اور بلا شبہ یقینا تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔
En
اور (اے محمدﷺ) تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے۔ کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے
یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاںکاروں میں سے ہوجائے گا
En
(آیت 65) ➊ { وَلَقَدْاُوْحِيَاِلَيْكَ …:} سلیمان الجمل نے فرمایا: {”وَلَقَدْ“} اور {”لَىِٕنْاَشْرَكْتَ“} دونوں میں لام کے بعد قسم مقدر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ بات قسم کھا کر نہایت تاکید کے ساتھ فرمائی ہے۔“ {”لَىِٕنْاَشْرَكْتَ“} (اگر تو نے شرک کیا) کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور پہلے پیغمبروں میں سے ہر ایک پیغمبر بھی۔ یعنی آپ کو اور آپ سے پہلے ایک ایک پیغمبر کو مخاطب کرکے وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو ُتو نے جو بھی اچھا کام کیا ہو گا یقینا سب ضائع ہو جائے گا اور یقینا تو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۸۸)۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ کوئی نبی شرک نہیں کرے گا، پھر انھیں یہ وحی کرنے کا مطلب کیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس سے شرک کی شامت اور برائی بیان کرنا مقصود ہے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کے اتنے مقرب بندے شرک کا ارتکاب کر بیٹھیں تو ان کا عمل ضائع ہو جائے گا، تو پھر دوسرے لوگوں کی کیا حیثیت ہے۔ گویا پیغمبروں کو سنا کر ان کی قوموں کو ڈرایا گیا ہے۔ ➌ شرک کے ساتھ تمام اعمال ضائع ہونے کی یہ وعید ان لوگوں کے لیے ہے جن کی موت کفر و شرک کی حالت میں واقع ہو، جیسا کہ فرمایا: «وَمَنْيَّرْتَدِدْمِنْكُمْعَنْدِيْنِهٖفَيَمُتْوَهُوَكَافِرٌفَاُولٰٓىِٕكَحَبِطَتْاَعْمَالُهُمْفِيالدُّنْيَاوَالْاٰخِرَةِ» [البقرۃ: ۲۱۷]”اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے، پھر اس حال میں مرے کہ وہ کافر ہو تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے۔“ توبہ کر لینے والے اس سے مستثنیٰ ہیں۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۶۸ تا ۷۰)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
65۔ 1 اگر تو نے شرک کیا ' مطلب ہے، اگر موت شرک پر آئی اور اس سے توبہ نہ کی۔ خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جو شرک سے پاک بھی تھے اور آئندہ کے لئے محفوظ بھی۔ کیونکہ پیغمبر اللہ کی حفاظت و عصمت میں ہوتا ہے ان سے ارتکاب شرک کا کوئی امکان نہیں تھا، لیکن دراصل امت کے لئے تعریض اور اس کو سمجھانا مقصود ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
65۔ حالانکہ آپ کی طرف یہ وحی کی جا چکی ہے اور ان لوگوں کی طرف بھی جو آپ سے پہلے تھے، کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے عمل برباد [82] ہو جائیں گے اور آپ خسارہ اٹھانے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔
[82] واضح رہے کہ انبیاء سے شرک کا صدور محال ہے۔ کیونکہ وہ جن مقاصد کے لئے مبعوث کئے جاتے ہیں ان میں اولین مقصد شرک کی بیخ کنی اور توحید کی ترویج ہوتا ہے۔ اسی بات پر وہ خود قائم رہتے اور دوسروں کو دعوت دیتے ہیں۔ یہاں جو آپ کو مخاطب کر کے یہ بات کہی گئی ہے۔ تو اس سے شرک کی انتہائی مذمت مقصود ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