تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 1) ➊ {خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ:} یعنی پوری نوع انسانی آدم علیہ السلام کی نسل سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) لوگ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے، اے آدم! آپ انسانوں کے باپ ہیں، آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔“ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «و لقد أرسلنا …» : ۳۳۴۰، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ایک جان سے پیدا کرنے سے یہ توجہ دلانا بھی مقصود ہے کہ تم تمام انسان ایک شخص کی اولاد ہو، کوئی اور رشتہ داری نہ ہو تو یہ رشتہ داری کیا کم ہے، اس کا خیال ہی رکھو اور اپنے کمزوروں کی مدد کرتے رہو۔
➋ {وَ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی میں سب سے ٹیڑھا حصہ اوپر کا ہوتا ہے، سو اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ بیٹھو گے اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اس طرح فائدہ اٹھا ؤ گے کہ اس میں برابر ٹیڑھا پن ہو گا۔“ [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب خلق آدم و ذریتہ: ۳۳۳۱، ۵۱۸۴، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] بعض روایات میں ہے: [وَ كَسْرُهَا طَلاَقُهَا] ” اور اس کا توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔“ [مسلم، الرضاع، باب الوصیۃ بالنساء: 715/59 بعد ح: ۱۴۶۶۔ بخاری: ۵۱۸۴] قرآن کی آیت سے معلوم ہوا کہ حواء علیھا السلام آدم علیہ السلام سے پیدا ہوئیں۔ حدیث سے ثابت ہوا کہ پسلی سے پیدا ہوئیں، اس کی کیفیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں کی۔ بعض لوگ اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ عورت میں کچھ ٹیڑھا پن رہتا ہی ہے، اس لیے اسے پسلی سے تشبیہ دی گئی ہے، مگر قرآن کے صریح الفاظ کہ آدم سے اس کی بیوی کو پیدا کیا، ان کے ساتھ حدیث ملائیں تو اس کا پسلی سے پیدا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ہاں، اس کی کجی بھی اپنی جگہ درست ہے۔
➌ {تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ:} یعنی جس اللہ کا نام لے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اس اللہ سے ڈرو۔ { ”وَ الْاَرْحَامَ“ } اس کا عطف لفظ {” اللّٰهَ “} پر ہے، یعنی {”وَاتَّقُوا الْأَرْحَامَ“} کہ قطع رحمی اور رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی سے بچو۔ { ”الْاَرْحَامَ“ } کو میم کے کسرہ سے پڑھنا غلط ہے اور قواعد نحویہ کی رو سے بھی ٹھیک نہیں، ہاں معنی کے اعتبار سے صحیح ہے، یعنی جس رشتہ داری کے نام پر ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ (قرطبی) شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمام علمائے شریعت و لغت کا اتفاق ہے کہ {”الْاَرْحَامَ“} سے محرم اور غیر محرم تمام رشتے مراد ہیں۔ قرآن و حدیث میں قطع رحمی کی بہت مذمت آئی ہے۔ دیکھیے سورۂ محمد (۲۲،۲۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشتے داری کو توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔“ [بخاری، الأدب، باب إثم القاطع: ۵۹۸۴، عن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ] اور فرمایا: ”جو شخص چاہے کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کے نشانِ(قدم) دیر تک رکھے جائیں وہ اپنی رشتے داری کو ملائے۔“ [بخاری، الأدب، باب فضل صلۃ الرحم…: ۵۹۸۳، عن أبی أیوب الأنصاری رضی اللہ عنہ]
➍ {رَقِيْبًا:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، سو اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ [بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۵۰۔ مسلم: ۸، عن أبی ہریرۃ و عمر رضی اللہ عنہما]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری: کتاب بدء الخلق، باب: ﴿وإذ قال ربك للملائكة﴾]
