تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ پچھلی آیات میں قیامت کے دن حق کے ساتھ فیصلے کا ذکر ہے، ان آیات میں اس فیصلے پر عمل کا ذکر ہے۔ چنانچہ پہلے عذاب کے مستحق لوگوں کا ذکر فرمایا ہے، کیونکہ مقام ان لوگوں کو نصیحت اور ڈرانے کا ہے جو اتنی نصیحت اور اس قدر دلائل سن کر بھی کفر پر جمے رہے۔
➌ یعنی جب کافروں کا جرم ثابت ہونے کے بعد فیصلہ کر دیا جائے گا تو ٹولیاں بنا کر انھیں زبردستی ہانکتے ہوئے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا» [الطور: ۱۳] ”جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، بری طرح دھکیلا جانا۔“ مختلف گروہوں میں تقسیم یا تو کفر کی درجہ بندی کے لحاظ سے ہو گی کہ منافق درک اسفل میں ہوں گے اور کچھ وہ بھی ہوں گے جنھیں صرف آگ کا جوتا پہنایا جائے گا، یا زمانے کے لحاظ سے کہ پہلے لوگ پہلے اور بعد کے لوگ بعد میں داخل ہوں گے۔ (دیکھیے اعراف: ۳۸) ایک تقسیم مجرموں کی مختلف اقسام کے لحاظ سے بھی ہو گی، مثلاً چوروں کا گروہ، بدکاروں کا گروہ وغیرہ۔ دیکھیے سورۂ صافات (۲۲) اور سورۂ حٰمٓ السجدہ (۱۹)۔
➍ { حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا:} یعنی ان کے آنے پر جہنم کے دروازے، جو پہلے بند تھے، کھولے جائیں گے، جس طرح قید خانے کے دروازے صرف مجرموں کی آمد پر کھولے جاتے ہیں اور پھر ان پر بند کر دیے جاتے ہیں، تاکہ وہ وہیں قید رہیں۔
➎ {وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ: ”خَزَنَةٌ“ ”خَازِنٌ“} کی جمع ہے، جیسا کہ {”طَلَبَةٌ“ ”طَالِبٌ“} کی جمع ہے۔ دربان کو خازن کہا جاتا ہے، کیونکہ عموماً دربان وہیں ہوتے ہیں جہاں قیمتی چیزوں کا خزانہ ہو۔ جہنم کے دربانوں کی صفت کے لیے دیکھیے سورۂ تحریم (۶)۔
➏ { اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ …:} جہنم کے سخت دل، سخت لہجے اور قوت والے فرشتے ان سے یہ بات پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ انھیں ملامت کرنے اور ڈانٹنے کے لیے کہیں گے، جسمانی عذاب کے ساتھ یہ عذاب مزید ہو گا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۲۰) اور سورۂ ملک (۸ تا ۱۱)۔
➐ { قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ …:} یعنی ہاں آئے تھے اور انھوں نے ڈرایا بھی تھا، مگر ہم ہی ایسے اعمال کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ بات جو اس نے جہنم کو کافر جنوں اور انسانوں سے بھرنے کے متعلق فرمائی تھی (دیکھیے السجدہ: ۱۳) وہ ہمارے حق میں سچی ثابت ہوئی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اللہ جل و علا نے فرمایا «يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَـٰنِ وَفْدًا وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرْدًا» ۱؎ [19-مريم:86-85]، ’ جس روز ہم پرہیزگاروں کو رحمان کے مہمان بنا کر جمع کریں گے اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے ‘۔ «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا مَّأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا» ۱؎ [17-الإسراء:97] ’ اس کے علاوہ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہوں گے اور منہ کے بل گھسیٹ کر لائیں گے ‘۔
