ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 171

یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ ؕ اِنَّمَا الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ رَسُوۡلُ اللّٰہِ وَ کَلِمَتُہٗ ۚ اَلۡقٰہَاۤ اِلٰی مَرۡیَمَ وَ رُوۡحٌ مِّنۡہُ ۫ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ۚ۟ وَ لَا تَقُوۡلُوۡا ثَلٰثَۃٌ ؕ اِنۡتَہُوۡا خَیۡرًا لَّکُمۡ ؕ اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ؕ سُبۡحٰنَہٗۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗ وَلَدٌ ۘ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿۱۷۱﴾٪
اے اہل کتاب! اپنے دین میں حد سے نہ گزرو اور اللہ پر مت کہو مگر حق۔ نہیں ہے مسیح عیسیٰ ابن مریم مگر اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ، جو اس نے مریم کی طرف بھیجا اور اس کی طرف سے ایک روح ہے۔ پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو اور مت کہو کہ تین ہیں، باز آجائو، تمھارے لیے بہتر ہوگا۔ اللہ تو صرف ایک ہی معبود ہے، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بطور وکیل کافی ہے۔ En
اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور کا کلمہٴ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اوراس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے
En
اے اہل کتاب! اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جاؤ اور اللہ پر بجز حق کے اور کچھ نہ کہو، مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تو صرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شده) ہیں، جسے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈال دیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں اس لئے تم اللہ کو اور اس کے سب رسولوں کو مانو اور نہ کہو کہ اللہ تین ہیں، اس سے باز آجاؤ کہ تمہارے لئے بہتری ہے، اللہ عبادت کے ﻻئق تو صرف ایک ہی ہے اور وه اس سے پاک ہے کہ اس کی اوﻻد ہو، اسی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ کافی ہے کام بنانے واﻻ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 171) ➊ {يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ ……:} رازی لکھتے ہیں، یہود کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب اس آیت میں نصاریٰ کے شبہ کی تردید کی جا رہی ہے۔ (کذا فی فتح الرحمن) مگر بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ خطاب یہود و نصاریٰ دونوں سے ہے، اس لیے کہ غلو راہ اعتدال کے چھوڑ دینے کا نام ہے اور یہ افراط و تفریط (زیادتی اور کمی) دونوں صورتوں میں ہے۔ ایک طرف نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کے بارے میں افراط سے کام لے کر ان کو اﷲ کا بیٹا قرار دے رکھا تھا، تو دوسری طرف یہود نے مسیح علیہ السلام سے متعلق یہاں تک تفریط برتی کہ ان کی رسالت کا بھی انکار کر دیا، قرآن نے بتایا کہ یہ دونوں فریق غلو کر رہے ہیں۔ اعتدال کی راہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نہ تو اﷲ کے بیٹے ہیں کہ ان کو معبود بنا لیا جائے اور نہ جھوٹے نبی ہیں، بلکہ وہ اﷲ کے بندے اور رسول ہیں۔ (قرطبی) آج کل اسی قسم کا غلو مسلمانوں میں بھی آ گیا ہے اور ایسے لوگ موجود ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیائے امت کا درجہ اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ انھیں خدا کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہیں اور پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر سمجھنا انتہائی درجے کی گستاخی شمار کرتے ہیں، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلو سے سختی سے منع فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ تُطْرُوْنِيْ كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارٰي ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُوْلُهُ] [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اﷲ تعالٰی: «واذكر في الكتاب مريم ……» : ۳۴۴۵] مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھاؤ جس طرح نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑھایا۔ میں تو اس کا بندہ ہوں، لہٰذا تم مجھے صرف اﷲ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہا کرو۔
➋ {وَ كَلِمَتُهٗ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْيَمَ:} یعنی انھیں کلمۂ { كُنْ } سے بنایا اور اس طرح ان کی پیدائش بن باپ کے ہوئی، یہ معنی نہیں کہ وہ کلمہ ہی عیسیٰ علیہ السلام بن گیا، ورنہ آدم علیہ السلام تو ماں باپ دونوں کے بغیر کلمۂ { كُنْ } سے پیدا ہوئے تھے۔ پھر انھیں بھی رب ماننا پڑے گا، دیکھیے سورۂ آل عمران(۵۹)۔
➌ {وَ رُوْحٌ مِّنْهُ:} یعنی اس کی پیدا کردہ روح، اس اضافت سے عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت کا اظہار مقصود ہے، ورنہ تمام روحیں اﷲ تعالیٰ ہی کی پیدا کردہ ہیں، فرمایا: «‏‏‏‏{هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللّٰهِ ‏‏‏‏ [فاطر: ۳] کیا اﷲ کے سوا بھی کوئی پیدا کرنے والا ہے؟ جیسے فرمایا: { ھٰذِہٖ نَاقَةُ اللّٰهِ } یہ اﷲ کی اونٹنی ہے اور { طَھِّرْ بَيْتِيَ } میرے گھر کو پاک کر حالانکہ تمام اونٹنیوں اور تمام گھروں کا مالک اﷲ ہے۔ یہ { مِنْ } تبعیضیہ نہیں ہے بلکہ ابتدائے غایت کے لیے ہے۔ (ابن کثیر)
➍ {فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ:} یعنی عیسیٰ علیہ السلام بھی اﷲ کے رسول ہیں، پس تم دوسرے پیغمبروں کی طرح ان کو اﷲ کا رسول ہی مانو اور انھیں الوہیت (خدائی) کا مقام مت دو۔ (کبیر)
➎ {وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ: ثَلٰثَةٌ} مبتدا محذوف کی خبر ہے، یعنی { اٰلِهَتُنَا ثَلاَثَةٌ } یا {اَلْاَقَانِيْمُ ثَلاَثَةٌ } کہ ہمارے معبود تین ہیں، یا اقانیم تین ہیں۔ مبتدا اس لیے حذف کیا ہے کہ نصرانیوں کے اقوال بہت ہی مختلف ہیں، اگرچہ خلاصہ ان کا ایک ہے کہ خدا تین ہیں مگر وہ تین نہیں ایک ہیں۔ اب ایک ذات اور اس کی بے شمار صفات تو ہو سکتی ہیں، مگر اﷲ تعالیٰ، مریم اور عیسیٰ علیہما السلام یہ تو تین مستقل شخصیتیں اور ذاتیں ہیں، یہ ایک ذات کیسے ہو گئے! نصرانی بیک وقت خدا کو ایک بھی تسلیم کرتے ہیں اور پھر اقانیم ثلاثہ کے بھی قائل ہیں۔ یہ اقانیم ثلاثہ کا چکر بھی نہایت پر پیچ اور ناقابل فہم ہے۔ (کبیر) جس طرح بعض مسلمانوں میں [نُوْرٌ مِّنْ نُوْرِ اللّٰهِ] کا عقیدہ نہایت گمراہ کن ہے، جو واضح طور پر سورۂ اخلاص اور پورے قرآن کے خلاف ہے۔ نصرانی کبھی تو ان تین سے مراد وجود، علم اور حیات بتاتے ہیں اور کبھی انھیں باپ، بیٹا اور روح القدس سے تعبیر کر لیتے ہیں، حالانکہ وجود، علم اور حیات تو ایک ذات کی صفات ہوتی ہیں مگر باپ، بیٹا اور روح القدس تو تین شخصیتیں ہیں، یہ ایک کیسے بن گئے؟ پھر ان کی کور فہمی دیکھو کہ کبھی کہتے ہیں کہ باپ سے وجود، روح سے حیات اور بیٹے سے مراد مسیح علیہ السلام ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اقانیم ثلاثہ سے مراد اﷲ تعالیٰ، مریم اور عیسیٰ علیہما السلام ہیں۔ قرآن نے بھی اس آخری قول کا ذکر کیا ہے۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۷۳، ۷۵، ۷۶، ۱۱۶) الغرض نصرانیوں کے عقیدۂ تثلیث سے زیادہ بعید از عقل کوئی عقیدہ نہیں اور اس بارے میں ان میں اس قدر انتشار و افتراق ہے کہ دنیا کے کسی عقیدہ میں نہیں، اس لیے قرآن نے انھیں دعوت دی کہ تم تین خداؤں کے گورکھ دھندے کو چھوڑ کر خالص توحید کا عقیدہ اختیار کر لو۔
