یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَحِلُّ لَکُمۡ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرۡہًا ؕ وَ لَا تَعۡضُلُوۡہُنَّ لِتَذۡہَبُوۡا بِبَعۡضِ مَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ۚ وَ عَاشِرُوۡہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ فَاِنۡ کَرِہۡتُمُوۡہُنَّ فَعَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ یَجۡعَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ خَیۡرًا کَثِیۡرًا ﴿۱۹﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمھارے لیے حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جائو اور نہ انھیں اس لیے روک رکھو کہ تم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو، مگر اس صورت میں کہ وہ کھلم کھلا بے حیائی کا ارتکاب کریں اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو، پھر اگر تم انھیں نا پسند کرو تو ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔
En
مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) میں مت روک رکھنا ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا مناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو سہو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے
En
ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورﺛے میں لے بیٹھو انہیں اس لئے روک نہ رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ لے لو ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 19) ➊ {لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا:} زنا وغیرہ کے سلسلہ میں ضمناً توبہ کے احکام بیان فرمانے کے بعد اب یہاں سے پھر عورتوں کے حقوق کا بیان ہو رہا ہے اور اس سے مقصد عورتوں کو اس ظلم وزیادتی سے نجات دلانا ہے جو جاہلیت میں ان پر روا رکھی جاتی تھی۔ اس کے مخاطب یا تو شوہر کے اولیاء ہیں، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ اور دوسرے محدثین نے اس آیت کی شان نزول میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں میت کے اولیاء دوسری چیزوں کی طرح اس کی بیوی کے بھی مالک ہوتے تھے، ان میں سے اگر کوئی چاہتا تو خود اس سے شادی کر لیتا، یا کسی دوسرے سے شادی کر دیتے(اور مہر خود لے لیتے) اور اگر چاہتے تو عورت کو کلیتاً شادی ہی سے روک دیتے(حتیٰ کہ وہ مر جاتی اور اس کے مال کے وارث خود بن جاتے) عورت کے اولیاء کو اس سلسلہ میں کوئی اختیار نہ ہوتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور عورت پر ان کے تسلط کو ختم کر دیا۔ [بخاری، التفسیر، باب: «لا یحل لکم …» : ۴۵۷۹] اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے مخاطب شوہر ہوں، چنانچہ بعض علماء نے اس کی شان نزول میں لکھا ہے کہ وہ عورتوں کو طلاق نہ دیتے بلکہ تنگ کرتے رہتے، تاکہ اگر مر جائیں تو ان کے وارث بن جائیں اور اگر طلاق لینا چاہیں تو جو کچھ انھیں دیا ہے اس میں سے کچھ واپس کریں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پہلی صورت میں اس کا حاصل یہ ہے کہ خاوند کے مرنے کے بعد اسے نکاح سے روکنا جائز نہیں، بلکہ وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے اور خاوند کے اولیاء اس طرح زبردستی اس کے وارث نہیں بن سکتے۔ دوسری صورت میں، یعنی جب شوہر مخاطب ہوں، تو خلاصہ یہ ہو گا کہ شوہر کے لیے جائز نہیں کہ عورت سے مہر واپس لینے کی غرض سے اسے تنگ کرتا رہے اور طلاق نہ دے، حتیٰ کہ وہ خلع پر مجبور ہو جائے۔ یہ دوسری صورت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اور ابن عطیہ وغیرہ نے اسی کو پسند کیا ہے، اس لیے کہ آیت کے بقیہ حصے کا تعلق بلا شک و شبہ شوہروں ہی کے ساتھ ہے، کیونکہ واضح بے حیائی کے ارتکاب کی صورت میں خاوند ہی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اسے روک رکھے، تاکہ اسے مہر وغیرہ، جو کچھ دیا ہے، واپس لے کر طلاق دے، شوہر کے اولیاء کو یہ اختیار نہیں ہے۔ (فتح القدیر، قرطبی) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خطاب عام مسلمانوں سے ہو، جس میں شوہر، میت کے اولیاء اور دوسرے مسلمان سبھی آ جاتے ہوں۔ (فتح القدیر)
➋ {اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ:} ابن کثیر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما، عکرمہ اور ضحاک رحمھما اللہ نے {”بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ“} سے مراد سرکشی اور نافرمانی لی ہے، مگر ابن جریر رحمہ اللہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اسے عام رکھا جائے اور یہ فحش کلامی، بد خلقی، ایذا رسانی، زنا اور اس قسم کے جملہ رذائل کو شامل ہو اور مطلب یہ ہو گا کہ اگر زیادتی عورت کی طرف سے ہو تو تم اسے خلع لینے پر مجبور کر سکتے ہو، تاکہ وہ لیا ہوا مال واپس کر دے۔
➌ {وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ:} یہ عورتوں سے متعلق تیسرا حکم ہے کہ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِيْ] [ابن ماجہ، النکاح، باب حسن معاشرۃ النساء: ۱۹۷۷، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما۔ ترمذی: ۳۸۹۵۔ الصحیحۃ: ۲۸۵]”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترہے اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔“
➍ {فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى …:} یہ بھی ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنے کی بات کی تکمیل ہے، یعنی اگر کسی اخلاقی کمزوری یا بد صورت ہونے کی وجہ سے تمھیں ان سے نفرت ہو جائے اور ان کو طلاق دینا چاہو تو بھی فوراً طلاق نہ دو، بلکہ بہتر طریقے سے انھیں اپنے پاس رکھو، ہو سکتا ہے کہ ان کی صحبت سے خیر کثیر، یعنی صالح اولاد حاصل ہو جائے یا مال میں برکت ہو جائے اور تمھاری نفرت محبت میں تبدیل ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مومن اپنی مومنہ بیوی سے بغض نہ رکھے، اگر اسے اس کی کوئی ایک عادت ناپسند ہو گی تو دوسری پسند بھی ہو گی۔“ [مسلم، الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء: ۱۴۶۷، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر نفرت کے سبب تم ان سے علیحدگی اختیار کرنا چاہو تو ہو سکتا ہے کہ اس علیحدگی میں ان کے لیے خیر کثیر مضمر ہو، مثلاً ان کو بہتر خاوند مل جائے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۳۰)۔