[2] اس سورۃ کا آغاز اس آیت سے غالباً اس لئے کیا جا رہا ہے کہ اس سورۃ کا بیشتر حصہ عائلی اور معاشرتی قوانین پر مشتمل ہے۔ نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سطح پر سب انسان ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ لہٰذا ہر ایک سے حسن سلوک سے پیش آنا ضروری ہے۔
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم، رحمٰن سے نکلا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رحم سے کہا ”جو تجھے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرے گا میں اسے قطع کروں گا۔“
[بخاری، کتاب الادب، باب من وصل وصلہ اللہ]
2۔
[بخاری، کتاب الادب۔ باب من بسط لہ فی الرزق/مسلم کتاب البر والصلۃ۔ باب صلۃ الرحم]
3۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔“
[بخاری، کتاب الادب۔ باب إثم القاطع مسلم کتاب البر والصلہ۔ باب صلۃ الرحم و تحریم قطیعتھا]
4۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ مخلوق کی تخلیق سے فارغ ہوا تو رحم نے کہا (اے اللہ) قطع رحمی سے تیری پناہ طلب کرنے کا یہی موقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں! کیا تو اس بات سے راضی نہیں کہ میں اسے ہی ملاؤں جو تجھے ملائے اور اسے توڑوں جو تجھے توڑے؟ رحم نے کہا: ہاں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تیری یہ بات منظور ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاہو تو (دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھ لو:
﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ﴾ [سوره محمد، آيت: 22]
[بخاري و مسلم۔ حواله ايضاً]
5۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدلہ کے طور پر رشتہ ملانے والا، رشتہ ملانے والا نہیں بلکہ رشتہ ملانے والا تو وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے ملائے۔“
[بخاری۔ کتاب الادب۔ باب لیس الواصل بالمکافیئ]
6۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا ”میرے کچھ قریبی ہیں۔ میں ان سے رشتہ ملاتا ہوں اور وہ مجھ سے رشتہ توڑتے ہیں۔ میں ان سے اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں۔ میں ان سے حوصلہ سے پیش آتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جاہلوں کا سا برتاؤ کرتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایسی بات ہی ہے جو تم کہہ رہے ہو تو گویا تم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو۔ اور جب تک تم اس حال پر قائم رہو گے ان کے مقابلہ میں اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ ہمیشہ ایک مددگار رہے گا۔“
[مسلم، کتاب البرو الصلہ۔ باب صلۃ الرحم وتحریم قطیعتھا]
7۔ سیدہ اسماءؓ کہتی ہیں کہ جس زمانہ میں آپ کی (قریش سے) صلح تھی۔ اس دوران میری ماں (میرے پاس) آئی اور وہ اسلام سے بے رغبت تھی۔ میں نے آپ سے پوچھا کیا میں اس سے صلہ رحمی کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“
[بخاری۔ کتاب الادب۔ باب صلۃ المراۃ أمھا ولھا زوج]
8۔ سیدنا ابو ایوبؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ایسا عمل بتلائیے۔ جو مجھے جنت میں لے جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس میں ذرا بھی شرک نہ کرنا، نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔“
[بخاری۔ کتاب الادب۔ باب فضل صلۃ الرحم]
9۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی گناہ بغاوت اور قطع رحمی سے زیادہ اس بات کا اہل نہیں کہ اللہ اسے دنیا میں بھی فوراً سزا دے اور ساتھ ہی ساتھ آخرت میں بھی اس کے لیے عذاب بطور ذخیرہ رکھے۔“
[ترمذی۔ ابواب صفۃ القیامۃ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں عورت مرد سے پیدا کی گئی ہے اس لیے اس کی حاجت و شہوت مرد میں رکھی گئی ہے اور مرد زمین سے پیدا کئے گئے ہیں اس لیے ان کی حاجت زمین میں رکھی گئی ہے۔ پس تم اپنی عورتوں کو روکے رکھو، صحیح حدیث میں ہے عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور سب سے بلند پسلی سب سے زیادہ ٹیڑھی ہے پس اگر تو اسے بالکل سیدھی کرنے کو جائے گا تو توڑ دے گا اور اگر اس میں کچھ کجی باقی چھوڑتے ہوئے فائدہ اٹھانا چاہے گا تو بیشک فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3331]