➏ {اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ:} یعنی نہ کوئی اس کا شریک ہے، نہ بیوی اور نہ کوئی رشتے دار، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا۔
➐ {لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ:} اور جسے تم نے اس کا شریک ٹھہرایا ہے وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح اس کا مملوک اور مخلوق ہے اور جو شخص مملوک یا مخلوق ہو وہ خالق یا مالک کا بیٹا یا شریک کیسے ہو سکتا ہے؟
➑ {وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا:} یعنی اس کو بیٹے کی کیا ضرورت ہے، وکیل یعنی سارے کام بنانے والا تو وہ خود ہی ہے۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

171۔ 2 غلو کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کی حد سے بڑھا دینا۔ جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کے بارے میں کیا کہ انہیں رسالت و بندگی کے مقام سے اٹھا کر الوہیت کے مقام پر فائز کردیا اور ان کی اللہ کی طرح عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکاروں کو بھی غلو کا مظاہرہ کرتے ہوئے معصوم بنا ڈالا اور ان کو حرام وحلال کے اختیار و سے نواز دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے " اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ " 9:31 (انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا) یہ رب بنانا حدیث کے مطابق ان کے حلال کیے کو حلال اور حرام کیے کو حرام سمجھنا تھا۔ درآنحالیکہ یہ اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے لیکن اہل کتاب نے یہ حق بھی اپنے علماء وغیرہ کو دے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اہل کتاب کو دین میں اسی غلو سے منع فرمایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عیسائیوں کے اس غلو کے پیش نظر اپنے بارے میں اپنی امت کو متنبہ فرمایا۔ (لاتطرونی کما اطرت النصاری عیسیٰ ابن مریم! فانما انا عبدہ، فقولوا: عبد اللہ و رسولہ " (صحیح بخاری۔ کتاب الانبیاء مسند احمد جلد 1 صفحہ 23 نیز دیکھئے مسند احمد جلد 1 صفحہ 153) تم مجھے اس طرح حد سے نہ بڑھانا جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم ؑ کو بڑھایا، میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، پس تم مجھے اس کا بندہ اور رسول ہی کہنا۔ لیکن افسوس امت محمدیہ اس کے باوجود بھی اس غلو سے محفوظ نہ رہ سکی جس میں عیسائی مبتلا ہوئے اور امت محمدیہ نے بھی اپنے پیغمبر کو بلکہ نیک بندوں تک کو خدائی صفات سے متصف ٹھرا دیا جو دراصل عیسائیوں کا وطیرہ تھا۔ اسی طرح علماء وفقہا کو بھی دین کا شارح اور مفسر ماننے کے بجائے ان کو شارع (شریعت سازی کا اختیار رکھنے والے) بنادیا ہے۔ سچ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " جس طرح ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح تم پچھلی امتوں کی پیروی کرو گے " یعنی ان کے قدم بہ قدم چلو گے۔ 171۔ 