قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵۳﴾
کہہ دے اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ بے شک وہی تو بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
(اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے
En
(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 53) ➊ {قُلْ …:} سورت کی ابتدا سے یہاں تک مختلف طریقوں سے شرک کی تردید اور مشرکین کو وعید کا ایک لمبا سلسلہ چلا آ رہا ہے، جس کی پروا بظاہر کافر و مشرک لوگ نہیں کرتے، مگر اللہ تعالیٰ کے اس قدر پرزور کلام سے ان کے دلوں میں خوف کا پیدا ہونا ایک فطری چیز ہے، جو حد سے بڑھ جائے تو نتیجہ یاس اور ناامیدی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہر جگہ ڈرانے کے ساتھ بشارت کا بیان بھی ضرور فرماتا ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ اس کے بندے ناامید ہو کر اس کی جناب میں آنے کی جرأت ہی نہ کریں، اور بشارت اور ترغیب کے ساتھ ترہیب اور ڈرانے کا بیان بھی فرماتا ہے، تاکہ وہ بے خوف نہ ہو جائیں، جیسا کہ جراح نشتر بھی لگاتا ہے اور مرہم بھی رکھتا ہے، پھر پرہیز کی تاکید کرتا ہے اور بد پرہیزی کے انجام سے ڈراتا ہے، فرمایا: «نَبِّئْ عِبَادِيْۤ اَنِّيْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ (49) وَ اَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ» [الحجر: ۴۹، ۵۰] ”میرے بندوں کو خبر دے دے کہ بے شک میں ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والاہوں۔ اور یہ بھی کہ بے شک میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔“ اور فرمایا: «وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ» [الرعد: ۶] ”اور بے شک تیرا رب یقینا لوگوں کے لیے ان کے ظلم کے باوجود بڑی بخشش والا ہے اور بلاشبہ تیرا رب یقینا بہت سخت سزا والا ہے۔“ یہاں بھی وعید کے لمبے سلسلے کے بعد اپنے بندوں کو {” لَا تَقْنَطُوْا “} کے ساتھ اپنی رحمت کی امید دلائی اور بعد کی آیات میں انھیں جلد از جلد توبہ کی تلقین فرما کر وقت ہاتھ سے نکلنے سے ڈرایا ہے۔
➋ {يٰعِبَادِيْ:} بندے مومن ہوں یا کافر، سب اللہ کے بندے ہیں، اس لیے قرآن مجید میں {”عِبَادِيْ“} کا لفظ دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ مومن و کافر دونوں فریقوں کو اپنے بندے قرار دیا: «اِنَّهٗ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْ عِبَادِيْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا» [المؤمنون: ۱۰۹] ”بے شک حقیقت یہ ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے۔“ اور کفار کو اپنے بندے کہا: «وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ» [الفرقان: ۱۷] ”اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے؟“ اور دیکھیے سورۂ زمر (۱۶) مگر اس کا اکثر استعمال اللہ کے مخلص اور مومن بندوں کے لیے ہوا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ» [الحجر: ۴۲] ”بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں۔“
➌ {الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ:} اس آیت میں {” يٰعِبَادِيْ“} سے مراد قرآن مجید کے اکثر استعمال کے خلاف کفار و مشرکین ہیں، اس کی دلیل اس کے بعد کی آیات ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ» [الزمر: ۵۴] ”اور اس کے مطیع ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ جائے، پھر تمھاری مدد نہیں کی جائے گی۔“ اور ان کا یہ کہنا: «وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ» [الزمر: ۵۶] ”اور بے شک میں تو مذاق کرنے والوں سے تھا۔“ اور یہ آیت: «بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ» [الزمر: ۵۹] ”کیوں نہیں،بے شک تیرے پاس میری آیات آئیں تو تو نے انھیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں سے تھا۔“
صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ یہ آیات کچھ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئیں، چنانچہ انھوں نے فرمایا: [أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ كَانُوْا قَدْ قَتَلُوْا وَ أَكْثَرُوْا، وَ زَنَوْا وَ أَكْثَرُوْا، فَأَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقَالُوْا إِنَّ الَّذِيْ تَقُوْلُ وَ تَدْعُوْ إِلَيْهِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً، فَنَزَلَ: «وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا يَزْنُوْنَ» [الفرقان: ۶۸] وَ نَزَلَ: «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ» [الزمر: ۵۳]] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «یا عبادی الذین أسرفوا…» : ۴۸۱۰] ”مشرکین میں سے کچھ لوگ جنھوں نے قتل کیے تھے اور بہت کیے تھے اور زنا کیا تھا اور بہت کیا تھا، پھر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”آپ جو بات کہتے ہیں اور جس کی دعوت دیتے ہیں یقینا وہ بہت اچھی ہے، اگر آپ ہمیں بتائیں کہ ہم نے جو کچھ کیا اس کا کوئی کفارہ ہے؟