ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 147

مَا یَفۡعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمۡ اِنۡ شَکَرۡتُمۡ وَ اٰمَنۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیۡمًا ﴿۱۴۷﴾
اللہ تمھیں عذاب دینے سے کیا کرے گا، اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آئو۔ اور اللہ ہمیشہ سے قدر کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
اگر تم (خدا کے شکرگزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو خدا تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔ اور خدا تو قدرشناس اور دانا ہے
En
اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے کر کیا کرے گا؟ اگر تم شکر گزاری کرتے رہو اور باایمان رہو، اللہ تعالیٰ بہت قدر کرنے واﻻ اور پورا علم رکھنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 147) { مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ …:} مقصد یہ بتانا ہے کہ عذاب کا باعث تمھارا شکر نہ کرنا اور ایمان نہ لانا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ تمھیں عذاب دے، سو اگر تم دل سے ایمان لے آؤ اور قول و فعل سے اللہ کی فرماں برداری کر کے اس کا شکر ادا کرو تو اللہ قدر دان ہے اور سب کچھ جانتا بھی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

147۔ 1 شکر گزاری کا مطلب ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق برائیوں سے اجتناب اور عمل صالح کا اہتمام کرنا۔ یہ گویا اللہ کی نعمتوں کا عملی شکر ہے اور ایمان سے مراد اللہ کی توحید و ربوبیت پر اور نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان ہے۔ 147۔ 2 یعنی جو اس کا شکر کرے گا، وہ قدر کرے گا، جو دل سے ایمان لائے گا، وہ اس کو جان لے گا اور اس کے مطابق وہ بہترین جزا دے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

147۔ اگر تم لوگ اللہ کا شکر [195] ادا کرو اور خلوص نیت سے ایمان لے آؤ تو اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں عذاب [196] دے (جبکہ) اللہ بڑا قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے
[195] شکر کی تعریف اور اس کی ممانعت:۔
شکر کا معنیٰ اعتراف نعمت ہے اور اس کے تین مدارج ہیں۔
(1)
قلبی :
یعنی انسان دل سے اللہ کے یا کسی کے حسانات کا اعتراف کرے۔
(2)
قولی :
تحدیث نعمت کے طور پر زبان سے بھی اس کا اقرار کرے اور اللہ کے احسانات کا دوسروں کے سامنے تذکرہ کرے۔
(3)
عملی :
یعنی اس شکر کے اثرات اس کے اعضاء و جوارح سے بھی ظاہر ہوں۔ اور یہ تینوں درجات در اصل لازم و ملزوم ہیں۔ اور بالترتیب وجود میں آتے ہیں۔ انسان جب اللہ کے احسانات کا خیال کرتا ہے تو اس کا دل اللہ کی محبت اور وفاداری کے جذبات سے لبریز ہو جاتا ہے۔ پھر اسی وفور جذبات کا ہی یہ اثر ہوتا ہے کہ خود اکیلے بھی اور دوسروں کے سامنے بھی ان احسانات کا تذکرہ کرتا ہے اور اس سے دل میں خوشی محسوس ہوتی ہے پھر اسی محبت و اخلاص کا اس کی فکر پر یہ اثر ہوتا ہے کہ اللہ کے جتنے زیادہ مجھ پر احسانات ہیں اتنا ہی زیادہ مجھے اس کا مطیع و فرمانبردار اور عبادت گزار بننا چاہیے اور اس کی واضح مثال یہ واقعہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری زندگی میں رات کو اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے تو آپ کے سب اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں۔ پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہی ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”تو کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں“ یہ واقعہ بہت سی احادیث صحیحہ میں مذکور ہے اور اس کا ماحصل یہ ہے کہ سچے مومن پر اللہ کے جتنے احسانات اور فضل و اکرام ہوتا ہے اتنا ہی اس کے جذبات محبت، خلوص اور وفاداری جوش میں آتے ہیں اور وہ ہر طرح سے ان احسانات کے شکر کا اظہار کرنے لگتا ہے۔
[196] لفظ ’شکر‘ کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا مطلب قدر دانی یا قدر شناسی ہوتا ہے یعنی انسان اگر تھوڑا سا عمل یا شکر ادا کرے تو اللہ انسان کے عمل سے بہت بڑھ کر اس کا صلہ عطا فرماتا ہے اور چھوٹے موٹے گناہوں کو ویسے ہی معاف فرما دیتا ہے جبکہ انسان کا یہ حال ہے کہ وہ اکثر ناشکرا ہی واقع ہوا ہے اور کوئی شخص اس کی مرضی کے خلاف کام کرے تو اس سے محاسبہ میں سختی کرتا ہے۔ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنا ایک ماں اپنے بچہ پر مہربان ہوتی ہے لہٰذا اگر انسان شرک کر کے، یا پے در پے نافرمانیاں کر کے اپنے اللہ کو ناراض نہ کر لے تو اللہ کبھی کسی کو خواہ مخواہ سزا نہیں دیتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