(آیت 57){ اَوْتَقُوْلَلَوْاَنَّاللّٰهَهَدٰىنِيْ …:} یعنی ایسا نہ ہو کہ جب کوئی اور عذر نہ ملے تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ دے کہ اس نے مجھے ہدایت نہیں دی، اگر وہ مجھے ہدایت دیتا تو میں ضرور پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔ یہ وہی بات ہے جو زندگی میں کفار کہتے رہے: «لَوْشَآءَاللّٰهُمَاۤاَشْرَكْنَاوَلَاۤاٰبَآؤُنَاوَلَاحَرَّمْنَامِنْشَيْءٍ» [الأنعام: ۱۴۸]”اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے اور نہ ہم کوئی چیز حرام کرتے۔“ دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۸) اور سورۂ نحل (۳۵) کی تفسیر۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اور قرآن بھیج کر اپنی حجت تمام کر دی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
57۔ 1 یعنی اگر اللہ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں شرک اور معاصی سے بچ جاتا۔ یہ اس طرح ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر مشرکین کا قول نقل کیا گیا، (لَوْشَاۗءَاللّٰهُمَآاَشْرَكْنَا) (6۔ الانعام:148) اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے، ان کا قول کَلِمَۃُحَقٍّبِھَاالْبَاطِلُ کا مصداق ہے (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
57۔ یا یوں کہے کہ: ”اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیزگاروں سے ہوتا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