1 کلمۃ اللہ کا مطلب ہے کہ لفظ کن سے باپ کے بغیر ان کی تخلیق ہوئی اور یہ لفظ حضرت جبرائیل ؑ کے ذریعے سے حضرت مریم ؑ تک پہنچایا گیا۔ روح اللہ کا مطلب وہ (پھونک) ہے جو حضرت جبرائیل ؑ اللہ کے حکم سے حضرت مریم (علیہا السلام) کے گریبان میں پھونکا، جسے اللہ تعالیٰ نے باپ کے نطفہ کے قائم مقام کردیا۔ یوں عیسیٰ ؑ اللہ کا کلمہ بھی ہیں جو فرشتے نے حضرت مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈالا اور اس کی وہ روح ہیں جسے لے کر جبرائیل ؑ مریم (علیہا السلام) کی طرف بھیجے گئے۔ (تفسیر ابن کثیر) 171۔ 2 عیسائیوں کے کئی فرقے ہیں۔ بعض حضرت عیسیٰ کو اللہ اور بعض اللہ کا شریک اور بعض اللہ کا بیٹا مانتے ہیں۔ پھر جو اللہ مانتے ہیں وہ (تین خداؤں) کے اور حضرت عیسیٰ کے ثالث ثلاثہ (تین سے ایک) ہونے کے قائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تین خدا کہنے سے باز آجاؤ اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

171۔ اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو [1224] نہ کرو۔ اور اللہ کی نسبت وہی بات کہو جو حق ہو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم صرف اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ [225] تھے۔ جسے اللہ نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور وہ اس کی طرف سے ایک روح تھے، سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور یہ نہ کہو کہ (خدا) تین [226] ہیں۔ اس بات سے [227] باز آ جاؤ، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ صرف اللہ اکیلا ہی الٰہ ہے۔ وہ اس بات سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ [228] اور اللہ اکیلا ہی (کائنات کا) نظام چلانے کے لیے کافی ہے
[224] غلو کیا ہے:۔
غلو کا معنیٰ ایسا مبالغہ ہے جو غیر معقول ہو۔ خواہ یہ مبالغہ افراط کی جانب ہو یا تفریط کی جانب۔ جیسے عیسیٰ کے متعلق نصاریٰ کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ کے بیٹے تھے اور اس کے بالکل برعکس یہود کا یہ عقیدہ کہ وہ نبی نہ تھے بلکہ یہود (معاذ اللہ) انہیں ولد الحرام سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر انہوں نے آپ کو سولی پر چڑھانے میں اپنی کوششیں صرف کر دیں۔ گویا ایک ہی رسول کے بارے میں غلو کی بنا پر اہل کتاب کے دونوں بڑے فرقے گمراہ ہو گئے۔ امت محمدیہ میں غلو کی مثالوں کے لیے سورۃ فرقان کا حاشیہ نمبر 3 ملاحظہ کیجئے۔
[225] الوہیت مسیح کا عقیدہ:۔
یہ خطاب نصاریٰ کو ہے جنہوں نے سیدنا عیسیٰؑ کو کبھی خدا کا بیٹا قرار دیا اور کبھی تین خداؤں میں سے تیسرا خدا قرار دیا حالانکہ انجیل میں عیسیٰؑ کی معجزانہ پیدائش کے متعلق وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو قرآن میں استعمال ہوئے ہیں۔ یعنی عیسیٰ اللہ کا کلمہ تھے اور اس کی طرف سے روح تھے۔ پھر جب عیسائیت پر فلسفیانہ اور راہبانہ خیالات و نظریات غالب آنے لگے تو لفظ کلمہ کو جو فرمان الٰہی یا لفظ کن کا ہم معنی تھا، کلام کا ہم معنی قرار دے کر اسے اللہ تعالیٰ کی ازلی صفات میں سے سمجھا گیا۔ اور یہ سمجھا گیا کہ اللہ کی یہ ازلی صفت ہی سیدہ مریمؑ کے بطن میں متشکل ہو کر عیسیٰؑ کی صورت میں نمودار ہوئی۔ اور ”اس کی طرف سے روح“ کا معنی یہ سمجھا گیا کہ اللہ کی روح ہی عیسیٰ کے جسم میں حلول کر گئی تھی اس طرح عیسیٰ کو اللہ کا ہی مظہر قرار دے دیا گیا اور ان غلط عقائد کو پذیرائی اس لیے حاصل ہوئی کہ عیسیٰ کو جو جو معجزات دیئے گئے تھے ان سے ان کے عقائد کی تائید ہو جاتی تھی۔ حالانکہ بے شمار ایسی باتیں بھی موجود تھیں جن سے ان کے عقائد کی پر زور تردید ہوتی تھی۔ مثلاً انجیل میں صرف ایک اللہ کے الٰہ ہونے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ نیز سیدنا عیسیٰؑ اور ان کی والدہ دونوں مخلوق اور حادث تھے۔ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے اور انہیں وہ تمام بشری عوارضات لاحق ہوتے تھے جو سب انسانوں کو لاحق ہوتے ہیں۔ پھر عیسیٰؑ اپنی ذات کو سولی پر چڑھنے اور ایسی ذلت کی موت سے بچا نہ سکے تو وہ خدا کیسے ہو سکتے تھے۔ پھر سیدنا عیسیٰؑ اور ان کی والدہ دونوں خود بھی ایک اللہ کی عبادت کرتے رہے اور دوسروں کو بھی یہی تعلیم دیتے رہے یہ سب باتیں ان کی خدائی کی پر زور تردید کرتی ہیں۔
[226] عقیدہ تثلیث کی پیچیدگی:۔
عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث ایسا گورکھ دھندا ہے جس کو وہ خود بھی دوسرے کو سمجھا نہیں سکتے اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ خدا، عیسیٰ اور روح القدس تینوں خدا ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔ مثلاً وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ ایک پیسہ میں تین پائیاں ہوتی ہیں اور یہ تینوں مل کر ایک پیسہ بنتی ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ جب سیدہ مریمؑ اور عیسیٰؑ پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو کیا خدا نامکمل تھا اور اگر نامکمل تھا تو یہ کائنات وجود میں کیسے آگئی۔ اور اس پر فرماں روائی کس کی تھی؟ غرض اس عقیدہ کی اس قدر تاویلیں پیش کی گئیں جن کی بنا پر عیسائی بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی ان کا یہ عقیدہ «لا ينحل» ہی رہا اور «لا ينحل» ہی رہے گا۔
[227] صفات الٰہی میں موشگافیاں:۔
یعنی تین خدا کہنے سے باز آ جاؤ یا صفات الٰہی میں فلسفیانہ اور راہبانہ موشگافیاں کرنے سے باز آجاؤ کیونکہ جس نے بھی صفات الٰہی میں کرید شروع کی ہے وہ گمراہ ہی ہوا ہے۔ واضح رہے کہ صفات الٰہی سے متعلقہ آیات متشابہات سے تعلق رکھتی ہیں جن کے متعلق یہ حکم ہے کہ ان کے پیچھے نہ پڑنا چاہیے۔ کیونکہ ان پر نہ اوامر و نواہی کا دار و مدار ہوتا ہے اور نہ حلت و حرمت کا، نہ ہی انسانی ہدایت سے ان کا کچھ تعلق ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں جوں کا توں ہی تسلیم کر لینا چاہیے کہ یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ نیز ایسی آیات کے پیچھے وہی لوگ پڑتے ہیں جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے۔ لہٰذا اے گروہ نصاریٰ! تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ وحی الٰہی کو جوں کا توں مان لو اور ان کی موشگافیوں سے باز آجاؤ اور وحی الٰہی یہی ہے کہ صرف اللہ اکیلا ہی الٰہ ہے، اسے کسی بیٹی بیٹے کی کوئی ضرورت نہیں اور وہ ایسی باتوں سے پاک و صاف ہے۔
[228] یعنی اللہ ہر چیز کا مالک ہے اور ہر چیز اس کی مملوک ہے اور اولاد مملوک نہیں ہوتی بلکہ ہمسر ہوتی ہے۔ لہٰذا ان دونوں باتوں میں سے ایک ہی بات صحیح ہو سکتی ہے۔ اگر وہ مملوک ہے تو بیٹا نہیں اور اگر بیٹا ہے تو مملوک نہیں۔ علاوہ ازیں جب عیسیٰؑ کی پیدائش سے پہلے بھی اللہ اکیلا ہی کائنات کا پورا نظام چلا رہا تھا تو پھر اسے بیٹا بنانے کی ضرورت کیا پیش آئی، لہٰذا کچھ تو عقل سے کام لو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اپنی اوقات میں رہو حد سے تجاوز نہ کرو! ٭٭