➋ {اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ:} ابن کثیر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما، عکرمہ اور ضحاک رحمھما اللہ نے {”بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ“} سے مراد سرکشی اور نافرمانی لی ہے، مگر ابن جریر رحمہ اللہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اسے عام رکھا جائے اور یہ فحش کلامی، بد خلقی، ایذا رسانی، زنا اور اس قسم کے جملہ رذائل کو شامل ہو اور مطلب یہ ہو گا کہ اگر زیادتی عورت کی طرف سے ہو تو تم اسے خلع لینے پر مجبور کر سکتے ہو، تاکہ وہ لیا ہوا مال واپس کر دے۔
➌ {وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ:} یہ عورتوں سے متعلق تیسرا حکم ہے کہ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِيْ] [ابن ماجہ، النکاح، باب حسن معاشرۃ النساء: ۱۹۷۷، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما۔ ترمذی: ۳۸۹۵۔ الصحیحۃ: ۲۸۵]”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترہے اور میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔“
➍ {فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى …:} یہ بھی ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنے کی بات کی تکمیل ہے، یعنی اگر کسی اخلاقی کمزوری یا بد صورت ہونے کی وجہ سے تمھیں ان سے نفرت ہو جائے اور ان کو طلاق دینا چاہو تو بھی فوراً طلاق نہ دو، بلکہ بہتر طریقے سے انھیں اپنے پاس رکھو، ہو سکتا ہے کہ ان کی صحبت سے خیر کثیر، یعنی صالح اولاد حاصل ہو جائے یا مال میں برکت ہو جائے اور تمھاری نفرت محبت میں تبدیل ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مومن اپنی مومنہ بیوی سے بغض نہ رکھے، اگر اسے اس کی کوئی ایک عادت ناپسند ہو گی تو دوسری پسند بھی ہو گی۔“ [مسلم، الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء: ۱۴۶۷، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر نفرت کے سبب تم ان سے علیحدگی اختیار کرنا چاہو تو ہو سکتا ہے کہ اس علیحدگی میں ان کے لیے خیر کثیر مضمر ہو، مثلاً ان کو بہتر خاوند مل جائے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۳۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 اسلام سے قبل عورت پر ایک ظلم بھی ہوتا تھا کہ شوہر کے مرجانے کے بعد اس کے گھر کے لوگ اس کے مال کی طرح اس کی عورت کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھتے تھے اور خود اپنی مرضی سے، اس کی رضامندی کے بغیر اس سے نکاح کرلیتے یا اپنے بھائی بھتیجے سے اس کا نکاح کردیتے، حتی کہ سوتیلا بیٹا تک بھی مرنے والے باپ کی عورت سے نکاح کرلیتا اور اگر چاہتے تو کسی اور جگہ نکاح نہ کرنے دیتے تھے۔ اور ساری عمر یونہی رہنے پر مجبور ہوتی اسلام نے ظلم کے ان تمام طریقوں سے منع فرمایا۔ 19۔ 2 ایک ظلم یہ بھی کیا جاتا تھا کہ اگر خاوند کو پسند نہ ہوتی اور وہ اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتا تو از خود اس کو طلاق نہ دیتا بلکہ اسے خوب تنگ کرتا تاکہ وہ مجبور ہو کر حق مہر جو خاوند نے اسے دیا ہوتا، از خود واپس کر کے اس سے خلاصی پانے کو ترجیح دیتی، اسلام نے اس حرکت کو بھی ظلم قرار دیا۔ 19۔ 3 کھلی برائی سے مراد بدکاری یا بدزبانی اور نافرمانی ہے ان دونوں صورتوں میں اجازت دی گئی ہے کہ خاوند اس کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرے کہ وہ اس کا دیا ہوا حق مہر واپس کرکے خلع کرانے پر مجبور ہوجائے، جیسا کہ خلع کی صورت میں حق مہر واپس لینے کا حق دیا گیا ہے (ملاحظہ ہو سورة بقرہ آیت نمبر 229) 19۔ 4 یہ بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا وہ حکم ہے، جس کی قرآن نے بڑی تاکید کی ہے اور احادیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی وضاحت کی ہے کہ مومن مرد (شوہر (مومنہ عورت (بیوی) سے بغض نہ رکھے۔ اگر اس کی ایک عادت اسے پسند ہے تو اسکی دوسری عادت بھی پسندیدہ ہوگی، عورتوں پر ظلم کرنے اور بچوں کی زندگیاں خراب کرنے کے لئے۔ علاوہ ازیں اس طرح یہ اسلام کی بدنامی کا بھی باعث بنتے ہیں کہ اسلام نے مرد کو طلاق کا حق دے کر عورت پر ظلم کرنے کا اختیار اسے دے دیا۔ یوں یہ اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی کو خرابی اور ظلم باور کرایا جاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ اے ایمان والو! تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث [32] بن بیٹھو۔ اور نہ ہی انہیں اس لیے روکے رکھو کہ جو مال (حق مہر وغیرہ) تم انہیں دے چکے ہو اس کا کچھ حصہ اڑا لو۔ اِلا ّ یہ کہ وہ صریح بد چلنی [33] کا ارتکاب کریں۔ اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے [34] زندگی بسر کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناگوار ہو مگر اللہ نے اس میں بہت [34۔ 1] بھلائی رکھ دی ہو
[32] جاہلیت میں عورت ترکہ کا مال تھا:۔
یعنی عورت بھی ترکہ کا مال تصور ہوتی تھی اور اس کا وارث سوتیلا بیٹا یا میت کا بھائی ہوتا تھا چنانچہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ عربوں میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی شخص مرتا تو اس کی بیوی پر میت کے وارثوں کا زور چلتا تھا (وہ بھی ترکہ ہی تصور ہوتی تھی) چاہتے تو خود اس سے نکاح پڑھا لیتے، چاہتے تو کسی اور سے نکاح کر دیتے اور چاہتے تو اسے بلا نکاح ہی رہنے دیتے۔ غرض اس پر خاوند کے وارثوں کا اختیار تھا، عورت کے وارثوں کا کچھ بھی اختیار نہ تھا۔ پھر یہ آیت اتری (جس سے عورتوں کو پوری آزادی مل گئی۔) [بخاري، كتاب التفسير]
