ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 27

وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ۟ وَ یُرِیۡدُ الَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الشَّہَوٰتِ اَنۡ تَمِیۡلُوۡا مَیۡلًا عَظِیۡمًا ﴿۲۷﴾
اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی فرمائے اور جو لوگ خواہشات کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم (سیدھے راستے سے) ہٹ جاؤ، بہت بڑا ہٹ جانا۔ En
اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو
En
اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے اور جو لوگ خواہشات کے پیرو ہیں وه چاہتے ہیں کہ تم اس سے بہت دور ہٹ جاؤ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27) {وَ اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْكُمْ …: } یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم فسق و فجور کے بجائے پاکیزگی اپناؤ، مگر خواہشات کا اتباع کرنے والے بدکار چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی ان کی طرح ہر حد سے آزاد ہو کر حق سے بہت دور ہٹ جائیں، لہٰذا تم شہوت پرستوں کے کہنے میں نہ آؤ۔ مراد یہود و نصاریٰ، مجوسی اور کمیونسٹ ہیں، جو حرام رشتوں سے بھی نکاح جائز سمجھتے ہیں، بلکہ بعض تو نکاح کا طریقہ ہی ختم کر کے جانور بن چکے ہیں، حتیٰ کہ قوم لوط کے عمل کو قانوناً جائز کر چکے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27۔ 1 اَنْ تمیلوا یعنی حق سے باطل کی طرف جھک جاؤ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر نظر رحمت سے متوجہ ہو مگر جو لوگ اپنی خواہشات [46] کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور تک چلے جاؤ
[46] معاشرتی اصلاحات پر مخالفین کا شور و غوغا:۔
ان خواہشات نفس کی پیروی کرنے والوں سے مراد وہ ہر طرح کے لوگ ہیں جو اللہ کی ہدایات پر اپنے آباء و اجداد کے رسم و رواج کو مقدم سمجھتے اور انہی چیزوں سے محبت رکھتے ہیں خواہ وہ یہود و نصاریٰ ہوں یا منافق یا دوسرے مشرکین ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کے لیے بے شمار ایسے احکامات نازل فرمائے جن پر عمل کرنا اکثر لوگوں کو ناگوار تھا۔ مثلاً میراث میں لڑکیوں اور چھوٹے بچوں کا حصہ مقرر کرنا، بیوہ سے سسرال کی بندشوں کو ختم کرنا اور عدت کے بعد اسے نکاح کے لیے پوری آزادی دلانا، متبنّیٰ کی وراثت کا خاتمہ، عورت کو خاوند کی طرح طرح کی زیادتیوں سے نجات دلا کر معاشرہ میں اس کا مقام بلند کرنا وغیرہ وغیرہ۔ ایسی تمام اصلاحات پر بڑے بوڑھے اور آبائی رسوم کے پرستار چیخ اٹھتے تھے اور لوگوں کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے چار سے زیادہ بیویوں پر پابندی لگا دی۔ اب جن مسلمانوں نے زائد بیویوں کو طلاق دے کر فارغ کیا تھا، ان کی اولاد سے یوں کہنا کہ اس حکم کی رو سے تمہاری ماؤں اور باپ کے تعلق کو نا جائز ٹھہرایا گیا ہے، تو کیا تم جائز اولاد ہو یا نا جائز وغیرہ وغیرہ۔ اور سب سے بڑھ کر اعتراض یہود کو تھے جنہوں نے از خود کئی حلال چیزوں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ اور اپنے اوہام و خرافات کو شریعت الٰہی کا درجہ دے رکھا تھا۔ مثلاً حیض والی عورت ان کے ہاں ایسی ناپاک تھی جس کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا بھی جائز نہ تھا اسی لیے وہ حیض کے دوران انہیں بالکل الگ تھلگ رکھتے تھے اور ان کی دیکھا دیکھی ایسا ہی رواج انصار مدینہ میں بھی چل نکلا تھا مگر قرآن کے حکم کی رو سے مجامعت کے سوا حیض والی عورت سے تمام تعلقات اسی طرح رکھے جا سکتے تھے جس طرح پاکیزگی کے دنوں میں ہوتے ہیں۔ ایسی باتوں پر یہود چلا اٹھتے تھے کہ دیکھو یہ نبی ہر ناپاک کو پاک اور ہر حرام کو حلال بنانے پر تُلا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم ان لوگوں کی مطلق پروا نہ کرو اور اگر تم لوگ ان کی باتوں پر توجہ دینے لگو گے تو یہ تو تمہیں راہ راست سے کہیں دور جا پھینکیں گے لہٰذا جو احکام تمہیں مل رہے ہیں ان پر ان کے اعتراضات سے بے پروا ہو کر اور بے خوف ہو کر عمل کیے جاؤ۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

پچاس سے پانچ نمازوں تک ٭٭
فرمان ہوتا ہے کہ اے مومنو! اللہ تعالیٰ ارادہ کر چکا ہے کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے جیسے کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے بیان فرمایا وہ چاہتا ہے کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں تمہیں سمجھا دے تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں وہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرما لے جس گناہ سے جس حرام کاری سے تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے۔
وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے اپنے کام اور اپنے فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے پیروکار یعنی شیطانوں کے غلام یہود و نصاریٰ اور بدکاری لوگ تمہیں حق سے ہٹانا اور باطل کی طرف جھکانا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے حکم احکام میں یعنی روکنے اور ہٹانے میں، شریعت اور اندازہ مقرر کرنے میں تمہارے لیے آسانیاں چاہتا ہے اور اسی بنا پر چند شرائط کے ساتھ اس نے لونڈیوں سے نکاح کر لینا تم پر حلال کر دیا۔ انسان چونکہ پیدائشی کمزور ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام میں کوئی سختی نہیں رکھی۔ یہ فی نفسہ بھی کمزور اس کے ارادے اور حوصلے بھی کمزور یہ عورتوں کے بارے میں بھی کمزور، یہاں آ کر بالکل بیوقوف بن جانے والا۔
چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں سدرۃ المنتہیٰ سے لوٹے اور موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو آپ نے دریافت کیا کہ آپ پر کیا فرض کیا گیا؟ فرمایا ہر دن رات میں پچاس نمازیں تو کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: واپس جائیے اور اللہ کریم سے تخفیف طلب کیجئے آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں میں اس سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں وہ اس سے بہت کم میں گھبرا گئے تھے اور آپ کی امت تو کانوں آنکھوں اور دل کی کمزوری میں ان سے بھی بڑھی ہوئی ہے چنانچہ آپ واپس گئے دس معاف کرا لائے پھر بھی یہی باتیں ہوئیں پھر گئے دس ہوئیں یہاں تک کہ آخری مرتبہ پانچ رہ گئیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:349]‏‏‏‏