اہل کتاب کو زیادتی سے اور حد سے آگے بڑھ جانے سے اللہ تعالیٰ روک رہا ہے۔ عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں حد سے نکل گئے تھے اور نبوت سے بڑھا کر الوہیت تک پہنچا رہے تھے۔ بجائے ان کی اطاعت کرنے کے عبادت کرنے لگے تھے، بلکہ اور بزرگان دین کی نسبت بھی ان کا عقیدہ خراب ہو چکا تھا، وہ انہیں بھی جو عیسائی دین کے عالم اور عامل تھے معصوم محض جاننے لگ گئے تھے۔
اور یہ خیال کر لیا تھا کہ جو کچھ یہ ائمہ دین کہہ دیں اس کا ماننا ہمارے لیے ضروری ہے، سچ و جھوٹ، حق و باطل، ہدایت و ضلالت کے پرکھنے کا کوئی حق ہمیں حاصل نہیں۔ جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے آیت «اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ» ۱؎ [9-التوبة:31]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تم ایسا نہ بڑھانا جیسا نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بڑھایا، میں تو صرف ایک بندہ ہوں پس تم مجھے عبداللہ اور رسول اللہ کہنا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3445]‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری وغیرہ میں بھی ہے
اسی کی سند ایک حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے آپ سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اے ہمارے سردار اور سردار کے لڑکے، اے ہم سب سے بہتر اور بہتر کے لڑکے! تو آپ نے فرمایا لوگو اپنی بات کا خود خیال کر لیا کرو تمہیں شیطان بہکا نہ دے، میں محمد بن عبداللہ ہوں، میں اللہ کا غلام اور اس کا رسول ہوں، قسم اللہ کی میں نہیں چاہتا کہ تم مجھے میرے مرتبے سے بڑھا دو۔‏‏‏‏ ۱؎ [سنن نسائی:10078،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے اللہ پر افتراء نہ باندھو، اس سے بیوی اور اولاد کو منسوب نہ کرو، اللہ اس سے پاک ہے، اس سے دور ہے، اس سے بلند و بالا ہے، اس کی بڑائی اور عزت میں کوئی اس کا شریک نہیں، اس کے سوا نہ تو کوئی معبود اور نہ رب ہے۔ مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام رسول اللہ ہیں، وہ اللہ کے غلاموں میں سے ایک غلام ہیں اور اس کی مخلوق ہیں، وہ صرف کلمہ کن کے کہنے سے پیدا ہوئے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:1123/4]‏‏‏‏
جس کلمہ کو لے کر جبرائیل علیہ السلام مریم صدیقہ علیہا السلام کے پاس گئے اور اللہ کی اجازت سے اسے ان میں پھونک دیا پس عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ چونکہ محض اسی کلمہ سے بغیر باپ کے آپ پیدا ہوئے، اس لیے خصوصیت سے کلمتہ اللہ کہا گیا۔
قرآن کی ایک اور آیت میں ہے آیت «مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ» [5-المائدة:75]‏‏‏‏ ’ یعنی مسیح بن مریم صرف رسول اللہ ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گذر چکے ہیں ‘ ان کی والدہ سچی ہیں، یہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔
اور آیت میں ہے «اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» ۱؎ [3-آل عمران:59]‏‏‏‏ ’ عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے جسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا پس وہ ہو گیا۔ ‘
قرآن کریم اور جگہ فرماتا ہے آیت «وَالَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَجَعَلْنٰهَا وَابْنَهَآ اٰيَةً لِّـلْعٰلَمِيْنَ» [21-الأنبياء:91]‏‏‏‏ ’ جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اور ہم نے اپنی روح پھونکی اور خود اسے اور اس کے بچے کو لوگوں کے لیے اپنی قدرت کی علامت بنایا۔ ‘