پس اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت، عبادت بجا لاتے رہو، اسی اللہ کے واسطے سے اور اسی کے پاک نام پر تم آپس میں ایک دوسرے سے مانگتے ہو، مثلاً یہ کہنا کہ میں تجھے اللہ کو یاد دلا کر اور رشتے کو یاد دلا کر یوں کہتا ہوں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:519/7] اسی کے نام کی قسمیں کھاتے ہو اور عہد و پیمان مضبوط کرتے ہو، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:518/7] اللہ جل شانہ سے ڈر کر رشتوں ناتوں کی حفاظت کرو انہیں توڑو نہیں بلکہ جوڑو صلہ رحمی، نیکی اور سلوک آپس میں کرتے رہو ۱؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:519/7-522]
صحیح حدیث میں ہے اللہ عزوجل کی ایسی عبادت کر کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:50] مطلب یہ ہے کہ اس کا لحاظ رکھو جو تمہارے ہر اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے پر نگراں ہے، یہاں فرمایا گیا کہ لوگو تم سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو ایک دوسرے پر شفقت کیا کرو، کمزور اور ناتواں کا ساتھ دو اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب قبیلہ مضر کے چند لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چادریں لپیٹے ہوئے آئے کیونکہ ان کے جسم پر کپڑا تک نہ تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز ظہر کے بعد وعظ بیان فرمایا جس میں اس آیت کی تلاوت کی پھر آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ» ۱؎ [59-الحشر:18] کی تلاوت کی، پھر لوگوں کو خیرات کرنے کی ترغیب دی چنانچہ جس سے جو ہو سکا ان لوگوں کے لیے دیا درہم و دینار بھی اور کھجور و گیہوں بھی ۱؎ [صحیح مسلم:1017] یہ حدیث، مسند اور سنن میں خطبہ حاجات کے بیان میں ہے ۱؎ [سنن ابوداود:2118،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر تین آیتیں پڑھیں جن میں سے ایک آیت یہی «اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ» ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
افتتحَ تعالى هذه السورةَ بالأمر بتقواه والحثِّ على عبادتِهِ والأمرِ بصلةِ الأرحام والحثِّ على ذلك، وبيَّن السبب الداعيَ الموجبَ لكلٍّ من ذلك، وأن الموجب لتقواه: لأنه ربُّكم {الذي خلقكم} ورزقكم وربَّاكم بنعمِهِ العظيمة التي من جملتها خَلْقُكم {من نفس واحدة} وجعل {منها زوجها} ليناسِبَها فيسكنَ إليها وتتمَّ بذلك النعمة ويحصل به السرور؛ وكذلك من الموجب الداعي لتقواه تساؤلُكم به وتعظيمكم، حتى إنكم إذا أردتم قضاء حاجاتكم ومآربكم؛ توسَّلتم بها بالسؤال [باللهِ]، فيقول من يريد ذلك لغيره: أسألك بالله أن تفعل الأمر الفلاني؛ لعلمه بما قام في قلبه من تعظيم الله الداعي أن لا يردَّ من سأله بالله؛ فكما عظَّمتموه بذلك؛ فلتعظِّموه بعبادتِهِ وتقواه. وكذلك الإخبار بأنه رقيبٌ؛ أي: مطَّلع على العباد في حال حركاتهم وسكونهم وسرِّهم وعلنهم وجميع الأحوال مراقباً لهم فيها، مما يوجب مراقبتَهُ وشدةَ الحياء منه بلزوم تقواه؛ وفي الإخبار بأنه خلقهم من نفس واحدة، وأنه بثَّهم في أقطار الأرض مع رجوعهم إلى أصل واحدٍ ليعطِّفَ بعضَهم على بعض، ويرقِّقَ بعضَهم على بعض.
وقرن الأمر بتقواه بالأمر ببرِّ الأرحام والنهي عن قطيعتها ليؤكد هذا الحق، وأنه كما يلزم القيام بحق الله كذلك يجب القيام بحقوق الخلق، خصوصاً الأقربين منهم، بل القيام بحقوقهم هو من حقِّ الله الذي أمر الله به. وتأمل كيف افتتح هذه السورةَ بالأمر بالتقوى، وصلة الأرحام، والأزواج عموماً، ثم بعد ذلك فصَّل هذه الأمور أتمَّ تفصيل من أول السورة إلى آخرها؛ فكأنها مبنيَّةٌ على هذه الأمور المذكورة، مفصِّلةٌ لما أُجْمِلَ منها، موضِّحةٌ لما أُبْهِمَ.
وفي قوله: {وخلق منها زوجها}: تنبيه على مراعاة حقِّ الأزواج والزوجات والقيام به؛ لكون الزوجات مخلوقاتٍ من الأزواج؛ فبينهم وبينهنَّ أقربُ نسب وأشدُّ اتصال وأوثق علاقة.