ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 148

لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الۡجَہۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الۡقَوۡلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ سَمِیۡعًا عَلِیۡمًا ﴿۱۴۸﴾
اللہ بری بات کے ساتھ آواز بلند کرنا پسند نہیں کرتا مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے
En
برائی کے ساتھ آواز بلند کرنے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا مگر مظلوم کی اجازت ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتا جانتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 148) ➊ {لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ ……:} یعنی اگر کسی شخص میں کوئی دینی یا دنیوی عیب پایا جاتا ہے تو اسے سر عام ذلیل کرنا جائز نہیں اور نہ ہر شخص کو بتانا جائز ہے، کیونکہ یہ غیبت ہے اور غیبت قطعی حرام ہے، البتہ جب کوئی شخص ظلم پر اتر آئے تو مظلوم کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کی زیادتی کے خلاف آواز بلند کرے، خصوصاً جہاں آواز بلند کرنے سے اس پر ظلم رک سکتا ہو، یا اس کا مداوا ہو سکتا ہو۔ اسی طرح لوگوں کو اس کے ظلم سے بچانے کے لیے اس کا عیب بیان کرنا بھی جائز ہے۔ حدیث کے راویوں پر جرح بھی اسی ضمن میں آتی ہے، کیونکہ ضعیف روایت بیان کرنا امت پر ظلم ہے۔ کوئی شخص باوجود وسعت کے دوسرے کا حق نہ دیتا ہو تو اس کو طعن و ملامت کرنا بھی جائز ہے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غنی آدمی کا حق ادا کرنے میں دیر کرنا، یا ٹال مٹول کرنا اس کی سزا اور اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے۔ [بخاری، الاستقراض، باب لصاحب الحق مقال، قبل ح: ۲۴۰۱] اسی طرح جو زیادتی میں پہل کرے اسے جواب دینا جائز ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپس میں گالی گلوچ کرنے والے، وہ دونوں جو کچھ بھی کہیں، سب گناہ پہل کرنے والے پر ہے، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔ [مسلم، البر والصلۃ، باب النھی عن السباب: ۲۵۸۷] اس آیت کے تحت مفسرین نے لکھا ہے کہ ظالم کے حق میں بددعا کرنا جائز ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ شوریٰ (۴۱) کوئی شخص زبردستی اس کے منہ سے برا کلمہ نکلوائے تو وہ بھی اس کے تحت جائز ہے۔ (ابن کثیر، شوکانی) ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہمسائے کی زیادتیوں کی شکایت کی، آپ نے اسے اپنا سامان گھر کے باہر راستے میں نکال کر رکھ دینے کا مشورہ دیا، اب جو گزرتا پوچھتا تو وہ ہمسائے کا ظلم بتاتا۔ ہمسائے نے یہ دیکھ کر معذرت کرلی اور آئندہ ایذا نہ پہنچانے کا وعدہ کیا اور سامان اندر رکھنے کی درخواست کی۔ [أبو داوٗد، الأدب، باب فی حق الجوار: ۵۱۵۳]
➋ گزشتہ آیات میں منافقین کے عیوب کا بیان تھا، یہاں بات مکمل کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ چونکہ ظالم ہیں، اس لیے ان کے عیب ظاہر کرنا جائز ہے۔ (کبیر) تاہم حتی الوسع نام لے کر بیان نہ کرے۔ (موضح) «وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًا عَلِيْمًا» یعنی اگر مظلوم زیادتی کرے گا تو اﷲ تعالیٰ کو وہ بھی معلوم ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

148۔ 1 شریعت نے تاکید کی ہے کہ کسی کے اندر برائی دیکھو تو اس کا چرچا نہ کرو بلکہ تنہائی میں اس کو سمجھاؤ۔ اسی طرح کھلے عام اور علی الاعلان برائی کرنا بھی سخت ناپسندیدہ ہے۔ ایک تو برائی کا ارتکاب ویسے ہی ممنوع ہے، چاہے پردے کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔ دوسرا اسے سرعام کیا جائے یہ مزید ایک جرم ہے البتہ اس سے الگ ہے کہ ظالم کے ظلم کو تم لوگوں کے سامنے بیان کرسکتے ہو۔ جس سے ایک فائدہ یہ متوقع ہے کہ شائد وہ ظلم سے باز آجائے اور اس کی تلافی کی سعی کرے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے لوگ اس سے بچ کر رہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور کہا کہ مجھے میرا پڑوسی ایذا دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم اپنا سامان نکال کر باہر راستے میں رکھ دو، اس نے ایسا ہی کیا۔ چناچہ جو بھی گزرتا اس سے پوچھتا، وہ پڑوسی کے ظالمانہ رویے کی وضاحت کرتا تو سن کر ہر راہ گیر اس پر لعنت ملامت کرتا۔ پڑوسی نے یہ صورتحال دیکھ کر معذرت کرلی اور آئندہ کے لیے ایذاء نہ پہنچانے کا فیصلہ کرلیا اور اس سے اپنا سامان اندر رکھنے کی التجا کی۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

148۔ اللہ یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی شخص دوسرے کے متعلق علانیہ بری بات کرے الا یہ کہ اس پر ظلم ہوا ہو [197] اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے
[197] مظلوم کس کس سے شکوہ کر سکتا ہے؟
یعنی مظلوم کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اللہ کے حضور ظالم کے لیے بددعا کرے یا حاکم کے سامنے ظالم کا ظلم بیان کر کے اس سے استغاثہ چاہے یا دوسرے لوگوں سے بیان کرے تاکہ وہ اس ظالم کا ہاتھ روکیں، یا کم از کم خود ظالم کے اس قسم کے ظلم سے بچ جائیں۔ یا مثلاً اگر کسی نے اسے گالی دی ہے تو وہ بھی ویسی ہی گالی دے دے۔ مگر زیادتی نہ کرے۔ اور ظالم کوئی بھی ہو سکتا ہے خواہ وہ مسلم ہو یا منافق، یہودی ہو یا کافر ہو۔ مظلوم کے علاوہ کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی دوسرے کی بری بات لوگوں سے بیان کرتا پھرے اور اسی کا نام غیبت یا گلہ ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔ جس کا مقصد محض کسی شخص کو دوسروں کی نظروں میں ذلیل بنانا ہوتا ہے اور جس شخص کی غیبت کی جائے اس کو جب معلوم ہو تو اس کے جذبات کا بھڑک اٹھنا ایک فطری بات ہے۔ مکہ میں مسلمانوں پر مظالم کی نوعیت اور تھی اور مدینہ میں اور تھی۔ مدینہ میں یہود اور منافقین مسلسل مسلمانوں کو دکھ پہنچاتے رہتے تھے، کبھی استہزاء سے، کبھی سازشوں اور مکر و فریب کی چالوں سے کبھی کج بحثیوں اور بیجا قسم کے اعتراضات اور بیہودہ قسم کی گفتگو سے۔ اور ایسے حالات میں مسلمانوں کے جذبات کا بھڑک اٹھنا معمولی بات تھی۔ ایسے ہی حالات میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی بات بتنگڑ بن کر کسی بڑے فتنہ کا باعث نہ بن جائے لہٰذا وہ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مظلوم کو فریاد کا حق ہے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو دوسرے کو بد دعا دینا جائز نہیں، ہاں جس پر ظلم کیا گیا ہو اسے اپنے ظالم کو بد دعا دینا جائز ہے اور وہ بھی اگر صبر و ضبط کر لے تو افضل یہی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:344/9]‏‏‏‏
ابوداؤد میں ہے { سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی کوئی چیز چور چرا لے گئے تو آپ ان پر بد دعا کرنے لگیں۔ حضور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا! کیوں اس کا بوجھ ہلکا کر رہی ہو؟ } ۱؎ [سنن ابوداود:4909،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر بد دعا نہ کرنی چاہیئے بلکہ یہ دعا کرنی چاہیئے «اللھم اعنی علیہ واستخرج حقی منہ» ’ یا اللہ اس چور پر تو میری مدد کر اور اس سے میرا حق دلوا دے۔ ‘ آپ سے ایک اور روایت میں مروی ہے کہ { اگرچہ مظلوم کے ظالم کو کوسنے کی رخصت ہے مگر یہ خیال رہے کہ حد سے نہ بڑھ جائے۔ }
عبدالکریم بن مالک جزری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیںگالی دینے والے کو یعنی برا کہنے والے کو برا تو کہہ سکتے ہیں لیکن بہتان باندھنے والے پر بہتان نہیں باندھ سکتے۔ ایک اور آیت میں ہے «وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ» ۱؎ [42-الشورى:41]‏‏‏‏ ’ جو مظلوم اپنے ظالم سے اس کے ظلم کا انتقام لے، اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ ‘
ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیںدو گالیاں دینے والوں کا وبال اس پر ہے، جس نے گالیاں دینا شروع کیا۔ ہاں اگر مظلوم حد سے بڑھ جائے تو اور بات ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:2578]‏‏‏‏
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص کسی کے ہاں مہمان بن کر جائے اور میزبان اس کا حق مہمانی ادا نہ کرے تو اسے جائز ہے کہ لوگوں کے سامنے اپنے میزبان کی شکایت کرے، جب تک کہ وہ حق ضیافت ادا نہ کرے۔
ابوداؤد، ابن ماجہ وغیرہ میں ہے { صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ آپ ہمیں ادھر ادھر بھیجتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ ہماری مہمانداری نہیں کرتے آپ نے فرمایا اگر وہ میزبانی کریں تو درست، ورنہ تم ان سے لوازمات میزبانی خود لے لیا کرو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2461]‏‏‏‏
مسند احمد کی روایت میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو مسلمان کسی اہل قبلہ کے ہاں مہمان بن کر جائے اور ساری رات گذر جائے لیکن وہ لوگ اس کی مہمانداری نہ کریں تو ہر مسلمان پر اس مہمان کی نصرت ضروری ہے تاکہ میزبان کے مال سے اس کی کھیتی سے بقدر مہمانی دلائیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3751،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
مسند کی اور حدیث میں ہے { ضیافت کی رات ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر کوئی مسافر صبح تک محروم رہ جائے تو یہ اس میزبان کے ذمہ قرض ہے، خواہ ادا کرے خواہ باقی رکھے} ۱؎ [سنن ابوداود:3750،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ان احادیث کی وجہ سے امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ کا مذہب ہے کہ ضیافت واجب ہے،
ابوداؤد شریف وغیرہ میں ہے { ایک شخص سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرا پڑوسی بہت ایذاء پہنچاتا ہے، آپ نے فرمایا ایک کام کرو، اپنا کل مال اسباب گھر سے نکال کر باہر رکھ دو }۔
اس نے ایسا ہی کیا راستے پر اسباب ڈال کر وہیں بیٹھ گیا، اب جو گذرتا وہ پوچھتا کیا بات ہے؟ یہ کہتا میرا پڑوسی مجھے ستاتا ہے میں تنگ آ گیا ہوں، راہ گزر اسے برا بھلا کہتا، کوئی کہتا رب کی مار اس پڑوسی پر۔ کوئی کہتا اللہ غارت کرے اس پڑوسی کو، جب پڑوسی کو اپنی اس طرح کی رسوائی کا حال معلوم ہوا تو اس کے پاس آیا، منتیں کر کے کہااپنے گھر چلو اللہ کی قسم اب مرتے دم تک تم کو کسی طرح نہ ستاؤں گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:124]‏‏‏‏
پھر ارشاد ہے کہ اے لوگو تم کسی نیکی کو ظاہر کرو یا پوشیدہ رکھو تم پر کسی نے ظلم کیا ہو اور تم اس سے درگزر کرو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بڑا ثواب، پورا اجر اور اعلیٰ درجے ہیں۔ خود وہ بھی معاف کرنے والا ہے اور بندوں کی بھی یہ عادت اسے پسند ہے، وہ انتقام کی قدرت کے باوجود معاف فرماتا رہتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ { عرش کو اٹھانے والے فرشتے اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ }
بعض تو کہتے ہیں دعا «‏‏‏‏سُبحانَكَ على حلمِكَ بَعدَ عِلمِكَ» { یا اللہ تیری ذات پاک ہے کہ تو باوجود جاننے کے پھر بھی برد باری اور چشم پوشی کرتا ہے۔ }
بعض کہتے ہیں «‏‏‏‏سُبحانَكَ على عفوِكَ بعدَ قٌدرتِكَ» { اے قدرت کے باوجود درگذر کرنے والے اللہ تمام پاکیاں تیری ذات کے لیے مختص ہیں۔ }
صحیح حدیث شریف میں ہے { صدقے اور خیرات سے کسی کا مال گھٹتا نہیں، عفو و درگذر کرنے اور معاف کر دینے سے اللہ تعالیٰ اور عزت بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ کے حکم سے تواضع، فروتنی اور عاجزی اختیار کرے اللہ اس کا مرتبہ اور توقیر مزید بڑھا دیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2588]‏‏‏‏