[33] یعنی انہیں گھر میں قید رکھنے کا اختیار صرف اس صورت میں ہے کہ بد کاری کا ارتکاب کریں۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی آیت نمبر 15 میں گزر چکا ہے اور یہ حکم عام ہے۔ صرف ان سوتیلی ماؤں کے لیے نہیں جو تمہارے باپوں کے نکاح میں تھیں۔ ورنہ صرف مال ہتھیانے کے لیے عورتوں کو روکے رکھنا کسی صورت میں جائز نہیں۔
[34] اپنی بیویوں سے حسن معاشرت کے سلسلہ میں درج ذیل ارشادات نبوی ملاحظہ فرمائیے:
1۔
[33] یعنی انہیں گھر میں قید رکھنے کا اختیار صرف اس صورت میں ہے کہ بد کاری کا ارتکاب کریں۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی آیت نمبر 15 میں گزر چکا ہے اور یہ حکم عام ہے۔ صرف ان سوتیلی ماؤں کے لیے نہیں جو تمہارے باپوں کے نکاح میں تھیں۔ ورنہ صرف مال ہتھیانے کے لیے عورتوں کو روکے رکھنا کسی صورت میں جائز نہیں۔
[34] اپنی بیویوں سے حسن معاشرت کے سلسلہ میں درج ذیل ارشادات نبوی ملاحظہ فرمائیے:
1۔
بیویوں سے حسن معاشرت:۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”مومنوں میں سب سے کامل وہ شخص ہے۔ جس کے اخلاق اچھے ہوں اور تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں بہتر ہیں۔“
[ترمذی، ابواب الرضاع۔ باب حق المرأۃ علیٰ زوجھا]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ حجۃ الوداع کے دوران) فرمایا۔ ”عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی ذمہ داری پر حاصل کیا ہے اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ کے ساتھ حلال کیا ہے۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ پھر اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو لیکن اس طرح کہ انہیں چوٹ نہ آئے۔ اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں دستور کے مطابق خوراک اور پوشاک مہیا کرو۔“
[صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی]
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”کوئی مومن (اپنی) مومنہ (بیوی) سے بغض نہ رکھے۔ اگر اسے اس کی کوئی عادت ناپسند ہو گی تو ضرور کوئی دوسری پسند بھی ہو گی۔“
[مسلم، کتاب الرضاع۔ باب الوصیۃ بالنساء]
4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اسی حالت میں اٹھاؤ جبکہ اس میں کجی موجود ہے۔“
[بخاری، کتاب النکاح، باب المداراۃ مع النساء مسلم، کتاب الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء]
[34۔ 1] مثلاً تمہاری بیوی خوبصورت یا تعلیم یافتہ تو نہیں مگر وہ کفایت شعار ہے۔ اور خانہ داری سے خوب واقف ہے اور تنگی ترشی میں خاوند کو نا جائز تنگ نہیں کرتی بلکہ اس کی اطاعت گزار اور فرمانبردار ہے۔ اب اگر مرد محض کسی عورت کو اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اپنے گھر میں لانا اور اسے رخصت کرنا چاہتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ خوبصورت عورت مطالبات سے اپنے خاوند کا ناک میں دم کر دے۔ کفایت شعار بھی نہ ہو اور گھر کی صفائی اور امور خانہ داری کے لیے شوہر سے کسی ملازم یا ملازمہ کا مطالبہ کر دے اور اس پر جینا حرام کر دے لہٰذا جو کچھ تمہارے پاس ہے اسی پر اکتفا اور قناعت کرو اور اسی سے نبھانے کی اور حسن سلوک کی حتی الامکان کوشش کرو اور اپنی گھریلو زندگی کو بگاڑنے کے بجائے اس میں اصلاح پیدا کرنے کی کوشش کرو۔
[ترمذی، ابواب الرضاع۔ باب حق المرأۃ علیٰ زوجھا]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ حجۃ الوداع کے دوران) فرمایا۔ ”عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی ذمہ داری پر حاصل کیا ہے اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ کے ساتھ حلال کیا ہے۔ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ پھر اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو لیکن اس طرح کہ انہیں چوٹ نہ آئے۔ اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں دستور کے مطابق خوراک اور پوشاک مہیا کرو۔“
[صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجۃ النبی]
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”کوئی مومن (اپنی) مومنہ (بیوی) سے بغض نہ رکھے۔ اگر اسے اس کی کوئی عادت ناپسند ہو گی تو ضرور کوئی دوسری پسند بھی ہو گی۔“
[مسلم، کتاب الرضاع۔ باب الوصیۃ بالنساء]
4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اسی حالت میں اٹھاؤ جبکہ اس میں کجی موجود ہے۔“
[بخاری، کتاب النکاح، باب المداراۃ مع النساء مسلم، کتاب الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء]
[34۔ 1] مثلاً تمہاری بیوی خوبصورت یا تعلیم یافتہ تو نہیں مگر وہ کفایت شعار ہے۔ اور خانہ داری سے خوب واقف ہے اور تنگی ترشی میں خاوند کو نا جائز تنگ نہیں کرتی بلکہ اس کی اطاعت گزار اور فرمانبردار ہے۔ اب اگر مرد محض کسی عورت کو اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اپنے گھر میں لانا اور اسے رخصت کرنا چاہتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ خوبصورت عورت مطالبات سے اپنے خاوند کا ناک میں دم کر دے۔ کفایت شعار بھی نہ ہو اور گھر کی صفائی اور امور خانہ داری کے لیے شوہر سے کسی ملازم یا ملازمہ کا مطالبہ کر دے اور اس پر جینا حرام کر دے لہٰذا جو کچھ تمہارے پاس ہے اسی پر اکتفا اور قناعت کرو اور اسی سے نبھانے کی اور حسن سلوک کی حتی الامکان کوشش کرو اور اپنی گھریلو زندگی کو بگاڑنے کے بجائے اس میں اصلاح پیدا کرنے کی کوشش کرو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عورت پر ظلم کا خاتمہ ٭٭
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی ۱؎، [صحیح بخاری:2079]
دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہو جائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، ۱؎ [سنن ابوداود:2090،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو ایک روایت میں ہے کہ یہ کپڑا ڈالنے والا اسے حسین پاتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے یونہی روکے رکھتا یہاں تک کہ مر جائے پھر اس کے مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے کہ مرنے والے کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا۔
دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہو جائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، ۱؎ [سنن ابوداود:2090،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو ایک روایت میں ہے کہ یہ کپڑا ڈالنے والا اسے حسین پاتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے یونہی روکے رکھتا یہاں تک کہ مر جائے پھر اس کے مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے کہ مرنے والے کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا۔
پھر اگر وہ عورت کچھ فدیہ اور بدلہ دے تو وہ اسے نکاح کرنے کی اجازت دیتا ورنہ یونہی مر جاتی سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اہل مدینہ کا یہ دستور تھا کہ وارث اس عورت کے بھی وارث بن جاتے غرض یہ لوگ عورتوں کے ساتھ بڑی بری طرح پیش آتے تھے یہاں تک کہ طلاق دیتے وقت بھی شرط کر لیتے تھے کہ جہاں میں چاہوں تیرا نکاح ہو گا اس طرح کی قید و بند سے رہائی پانے کی پھر یہ صورت ہوتی کہ وہ عورت کچھ دے کر جان چھڑاتی، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس سے منع فرما دیا، ابن مردویہ میں ہے کہ جب ابو قیس بن اسلت کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا جیسے کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی بچے کی سنبھال پر اسے لگا دیتے تھے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کوئی مر جاتا تو اس کا لڑکا اس کی بیوی کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا اگر چاہتا خود اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کر لیتا اور اگر چاہتا دوسرے کے نکاح میں دے دیتا مثلاً بھائی کے بھتیجے کے یا جس کو چاہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ابو قیس کی جس بیوی کا نام کبیشہ بنت معن رضی اللہ عنہا تھا اس نے اس صورت کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی کہ یہ لوگ نہ مجھے وارثوں میں شمار کر کے میرے خاوند کا ورثہ دیتے ہیں نہ مجھے چھوڑتے ہیں کہ میں اور کہیں اپنا نکاح کر لوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک روایت میں ہے کہ کپڑا ڈالنے کی رسم سے پہلے ہی اگر کوئی عورت بھاگ کھڑی ہو اور اپنے میکے آ جائے تو وہ چھوٹ جاتی تھی، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو یتیم بچی ان کی ولایت میں ہوتی اسے یہ روکے رکھتے تھے اس امید پر کہ جب ہماری بیوی مر جائے گی ہم اس سے نکاح کر لیں گے، ان سب اقوال سے معلوم ہوا کہ ان تمام صورتوں کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ممانعت کر دی اور عورتوں کی جان اس مصیبت سے چھڑا دی واللہ اعلم۔ ارشاد ہے عورتوں کی بود و باش میں انہیں تنگ کر کے تکلیف دیدے کر مجبور نہ کرو کہ وہ اپنا سارا مہر چھوڑ دیں یا اس میں سے کچھ چھوڑ دیں یا اپنے کسی اور واجبی حق وغیرہ سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہو جائیں کیونکہ انہیں ستایا اور مجبور کیا جا رہا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورت ناپسند ہے دل نہیں ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی تمام حقوق دینے پڑیں گے اس صورت حال سے بچنے کے لیے اسے ستانا یا طرح طرح سے تنگ کرنا تاکہ وہ خود اپنے حقوق چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ ہو جائے ایسا رویہ اختیار کرنے سے قرآن پاک نے مسلمانوں کو روک دیا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورت ناپسند ہے دل نہیں ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں حق مہر کے علاوہ بھی تمام حقوق دینے پڑیں گے اس صورت حال سے بچنے کے لیے اسے ستانا یا طرح طرح سے تنگ کرنا تاکہ وہ خود اپنے حقوق چھوڑ کر چلے جانے پر آمادہ ہو جائے ایسا رویہ اختیار کرنے سے قرآن پاک نے مسلمانوں کو روک دیا۔
ابن سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت امر جاہلیت کو ختم کرنے اور دوسری امراسلام کی اصلاح کے لیے نازل ہوئی، ابن مبارک رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ مگر اس صورت میں کہ ان سے کھلی بےحیائی کا کام صادر ہو جائے، اس سے مراد بقول اکثر مفسرین صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہ اللہ علیہم وغیرہ زناکاری ہے، یعنی اس صورت میں جائز ہے کہ اس سے مہر لوٹا لینا چاہیئے اور اسے تنگ کرے تاکہ خلع پر رضامند ہو، جیسے سورۃ البقرہ کی آیت میں ہے «وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة:229] یعنی تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں دیئے ہوئے میں سے کچھ بھی لے لو مگر اس حالت میں کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو۔
بعض بزرگوں نے فرمایا ہے «فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» ۱؎ [4-النساء:19] سے مراد خاوند کے خلاف کام کرنا، اس کی نافرمانی کرنا، بدزبانی کج خلقی کرنا، حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:117/8]
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت کے الفاظ عام ہیں زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے کہ اسے تنگ کرے تاکہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے اور پھر یہ اسے الگ کر دے امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ روایت بھی پہلے گزر چکی ہے کہ یہاں اس آیت کے اترنے کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے جس سے اللہ نے منع فرما دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے خارج کرنے کے لیے ہوا ہے۔
