور بخاری شریف کی معلق حدیث کے بعض راویوں نے گیارہ کہا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:267]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے پندرہ بیویوں سے عقد کیا تیرہ کی رخصتی ہوئی ایک وقت میں گیارہ بیویاں آپ کے پاس تھیں۔ انتقال کے وقت آپ کی نو بیویاں تھیں ۱؎ [بیہقی:289:مرسل]
ہمارے علماء کرام رحمہ اللہ علیہم اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ آپ کی خصوصیت تھی امتی کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں پاس رکھنے کی اجازت نہیں، جیسے کہ یہ حدیثیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں، سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوتے ہیں تو ان کے پاس ان کی دس بیویاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ان میں سے جنہیں چاہو چار رکھ لو باقی کو چھوڑ دو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر سیدنا رضی اللہ عنہ عمر کی خلافت کے زمانے میں اپنی ان بیویوں کو بھی طلاق دے دی اور اپنے لڑکوں کو اپنا مال بانٹ دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا شاید تیرے شیطان نے بات اچک لی اور تیرے دل میں خیال جما دیا ہے کہ تو عنقریب مرنے والا ہے اس لیے اپنی بیویوں کو تو نے بھی الگ کر دیا کہ وہ تیرا مال نہ پائیں اور اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کر دیا میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ اپنی بیویوں سے رجوع کر لے اور اپنی اولاد سے مال واپس لے لے اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے بعد تیری ان مطلقہ بیویوں کو بھی تیرا وارث بناؤں گا کیونکہ تو نے انہیں اسی ڈر سے طلاق دی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تیری زندگی بھی اب ختم ہونے والی ہے اور اگر تو نے میری بات نہ مانی تو یاد رکھ میں حکم دوں گا کہ لوگ تیری قبر پر پتھر پھینکیں جیسے کہ ابو رغال کی قبر پر پتھر پھینکے جاتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:1128،قال الشيخ الألباني:صحیح] (مسند احمد شافعی ترمذی ابن ماجہ دارقطنی بیہقی وغیرہ)
ہمارے علماء کرام رحمہ اللہ علیہم اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ آپ کی خصوصیت تھی امتی کو ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں پاس رکھنے کی اجازت نہیں، جیسے کہ یہ حدیثیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں، سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوتے ہیں تو ان کے پاس ان کی دس بیویاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ان میں سے جنہیں چاہو چار رکھ لو باقی کو چھوڑ دو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا پھر سیدنا رضی اللہ عنہ عمر کی خلافت کے زمانے میں اپنی ان بیویوں کو بھی طلاق دے دی اور اپنے لڑکوں کو اپنا مال بانٹ دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا شاید تیرے شیطان نے بات اچک لی اور تیرے دل میں خیال جما دیا ہے کہ تو عنقریب مرنے والا ہے اس لیے اپنی بیویوں کو تو نے بھی الگ کر دیا کہ وہ تیرا مال نہ پائیں اور اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کر دیا میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ اپنی بیویوں سے رجوع کر لے اور اپنی اولاد سے مال واپس لے لے اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے بعد تیری ان مطلقہ بیویوں کو بھی تیرا وارث بناؤں گا کیونکہ تو نے انہیں اسی ڈر سے طلاق دی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تیری زندگی بھی اب ختم ہونے والی ہے اور اگر تو نے میری بات نہ مانی تو یاد رکھ میں حکم دوں گا کہ لوگ تیری قبر پر پتھر پھینکیں جیسے کہ ابو رغال کی قبر پر پتھر پھینکے جاتے ہیں ۱؎ [سنن ترمذي:1128،قال الشيخ الألباني:صحیح] (مسند احمد شافعی ترمذی ابن ماجہ دارقطنی بیہقی وغیرہ)
