(آیت 118) {نَصِيْبًامَّفْرُوْضًا:} یعنی تیرے بندوں میں سے ایک گروہ کو اپنی راہ پر ڈال لوں گا، وہ اپنے مال میں میرا حصہ مقرر رکھیں گے، جیسے بتوں اور قبروں کے نام کی نذر و نیاز نکالی جاتی ہے۔ (موضح) جتنے گمراہ دوزخی ہیں سب نصیب شیطان (شیطان کے حصے) میں شامل ہیں۔ (قرطبی) شیطان ملعون اپنی سرکشی سے خود بھی گمراہ ہوا اور انسانوں کو گمراہ کرنے پر بھی ایسی کمر باندھی کہ نہ دشمنی چھپاتا ہے اور نہ دشمنی سے باز آتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
118۔ 1 مقرر شدہ حصہ سے مراد وہ نذر نیاز بھی ہوسکتی ہے جو مشرکین اپنے بتوں اور قبروں میں مدفون اشخاص کے نام نکالتے ہیں اور جہنمیوں کا وہ کوٹہ بھی ہوسکتا ہے جنہیں شیطان گمراہ کر کے اپنے ساتھ جہنم لے جائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
118۔ جس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس نے اللہ سے کہا تھا کہ: ”میں تیرے بندوں میں سے ایک مقررہ [157] حصہ لے کر رہوں گا
[157] یہ مقررہ حصہ وہ لوگ ہیں جو شیطان کے فریب میں آکر اللہ کے ساتھ شرک کریں گے اور گمراہ ہو جائیں گے۔ اور یہ مقررہ حصہ آدھے سے بھی بہت زیادہ ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَلَقَدْذَرَاْنَالِجَهَنَّمَكَثِيْرًامِّنَالْجِنِّوَالْاِنْسِ﴾ اور ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