وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوۡدَہٗ یُدۡخِلۡہُ نَارًا خَالِدًا فِیۡہَا ۪ وَ لَہٗ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿٪۱۴﴾
اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدوں سے تجاوز کرے وہ اسے آگ میں داخل کرے گا، ہمیشہ اس میں رہنے والا ہے اور اس کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
En
اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے نکل جائے گا اس کو خدا دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا
En
اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرره حدوں سے آگے نکلے اسے وه جہنم میں ڈال دے گا جس میں وه ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لئے رسوا کن عذاب ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 13 میں تا آیت 15 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اللہ کی حدود [26] سے آگے نکل جائے اللہ اسے دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اسے رسوا کرنے والا عذاب ہو گا
[26] احکام کے مطابق تقسیم نہ کرنے والے:۔
اگرچہ یہاں میراث کے احکام بیان ہو رہے ہیں مگر حکم عام ہے۔ خواہ احکام یتامیٰ کے حقوق کے متعلق ہوں یا عورتوں سے تعلق رکھتے ہوں۔ وصیت سے تعلق رکھتے ہوں یا کوئی دوسرے ضابطے ہوں۔ جو بھی اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کر دی ہیں اگر ان سے کوئی تجاوز کرے گا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے عذاب میں مبتلا رہے گا اور ربط مضمون کے لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ جو شخص اس قانون وراثت کو توڑے، عورتوں کو ورثہ سے محروم رکھے یا صرف بڑے بیٹے کو مستحق وراثت قرار دے یا عورت مرد کو برابر کا حصہ دار قرار دے یا جائیداد کو سرے سے تقسیم ہی نہ کرے اور اسے مشترکہ خاندانی جائیداد قرار دے دے تو ایسے سب لوگ حدود اللہ سے تجاوز کرنے والے اور اسی عذاب الیم کے مستحق ہیں۔
یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ:۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں یتیموں سے خیر خواہی، ان سے انصاف اور ان کے حقوق کی نگہداشت کی بڑی تفصیل سے تاکید فرمائی۔ لیکن یہ ذکر نہیں فرمایا۔ کہ یتیم پوتا بھی وراثت کا حقدار ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی اہمیت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود عبد المطلب کی وفات کے وقت ان کے یتیم پوتے تھے لیکن آپ کو وراثت سے حصہ نہیں ملا۔ نہ ہی اللہ نے اس کا کہیں ذکر فرمایا۔ حالانکہ اگر یتیم پوتے کو وراثت میں حصہ دلانا اللہ کو منظور ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کے متعلق بھی قرآن میں کوئی واضح حکم نازل فرما دیتے۔ اور ایسے حکم کا نازل نہ ہونا ہی اس بات کی قوی دلیل ہے۔ کہ یتیم پوتا اپنے چچا یا چچاؤں اور پھوپھیوں وغیرہ کی موجودگی میں وراثت کا حق دار نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اپنے مرنے والے باپ کی وراثت کا ہی حقدار ہوتا ہے۔
وراثت صرف اسے ملتی ہے جو میت کی وفات کے وقت موجود ہو:۔
اب یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے بعض متجددین کے واویلا کی بنا پر ہماری حکومت پاکستان نے قانون وراثت میں یتیم پوتے کو بھی حصہ دار قرار دیا ہے۔ اور یہ بات عقلی اور نقلی دونوں طرح سے غلط ہے۔ عقلی لحاظ سے اس طرح کہ کسی درخت کے پھل کو اس درخت کے ذریعہ زمین سے غذا اسی وقت تک ملتی ہے جب تک وہ درخت پر لگا رہے۔ اور جب درخت سے گر جائے تو اسے غذا نہیں مل سکتی۔ اور نقلی لحاظ سے اس طرح کہ تقسیم وراثت کے دو اصول ہیں۔ اور یہ دونوں کتاب اللہ سے مستنبط ہیں۔ پہلا یہ کہ وراثت میں حصہ صرف اس کو ملے گا۔ جو میت کی وفات کے وقت زندہ موجود ہو۔ اور جو میت کی زندگی میں مر چکا اس کا کوئی حصہ نہیں۔
الاقرب فالاقرب کا اصول:۔