مرفوع حدیث تک تو ان سب کتابوں میں ہے ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والا واقعہ صرف مسند احمد میں ہی ہے لیکن یہ زیادتی حسن ہے، اگرچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے اور اس کی اسناد کا دوسرا طریقہ بتا کر اس طریقہ کو غیر محفوظ کہا ہے مگر اس تعلیل میں بھی اختلاف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور بزرگ محدثین نے بھی اس پر کلام کیا ہے لیکن مسند احمد والی حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور شرط شیخین پر ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ یہ دس عورتیں بھی اپنے خاوند کے ساتھ مسلمان ہوئی تھیں ملاحظہ ہو۔ ۱؎ [بیہقی:183/7:حسن]
اس حدیث سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اگر چار سے زیادہ کا ایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے یہ نہ فرماتے کہ اپنی ان دس بیویوں میں سے چار کو جنہیں تم چاہو روک لو باقی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ سب بھی اسلام لا چکی تھیں، یہاں یہ بات بھی خیال میں رکھنی چاہیئے کہ ثقفی کے ہاں تو یہ دس عورتیں بھی موجود تھیں اس پر بھی آپ نے چھ علیحدہ کرا دیں پھر بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص نئے سرے سے چار سے زیادہ جمع کرے؟ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ با الصواب»
اور بزرگ محدثین نے بھی اس پر کلام کیا ہے لیکن مسند احمد والی حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور شرط شیخین پر ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ یہ دس عورتیں بھی اپنے خاوند کے ساتھ مسلمان ہوئی تھیں ملاحظہ ہو۔ ۱؎ [بیہقی:183/7:حسن]
اس حدیث سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اگر چار سے زیادہ کا ایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے یہ نہ فرماتے کہ اپنی ان دس بیویوں میں سے چار کو جنہیں تم چاہو روک لو باقی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ سب بھی اسلام لا چکی تھیں، یہاں یہ بات بھی خیال میں رکھنی چاہیئے کہ ثقفی کے ہاں تو یہ دس عورتیں بھی موجود تھیں اس پر بھی آپ نے چھ علیحدہ کرا دیں پھر بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص نئے سرے سے چار سے زیادہ جمع کرے؟ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ با الصواب»
چار سے زائد نہیں، وہ بھی بشرط انصاف ورنہ ایک ہی بیوی! ٭٭
دوسری حدیث ابوداؤد ابن ماجہ وغیرہ میں ہے سیدنا عمیرہ اسدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جس وقت اسلام قبول کیا میرے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے فرمایا: ”ان میں سے جن چار کو چاہو رکھ لو“ ۱؎ [سنن ابوداود:2241/2242،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی سند حسن ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں راویوں کے ناموں کا ہیر پھیر وغیرہ ایسی روایات میں نقصان دہ نہیں ہوتا
تیسری حدیث مسند شافعی میں ہے سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب اسلام قبول کیا اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے پسند کر کے چار کو رکھ لو اور ایک کو الگ کر دو“ میں نے جو سب سے زیادہ عمر کی بڑھیا اور بے اولاد بیوی ساٹھ سال کی تھیں انہیں طلاق دے دی ۱؎ [مسند شافعی:16/2:]
پس یہ حدیثیں سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ والی پہلی حدیث کی شواہد ہیں جیسے کہ امام بیہقی نے فرمایا۔ پھر فرماتا ہے ہاں اگر ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل و انصاف نہ ہو سکنے کا خوف ہو تو صرف ایک ہی پر اکتفا کرو اور اپنی کنیزوں سے استمتاع کرو۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ» ۱؎ [4-النساء:129] یعنی ’ گو تم چاہو لیکن تم سے نہ ہو سکے گا کہ عورتوں کے درمیان پوری طرح عدل و انصاف کو قائم رکھ سکو پس بالکل ایک ہی طرف جھک کر دوسری کو مصیبت میں نہ ڈال دو ‘، ہاں یاد رہے کہ لونڈیوں میں باری وغیرہ کی تقسیم واجب نہیں البتہ مستحب ہے جو کرے اس نے اچھا کیا اور جو نہ کرے اس پر حرج نہیں۔
