(آیت 126) یعنی اللہ تعالیٰ کے ابراہیم علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوست بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ جس طرح دوست برابر ہوتے ہیں، ان کی ملکیت بھی ایک ہی سمجھی جاتی ہے، اسی طرح ابراہیم علیہ السلام اللہ کے خلیل تھے، نہیں بلکہ آسمان و زمین کی ملکیت اب بھی اللہ ہی کے پاس ہے اور ہر شے کا احاطہ بھی اسی کے پاس ہے، یہ تو اس کا فضل و کرم ہے کہ اپنے ان خاص بندوں کو اپنا خلیل قرار دے کر ان کی عزت افزائی فرمائی۔ دلیل چاہو تو ابراہیم علیہ السلام کے والد آزر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کا معاملہ دیکھ لو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
126۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور اللہ ہر چیز کا [165] احاطہ کئے ہوئے ہے
[165] جزاء و سزا کا قانون بیان کرنے کے بعد یہ فرمانا کہ کائنات کی ایک ایک چیز اللہ ہی کی ملک ہے اس لحاظ سے ہے کہ وہ اپنے اس قانون کو نافذ کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے اور تم اس کی گرفت سے کسی صورت بچ نہیں سکتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