ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۶۵﴾
ایسے رسول جو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے، تاکہ لوگوں کے پاس رسولوں کے بعد اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہ جائے اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور خدا غالب حکمت والا ہے
En
ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے۔ اللہ تعالی بڑا غالب اور بڑا باحکمت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 165) {رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ ……:} یعنی انبیاء کی بعثت کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لے آئیں اور اپنی اصلاح کر لیں انھیں جنت کی خوش خبری دیں اور جو کفر اور نادانی پرجمے رہیں انھیں ان کے غلط رویے کے انجامِ بد سے ڈرائیں، تاکہ اس طرح ان پر اتمامِ حجت ہو جائے اور وہ اﷲ کے ہاں کوئی عذر پیش نہ کر سکیں کہ ہمارے پاس تو تیری طرف سے کوئی خوش خبری دینے والا یا ڈرانے والا آیا ہی نہیں اور یہ مقصد کتاب وشریعت کے نازل کرنے سے حاصل ہو جاتا ہے (اﷲ تعالیٰ کی طرف سے حجت بس یہ دونوں چیزیں ہیں، اﷲ تعالیٰ نے کسی امام یا مجتہد کو دین میں حجت نہیں بنایا) عام اس سے کہ وہ کتاب یک بارگی دے دی جائے یا تدریجاً نازل ہو۔ بعثت کے اس اصلی مقصد پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ کتاب کے حسب ضرورت تدریجاً نازل کرنے سے تو یہ مقصد زیادہ کامل طریقے سے پورا ہوتا ہے، پھر ان کا یہ کہنا کہ موسیٰ علیہ السلام کی طرح یک بارگی کتاب لائیں گے تو مانیں گے ورنہ نہیں، یہ محض ضد اور عناد ہے۔ (کبیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

165۔ 1 ایمان والوں کو جنت اور اس کی نعمتوں کی خوشخبری دینا اور کافروں کو اللہ کے عذاب اور بھڑکتی ہوئی جہنم سے ڈرانا۔ 165۔ 2 یعنی نبوت کا یہ سلسلہ ہم نے اس لئے قائم فرمایا کہ کسی کے پاس یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمیں تو تیرا پیغام پہنچا ہی نہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ اگر ہم ان کو پیغمبر (کے بھیجنے سے) پہلے ہی ہلاک کردیتے تو وہ کہتے اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پیشتر تیری آیات کی پیروی کرلیتے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

165۔ یہ سب رسول (لوگوں کو) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے تھے تاکہ ان رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی حجت [219] باقی نہ رہے۔ اور اللہ بڑا زبردست اور حکمت والا ہے
[219] کائنات میں انسان کی حیثیت اور اللہ کی طرف سے اتمام حجت:۔
اللہ تعالیٰ نے فطرتاً انسان کو اتنی عقل عطا کی ہے کہ وہ اللہ اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کر سکے انسان اتنا تو جانتا ہی ہے کہ کوئی چیز اس کے خالق کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر کوئی چیز مدتہائے دراز سے ایک مربوط نظام کے تحت حرکت کر رہی ہے تو لازماً وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ اس چیز کی نگہداشت کرنے والی بھی کوئی ہستی ضروری موجود ہے کیونکہ کوئی چیز خواہ کتنی ہی مضبوط ہو، کچھ مدت کے بعد بگڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور اگر اس بگاڑ کو بر وقت درست نہ کر دیا جائے تو بالآخر تباہ ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اگر یہ کائنات محض اتفاقات کا نتیجہ ہوتی تو کب کی فنا ہو چکی ہوتی لیکن چونکہ سب انسان ایک جیسی عقل کے مالک نہیں ہوتے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے رسول بھیج کر انسان کو تمام حقائق سے مطلع فرما دیا کہ انسان کی اس پوری کائنات میں حیثیت کیا ہے؟ اسے یہاں رہ کر کیا کردار ادا کرنا ہے اور اگر وہ اس کردار کو ادا کرنے میں کامیاب رہا تو اس کی اخروی زندگی میں اسے اس کا کیا کچھ اجر ملے گا اور اگر ناکام رہا تو اسے اخروی زندگی میں کیا کچھ دکھ اور مصائب برداشت کرنا ہوں گے اور رسول بھیجنے کا یہ طریقہ اس لیے جاری کیا کہ قیامت کے دن کوئی شخص اللہ کے حضور یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے تو ان حقائق کا علم ہی نہ تھا لہٰذا میں معذور ہوں۔ اور یہ انبیاء اور رسل دنیا میں اس کثرت سے آئے اور اپنے بعد نازل شدہ کتابیں چھوڑ گئے کہ عالم انسانی پر کوئی ایسا دور نہیں آیا جبکہ کوئی نبی یا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کوئی کتاب دنیا میں موجود نہ ہو، جو انسان کی ان حقائق تک رہنمائی نہ کرتی ہو۔ پھر بھی اگر انسان اس کی طرف توجہ ہی نہ کرے یا اللہ کی تعلیمات کا انکار کر دے تو اس کا وبال اس کی اپنی گردن پر ہو گا۔ اس آیت سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچ چکا ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پیغام کو ان لوگوں تک بھی پہنچا دیں، جن تک یہ پیغام ابھی تک نہ پہنچا ہو۔ کیونکہ ایسے علماء ہی حقیقتاً انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