تیسری حدیث مسند شافعی میں ہے سیدنا نوفل بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب اسلام قبول کیا اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے پسند کر کے چار کو رکھ لو اور ایک کو الگ کر دو“ میں نے جو سب سے زیادہ عمر کی بڑھیا اور بے اولاد بیوی ساٹھ سال کی تھیں انہیں طلاق دے دی ۱؎ [مسند شافعی:16/2:]
پس یہ حدیثیں سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ والی پہلی حدیث کی شواہد ہیں جیسے کہ امام بیہقی نے فرمایا۔ پھر فرماتا ہے ہاں اگر ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل و انصاف نہ ہو سکنے کا خوف ہو تو صرف ایک ہی پر اکتفا کرو اور اپنی کنیزوں سے استمتاع کرو۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ» ۱؎ [4-النساء:129] یعنی ’ گو تم چاہو لیکن تم سے نہ ہو سکے گا کہ عورتوں کے درمیان پوری طرح عدل و انصاف کو قائم رکھ سکو پس بالکل ایک ہی طرف جھک کر دوسری کو مصیبت میں نہ ڈال دو ‘، ہاں یاد رہے کہ لونڈیوں میں باری وغیرہ کی تقسیم واجب نہیں البتہ مستحب ہے جو کرے اس نے اچھا کیا اور جو نہ کرے اس پر حرج نہیں۔
اس کے بعد کے جملے کے مطلب میں بعض نے تو کہا ہے کہ یہ قریب ہے ان معنی کے کہ تمہارے عیال یعنی فقیری زیادہ نہ ہو جیسے اور جگہ ہے آیت «وَإِنْ خِفْتُمْ» ۱؎» [9-التوبة:29] یعنی اگر تمہیں فقر کا ڈر ہو۔
عربی شاعر کہتا ہے: «فما یدری الفقیر متی غناہ ... وما یدری الغنی متی یعیل» یعنی ”فقیر نہیں جانتا کہ کب امیر ہو جائے گا ... اور امیر کو معلوم نہیں کہ کب فقیر بن جائے گا“
جب کوئی مسکین محتاج ہو جائے تو عرب کہتے ہیں «عال الرجل» یعنی ”یہ شخص فقیر ہو گیا“ غرض اس معنی میں یہ لفظ مستعمل تو ہے لیکن یہاں یہ تفسیر کچھ زیادہ اچھی نہیں معلوم ہوتی، کیونکہ اگر آزاد عورتوں کی کثرت فقیری کا باعث بن سکتی ہے تو لونڈیوں کی کثرت بھی فقیری کا سبب ہو سکتی ہے۔
پس صحیح قول جمہور کا ہے کہ مرادیہ ہے کہ یہ قریب ہے اس سے کہ تم ظلم سے بچ جاؤ، عرب میں کہا جاتا ہے «عال فی الحکم» جبکہ ظلم و جور کیا ہو، ابوطالب کے مشہور قصیدے میں ہے۔ «بمیزان قسط لا یخیس شعیرۃ» ... لہ شاہدمن نفسہ غیر عائل» بہترین ترازو ضمیر ہے یعنی ایسی ترازو سے تولتا ہے جو ایک جو برابر کی بھی کمی نہیں کرتا اس کے پاس اس کا گواہ خود اس کا نفس ہے جو ظالم نہیں ہے۔
عربی شاعر کہتا ہے: «فما یدری الفقیر متی غناہ ... وما یدری الغنی متی یعیل» یعنی ”فقیر نہیں جانتا کہ کب امیر ہو جائے گا ... اور امیر کو معلوم نہیں کہ کب فقیر بن جائے گا“
جب کوئی مسکین محتاج ہو جائے تو عرب کہتے ہیں «عال الرجل» یعنی ”یہ شخص فقیر ہو گیا“ غرض اس معنی میں یہ لفظ مستعمل تو ہے لیکن یہاں یہ تفسیر کچھ زیادہ اچھی نہیں معلوم ہوتی، کیونکہ اگر آزاد عورتوں کی کثرت فقیری کا باعث بن سکتی ہے تو لونڈیوں کی کثرت بھی فقیری کا سبب ہو سکتی ہے۔
پس صحیح قول جمہور کا ہے کہ مرادیہ ہے کہ یہ قریب ہے اس سے کہ تم ظلم سے بچ جاؤ، عرب میں کہا جاتا ہے «عال فی الحکم» جبکہ ظلم و جور کیا ہو، ابوطالب کے مشہور قصیدے میں ہے۔ «بمیزان قسط لا یخیس شعیرۃ» ... لہ شاہدمن نفسہ غیر عائل» بہترین ترازو ضمیر ہے یعنی ایسی ترازو سے تولتا ہے جو ایک جو برابر کی بھی کمی نہیں کرتا اس کے پاس اس کا گواہ خود اس کا نفس ہے جو ظالم نہیں ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ جب کوفیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر ایک میں خط کچھ الزام لکھ کر بھیجے تو ان کے جواب میں خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا کہ «إِني لسْتُ بميزانٍ لا أَعُول» میں ظلم کا ترازو نہیں ہوں صحیح ابن حبان وغیرہ میں ایک مرفوع حدیث اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس کا معنی ہے تم ظلم نہ کرو ۱؎ [صحیح ابنvحبان:134/6]
ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا مرفوع ہونا تو خطا ہے ہاں یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے اسی طرح «لا تعولوا» کے یہی معنی ہیں یعنی تم ظلم نہ کرو۔ سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدہ عائشہ، رضی اللہ عنہما مجاہد، عکرمہ، حسن، ابو مالک، ابو زرین، نخعی، شعبی، ضحاک، عطاء خراسانی، قتادہ، سدی اور مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:549/7-515] وغیرہ سے بھی مروی ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ نے بھی ابوطالب کا وہی شعر پیش کیا ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے اور خود امام صاحب بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا مرفوع ہونا تو خطا ہے ہاں یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے اسی طرح «لا تعولوا» کے یہی معنی ہیں یعنی تم ظلم نہ کرو۔ سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدہ عائشہ، رضی اللہ عنہما مجاہد، عکرمہ، حسن، ابو مالک، ابو زرین، نخعی، شعبی، ضحاک، عطاء خراسانی، قتادہ، سدی اور مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:549/7-515] وغیرہ سے بھی مروی ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ نے بھی ابوطالب کا وہی شعر پیش کیا ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے اور خود امام صاحب بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے اپنی بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے ادا کر دیا کرو جو بھی مقرر ہوئے ہوں اور جن کو تم نے منظور کیا ہو، ہاں اگر عورت خود اپنا سارا یا تھوڑا بہت مہر اپنی خوشی سے مرد کو معاف کر دے تو اسے اختیار ہے اور اس صورت میں بیشک مرد کو اس کا اپنے استعمال میں لانا حلال، طیب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو جائز نہیں کہ بغیر مہر واجب کے نکاح کرے نہ یہ کہ جھوٹ موٹ مہر کا نام ہی نام ہو ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:553/7]
ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ تم میں سے جب کوئی بیمار پڑے تو اسے چاہیئے کہ اپنی بیوی سے اس کے مال کے تین درہم یا کم و بیش لے ان کا شہد خرید لے اور بارش کا آسمانی پانی اس میں ملالے تو تین تین بھلائیاں مل جائیں گی آیت «فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا» [4-النساء:4] تو مال عورت اور شفاء شہد اور مبارک بارش کا پانی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی بیٹیوں کا مہر آپ لیتے تھے جس پر یہ آیت اتری اور انہیں اس سے روک دیا گیا (ابن ابی حاتم اور ابن جریر) اس حکم کو سن کر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کا مہر کیا ہونا چاہیئے؟ آپ نے فرمایا جس چیز پر بھی ان کے ولی رضامند ہو جائیں ۱؎ [بیہقی:239/7:مرسل و ضعیف] (ابن ابی حاتم)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں تین مرتبہ فرمایا کہ ”بیوہ عورتوں کا نکاح کر دیا کرو“، ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ! ایسی صورت میں ان کا مہر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”جس پر ان کے گھر والے راضی ہو جائیں“ ۱؎ [بیہقی:239/7:منقطع و ضعیف] اس کے ایک راوی ابن بیلمانی ضعیف ہیں، پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مروی ہے کہ تم میں سے جب کوئی بیمار پڑے تو اسے چاہیئے کہ اپنی بیوی سے اس کے مال کے تین درہم یا کم و بیش لے ان کا شہد خرید لے اور بارش کا آسمانی پانی اس میں ملالے تو تین تین بھلائیاں مل جائیں گی آیت «فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا» [4-النساء:4] تو مال عورت اور شفاء شہد اور مبارک بارش کا پانی۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی بیٹیوں کا مہر آپ لیتے تھے جس پر یہ آیت اتری اور انہیں اس سے روک دیا گیا (ابن ابی حاتم اور ابن جریر) اس حکم کو سن کر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان کا مہر کیا ہونا چاہیئے؟ آپ نے فرمایا جس چیز پر بھی ان کے ولی رضامند ہو جائیں ۱؎ [بیہقی:239/7:مرسل و ضعیف] (ابن ابی حاتم)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں تین مرتبہ فرمایا کہ ”بیوہ عورتوں کا نکاح کر دیا کرو“، ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ! ایسی صورت میں ان کا مہر کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”جس پر ان کے گھر والے راضی ہو جائیں“ ۱؎ [بیہقی:239/7:منقطع و ضعیف] اس کے ایک راوی ابن بیلمانی ضعیف ہیں، پھر اس میں انقطاع بھی ہے۔