بعض بزرگوں نے فرمایا ہے «فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» ۱؎ [4-النساء:19] سے مراد خاوند کے خلاف کام کرنا، اس کی نافرمانی کرنا، بدزبانی کج خلقی کرنا، حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:117/8]
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت کے الفاظ عام ہیں زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے کہ اسے تنگ کرے تاکہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے اور پھر یہ اسے الگ کر دے امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
یہ روایت بھی پہلے گزر چکی ہے کہ یہاں اس آیت کے اترنے کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے جس سے اللہ نے منع فرما دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے خارج کرنے کے لیے ہوا ہے۔
ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مکہ کے قریش میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص نے کسی شریف عورت سے نکاح کیا موافقت نہ ہوئی تو اسے طلاق دے دی لیکن یہ شرط کر لیتا تھا کہ بغیر اس کی اجازت کے یہ دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی اس بات پر گواہ مقرر ہو جاتے اور اقرار نامہ لکھ لیا جاتا اب اگر کہیں سے پیغام آئے اور وہ عورت راضی ہو تو یہ کہتا مجھے اتنی رقم دے تو میں تجھے نکاح کی اجازت دوں گا اگر وہ ادا کر دیتی تو خیر ورنہ یوں نہ اسے قید رکھتا اور دوسرا نکاح نہ کرنے دیتا اس کی ممانعت اس آیت میں نازل ہوئی، بقول مجاہد رحمہ اللہ یہ حکم اور سورۃ البقرہ کی آیت کا حکم دونوں ایک ہی ہیں۔ پھر فرمایا عورتوں کے ساتھ خوش سلوکی کا رویہ رکھو، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ برتو، نرم بات کہو نیک سلوک کرو اپنی حالت بھی اپنی طاقت کے مطابق اچھی رکھو، جیسے تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے لیے بنی سنوری ہوئی اچھی حالت میں رہے تم خود اپنی حالت بھی اچھی رکھو جیسے اور جگہ فرمایا آیت «وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ» ۱؎ [2-البقرة:228] یعنی جیسے تمہارے حقوق ان پر ہیں ان کے حقوق بھی تم پر ہیں۔
بہترین زوج محترم ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرنے والا ہو میں اپنی بیویوں سے بہت اچھا رویہ رکھتا ہوں، ۱؎ [سنن ترمذي:3895،قال الشيخ الألباني:صحیح]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، انہیں خوش رکھتے تھے ان سے ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے تھے کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے جن سے وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ نے دوڑ لگائی اس دوڑ میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پیچھے رہ گئیں تو آپ نے فرمایا ”معاملہ برابر ہو گیا“، ۱؎ [سنن ابوداود:2578،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس سے بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خوش رہیں ان کا دل بہلے جس بیوی صاحبہ کے ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپ کی کل بیویاں جمع ہو جاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے، انہیں خوش رکھتے تھے ان سے ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل اپنی مٹھی میں رکھتے تھے، انہیں اچھی طرح کھانے پینے کو دیتے تھے کشادہ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرتے تھے ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے جن سے وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ نے دوڑ لگائی اس دوڑ میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پیچھے رہ گئیں تو آپ نے فرمایا ”معاملہ برابر ہو گیا“، ۱؎ [سنن ابوداود:2578،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس سے بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خوش رہیں ان کا دل بہلے جس بیوی صاحبہ کے ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں آپ کی کل بیویاں جمع ہو جاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی۔
کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان سب کے ساتھ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کا کھانا تناول فرماتے پھر سب اپنے اپنے گھر چلی جاتیں اور آپ وہیں آرام فرماتے جس کی باری ہوتی، اپنی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایک ہی چادر میں سوتے، کرتا نکال ڈالتے صرف تہبند بندھا ہوا ہوتا عشاء کی نماز کے بعد گھر جا کر دو گھڑی ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرتے جس سے گھر والیوں کا جی خوش ہوتا الغرض نہایت ہی محبت پیار کے ساتھ اپنی بیویوں کو آپ رکھتے تھے۔
پس مسلمانوں کو بھی چاہیئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی، محبت پیار سے رہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے۔
اس کے تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں والحمدللہ پھر فرماتا ہے کہ باوجود جی نہ چاہنے کے بھی عورتوں سے اچھی بود و باش رکھنے میں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے نیک اولاد ہو جائے اور اس سے اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے اگر اس کی ایک آدھ بات سے ناراض ہو گا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہو گی۔۱؎ [صحیح مسلم:1467]
پس مسلمانوں کو بھی چاہیئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھی طرح راضی خوشی، محبت پیار سے رہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے۔
اس کے تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں والحمدللہ پھر فرماتا ہے کہ باوجود جی نہ چاہنے کے بھی عورتوں سے اچھی بود و باش رکھنے میں بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے نیک اولاد ہو جائے اور اس سے اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے اگر اس کی ایک آدھ بات سے ناراض ہو گا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہو گی۔۱؎ [صحیح مسلم:1467]
