ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ٭ۖ وَ الۡاَرۡضُ جَمِیۡعًا قَبۡضَتُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطۡوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور انھوںنے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ زمین ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بنا رہے ہیں۔ En
اور انہوں نے خدا کی قدر شناسی جیسی کرنی چاہیئے تھی نہیں کی۔ اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ (اور) وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور عالی شان ہے
En
اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہئے تھی نہیں کی، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 67) ➊ { وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ:} یعنی جن لوگوں نے غیر اللہ کی عبادت کی، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ غیر اللہ کی عبادت کریں، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا اندازہ ہی نہیں کیا کہ اس کا مقام کس قدر بلند ہے اور اس کے سامنے وہ تمام ہستیاں جن کی وہ عبادت کر رہے ہیں، کس قدر حقیر اور بے بس ہیں، ورنہ وہ کبھی ایسا نہ کرتے۔
➋ { وَ الْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت کا حال تو یہ ہے کہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں کاغذ کی طرح لپیٹے ہوئے ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «يَوْمَ نَطْوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ» [الأنبیاء: ۱۰۴] جس دن ہم آسمان کو کاتب کے کتابوں کو لپیٹنے کی طرح لپیٹ دیں گے۔
➌ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے قیامت کے دن زمین کو مٹھی میں لینے کو اور آسمانوں کو دائیں ہاتھ میں لپیٹنے کو اور قرآن مجید اور احادیثِ صحیحہ میں اللہ تعالیٰ کے متعلق آنے والے اس طرح کے الفاظ کو نہیں مانتے اور ان سب کی ایسی تاویل کرتے ہیں جو درحقیقت انکار ہے۔ ان کے کہنے کے مطابق اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا مطلب اس کی حکومت ہے (انھیں اس سے غرض نہیں کہ قیامت کو آٹھ فرشتوں کے اسے اٹھانے کی کیا تاویل کریں گے) مٹھی میں لینے اور دائیں ہاتھ میں لپیٹنے کا مطلب ان سب کا اس کے قبضۂ قدرت میں ہونا ہے (انھیں اس سے غرض نہیں کہ یہ سب کچھ اس کے قبضۂ قدرت میں تو ہر وقت ہی ہے) یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے چہرے، پنڈلی، ہاتھ، انگلیوں، کان اور آنکھوں کا اور اس کے اترنے اور چڑھنے کا صاف انکار کرتے ہیں، بلکہ وہ اس کے سننے اور دیکھنے کے بھی منکر ہیں اور ان کا مطلب یہ کرتے ہیں کہ وہ جاننے والا ہے۔ اسی طرح وہ اس کے کلام کے بھی منکر ہیں۔ ان کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ان تمام صفات کو اپنی صفات کی طرح سمجھا، ورنہ اگر وہ ان تمام صفات اور الفاظ کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے کہ وہ ہماری طرح یا کسی بھی مخلوق کی طرح نہیں، بلکہ اس طرح ہیں جس طرح اس کی شان کے لائق ہے تو کبھی انکار نہ کرتے۔ دیکھیے انسان سمیع و بصیر ہے، فرمایا: «فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا» [الدھر: ۲] سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنا دیا۔ تو کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سمیع و بصیر ہونے کا اس لیے انکار کر دیں گے کہ اس سے وہ انسان کی طرح ہو جائے گا؟ نہیں، ہر گز نہیں! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» [الشورٰی: ۱۱] اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ یعنی اس کا سمع و بصر کسی اور کی مثل نہیں، بلکہ اس طرح ہے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ اسی طرح یقینا اس کے ہاتھ ہیں، جو دونوں ہی یمین (دائیں) ہیں، مٹھی بھی ہے، انگلیاں بھی، مگر انسان یا مخلوق کی طرح نہیں بلکہ جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ استعارہ کہہ کر ان کا انکار کرنا درست نہیں۔ قرآن مجید کی ان آیات کی تشریح جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی وہ اس قسم کی تاویلات کی تردید کرتی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [يَقْبِضُ اللّٰهُ الْأَرْضَ، وَ يَطْوِی السَّمٰوَاتِ بِيَمِيْنِهِ، ثُمَّ يَقُوْلُ أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوْكُ الْأَرْضِ؟] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «والأرض جمیعا قبضتہ…» : ۴۸۱۲] اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَرَأَ هٰذِهِ الْآيَةَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَی الْمِنْبَرِ: «‏‏‏‏وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ وَ الْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ‏‏‏‏ [الزمر: ۶۷] وَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُوْلُ هٰكَذَا بِيَدِهِ، وَ يُحَرِّكُهَا، يُقْبِلُ بِهَا وَ يُدْبِرُ، يُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَهُ أَنَا الْجَبَّارُ، أَنَا الْمُتَكَبِّرُ، أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْعَزِيْزُ، أَنَا الْكَرِيْمُ فَرَجَفَ بِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الْمِنْبَرُ، قُلْنَا لَيَخِرَّنَّ بِهِ] [مسند أحمد: 72/2، ح: ۵۴۱۳] ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر یہ آیت پڑھی: «وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ وَ الْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ» ‏‏‏‏ اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ زمین ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بنا رہے ہیں۔ اور آپ اپنے ہاتھ کو ہلاتے ہوئے اسے آگے اور پیچھے لے جاتے رہے۔ رب تعالیٰ نے خود اپنی تعریف بیان کی کہ میں جبار ہوں، میں متکبر ہوں، میں بادشاہ ہوں، میں عزیز ہوں، میں کریم ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ منبر لرزنے لگا اور ہمیں خطرہ پیدا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سمیت گر پڑیں گے۔ مسند احمد کے محقق نے فرمایا کہ اس کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس کے تمام راوی بخاری و مسلم کے راوی ہیں، ایک حماد بن سلمہ صرف مسلم کا راوی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور دوسرے سلف صالحین نے صفات کی آیات و احادیث کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا ہے، ان کی تاویل نہیں کی اور کہا ہے کہ یہ صفات اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔
➍ {سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

کیونکہ اس کی بات بھی نہیں مانی جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے سے ان تک پہنچائی تھی اور عبادت بھی اس کے لیے خالص نہیں کی بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شریک کرلیا حدیث میں آتا ہے کہ ایک یہودی عالم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اللہ کی بابت کتابوں میں یہ بات پاتے ہیں کہ وہ قیامت والے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر اس کی تصدیق فرمائی اور آیت وما قدروا اللہ کی تلاوت فرمائی صحیح بخاری تفسیر سورة زمر محدثین اور سلف کا عقیدہ ہے کہ اللہ کی جن صفات کا ذکر قرآن اور احادیث صحیحہ میں ہے جس طرح اس آیت میں ہاتھ کا اور حدیث میں انگلیوں کا اثبات ہے ان پر بلا کیف و تشبیہ اور بغیر تاویل و تحریف کے ایمان رکھنا ضروری ہے اس لیے یہاں بیان کردہ حقیقت کو مجرد غلبہ وقوت کے مفہوم میں لینا صحیح نہیں ہے۔ 67۔ 1 اس کی بابت بھی حدیئث میں آتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اَنَا المُلْکُ، اَیْنَ مُلُوک الاٰرْضِ ' میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ (آج کہاں ہیں؟ '

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر [83] کرنے کا حق ہے۔ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے [84] وہ ان باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ لوگ اس کے شریک ٹھہراتے ہیں
[83] یعنی جن مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتوں کو سجدہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، ان کم بختوں نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا مقام کس قدر ارفع و اعلیٰ ہے ان کو اللہ کی عظمت و کبریائی کا کچھ بھی اندازہ نہیں۔ بھلا اللہ کے مقابلہ میں یہ بتوں جیسی حقیر ہستیاں کیا شے ہیں۔ اگر انہیں اللہ کی عظمت اور اس کے مقام کا کچھ اندازہ ہوتا تو ایسی نادانی کی بات کبھی نہ کہتے۔
[84] قیامت کے دن اللہ کا دنیا کے بادشاہوں سے خطاب :۔
اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی اور پوری کائنات پر کلی تصرف کا یہ حال ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اس کے ہاتھ میں بالکل بے بس ہے اور اسی مضمون کی تفسیر درج ذیل احادیث بھی پیش کرتی ہیں:
1۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) زمین کو ایک مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا۔ پھر فرمائے گا:”میں بادشاہ ہوں (آج) زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کا ایک عالم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم (اپنی کتابوں میں یہ لکھا ہوا) پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا پھر فرمائے گا:”میں بادشاہ ہوں“ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہو گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عالم کے قول کی تصدیق کی۔ پھر یہی آیت پڑھی ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ تا آخر [بخاري۔ كتاب التفسير] گویا مشرکوں کے سب معبود بھی اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں ہوں گے۔ جنہیں آج یہ اللہ کا ہمسر قرار دے رہے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

زمین و آسمان اللہ کی انگلیوں میں ٭٭
مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے، اس سے بڑھ کر عزت والا اس سے زیادہ بادشاہت والا اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا ہمسر اور نہ برابری کرنے والا ہے۔ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہیں اگر قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے۔ جو شخص اللہ کو ہرچیز پر قادر مانے، وہ ہے جس نے اللہ کی عظمت کی اور جس کا یہ عقیدہ نہ ہو وہ اللہ کی قدر کرنے والا نہیں۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ اس جیسی آیتوں کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہی رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں میں یہ آئی ہے اسی طرح انہی لفظوں کے ساتھ انہیں مان لینا اور ان پر ایمان رکھنا۔ نہ ان کی کیفیت ٹٹولنا نہ ان میں تحریف و تبدیلی کرنا۔
