تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[221] فرشتوں کی گواہی اس لحاظ سے قابل اعتبار ہے کہ وہ مدبرات امر ہیں اور کائنات کے جملہ امور اللہ کے اذن سے انہی کے ہاتھوں سر انجام پا رہے ہیں اور اللہ کا کلام بھی انہی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے۔ اگرچہ فرشتوں کی گواہی کی بھی ضرورت نہیں بلکہ اللہ کی گواہی ہر لحاظ سے کافی ہے کیونکہ وہ ہر چیز کا خالق اور اس کا منتظم ہے اور فرشتے تو اسی کے حکم کے پابند ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کؤی نبی مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، بجز اس کے کہ وہ خود معلوم کرائے۔ جیسے ارشاد ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ» ۱؎ [2-البقرة:255][2۔ البقرہ: 255] اور فرماتا ہے آیت «وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا» [20-طه:110]
عطاء بن سائب رحمہ اللہ جب ابوعبدالرحمٰن سلمی سے قرآن شریف پڑھ چکتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں تو نے اللہ کا علم حاصل کیا ہے پس آج تجھ سے افضل کوئی نہیں، بجز اس کے جو عمل میں تجھ سے بڑھ جائے، پھر آپ نے آیت «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا» ۱؎ [4-النساء:166] پڑھی۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی شہادت کے ساتھ ہی ساتھ فرشتوں کی شہادت بھی ہے کہ تیرے پاس جو علم آیا ہے، جو وحی تجھ پر اتری ہے وہ بالکل سچ اور سراسر حق ہے۔
پھر فرماتا ہے جن لوگوں نے کفر کیا، حق کی اتباع نہ کی، بلکہ اور لوگوں کو بھی راہ حق سے روکتے رہے، یہ صحیح راہ سے ہٹ گئے ہیں اور حقیقت سے الگ ہو گئے اور ہدایت سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ لوگ جو ہماری آیتوں کے منکر ہیں، ہماری کتاب کو نہیں مانتے، اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں ہماری راہ سے روکتے اور رکتے ہیں، ہمارے منع کردہ کام کو کر رہے ہیں، ہمارے احکام سے منہ پھیرتے ہیں، انہیں ہم بخشیں گے نہ خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہبری کریں گے۔ ہاں انہیں جہنم کا راستہ دکھا دیں گے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔
لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر اللہ کے رسول آ گئے، تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے اور اگر تم کفر کرو گے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، تمہارا ایمان نہ اسے نفع پہنچائے، نہ تمہارا کفر اسے ضرر پہنچائے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں۔
یہی قول موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے تھا کہ تم اور روئے زمین کے تمام لوگ بھی اگر کفر پر اجماع کر لیں تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وہ تمام جہان سے بےپرواہ ہے، وہ علیم ہے، جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ حکیم ہے اس کے اقوال، اس کے افعال، اس کی شرع اس کی تقدیر سب حکمت سے پر ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذُكِر أن الله أوحى إلى رسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - كما أوحى إلى إخوانِهِ من المرسَلين؛ أخبر هنا بشهادتِهِ تعالى على رسالته وصحَّة ما جاء به. وأنه {أنزله بعلمه}: يُحتمل أن يكون المرادُ: أنْزَلَهُ مشتملاً على علمه؛ أي: فيه من العلوم الإلهية والأحكام الشرعيَّة والأخبار الغيبيَّة ما هو من علم الله تعالى الذي علَّم به عباده، ويُحتمل أن يكون المرادُ: أنْزَلَهُ صادراً عن علمه، ويكون في ذلك إشارةٌ وتنبيهٌ على وجه شهادتِهِ، وأنَّ المعنى إذا كان تعالى أنزل هذا القرآن المشتمل على الأوامر والنواهي، وهو يعلم ذلك، ويعلم حالة الذي أنزله عليه، وأنه دعا الناس إليه؛ فمن أجابه وصدَّقه؛ كان وليه، ومن كذَّبه وعاداه؛ كان عدوه، واستباح ماله ودمه، والله تعالى يمكِّنه ويوالي نصره ويجيب دعواته ويخذُل أعداءه وينصر أولياءه؛ فهل توجد شهادةٌ أعظم من هذه الشهادة وأكبر؟! ولا يمكن القدح في هذه الشهادة إلاَّ بعد القدح بعلم الله وقدرتِهِ وحكمتِهِ. وإخباره تعالى بشهادة الملائكة على ما أنزل على رسوله؛ لكمال إيمانهم ولجلالة هذا المشهود عليه؛ فإن الأمور العظيمة لا يستشهد عليها إلاَّ الخواصُّ؛ كما قال تعالى في الشهادة على التوحيد: {شَهِدَ الله أنَّه لا إله إلاَّ هو والملائكةُ وأولو العلم قائماً بالقِسْطِ لا إله إلاَّ هو العزيزُ الحكيم}، {وكفى بالله شهيداً}.