تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ: ”وَكَلَ يَكِلُ“} (ض) سپرد کرنا۔ ”وکیل“ جس کے سپرد کوئی چیز کی جائے کہ وہ اس کی حفاظت اور نگرانی کرے اور اس میں جو چاہے کرے۔ یہ اکیلے اللہ کی عبادت کی دوسری دلیل ہے، یعنی جس طرح ہر چیز کو پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح ہر چیز کی تدبیر و حفاظت کرنے والا بھی صرف اللہ تعالیٰ ہے، نہ کسی چیز کے پیدا کرنے میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ اس کی حفاظت و تدبیر میں۔ اس لیے اپنی ہر چیز اور ہر کام اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کاحکم قرآن میں بار بار آیا ہے، فرمایا: «وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ» [آل عمران: ۱۲۲] ”اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔“ اور فرمایا: «وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ» [إبراہیم: ۱۲] ”اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ بھروسا کرنے والے بھروسا کریں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عثمان! (رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا } }۔
یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:88]۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ’ اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں ‘، یہاں بھی فرمایا کہ ’ تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبرُ تعالى عن عظمتِهِ وكمالِهِ الموجبِ لخسرانِ مَنْ كَفَرَ به، فقال: {الله خالِقُ كلِّ شيءٍ}: هذه العبارة وما أشْبَهَها مما هو كثيرٌ في القرآن تدلُّ على أنَّ جميعَ الأشياءِ ـ غيرَ اللهِ ـ مخلوقةٌ؛ ففيها ردٌّ على كلِّ مَنْ قال بقدم بعض المخلوقاتِ؛ كالفلاسفة القائلين بقدم الأرضِ والسماواتِ، وكالقائلينَ بقِدَمِ الأرواح، ونحو ذلك من أقوال أهل الباطل المتضمِّنة تعطيلَ الخالق عن خَلْقِهِ، وليس كلامُ اللهِ من الأشياء المخلوقةِ؛ لأنَّ الكلام صفةُ المتكلم ـ والله تعالى بأسمائِهِ وصفاته أولٌ ليس قبلَه شيءٌ ـ؛ فأخذُ أهل الاعتزال من هذه الآية ونحوها أنَّه مخلوقٌ من أعظم الجهل؛ فإنَّه تعالى لم يَزَلْ بأسمائِهِ وصفاتِهِ، ولم يَحْدُثْ له صفةٌ من صفاتِهِ، ولم يكنْ معطَّلاً عنها بوقتٍ من الأوقات.
والشاهدُ من هذا أنَّ الله تعالى أخبر عن نفسِهِ الكريمةِ أنَّه خالقٌ لجميع العالم العلويِّ والسفليِّ، وأنَّه {على كلِّ شيءٍ وكيلٌ}، والوكالةُ التامةُ لا بدَّ فيها من علم الوكيل بما كان وكيلاً عليه، وإحاطتِهِ بتفاصيلِهِ، ومن قدرةٍ تامَّةٍ على ما هو وكيلٌ عليه؛ ليتمكَّن من التصرُّف فيه، ومن حفظٍ لما هو وكيلٌ عليه، ومن حكمةٍ ومعرفةٍ بوجوه التصرُّفات ليصرِّفَها ويدبِّرَها على ما هو الأليقُ؛ فلا تتمُّ الوكالةُ إلاَّ بذلك كله؛ فما نَقَصَ من ذلك؛ فهو نقصٌ فيها. ومن المعلوم المتقرِّرِ أنَّ الله تعالى منزَّهٌ عن كل نقصٍ في صفةٍ من صفاتِهِ؛ فإخبارُهُ بأنَّه على كلِّ شيء وكيلٌ؛ يدلُّ على إحاطةِ علمِهِ بجميع الأشياء، وكمال قدرتِهِ على تدبيرِها، وكمال تدبيرِهِ، وكمال حكمتِهِ التي يَضَعُ بها الأشياءَ مواضِعَها.