“ تو یہ آیت اتری: «وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا يَزْنُوْنَ» [الفرقان: ۶۸] ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور اس جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔“ (یعنی اس کے بعد کی آیات میں ہے: «اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [الفرقان: ۷۰] ”مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا نیک عمل، تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“) اور یہ آیت اتری: «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ» ”کہہ دے اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ۔“
➍ ”اسراف“ کا معنی کسی بھی چیز میں حد سے گزرنا ہے، عموماً اس کا استعمال خرچ کرنے میں ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَ لَمْ يَقْتُرُوْا» [الفرقان: ۶۷] ”اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں۔“ یہاں اس سے مراد کفر و شرک کرکے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی ہے۔ {” عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ “} کا مطلب یہ ہے کہ تمھاری زیادتی کا نقصان تم ہی کو ہے، اللہ تعالیٰ کو یا کسی اور کو نہیں، اس لیے اس زیادتی کے مداوے کی فکر بھی تمھی کو ہونی چاہیے، جیسا کہ فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ» [یونس: ۲۳] ”اے لوگو! تمھاری سرکشی تمھاری جانوں ہی پر ہے۔“
➎ {لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ: ”قَنِطَ يَقْنَطُ قُنُوْطًا“} (ع، ض) ناامید ہونا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کئی طرح سے گناہوں کی بخشش کی امید دلائی ہے۔ تفسیر رازی نے وہ دس وجہیں بیان کی ہیں:
(1) {” يٰعِبَادِيْ “} (اے میرے بندو!) بندہ غلام کو کہتے ہیں۔ غلام بے چارہ مسکین، عاجز اور محتاج ہوتا ہے، اس کی مسکنت اور بے چارگی اسے مالک کے رحم و کرم کا حق دار بناتی ہے۔
(2) اللہ تعالیٰ نے {” يٰعِبَادِيْ“} (اے میرے بندو!) کہہ کر ان کی نسبت اپنی طرف فرمائی اور جسے اللہ تعالیٰ اپنا کہہ دے اس کے ناامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
(3) {” اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ “} كا مطلب يہ ہے كہ انهوں نے جو گناه کیے ان كا نقصان انھی كو ہے، الله تعالی كا اس سے کچھ نهيں بگڑا، اس ليے كوئی وجہ نہيں كہ وہ ان کی توبہ قبول نہ کرے۔
(4) {” لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ “} میں صریح الفاظ کے ساتھ ناامید ہونے سے منع فرمایا۔
(5) {” يٰعِبَادِيْ“} (اے میرے بندو!) کے ساتھ خطاب کے بعد کلام کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا: {”لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَتِيْ“} (کہ میری رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ) مگر {”مِنْ رَّحْمَتِيْ“} کے بجائے فرمایا: {” مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ “} (اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ) کیونکہ لفظ {” اللّٰهِ “} اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سب سے بڑا اور اس کی تمام صفات کا جامع نام ہے۔ تمام صفات کمال کی جامع ہستی سے ناامید ہونا کسی طرح بھی جائز نہیں۔
(6) {اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا:} کہنا تو یہ تھا کہ {”إِنَّهُ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ“} (بے شک وہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) مگر دوبارہ اپنا نام لے کر فرمایا: {” اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا “} (کہ بے شک اللہ تعالیٰ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) دوبارہ اپنا گرامی قدر نام ذکر کرنے اور {” اِنَّ “} کے ساتھ اس کی تاکید سے مغفرت کے وعدے میں مبالغے کا اظہار ہو رہا ہے۔
(7) {جَمِيْعًا: ” الذُّنُوْبَ “} میں الف لام استغراق کے لیے ہے، اس لیے تمام گناہوں کی مغفرت کے وعدے کے لیے {” يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ “} ہی کافی تھا، مگر {” جَمِيْعًا “} کے ساتھ مزید تاکید فرما دی کہ اللہ تعالیٰ توبہ کے ساتھ تمام گناہ، حتیٰ کہ شرک جیسے اکبر الکبائر کو بھی بخش دیتا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں {”اَنِيْبُوْۤا “} اور {” اَسْلِمُوْا “} وغیرہ الفاظ کے ساتھ وضاحت آ رہی ہے۔
