(آیت 112) {”خَطِيْٓئَةً“} کا لفظ غیر ارادی گناہ پر بولا جاتا ہے اور اس کے برعکس { ”اِثْمًا“ } وہ گناہ ہے جو ارادی طور پر کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ خود گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد کسی بے قصور آدمی کو اس میں ملوث کرنے کی کوشش کرنا بہت بڑا گناہ ہے اور کسی بے گناہ شخص پر تہمت لگانے کو بہتان کہا جاتا ہے۔ (قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
112۔ 1 جس طرح بنو ابیرق نے کیا کہ چوری خود کی اور تہمت کسی اور پر دھری، جو ان کی سی بدخصلتوں کے حامل اور ان جیسے برے کاموں کے مرتکب ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
112۔ اور جو شخص کوئی خطا یا گناہ کا کام تو خود کرے پھر اسے کسی بے گناہ کے ذمہ تھوپ دے اس نے بہتان اور صریح گناہ [150] کا بار آپ نے اوپر لاد لیا
[150] کیونکہ اس نے دو جرم کیے ہیں۔ ایک وہ جو خود گناہ کا کام کیا اور دوسرا گناہ اس سے بڑا ہے کہ اس گناہ کو کسی بے قصور کے سر تھوپ کر اسے مجرم بنا دینے کی کوشش کی جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