پھر فرماتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے اس کی جگہ دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے تو اسے دئے ہوئے مہر میں سے کچھ بھی واپس نہ لے چاہے خزانہ کا خزانہ دیا ہوا ہو۔
حق مہر کے مسائل ٭٭
سورۃ آل عمران کی تفسیر میں «قنطار» کا پورا بیان گزر چکا ہے اس لیے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہر میں بہت سارا مال دینا بھی جائز ہے۔
امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پہلے بہت لمبے چوڑے مہر سے منع فرما دیا تھا پھر اپنے قول سے رجوع کیا، جیسے کہ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا: عورتوں کے مہر باندھنے میں زیادتی نہ کرو اگر یہ دنیوی طور پر کوئی بھی چیز ہوتی یا اللہ کے نزدیک یہ تقویٰ کی چیز ہوتی تو تم سب سے پہلے اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا (تقریباً سوا سو روپیہ) انسان زیادہ مہر باندھ کر پھر مصیبت میں پڑ جاتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی بیوی اسے بوجھ معلوم ہونے لگتی ہے، اور اس کے دل میں اس کی دشمنی بیٹھ جاتی ہے اور کہنے لگتا ہے کہ تو نے تو میرے کندھے پر مشک لٹکا دی، یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔
امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پہلے بہت لمبے چوڑے مہر سے منع فرما دیا تھا پھر اپنے قول سے رجوع کیا، جیسے کہ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا: عورتوں کے مہر باندھنے میں زیادتی نہ کرو اگر یہ دنیوی طور پر کوئی بھی چیز ہوتی یا اللہ کے نزدیک یہ تقویٰ کی چیز ہوتی تو تم سب سے پہلے اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عمل کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں کیا (تقریباً سوا سو روپیہ) انسان زیادہ مہر باندھ کر پھر مصیبت میں پڑ جاتا ہے یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی بیوی اسے بوجھ معلوم ہونے لگتی ہے، اور اس کے دل میں اس کی دشمنی بیٹھ جاتی ہے اور کہنے لگتا ہے کہ تو نے تو میرے کندھے پر مشک لٹکا دی، یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔
ایک میں ہے کہ آپ نے منبرنبوی پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”لوگو! تم نے کیوں لمبے چوڑے مہر باندھنے شروع کر دئیے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے زمانہ کے آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے تو چار سو درہم [تقریباً سو روپیہ] مہر باندھا ہے اگر یہ تقویٰ اور کرامت کے زاد ہونے کا سبب ہوتا تو تم زیادہ حق مہر ادا کرنے میں بھی ان پر سبقت نہیں لے سکتے تھے۔ خبردار! آج سے میں نہ سنوں کہ کسی نے چار سو درہم سے زیادہ کا مہر مقرر کیا یہ فرما کر آپ نیچے اتر آئے تو ایک قریشی خاتون سامنے آئیں اور کہنے لگیں امیر المؤمنین کیا آپ نے چار سو درہم سے زیادہ کے حق مہر سے لوگوں کو منع فرما دیا ہے؟ آپ نے فرمایا:ہاں کہا کیا آپ نے اللہ کا کلام جو اس نے نازل فرمایا ہے نہیں سنا؟ کہا وہ کیا؟ کہا سنئیے اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے «وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» ۱؎ [4-النساء:20] الخ یعنی تم نے انہیں خزانہ دیا ہو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ مجھے معاف فرما! عمر سے تو ہر شخص زیادہ سمجھدار ہے“، پھر واپس اسی وقت منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا: لوگو! میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ کے مہر سے روک دیا تھا لیکن اب کہتا ہوں جو شخص اپنے مال میں سے مہر میں جتنا چاہے دے اپنی خوشی سے جتنا مہر مقرر کرنا چاہے کرے میں نہیں روکتا۔ ۱؎ [ضعیف: اس کی سند میں مجالد بن سعید راوی ضعیف ہے] اور ایک روایت میں اس عورت کا آیت کو اس طرح پڑھنا مروی ہے «وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا مِن ذھب» سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں بھی اسی طرح ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا بھی مروی ہے کہ ایک عورت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر غالب آ گئی۔ ۱؎ [عبدالرزاق:10420:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا گو «ذی القصہ» یعنی یزیدین حصین حارثی کی بیٹی ہو پھر بھی مہر اس کا زیادہ مقرر نہ کرو اور اگر تم نے ایسا کیا تو وہ زائد رقم میں بیت المال کے لیے لے لوں گا اس پر ایک دراز قد چوڑی ناک والی عورت نے کہا سیدنا آپ یہ حکم نہیں دے سکتے۔ ۱؎ (ضعیف: اس میں مصعب بن ثابت راوی ضعیف ہے)۔
پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم اپنی بیوی کو دیا ہوا حق مہر واپس کیسے لے سکتے ہو؟ جبکہ تم نے اس سے فائدہ اٹھایا یا ضرورت پوری کی وہ تم سے اور تم اس سے مل گئی یعنی میاں بیوی کے تعلقات بھی قائم ہو گئے،
بخاری و مسلم کی اس حدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ بیوی نے بھی اپنے بےگناہ ہونے کی، شوہر نے اپنے سچا ہونے کی قسم کھائی پھر ان دونوں کا قسمیں کھانا اور اس کے بعد آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ تم دونوں میں سے کون جھوٹا ہے؟ کیا تم میں سے کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے؟ تین دفعہ فرمایا تو اس مرد نے کہا میں نے جو مال اس کے مہر میں دیا ہے اس کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اسی کے بدلے تو یہ تیرے لیے حلال ہوئی تھیں اب اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو پھر اور ناممکن بات ہو گی ۱؎ [صحیح بخاری:5311] اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا بصرہ بن اکثم رضی اللہ عنہ نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا جب اس سے ملے تو دیکھا کہ اسے زنا کا حمل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے اسے الگ کرا دیا اور مہر دلوا دیا اور عورت کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا جو بچہ ہو گا وہ تیرا غلام ہو گا اور مہر تو اس کی حلت کا سبب تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2131،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
