ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 126

وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطًا ﴿۱۲۶﴾٪
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے۔ En
اور آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے
En
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو گھیرنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 126) یعنی اللہ تعالیٰ کے ابراہیم علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوست بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ جس طرح دوست برابر ہوتے ہیں، ان کی ملکیت بھی ایک ہی سمجھی جاتی ہے، اسی طرح ابراہیم علیہ السلام اللہ کے خلیل تھے، نہیں بلکہ آسمان و زمین کی ملکیت اب بھی اللہ ہی کے پاس ہے اور ہر شے کا احاطہ بھی اسی کے پاس ہے، یہ تو اس کا فضل و کرم ہے کہ اپنے ان خاص بندوں کو اپنا خلیل قرار دے کر ان کی عزت افزائی فرمائی۔ دلیل چاہو تو ابراہیم علیہ السلام کے والد آزر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کا معاملہ دیکھ لو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

126۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور اللہ ہر چیز کا [165] احاطہ کئے ہوئے ہے
[165] جزاء و سزا کا قانون بیان کرنے کے بعد یہ فرمانا کہ کائنات کی ایک ایک چیز اللہ ہی کی ملک ہے اس لحاظ سے ہے کہ وہ اپنے اس قانون کو نافذ کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے اور تم اس کی گرفت سے کسی صورت بچ نہیں سکتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