دوسرا الاقرب فالاقرب کا اصول ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور کے رشتہ دار وراثت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اور قریبی سے مراد یہ ہے جس میں کوئی درمیانی واسطہ نہ ہو۔ جیسے میت کی صلبی اولاد۔ اس لحاظ سے بھی یتیم پوتا اپنے چچاؤں اور پھوپھیوں کی موجودگی میں وراثت کا حقدار قرار نہیں پاتا۔ یتیم پوتے کو وراثت میں حقدار ثابت کرنے والے اس معاملہ کو ایک شاذ قسم کی اور جذباتی قسم کی مثال سے سمجھانے کی کوشش فرماتے ہیں۔ مثلاً زید کے دو بیٹے ہیں۔ ایک بکر دوسرا عمر۔ زید کی وفات کے وقت بکر تو زندہ ہوتا ہے مگر عمر مر چکا ہوتا ہے۔ البتہ عمر کا ایک لڑکا خالد زندہ ہوتا ہے۔ اور سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بکر کو تو سارا ترکہ مل جائے اور عمر کے بیٹے خالد کو کچھ نہ ملے۔ حالانکہ وہ یتیم ہے اور مال کا زیادہ محتاج ہے۔ کیا اس کا جرم یہی ہے کہ اس کا باپ مر چکا ہے؟ پھر ان حضرات نے یتیم پوتے کو حقدار بنانے کے لیے قائم مقامی کا اصول وضع کیا۔ یعنی خالد اپنے باپ عمر کا قائم قام بن کر اپنے دادا کے ترکہ سے آدھا ورثہ لینے کا حقدار ہے۔
قائم مقامی کا اصول:۔
غور فرمائیے کہ اسلام کے پورے قانون وراثت میں آپ کو کہیں یہ ”قائم مقامی کا اصول“ نظر آیا ہے۔ در اصل اس اصول کے موجد پرویز صاحب کے استاد محترم حافظ اسلم جیراج پوری ہیں۔ پھر اسی نظریہ کی پرویز صاحب نے آبیاری فرمائی۔ اس سے پہلے آپ کو یہ اصول پوری اسلامی شریعت میں اور اسلامی تاریخ میں کہیں نظر نہ آئے گا۔ وجہ یہ ہے کہ حق وراثت تو مرنے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ پھر جب حق وراثت ہی ختم ہو چکا تو قائم مقامی کس بات کی؟ پھر اس اصول کو تسلیم کرنے کے مفاسد بے شمار ہیں۔ مثلاً میت کی بیوی اس سے پہلے فوت ہو چکی ہے۔ اب اس نظریہ قائم مقامی کی رو سے بیوی کے اقربین جائز طور پر ترکہ سے حصہ طلب کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اسی طرح میت اگر عورت ہے جس کا خاوند پہلے ہی فوت ہو چکا ہے تو خاوند کے رشتہ دار قائم مقام ہونے کی حیثیت سے ترکہ سے حصہ طلب کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ورثہ کے حقدار صرف بیٹے ہی نہیں بیٹیاں بھی ہوتی ہیں۔ اور کسی بھی فوت شدہ بیٹی کی اولاد (یعنی بھانجے بھانجیاں) بھی اس قائم مقامی کے اصول کے تحت ورثہ کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ آگے چلتا ہی جاتا ہے۔ پھر اسے آخر کس قاعدہ کے تحت صرف یتیم پوتے تک ہی محدود رکھا جا سکتا ہے؟ اس اصول کا دوسرا مفسدہ یہ ہے کہ مثلاً زید کے دونوں بیٹے بکر اور عمر فوت ہو چکے ہیں۔ بکر کی اولاد صرف ایک بیٹا ہے مگر عمر کے پانچ بیٹے ہیں۔ اور میت کا اقرب ہونے کے لحاظ سے سب ایک درجہ پر ہیں۔ اور سارے ہی ایک جیسے قائم مقام ہیں۔ تو کیا ورثہ ان میں برابر تقسیم کر دیا جائے گا؟ یا بکر کے بیٹے کو 2/1 اور عمر کے بیٹوں کو صرف دسواں دسواں حصہ ملے گا؟ ان میں سے کون سی تقسیم درست ہو گی اور کیوں؟ قائم مقامی کے اصول کے حق میں ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ اگر دادا باپ کے فوت ہونے کی صورت میں باپ کا قائم مقام بن کر ترکہ سے حصہ پا سکتا ہے تو پوتا اپنے فوت شدہ باپ کا قائم مقام بن کر دادا سے کیوں حصہ نہیں پا سکتا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تقسیم بھی قائم مقامی کے اصول کے تحت نہیں ہوتی۔ بلکہ الاقرب فالاقرب کے اصول کے تحت ہی ہوتی ہے۔ بالائی یا آبائی جانب میں باپ کے بعد صرف دادا ہی اقرب ہو سکتا ہے جب کہ ابنائی جانب میں میت کے اقرب اس کے بیٹے ہوتے ہیں نہ کہ پوتے۔ ہاں اگر صلبی اولاد کوئی بھی زندہ نہ ہو تو پھر پوتے بھی وارث ہو سکتے ہیں۔ ان حضرات کا اصل ہدف یتیم کی خیر خواہی نہیں بلکہ سنت میں کیڑے نکالنا اور اس کی مخالفت ہے۔ اور وہ بھی کسی قرآن کی آیت سے نہیں بلکہ اپنی وضع کردہ اصول قائم مقامی کی بنا پر جس میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ مرے ہوئے رشتہ داروں کو زندہ تصور کر کے قائم مقامی کا حق قائم کیا جاتا ہے۔ ورنہ کتاب و سنت میں یتیم سے ہمدردی کی بہت سی صورتیں موجود ہیں۔ مثلاً مرنے والا خود اس کے لیے ایک تہائی ورثہ وصیت کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس لیے کہ یتیم پوتا وارث نہیں اور وصیت ہوتی ہی غیر وارث کے لیے ہے۔ وارث کے لیے وصیت نہیں ہو سکتی اور اگر مرنے والا وصیت نہیں کر سکا۔ یا اس کے حق میں وصیت نہیں کرنا چاہتا تھا کہ بقیہ وارث اسے خود اپنی رضا سے اس میں شریک بنا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر مناسب سمجھیں تو اسے اپنی مرضی سے سارے کا سارا ترکہ بھی دے سکتے ہیں اور ان باتوں کا انہیں بھی ایسا ہی حق ہے جیسا مرنے والے کو وصیت کرنے کا حق ہے۔ پھر اگر مرنے والا دادا کو بھی اس سے کوئی ہمدردی نہ ہو اور نہ ہی دوسرے وارثوں کو ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا پوتا ہمدردی کا حقدار ہی نہیں تھا۔ ممکن ہے اپنے مرنے والے باپ سے اسے اتنا مال و دولت مل گیا ہو کہ دوسرے اسے دینے کی ضرورت ہی نہ سمجھیں۔ اس صورت میں آپ کی ہمدردی اس کے کس کام آسکتی ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نافرمانوں کا حشر ٭٭
اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے آگے نکل جائے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں ہمیشہ رہے گا ایسوں کے لیے اہانت کرنے والا عذاب ہے، یعنی یہ فرائض اور یہ مقدار جسے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اور میت کے وارثوں کو ان کی قرابت کی نزدیکی اور ان کی حاجت کے مطابق جتنا جسے دلوایا ہے یہ سب اللہ ذوالکرم کی حدود ہیں تم ان حدوں کو نہ توڑو نہ اس سے آگے بڑھو۔ جو شخص اللہ عزوجل کے ان احکام کو مان لے، کوئی حیلہ حوالہ کر کے کسی وارث کو کم بیش دلوانے کی کوشش نہ کرے حکم الہٰ اور فریضہ الہٰ جوں کا توں بجا لائے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسے ہمیشہ چلنے والی نہروں کی جنت میں داخل کرے گا، یہ کامیاب نصیب ور اور مقصد کو پہنچنے والا اور مراد کو پانے والا ہو گا، اور جو اللہ کے کسی حکم کو بدل دے کسی وارث کے ورثے کو کم و بیش کر دے رضائے الٰہی کو پیش نظر نہ رکھے بلکہ اس کے حکم کو رد کر دے اور اس کے خلاف عمل کرے وہ اللہ کی تقسیم کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور اس کے حکم کو عدل نہیں سمجھتا تو ایسا شخص ہمیشہ رہنے والی رسوائی اور اہانت والے درد ناک اور ہیبت ناک عذابوں میں مبتلا رہے گا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک شخص ستر سال تک نیکی کے عمل کرتا رہتا ہے پھر وصیت کے وقت ظلم و ستم کرتا ہے اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنمی بن جاتا ہے اور ایک شخص برائی کا عمل ستر سال تک کرتا رہتا ہے پھر اپنی وصیت میں عدل کرتا ہے اور خاتمہ اس کا بہتر ہو جاتا ہے تو جنت میں داخل جاتا ہے، پھر اس حدیث کے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کو پڑھو «تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ» * «وَمَنْ يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ» ۱؎ [4-النساء:13-14] [مسند احمد:2/278:ضعیف]۔ سنن ابی داؤد کے باب «الاضرار فی الوصیتہ» میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک مرد یا عورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ساٹھ سال تک لگے رہتے ہیں پھر موت کے وقت وصیت میں کوئی کمی بیشی کر جاتے ہیں تو ان کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ» ۱؎ [4-النساء:12] سے آخر آیت تک پڑھی، ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے، ۱؎ [سنن ابوداود:2867،قال الشيخ الألباني:ضیعف] امام ترمذی اسے غریب کہتے ہیں، مسند احمد میں یہ حدیث تمام و کمال کے ساتھ موجود ہے۔