بخاری و مسلم کی اس حدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ بیوی نے بھی اپنے بےگناہ ہونے کی، شوہر نے اپنے سچا ہونے کی قسم کھائی پھر ان دونوں کا قسمیں کھانا اور اس کے بعد آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ تم دونوں میں سے کون جھوٹا ہے؟ کیا تم میں سے کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے؟ تین دفعہ فرمایا تو اس مرد نے کہا میں نے جو مال اس کے مہر میں دیا ہے اس کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اسی کے بدلے تو یہ تیرے لیے حلال ہوئی تھیں اب اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو پھر اور ناممکن بات ہو گی ۱؎ [صحیح بخاری:5311] اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا بصرہ بن اکثم رضی اللہ عنہ نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا جب اس سے ملے تو دیکھا کہ اسے زنا کا حمل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے اسے الگ کرا دیا اور مہر دلوا دیا اور عورت کو کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا جو بچہ ہو گا وہ تیرا غلام ہو گا اور مہر تو اس کی حلت کا سبب تھا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2131،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
غرض آیت کا مطلب بھی یہی ہے کہ عورت اس کے بیٹے پر حرام ہو جاتی ہے اس پر اجماع ہے، سیدنا ابو قیس رضی اللہ عنہ جو بڑے بزرگ اور نیک انصاری صحابی تھے ان کے انتقال کے بعد ان کے لڑکے قیس نے ان کی بیوی سے نکاح کی خواہش کی جو ان کی سوتیلی ماں تھیں اس پر اس بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بیشک تو اپنی قوم میں نیک ہے لیکن میں تو تجھے اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں خیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتی ہوں جو وہ حکم فرمائیں وہ حاضر ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری کیفیت بیان کی آپ نے فرمایا اپنے گھر لوٹ جاؤ پھر یہ آیت اتری کہ ‘جس سے باپ نے نکاح کیا اس سے بیٹے کا نکاح حرام ہے،۱؎ [بیہقی:7/161:ضعیف] ایسے واقعات اور بھی اس وقت موجود تھے جنہیں اس ارادے سے باز رکھا گیا ایک تو یہی ابو قیس والا واقعہ ان بیوی صاحبہ کا نام سیدہ ام عبیداللہ ضمرہ رضی اللہ عنہا تھا۔
دوسرا واقعہ خلف کا تھا ان کے گھر میں ابوطلحہ کی صاحبزادی تھیں اس کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے صفوان نے اسے اپنے نکاح میں لانا چاہا تھا سہیلی میں لکھا ہے جاہلیت میں اس نکاح کا معمول تھا جسے باقاعدہ نکاح سمجھا جاتا تھا اور بالکل حلال گنا جاتا تھا اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ جو پہلے گزر چکا سو گزر چکا، جیسے دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت کو بیان فرما کر بھی یہی کیا گیا کنانہ بن خزیمہ نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تھا نضر اسی کے بطن سے پیدا ہوا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میری اوپر کی نسل بھی باقاعدہ نکاح سے ہی ہے نہ کہ زنا سے تو معلوم ہوا کہ یہ رسم ان میں برابر جاری تھی اور جائز تھی اور اسے نکاح شمار کرتے تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جاہلیت والے بھی جن جن رشتوں کو اللہ نے حرام کیا ہے، سوتیلی ماں اور دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کے سوا سب کو حرام ہی جانتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ان دونوں رشتوں کو بھی حرام ٹھہرایا عطاء اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔
یاد رہے کہ سہیلی نے کنانہ کا جو واقعہ نقل کیا ہے وہ غور طلب ہے بالکل صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ بہر صورت یہ رشتہ امت مسلمہ پر حرام ہے اور نہایت قبیح امر ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا یہ نہایت فحش برا کام بغض کا ہے۔
یاد رہے کہ سہیلی نے کنانہ کا جو واقعہ نقل کیا ہے وہ غور طلب ہے بالکل صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ بہر صورت یہ رشتہ امت مسلمہ پر حرام ہے اور نہایت قبیح امر ہے۔ یہاں تک کہ فرمایا یہ نہایت فحش برا کام بغض کا ہے۔
پھر فرمایا کہ عقد نکاح جو مضبوط عہد و پیمان ہے اس میں تم جکڑے جا چکے ہو، اللہ کا یہ فرمان تم سن چکے ہو کہ بساؤ تو اچھی طرح اور الگ کرو تو عمدہ طریقہ سے چنانچہ حدیث میں بھی ہے کہ تم ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیتے ہو اور ان کو اپنے لیے اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھ کر یعنی نکاح کے خطبہ تشہد سے حلال کرتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج والی رات جب بہترین انعامات عطا ہوئے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ سے فرمایا گیا تیری امت کا کوئی خطبہ جائز نہیں جب تک وہ اس امر کی گواہی نہ دیں کہ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے [ابن ابی حاتم]
نکاح کے احکامات ٭٭
صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجتہ الوداع کے خطبہ میں فرمایا تم نے عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پہ لیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے کلمہ سے اپنے لیے حلال کیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سوتیلی ماؤں کی حرمت بیان فرماتا ہے اور ان کی تعظیم اور توقیر ظاہر کرتا ہے یہاں تک کہ باپ نے کسی عورت سے صرف نکاح کیا ابھی وہ رخصت ہو کر بھی نہیں آئی مگر طلاق ہو گئی یا باپ مر گیا وغیرہ تو بھی وہ سبب اور برا راستہ ہے۔