اور جگہ فرمایا آیت «وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ» [66-التحريم:12]‏‏‏‏
عیسیٰ کی بابت ایک اور آیت میں ہے آیت «اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ» [43-الزخرف:59]‏‏‏‏[43۔ الزخرف: 59]‏‏‏‏، ’ وہ ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا۔ ‘ پس یہ مطلب نہیں کہ خود کلمتہ الٰہی عیسیٰ علیہ السلام بن گیا بلکہ کلمہ الٰہی سے عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے آیت «اذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ» [3-آل عمران:45]‏‏‏‏ کی تفسیر میں جو کچھ کہا ہے اس سے یہ مراد ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ جو جبرائیل علیہ السلام کی معرفت پھونکا گیا، اس سے عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔
صحیح بخاری میں ہے { جس نے بھی اللہ کے ایک اور لا شریک ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عبد و رسول ہونے کی عیسیٰ علیہ السلام کے عبد و رسول ہونے اور یہ کہ آپ اللہ کے کلمہ سے تھے جو مریم رضی اللہ عنہا کی طرف پھونکا گیا تھا اور اللہ کی پھونکی ہوئی روح تھے اور جس نے جنت دوزخ کو برحق مانا وہ خواہ کیسے ہی اعمال پر ہو، اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں لے جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3435]‏‏‏‏
ایک روایت میں اتنی زیادہ بھی ہے کہ { جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہو جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3435]‏‏‏‏ جیسے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کو آیت و حدیث میں «روح منہ» کہا ہے ایسے ہی قرآن کی ایک آیت میں ہے آیت «وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ» [45-الجاثية:13]‏‏‏‏ ’ اس نے مسخر کیا تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، تمام کا تمام اپنی طرف سے۔ ‘ یعنی اپنی مخلوق اور اپنے پاس سے یہ مطلب «روح منہ» کا ہے۔
پس لفظ «من تبعیض» (‏‏‏‏اس کا حصہ) کے لیے نہیں جیسے ملعون نصرانیوں کا خیال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا ایک جزو تھے بلکہ «من» ابتداء کے لیے ہے۔
جیسے کہ دوسری آیت میں ہے «مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ» [5-المائدة:75]‏‏‏‏، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «روح منہ» سے مراد «رسول منہ» ہے۔
اور لوگ کہتے ہیں آیت «محبتہ منہ» لیکن زیادہ قوی پہلا قول ہے یعنی آپ پیدا کئے گئے ہیں، روح سے جو خود اللہ کی مخلوق ہے۔ پس آپ کو روح اللہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے «ناقتہ اللہ» اور «بت اللہ» کہا گیا ہے یعنی صرف اس کی عظمت کے اظہار کے لیے اپنی طرف نسبت کی اور حدیث میں بھی ہے کہ میں اپنے رب کے پاس اس کے گھر میں جاؤں گا۔
پھر فرماتا ہے تم اس کا یقین کر لو کہ اللہ واحد ہے بیوی بچوں سے پاک ہے اور یقین مان لو کہ جناب عیسیٰ اللہ کا کلام اللہ کی مخلوق اور اس کے برگزیدہ رسول ہیں۔ تم تین نہ کہو یعنی عیسیٰ علیہ السلام اور مریم رضی اللہ عنہا کو اللہ کا شریک نہ بناؤ اللہ کی الوہیت شرکت سے مبرا ہے۔ سورۃ المائدہ میں فرمایا آیت «لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ وَمَا مِنْ إِلَـٰهٍ إِلَّا إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ» ۱؎ [5-المائدة:73]‏‏‏‏ ’ یعنی جو کہتے ہیں کہتے ہیں کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے وہ کافر ہو گئے، اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے، اس کے سوا کوئی اور لائق عبادت نہیں۔ ‘
