(آیت 28) {يُرِيْدُاللّٰهُاَنْيُّخَفِّفَعَنْكُمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کو انسان کی کمزوری کا خوب علم ہے کہ عورتوں کے معاملے میں یہ کس قدر کمزور ہے، اس لیے احکام شریعت میں اس کی سہولت کا خیال رکھا گیا ہے اور دین میں سختی نہیں برتی گئی، فرمایا: { «وَمَاجَعَلَعَلَيْكُمْفِيالدِّيْنِمِنْحَرَجٍ }»[الحج: ۷۸]”اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک دین آسان ہے۔“[بخاری، الإیمان، باب الدین یسر: ۳۹، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمھارے پاس نہایت آسان حنیفی شریعت لے کر آیا ہوں۔ “[مسند أحمد، 266/5، ح: ۲۲۳۵۴۔ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر، قبل ح: ۳۹] شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” دین اسلام میں کوئی تنگی نہیں کہ کوئی حلال کو چھوڑے اور حرام کو دوڑے۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28۔ 1 اس کمزوری کی وجہ سے اس کے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ممکن آسانیاں اسے لئے فراہم کی ہیں انہیں میں سے لونڈیوں سے شادی کی اجازت ہے بعض نے اس ضعف کا تعلق عورتوں سے بتلایا ہے یعنی عورت کے بارے میں کمزور ہے اسی لئے عورتیں بھی باوجود نقصان عقل کے اس کو آسانی سے اپنے دام میں پھنسا لیتی ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم سے (رسم و رواج کی پابندیوں کو) ہلکا کر دے کیونکہ انسان کمزور [47] پیدا کیا گیا ہے
[47] شرعی احکام میں انسانی کمزوریوں کا لحاظ:۔
یعنی یہ احکام دینے میں اس بات کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ انسان فطرتاً کمزور ہے لہٰذا ان احکام میں انسان کی سہولت اور بساط کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ مثلاً یہ کہ انسان اپنی شہوت پر کنٹرول نہیں کر سکتا تو اسے ایک سے چار بیویوں تک نکاح کی اجازت دے دی گئی ہے اور اس میں سہولتوں کو مد نظر رکھ کر اسے آسان بنا دیا گیا ہے۔ نیز جو بھی احکام شریعت ہیں ان میں اعتدال کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور پھر معاشرہ کے کمزور افراد کے لیے رخصتیں بھی رکھ دی گئی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