ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 62

اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ ۫ وَّ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿۶۲﴾
اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ En
خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور وہی ہر چیز کا نگراں ہے
En
اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) ➊ { اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ …:} اہلِ توحید کے لیے وعدے اور مشرکین کے لیے وعید کے بعد دوبارہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور رد شرک کے دلائل کا ذکر شروع فرمایا۔ ابن عاشور نے فرمایا: { اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ } اور اس کے بعد والے دو جملے {قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّيْۤ اَعْبُدُ اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ } کی تمہید ہیں اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دلیل ہیں۔ پہلا جملہ { اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ } ہے، ظاہر ہے کہ جب ہر چیز پیدا اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے تو عبادت بھی اسی کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود برحق ہونے کی دلیل کے طور پر اپنے ہر چیز کے خالق ہونے کو جا بجا بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۰۲)، رعد (۱۶)، فاطر (۳)، مومن (۶۲) اور سورۂ حج (۷۳)۔
➋ {وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ: وَكَلَ يَكِلُ} (ض) سپرد کرنا۔ وکیل جس کے سپرد کوئی چیز کی جائے کہ وہ اس کی حفاظت اور نگرانی کرے اور اس میں جو چاہے کرے۔ یہ اکیلے اللہ کی عبادت کی دوسری دلیل ہے، یعنی جس طرح ہر چیز کو پیدا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح ہر چیز کی تدبیر و حفاظت کرنے والا بھی صرف اللہ تعالیٰ ہے، نہ کسی چیز کے پیدا کرنے میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ اس کی حفاظت و تدبیر میں۔ اس لیے اپنی ہر چیز اور ہر کام اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کاحکم قرآن میں بار بار آیا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ» ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۲۲] اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ» ‏‏‏‏ [إبراہیم: ۱۲] اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ بھروسا کرنے والے بھروسا کریں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

یعنی ہر چیز کا خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی وہی وہ جس طرح چاہے تصرف اور تدبیر کرے ہر چیز اس کے ماتحت اور زیر تصرف ہے کسی کو سرتابی یا انکار کی مجال نہیں وکیل بمعنی محافظ اور مدبر ہر چیز اس کے سپرد ہے اور وہ بغیر کسی کی مشارکت کے ان کی حفاظت اور تدبیر کر رہا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ اللہ ہی ہر چیز [80] کا پیدا کرنے والا اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے
[80] یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کا صرف خالق ہی نہیں بلکہ ہر آن ہر چیز کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔ جس سے یہ نظام کائنات باقاعدگی سے چل رہا ہے۔ اس نظام کائنات کی باقاعدگی سے تمام جانداروں کا رزق وابستہ ہے۔ بارش سے زمین نباتات اگاتی ہے۔ نیز ہر طرح کی معدنیات اور دوسرے خزانے جو زمین میں مدفون ہیں سب اللہ ہی کے علم اور تصرف میں ہیں۔ آج بھی اس کے تصرف میں ہیں اور کل بھی اسی کے تصرف میں ہوں گے۔ نیز جنت اور دوزخ بھی اسی کے تصرف میں ہے۔ لہٰذا جو شخص اللہ کی آیات کا منکر اور اس کا باغی ہے وہ کیسے فلاح کی امید رکھ سکتا ہے ایسے لوگ یقیناً خسارہ میں ہی رہیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور نگران ہے ٭٭
تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق مالک رب اور متصرف اللہ تعالیٰ اکیلا ہی ہے۔ ہرچیز اس کی ماتحتی میں اس کے قبضے اور اس کی تدبیر میں ہے۔ سب کا کار ساز اور وکیل وہی ہے۔ تمام کاموں کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے زمین و آسمان کی کنجیوں اور ان کے خزانوں کا وہی تنہا مالک ہے حمد و ستائش کے قابل اور ہرچیز پر قادر وہی ہے۔ کفر و انکار کرنے والے بڑے ہی گھاٹے اور نقصان میں ہیں۔
امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے یہاں ایک حدیث وارد کی ہے گو سند کے لحاظ سے وہ بہت ہی غریب ہے بلکہ صحت میں بھی کلام ہے لیکن تاہم ہم بھی اسے یہاں ذکر کر دیتے ہیں۔ اس میں ہے کہ { سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اے عثمان! (‏‏‏‏رضی اللہ عنہ) تم سے پہلے کسی نے مجھ سے اس آیت کا مطلب دریافت نہیں کیا } }۔
اس کی تفسیر یہ کلمات ہیں { «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَاَللَّه أَكْبَر وَسُبْحَان اللَّه وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِر اللَّه وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّهِ الْأَوَّل وَالْآخِر وَالظَّاهِر وَالْبَاطِن بِيَدِهِ الْخَيْر يُحْيِي وَيُمِيت وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء قَدِيْر» ۔ اے عثمان! جو شخص اسے صبح کو دس بار پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے چھ فضائل عطا فرماتا ہے اول تو وہ شیطان اور اس کے لشکر سے بچ جاتا ہے، دوم اسے ایک قنطار اجر ملتا ہے، تیسرے اس کا ایک درجہ جنت میں بلند ہوتا ہے، چوتھی اس کا حورعین سے نکاح کرا دیا جاتا ہے، پانچویں اس کے پاس بارہ فرشتے آتے ہیں، چھٹے اسے اتنا ثواب دیا جاتا ہے جیسے کسی نے قرآن اور توراۃ اور انجیل و زبور پڑھی۔ پھر اس ساتھ ہی اسے ایک قبول شدہ حج اور ایک مقبول عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہو جائے تو شہادت کا درجہ ملتا ہے }۔۱؎ [مجمع الزوائد:115/10:باطل و موضوع]‏‏‏‏ یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں بڑی نکارت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آؤ تم ہمارے معبودوں کی پوجا کرو اور ہم تمہارے رب کی پرستش کریں گے اس پر آیت «قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ» ۱؎ [39-الزمر:64-65]‏‏‏‏ تک نازل ہوئی۔‏‏‏‏
یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے «وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:88]‏‏‏‏۔ اوپر انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے پھر فرمایا ہے ’ اگر بالفرض یہ انبیاء بھی شرک کریں تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جائیں ‘، یہاں بھی فرمایا کہ ’ تیری طرف اور تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء (‏‏‏‏علیہم السلام) کی طرف ہم نے یہ وحی بھیج دی ہے کہ جو بھی شرک کرے اس کا عمل غارت۔ اور وہ نقصان یافتہ اور زیاں کار، پس تجھے چاہیئے کہ تو خلوص کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت میں لگا رہ اور اس کا شکر گزار رہ۔ تو بھی اور تیرے ماننے والے مسلمان بھی ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی عظمت و کمال کے متعلق آگاہ فرماتا ہے جو اس شخص کے لیے خسارے کا باعث ہیں جس نے ان کا انکار کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿اَللّٰهُ خَالِـقُ كُ٘لِّ شَیْءٍ یہ عبارت اور اس قسم کی دیگر عبارات، قرآن کریم میں بکثرت ملتی ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ (اور اس کے اسماء و صفات) کے سوا ہر چیز مخلوق ہے۔ اس آیت کریمہ میں ہر اس شخص کے نظریے کا رد ہے جو مخلوق کے قدیم ہونے کا قائل ہے، مثلاً: فلاسفہ کہتے ہیں کہ یہ آسمان اور زمین قدیم ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کے قول اور دیگر باطل نظریات کا بھی رد ہے جو روح کو قدیم مانتے ہیں۔ اہل باطل کے ان باطل نظریات کو مان لینے سے خالق کا اپنی تخلیق سے معطل ہونا لازم آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق نہیں کیونکہ کلام متکلم کی صفت ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اسماء و صفات کے ساتھ ہمیشہ سے موجود ہے، اس سے پہلے کچھ بھی موجود نہ تھا۔
معتزلہ نے اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات سے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق ہے۔ یہ ان کی سب سے بڑی جہالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اسماء و صفات سمیت قدیم ہے، اس کی صفات نئی پیدا ہوئی ہیں نہ اس سے کسی صفت کا تعطل ہواہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں خود خبر دی ہے کہ اس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز پر وکیل ہے۔ اور وکالتِ کامل میں وکیل کے لیے لازم ہے کہ وہ جس چیز کی وکالت کر رہا ہے اسے اس کا پورا علم ہو اور وہ اس کی تمام تفاصیل کا احاطہ کیے ہوئے ہو، جس چیز پر وہ وکیل ہے اس میں تصرف کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہو، اس کی حفاظت کر سکتا ہو، تصرف کے تمام پہلوؤ ں کی حکمت اور معرفت رکھتا ہو تاکہ بہترین طریقے سے اس میں تصرف اور اس کی تدبیر کر سکے۔ مذکورہ بالا تمام امور کے بغیر وکالت کی تکمیل ممکن نہیں۔ ان امور میں جتنا نقص واقع ہو گا اس کی وکالت بھی اتنی ہی ناقص ہوگی۔
یہ چیز متحقق اور معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں سے ہر صفت میں ہر قسم کے نقص سے منزہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا یہ خبر دینا کہ وہ ہر چیز پر وکیل ہے دلالت کرتا ہے کہ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ہر چیز کی تدبیر پر کامل قدرت اور کامل حکمت رکھتا ہے جس کے ذریعے سے اس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبرُ تعالى عن عظمتِهِ وكمالِهِ الموجبِ لخسرانِ مَنْ كَفَرَ به، فقال: {الله خالِقُ كلِّ شيءٍ}: هذه العبارة وما أشْبَهَها مما هو كثيرٌ في القرآن تدلُّ على أنَّ جميعَ الأشياءِ ـ غيرَ اللهِ ـ مخلوقةٌ؛ ففيها ردٌّ على كلِّ مَنْ قال بقدم بعض المخلوقاتِ؛ كالفلاسفة القائلين بقدم الأرضِ والسماواتِ، وكالقائلينَ بقِدَمِ الأرواح، ونحو ذلك من أقوال أهل الباطل المتضمِّنة تعطيلَ الخالق عن خَلْقِهِ، وليس كلامُ اللهِ من الأشياء المخلوقةِ؛ لأنَّ الكلام صفةُ المتكلم ـ والله تعالى بأسمائِهِ وصفاته أولٌ ليس قبلَه شيءٌ ـ؛ فأخذُ أهل الاعتزال من هذه الآية ونحوها أنَّه مخلوقٌ من أعظم الجهل؛ فإنَّه تعالى لم يَزَلْ بأسمائِهِ وصفاتِهِ، ولم يَحْدُثْ له صفةٌ من صفاتِهِ، ولم يكنْ معطَّلاً عنها بوقتٍ من الأوقات.

والشاهدُ من هذا أنَّ الله تعالى أخبر عن نفسِهِ الكريمةِ أنَّه خالقٌ لجميع العالم العلويِّ والسفليِّ، وأنَّه {على كلِّ شيءٍ وكيلٌ}، والوكالةُ التامةُ لا بدَّ فيها من علم الوكيل بما كان وكيلاً عليه، وإحاطتِهِ بتفاصيلِهِ، ومن قدرةٍ تامَّةٍ على ما هو وكيلٌ عليه؛ ليتمكَّن من التصرُّف فيه، ومن حفظٍ لما هو وكيلٌ عليه، ومن حكمةٍ ومعرفةٍ بوجوه التصرُّفات ليصرِّفَها ويدبِّرَها على ما هو الأليقُ؛ فلا تتمُّ الوكالةُ إلاَّ بذلك كله؛ فما نَقَصَ من ذلك؛ فهو نقصٌ فيها. ومن المعلوم المتقرِّرِ أنَّ الله تعالى منزَّهٌ عن كل نقصٍ في صفةٍ من صفاتِهِ؛ فإخبارُهُ بأنَّه على كلِّ شيء وكيلٌ؛ يدلُّ على إحاطةِ علمِهِ بجميع الأشياء، وكمال قدرتِهِ على تدبيرِها، وكمال تدبيرِهِ، وكمال حكمتِهِ التي يَضَعُ بها الأشياءَ مواضِعَها.