سورۃ المائدہ کے آخر میں ہے کہ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہو گا کہ «‏‏‏‏وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّـهِ» ۱؎ [5-المائدة:116]‏‏‏‏ ’ اپنی اور اپنی والدہ کی عبادت کا حکم لوگوں کو تم نے دیا تھا، آپ صاف طور پر انکار کر دیں گے۔ ‘
نصرانیوں کا اس بارے میں کوئی اصول ہی نہیں ہے، وہ بری طرح بھٹک رہے ہیں اور اپنے آپ کو برباد کر رہے ہیں۔ ان میں سے بعض تو عیسیٰ کو خود اللہ مانتے ہیں، بعض شریک الہیہ مانتے اور بعض اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر دس نصرانی جمع ہوں تو ان کے خیالات گیارہ ہوں گے۔
سعید بن بطریق اسکندری جو سن 400 ھ کے قریب گذرا ہے اس نے اور بعض ان کے اور بڑے علماء نے ذکر کیا ہے کہ قسطنطین بانی قسطنطنیہ کے زمانے میں اس وقت کے نصرانیوں کا اس بادشاہ کے حکم سے اجتماع ہوا، جس میں دو ہزار سے زیادہ ان کے مذہبی پیشوا شامل ہوتے تھے، باہم ان کے اختلاف کا یہ حال تھا کہ کسی بات پر ستر اسی آدمیوں کا اتفاق مفقود تھا، دس کا عقیدہ ایک ہے، بیس کا ایک خیال ہے، چالیس اور ہی کچھ کہتے ہیں، ساٹھ اور طرف جا رہے ہیں، غرض ہزار ہا کی تعداد میں سے بہ مشکل تمام تین سو اٹھارہ آدمی ایک قول پر جمع ہوئے۔
بادشاہ نے اسی عقیدہ کو لے لیا، باقی کو چھوڑ دیا اور اسی کی تائید و نصرت کی اور ان کے لیے کلیساء اور گرجے بنا دئے اور کتابیں لکھوا دیں، قوانین ضبط کر دئے، یہیں انہوں نے امانت کبریٰ کا مسئلہ گھڑا، جو دراصل بدترین خیانت ہے، ان لوگوں کو ملکانیہ کہتے ہیں۔
پھر دوبارہ ان کا اجتماع ہوا، اس وقت جو فرقہ بنا اس کا نام یعقوبیہ ہے۔ پھر تیسری مرتبہ کے اجتماع میں جو فرقہ بنا اس کا نام نسطوریہ ہے، یہ تینوں فرقے اقالیم ثلثہ کو عیسیٰ علیہ السلام کے لیے ثابت کرتے ہیں، ان میں بھی باہم دیگر اختلاف ہے اور ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں اور ہمارے نزدیک تو تینوں کافر ہیں۔
اللہ فرماتا ہے اس شرک سے باز آؤ، باز رہنا ہی تمہارے لیے اچھا ہے، اللہ تو ایک ہی ہے، وہ توحید والا ہے، اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ تمام چیزیں اس کی مخلوق ہیں اور اس کی ملکیت میں ہیں، سب اس کی غلامی میں ہیں اور سب اس کے قبضے میں ہیں، وہ ہرچیز پر وکیل ہے، پھر مخلوق میں سے کوئی اس کی بیوی اور کوئی اس کا بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟
دوسری آیت میں ہے آیت «بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ» ۱؎ [6-الأنعام:101]‏‏‏‏ ’ یعنی وہ تو آسمان و زمین کی ابتدائی آفرنیش کرنے والا ہے، اس کا لڑکا کیسے ہو سکتا ہے؟‘ ‘
سورۃ مریم میں آیت «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا» ‏‏‏‏ (‏‏‏‏٨٨)‏‏‏‏‏‏‏‏ «لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا» (‏‏‏‏٨٩) «تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا» (‏‏‏‏٩٠) «أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا» ‏‏‏‏ (‏‏‏‏٩١) «‏‏‏‏وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا» ‏‏‏‏ (‏‏‏‏٩٢) «‏‏‏‏إِن كُلُّ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَـٰنِ عَبْدًا» ‏‏‏‏ (‏‏‏‏٩٣) «‏‏‏‏لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا» ‏‏‏‏ (‏‏‏‏٩٤) «‏‏‏‏وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [19-مريم:88-95]‏‏‏‏ تک بھی اس کا مفصلاً انکار فرمایا ہے۔