(8) {اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ:” الْغَفُوْرُ “ ”غَفَرَ يَغْفِرُ“} کا اصل معنی پردہ ڈالنا ہے اور {” الْغَفُوْرُ “} اس سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کے گناہوں پر بہت زیادہ پردہ ڈالنے والا ہے۔ یہ عذاب کا باعث بننے والی چیزوں کو دور کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
(9) {” الرَّحِيْمُ “ ”رُحْمٌ“} سے مبالغے کا صیغہ ہے کہ وہ بے حد رحم کرنے والا ہے۔ یہ مغفرت کے بعد مزید رحمت کے نتیجے میں عطا ہونے والی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان دونوں کا فرق شعراوی نے ایک مقام پر ایک مثال کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی ہے، اگرچہ یہ مکمل نہیں ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی چور کو چوری کرتے ہوئے پکڑ لیتا ہے، اب وہ اسے سزا دے یا دلوا سکتا ہے، مگر وہ اس کی منتوں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کے وعدے کی وجہ سے اس کی چوری پر پردہ ڈال دیتا ہے اور کسی کو اس کی اطلاع نہیں دیتا، یہ مغفرت ہے۔ پھر وہ اس کی حالت زار پر رحم کرتے ہوئے اسے کچھ رقم دے کر کاروبار میں کھڑا کر دیتا ہے، یہ اس پر رحم ہے۔
(10) {” اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} میں {” هُوَ “} ضمیر فصل اور خبر {” الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} پر الف لام کی وجہ سے کلام میں تاکید اور حصر پیدا ہو گیا۔ یعنی اس کے سوا کوئی نہ غفور ہے نہ رحیم، اس سے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے کمال کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ تمام وجوہ اللہ تعالیٰ کی کمال مغفرت و رحمت پر اور بندوں کے اس سے کسی حال میں بھی ناامید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان میں سے وافر حصہ عطا فرمائے۔ (آمین)
➏ {اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا …: ” وَ اَنِيْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ “} اور بعد کی آیات سے ظاہر ہے کہ یہ وعدہ صرف ان لوگوں سے ہے جو توبہ کریں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی یہی تفسیر اختیار فرمائی ہے، کیونکہ اگر وہ کافر و مشرک ہے تو کفر و شرک سے توبہ کرنے اور اسلام قبول کرنے کے بغیر اس کی بخشش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر وہ مسلمان ہے تو اس کے تمام گناہوں کی معافی کا وعدہ توبہ یا اس کے قائم مقام اعمال کے ساتھ ہے، ورنہ اس کی بخشش اللہ تعالیٰ کی مشیّت پر موقوف ہے، وہ جسے چاہے گا بخش دے گا، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ» [النساء: ۱۱۶] ”بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔“ اگر یہ کہا جائے کہ ہر مسلمان کے تمام گناہ توبہ کے بغیر معاف ہو جائیں گے تو شریعت کے احکام کی کوئی وقعت باقی نہیں رہتی۔ البتہ اس بات میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس مسلمان کے گناہ چاہے گا سزا دیے بغیر معاف کر دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا، مگر آخر کار ہر موحّد مسلمان کو جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ اس وقت کفار خواہش کریں گے کہ کاش! وہ بھی مسلمان ہوتے، خواہ کسی درجے کے ہوتے، کیونکہ کفار پر اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتیں حرام کر دی ہیں۔ دیکھیے سورۂ حجر کی آیت (۲) کی تفسیر۔ اگر بخشش کا یہ معنی کیا جائے کہ آخر کار تمام مسلمان جنت میں جائیں گے تو {” اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا “} (بے شک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) سے صرف کافر مستثنیٰ ہوں گے کہ ان کے گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوں گے۔