یہ اندھے گونگے اور بہرے ہوں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہو گا جب اس کی آتش دھیمی ہونے لگے ہم اسے اور تیز کر دیں گے۔ یہ قریب پہنچیں گے دروازے کھل جائیں گے تاکہ فوراً ہی عذاب نار شروع ہو جائے۔ پھر انہیں وہاں کے محافظ فرشتے شرمندہ کرنے کیلئے اور ندامت بڑھانے کیلئے ڈانٹ کر اور گھرک کر کہیں گے کیونکہ ان میں رحم کا تو مادہ ہی نہیں سراسر سختی کرنے والے سخت غصے والے اور بڑی بری طرح مار مارنے والے ہیں کہ کیا تمہارے پاس تمہاری ہی جنس کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں آئے تھے؟ جن سے تم سوال جواب کر سکتے تھے اپنا اطمینان اور تسلی کر سکتے تھے ان کی باتوں کو سمجھ سکتے تھے ان کی صحبت میں بیٹھ سکتے تھے، انہوں نے اللہ کی آیتیں تمہیں پڑھ کر سنائیں اپنے لائے ہوئے سچے دین پر دلیلیں قائم کر دیں۔ تمہیں اس دن کی برائیوں سے آگاہ کر دیا۔ آج کے عذابوں سے ڈرایا۔ کافر اقرار کریں گے کہ ہاں یہ سچ ہے بیشک اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں آئے۔ انہوں نے دلیلیں بھی قائم کیں ہمیں بہت کچھ کہا سنا بھی۔ ڈرایا دھمکایا بھی۔ لیکن ہم نے ان کی ایک نہ مانی بلکہ ان کے خلاف کیا مقابلہ کیا کیونکہ ہماری قسمت میں ہی شقاوت تھی۔ ازلی بدنصیب ہم تھے۔ حق سے ہٹ گئے اور باطل کے طرفدار بن گئے۔
اسی لیے کہنے والے کا نام نہیں لیا گیا بلکہ اسے مطلق چھوڑا گیا تاکہ اس کا عموم باقی رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے عدل کی گواہی کامل ہو جائے ان سے کہہ دیا جائے گا کہ اب جاؤ جہنم میں یہیں ہمیشہ جلتے بھلستے رہنا نہ یہاں سے کسی طرح کسی وقت چھٹکارا ملے نہ تمہیں موت آئے۔ آہ! یہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے جس میں دن رات جلنا ہی جلنا ہے۔ یہ ہے تمہارے تکبر کا اور حق کو نہ ماننے کا بدلہ۔ جس نے تمہیں ایسی بری جگہ پہنچایا اور یہیں کر دیا۔ کیا ہی برا حال ہے؟ اور کیا ہی عبرتناک مال ہے؟ اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذَكَرَ تعالى حُكْمَه بين عبادِهِ الذين جَمَعَهم في خلقه ورزقِهِ وتدبيرِهِ واجتماعهم في موقف القيامة؛ فرَّقَهم تعالى عند جزائِهِم كما افترقوا في الدُّنيا بالإيمان والكفرِ والتقوى والفجور، فقال: {وسيقَ الذين كَفَروا إلى جَهَنَّمَ}؛ أي: سوقاً عنيفاً، يُضربون بالسياط الموجعة من الزَّبانيةِ الغلاظِ الشدادِ، إلى شرِّ محبسٍ وأفظع موضع، وهي جهنَّم، التي قد جَمَعَتْ كلَّ عذاب، وحَضَرها كلُّ شقاءٍ، وزال عنها كلُّ سرورٍ؛ كما قال تعالى: {يَوْمَ يُدَعُّونَ إلى نارِ جَهَنَّم دعًّا}؛ أي: يُدفعون إليها دفعاً، وذلك لامتناعهم من دخولِها ويُساقون إليها، {زمراً}؛ أي: فرقاً متفرِّقة، كلُّ زمرة مع الزمرةِ التي تناسب عَمَلها وتشاكِلُ سَعْيَها، يلعنُ بعضُهم بعضاً ويبرأ بعضُهم من بعضٍ، {حتى إذا جاؤوها}؛ أي: وصلوا إلى ساحتها، {فُتِحَتْ}: لهم؛ أي: لأجلهم {أبوابُها}: لقدومِهم وقرى لنزولهم، {وقال لهم خَزَنَتُها}: مهنِّين لهم بالشقاءِ الأبديِّ والعذاب السرمديِّ، وموبِّخين لهم على الأعمال التي أوصلتْهم إلى هذا المحلِّ الفظيع: {ألم يأتِكُمْ رُسُلٌ منكم}؛ أي: من جِنْسِكُم، تعرِفونهم وتعرِفون صِدْقَهم، وتتمكَّنون من التلقِّي عنهم، {يَتْلونَ عليكم آياتِ ربِّكُم}: التي أرْسَلَهم الله بها، الدالَّةُ على الحقِّ اليقين بأوضح البراهين، {ويُنذِرونَكم لقاءَ يومِكُم هذا}؛ أي: وهذا يوجِبُ عليكم اتِّباعهم والحَذر من عذابِ هذا اليوم باستعمال تَقْواه، وقد كانت حالُكم بخلافِ هذه الحال، {قالوا}: مقرِّين بذنبهم وأنَّ حُجَّةَ الله قامتْ عليهم: {بلى}: قد جاءتْنا رسُلُ ربِّنا بآياتِهِ وبيناتِهِ، وبيَّنوا لنا غايةَ التبيينِ، وحذَّرونا من هذا اليوم. {ولكنْ حَقَّتْ كلمةُ العذابِ على الكافرينَ}؛ أي: بسبب كفرِهم وَجَبَتْ عليهم كلمةُ العذابِ التي هي لكلِّ مَنْ كَفَرَ بآيات الله وجَحَدَ ما جاءتْ به المرسلونَ، فاعْتَرَفوا بذَنْبِهم وقيام الحجَّةِ عليهم.