اور جگہ فرمایا ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» ۱؎ [6-الأنعام:151] یعنی ’ کسی برائی بےحیائی اور فحش کام کے قریب بھی نہ جاؤ یا وہ بالکل ظاہر ہو خواہ پوشیدہ ہو ‘۔
اور فرمان ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَآءَ سَبِيلاً» ۱؎ [17-الإسراء:32] یعنی ’ زنا کے قریب نہ جاؤ یقیناً وہ فحش کام اور بری راہ ہے ‘۔
یہاں مزید فرمایا کہ یہ کام بڑے بغض کا بھی ہے یعنی فی نفسہ بھی بڑا برا امر ہے اس سے باپ بیٹے میں عداوت پڑ جاتی ہے اور دشمنی قائم ہو جاتی ہے، یہی مشاہدہ میں آیا ہے اور عموماً یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے دوسرا نکاح کرتا ہے وہ اس کے پہلے خاوند سے بغض ہی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن قرار دے گئیں اور امت پر مثل ماں کے حرام کی گئیں کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور آپ مثل باپ کے ہیں، بلکہ اجماعاً ثابت ہے کہ آپ کے حق باپ دادا کے حقوق سے بھی بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں بلکہ آپ کی محبت خود اپنی جانوں کی محبت پر بھی مقدم ہے صلوات اللہ وسلامہ علیہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کام اللہ کے بغض کا موجب ہے اور برا راستہ ہے اب جو ایسا کام کرے وہ دین سے مرتد ہے اسے قتل کر دیا جائے اور اس کا مال بیت المال میں بطور فئی کے داخل کر لیا جائے، سنن اور مسند احمد میں مروی ہے کہ ایک صحابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے باپ کے بعد نکاح کیا تھا کہ اسے قتل کر ڈالو اور اس کے مال پر قبضہ کر لو۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1362،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور جگہ فرمایا ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ» ۱؎ [6-الأنعام:151] یعنی ’ کسی برائی بےحیائی اور فحش کام کے قریب بھی نہ جاؤ یا وہ بالکل ظاہر ہو خواہ پوشیدہ ہو ‘۔
اور فرمان ہے «وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَآءَ سَبِيلاً» ۱؎ [17-الإسراء:32] یعنی ’ زنا کے قریب نہ جاؤ یقیناً وہ فحش کام اور بری راہ ہے ‘۔
یہاں مزید فرمایا کہ یہ کام بڑے بغض کا بھی ہے یعنی فی نفسہ بھی بڑا برا امر ہے اس سے باپ بیٹے میں عداوت پڑ جاتی ہے اور دشمنی قائم ہو جاتی ہے، یہی مشاہدہ میں آیا ہے اور عموماً یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جو شخص کسی عورت سے دوسرا نکاح کرتا ہے وہ اس کے پہلے خاوند سے بغض ہی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن قرار دے گئیں اور امت پر مثل ماں کے حرام کی گئیں کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور آپ مثل باپ کے ہیں، بلکہ اجماعاً ثابت ہے کہ آپ کے حق باپ دادا کے حقوق سے بھی بہت زیادہ اور بہت بڑے ہیں بلکہ آپ کی محبت خود اپنی جانوں کی محبت پر بھی مقدم ہے صلوات اللہ وسلامہ علیہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کام اللہ کے بغض کا موجب ہے اور برا راستہ ہے اب جو ایسا کام کرے وہ دین سے مرتد ہے اسے قتل کر دیا جائے اور اس کا مال بیت المال میں بطور فئی کے داخل کر لیا جائے، سنن اور مسند احمد میں مروی ہے کہ ایک صحابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے باپ کے بعد نکاح کیا تھا کہ اسے قتل کر ڈالو اور اس کے مال پر قبضہ کر لو۔ ۱؎ [سنن ترمذي:1362،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے چچا سیدنا حارث بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا جھنڈا لے کر میرے پاس سے گزرے میں نے پوچھا کہ چچا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کہاں بھیجا ہے؟ فرمایا:اس شخص کی طرف جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے مجھے حکم ہے کہ میں اس کی گردن ماروں۔ ۱؎ [مسند احمد:4/292]
سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے ٭٭
اس پر تو علماء کا اجماع ہے کہ جس عورت سے باپ نے مباشرت کر لی خواہ نکاح کر کے، خواہ ملکیت میں لا کر، خواہ شبہ سے وہ عورت بیٹے پر حرام ہے، ہاں اگر جماع نہ ہوا ہو تو صرف مباشرت ہوئی ہو یا وہ اعضاء دیکھے ہوں جن کا دیکھنا اجنبی ہونے کی صورت میں حلال نہ تھا تو اس میں اختلاف ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ تو اس صورت میں بھی اس عورت کو لڑکے پر حرام بتاتے ہیں، حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ کے اس واقعہ سے بھی اس روایت کی تصدیق ہوتی ہے کہ خدیج حمصی رحمہ اللہ نے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے ایک لونڈی خریدی جو گورے رنگ کی اور خوبصورت تھی اسے برہنہ ان کے پاس بھیج دیا ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس سے اشارہ کر کے کہنے لگے اچھا نفع تھا اگر یہ ملبوس ہوتی پھر کہنے لگے اسے سیدنا یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ پھر کہا نہیں نہیں ٹھہرو ربیعہ بن عمرو جرشی رحمہ اللہ کو میرے پاس بلا لاؤ یہ بڑے فقیہ تھے جب آئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ میں نے اس عورت کے یہ اعضاء مخصوص دیکھے ہیں، یہ برہنہ تھی۔ اب میں اسے اپنے لڑکے یزید کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں تو کیا اس کے لیے یہ حلال ہے؟ ربیعہ نے فرمایا امیر المؤمنین ایسا نہ کیجئے یہ اس کے قابل نہیں رہی فرمایا تم ٹھیک کہتے ہو اچھا جاؤ سیدنا عبداللہ بن مسعدہ فزاری رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ وہ آئے وہ تو گندم گوں رنگ کے تھے اس سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس لونڈی کو میں تمہیں دیتا ہوں تاکہ تمہاری اولاد سفید رنگ پیدا ہو یہ سیدنا عبداللہ بن مسعدہ رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیا تھا آپ نے انہیں پالا پرورش کیا پھر اللہ تعالیٰ کے نام سے آزاد کر دیا پھر یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے آئے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:142/8]