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ { یہودیوں کا ایک بڑا عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہم یہ لکھا پاتے ہیں کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور سب زمینوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر رکھ لے گا پھر فرمائے گا ’ میں ہی سب کا مالک اور سچا بادشاہ ہوں ‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات کی سچائی پر ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھے ظاہر ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4811]‏‏‏‏
مسند کی حدیث بھی اسی کے قریب ہے اس میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7415]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { وہ اپنی انگلیوں پر بتاتا جاتا تھا پہلے اس نے کلمے کی انگلی دکھائی تھی }۔ اس روایت میں چار انگلیوں کا ذکر ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:3240،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
صحیح بخاری شریف میں ہے { اللہ تعالیٰ زمین کو قبض کر لے گا اور آسمان کو اپنی داہنی مٹھی میں لے لے گا۔ پھر فرمائے گا میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟} ۱؎ [صحیح بخاری:4812]‏‏‏‏
مسلم کی اس حدیث میں ہے کہ { زمینیں اس کی ایک انگلی پر ہوں گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے پھر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2787]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ ہلاتے جاتے آگے پیچھے لا رہے تھے اور فرماتے تھے { اللہ تعالیٰ اپنی بزرگی آپ بیان فرمائے گا کہ ’ میں جبار ہوں میں متکبر ہوں میں مالک ہوں میں باعزت ہوں میں کریم ہوں ‘ }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بیان کے وقت اتنا ہل رہے تھے کہ ہمیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سمیت گر نہ پڑیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:72/2:صحیح]‏‏‏‏
ایک روایت میں ہے کہ { سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی پوری کیفیت دکھا دی کہ کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکایت کیا تھا؟ کہ اللہ تبارک و آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا ’ میں بادشاہ ہوں ‘۔ اپنی انگلیوں کو کبھی کھولے گا کبھی بند کرے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہل رہے تھے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہلنے سے سارا منبر ہلنے لگا اور مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا نہ دے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2788]‏‏‏‏
بزار کی رویت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی اور منبر ہلنے لگا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ آئے گئے }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13321:ضعیف]‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
معجم کبیر طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے فرمایا: { میں آج تمہیں سورۃ الزمر کی آخری آیتیں سناؤں گا جسے ان سے رونا آ گیا وہ جنتی ہو گیا }، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت سے لے کر ختم سورۃ تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں بعض روئے اور بعض کو رونا نہ آیا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ہر چند رونا چاہا لیکن رونا نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا میں پھر پڑھوں گا جسے رونا نہ آئے وہ رونی شکل بنا کر بہ تکلف روئے} }۔۱؎ [طبرانی کبیر:2459:ضعیف]‏‏‏‏
ایک اس سے بڑھ کر غریب حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے تین چیزیں اپنے بندوں میں چھپالی ہیں اگر وہ انہیں دیکھ لیتے تو کوئی شخص کبھی کوئی بدعملی نہ کرتا۔
[١]‏‏‏‏ اگر میں پردہ ہٹا دیتا اور وہ مجھے دیکھ کر خوب یقین کر لیتے اور معلوم کر لیتے کہ میں اپنی مخلوق کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہوں جبکہ ان کے پاس آؤں اور آسمانوں کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر اپنی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر کہوں میں بادشاہ ہوں میرے سوا ملک کا مالک کون ہے؟
[٢]‏‏‏‏ پھر میں انہیں جنت دکھاؤں اور اس میں جو بھلائیاں ہیں سب ان کے سامنے کر دوں اور وہ یقین کے ساتھ خوب اچھی طرح دیکھ لیں۔
[٣]‏‏‏‏ اور میں انہیں جہنم دکھا دوں اور اس کے عذاب دکھا دوں یہاں تک کہ انہیں یقین آ جائے۔ لیکن میں نے یہ چیزیں قصداً ان سے پوشیدہ کر رکھی ہیں۔ تاکہ میں جان لوں کہ وہ مجھے کس طرح جانتے ہیں کیونکہ میں نے یہ سب باتیں بیان کر دی ہیں }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:2447:ضعیف و منقطع]‏‏‏‏
اس کی سند متقارب ہے اور اس نسخے سے بہت سی حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