➐ اس آیت اور بعد کی آیات سے اللہ تعالیٰ کی بے انتہا رحمت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کو کس قدر معاف فرمانے والا ہے۔ سورۂ فرقان (۶۹، ۷۰) میں شرک، قتل ناحق اور زنا کرنے والوں کے ساتھ توبہ، ایمان اور عمل صالح کے بعد ان کی گزشتہ برائیوں کو نیکیوں میں بدل دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس لیے کسی بندے کو اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے، خواہ اس کے گناہوں سے زمین و آسمان بھرے ہوئے ہوں۔ صرف اللہ کی طرف پلٹنے اور اس کے سامنے اعتراف کے بعد توبہ کی ضرورت ہے، وہ سب گناہ معاف فرما دے گا، کیونکہ اسے اپنے بندوں کی توبہ بہت ہی محبوب ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: «اَلَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ» [التوبۃ: ۱۰۴] ”کیا انھوں نے نہیں جانا کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ اور فرمایا: «وَ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [النساء: ۱۱۰] ”اور جو بھی کوئی برا کام کرے، یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے وہ اللہ کوبے حد بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔“ منافقین کے متعلق فرمایا: «اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيْرًا (145) اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا» [النساء: ۱۴۵، ۱۴۶] ”بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور تو ہرگز ان کا کوئی مدد گار نہ پائے گا۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی۔“ اور فرمایا: «لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَ اِنْ لَّمْ يَنْتَهُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [المائدۃ: ۷۳] ”بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بے شک اللہ تین میں سے تیسرا ہے، حالانکہ کوئی بھی معبود نہیں مگر ایک معبود، اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو یقینا ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا انھیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا۔“ پھر انھی کے متعلق فرمایا: «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [المائدۃ: ۷۴] ”توکیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے، اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“
ابن کثیر رحمہ اللہ نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے {” قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ “} کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی مغفرت کی دعوت دی جنھوں نے کہا مسیح خود اللہ ہے اور جنھوں نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے اور جنھوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور جنھوں نے کہا اللہ فقیر ہے اور جنھوں نے کہا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے اور جنھوں نے کہا اللہ تین میں تیسرا ہے، ان سب سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [المائدۃ: ۷۴] ”توکیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے، اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ پھر اسے بھی توبہ کی دعوت دی جس نے ان سے بھی بڑی بات کہی: «اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى» [النازعات: ۲۴] ”میں تمھارا سب سے اونچا رب ہوں۔“ اور جس نے کہا: «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [القصص: ۳۸] ”میں نے اپنے سوا تمھارے لیے کوئی معبود نہیں جانا۔“ چنانچہ فرمایا: «وَ اِنِّيْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» [طٰہٰ: ۸۲] ”اور بے شک میں یقینا اس کو بہت بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر چلے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”جو شخص اس کے بعد بھی اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے اس نے اللہ کی کتاب کا انکار کیا، لیکن بندہ توبہ نہیں کر سکتا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس پر مہربانی فرمائے۔“ مسلمانوں کو آگ سے بھری ہوئی خندقوں میں ڈالنے والوں (اصحاب الاخدود) کے متعلق فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ» [البروج: ۱۰] ”یقینا وہ لوگ جنھوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آزمائش میں ڈالا، پھر انھوں نے توبہ نہیں کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔“ حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس جود و کرم کو دیکھو! ان لوگوں نے اس کے دوستوں کو قتل کیا اور وہ انھیں توبہ اور مغفرت کی دعوت دے رہا ہے۔“ (ابن کثیر)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کی بہت سی آیات ہیں۔ احادیثِ صحیحہ میں ننانوے آدمیوں کے بعد سوویں آدمی کے قاتل کی توبہ کا ذکر معروف ہے، جسے نیک لوگوں کی بستی کی طرف جاتے ہوئے راستے میں موت آ گئی۔ [دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل، إن کثر قتلہ: ۲۷۶۶] اسی طرح اللہ تعالیٰ کا بندے کی توبہ پر اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہونے کا ذکر ہے جو اپنی گم شدہ اونٹنی ملنے پر خوشی کی شدت میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: ”یا اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب“ اور خوشی کی شدت میں خطا کر جاتا ہے۔ [دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب في الحض علی التوبۃ والفرح بھا: ۲۷۴۷] اسی طرح اس بندے کا ذکر ہے جس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ وہ اس کے فوت ہونے کے بعد اس کی لاش کو جلا کر اس کی راکھ کچھ پانی میں بہا دیں اور کچھ ہوا میں اڑا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کرکے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ تو اس نے کہا: ”یا اللہ! تیرے ڈر سے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ [دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…: ۲۷۵۶] پھر اللہ تعالیٰ کا یہ بھی کرم ہے کہ بندہ جتنی بار بھی گناہ کرے، پھر اس کے بعد جتنی بار توبہ کرے وہ معاف فرما دیتا ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی أَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ يَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ! اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی عَبْدِيْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ يَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ! اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی أَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ يَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ] [مسلم، التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب…: ۲۷۵۸] ”ایک بندے نے گناہ کیا، پھر اس نے کہا: ”اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا، پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔“ پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا اور کہا: ”اے میرے رب!مجھے میرا گناہ بخش دے۔“ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔“ پھر ایک بار اور اس نے گناہ کیا اور کہا: ”اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے۔“ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے گناہ کیا پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔ (میرے بندے!) تو جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا۔“
➋ {يٰعِبَادِيْ:} بندے مومن ہوں یا کافر، سب اللہ کے بندے ہیں، اس لیے قرآن مجید میں {”عِبَادِيْ“} کا لفظ دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے، جیسا کہ مومن و کافر دونوں فریقوں کو اپنے بندے قرار دیا: «اِنَّهٗ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْ عِبَادِيْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا» [المؤمنون: ۱۰۹] ”بے شک حقیقت یہ ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے۔“ اور کفار کو اپنے بندے کہا: «وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ» [الفرقان: ۱۷] ”اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے؟“ اور دیکھیے سورۂ زمر (۱۶) مگر اس کا اکثر استعمال اللہ کے مخلص اور مومن بندوں کے لیے ہوا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ» [الحجر: ۴۲] ”بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں۔“
➌ {الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ:} اس آیت میں {” يٰعِبَادِيْ“} سے مراد قرآن مجید کے اکثر استعمال کے خلاف کفار و مشرکین ہیں، اس کی دلیل اس کے بعد کی آیات ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ» [الزمر: ۵۴] ”اور اس کے مطیع ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ جائے، پھر تمھاری مدد نہیں کی جائے گی۔“ اور ان کا یہ کہنا: «وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ» [الزمر: ۵۶] ”اور بے شک میں تو مذاق کرنے والوں سے تھا۔“ اور یہ آیت: «بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ» [الزمر: ۵۹] ”کیوں نہیں،بے شک تیرے پاس میری آیات آئیں تو تو نے انھیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو انکار کرنے والوں میں سے تھا۔“
صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ یہ آیات کچھ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئیں، چنانچہ انھوں نے فرمایا: [أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ كَانُوْا قَدْ قَتَلُوْا وَ أَكْثَرُوْا، وَ زَنَوْا وَ أَكْثَرُوْا، فَأَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقَالُوْا إِنَّ الَّذِيْ تَقُوْلُ وَ تَدْعُوْ إِلَيْهِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً، فَنَزَلَ: «وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا يَزْنُوْنَ» [الفرقان: ۶۸] وَ نَزَلَ: «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ» [الزمر: ۵۳]] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «یا عبادی الذین أسرفوا…» : ۴۸۱۰] ”مشرکین میں سے کچھ لوگ جنھوں نے قتل کیے تھے اور بہت کیے تھے اور زنا کیا تھا اور بہت کیا تھا، پھر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”آپ جو بات کہتے ہیں اور جس کی دعوت دیتے ہیں یقینا وہ بہت اچھی ہے، اگر آپ ہمیں بتائیں کہ ہم نے جو کچھ کیا اس کا کوئی کفارہ ہے؟“ تو یہ آیت اتری: «وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا يَزْنُوْنَ» [الفرقان: ۶۸] ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور اس جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔“ (یعنی اس کے بعد کی آیات میں ہے: «اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓىِٕكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [الفرقان: ۷۰] ”مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور عمل کیا نیک عمل، تو یہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اللہ نیکیوں میں بدل دے گا اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“) اور یہ آیت اتری: «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ» ”کہہ دے اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ۔“
➍ ”اسراف“ کا معنی کسی بھی چیز میں حد سے گزرنا ہے، عموماً اس کا استعمال خرچ کرنے میں ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَ لَمْ يَقْتُرُوْا» [الفرقان: ۶۷] ”اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں۔“ یہاں اس سے مراد کفر و شرک کرکے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی ہے۔ {” عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ “} کا مطلب یہ ہے کہ تمھاری زیادتی کا نقصان تم ہی کو ہے، اللہ تعالیٰ کو یا کسی اور کو نہیں، اس لیے اس زیادتی کے مداوے کی فکر بھی تمھی کو ہونی چاہیے، جیسا کہ فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ» [یونس: ۲۳] ”اے لوگو! تمھاری سرکشی تمھاری جانوں ہی پر ہے۔“
➎ {لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ: ”قَنِطَ يَقْنَطُ قُنُوْطًا“} (ع، ض) ناامید ہونا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کئی طرح سے گناہوں کی بخشش کی امید دلائی ہے۔ تفسیر رازی نے وہ دس وجہیں بیان کی ہیں:
(1) {” يٰعِبَادِيْ “} (اے میرے بندو!) بندہ غلام کو کہتے ہیں۔ غلام بے چارہ مسکین، عاجز اور محتاج ہوتا ہے، اس کی مسکنت اور بے چارگی اسے مالک کے رحم و کرم کا حق دار بناتی ہے۔
(2) اللہ تعالیٰ نے {” يٰعِبَادِيْ“} (اے میرے بندو!) کہہ کر ان کی نسبت اپنی طرف فرمائی اور جسے اللہ تعالیٰ اپنا کہہ دے اس کے ناامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔
(3) {” اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ “} كا مطلب يہ ہے كہ انهوں نے جو گناه کیے ان كا نقصان انھی كو ہے، الله تعالی كا اس سے کچھ نهيں بگڑا، اس ليے كوئی وجہ نہيں كہ وہ ان کی توبہ قبول نہ کرے۔
(4) {” لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ “} میں صریح الفاظ کے ساتھ ناامید ہونے سے منع فرمایا۔
(5) {” يٰعِبَادِيْ“} (اے میرے بندو!) کے ساتھ خطاب کے بعد کلام کا تقاضا یہ تھا کہ کہا جاتا: {”لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَتِيْ“} (کہ میری رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ) مگر {”مِنْ رَّحْمَتِيْ“} کے بجائے فرمایا: {” مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ “} (اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ) کیونکہ لفظ {” اللّٰهِ “} اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سب سے بڑا اور اس کی تمام صفات کا جامع نام ہے۔ تمام صفات کمال کی جامع ہستی سے ناامید ہونا کسی طرح بھی جائز نہیں۔
(6) {اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا:} کہنا تو یہ تھا کہ {”إِنَّهُ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ“} (بے شک وہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) مگر دوبارہ اپنا نام لے کر فرمایا: {” اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا “} (کہ بے شک اللہ تعالیٰ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) دوبارہ اپنا گرامی قدر نام ذکر کرنے اور {” اِنَّ “} کے ساتھ اس کی تاکید سے مغفرت کے وعدے میں مبالغے کا اظہار ہو رہا ہے۔
(7) {جَمِيْعًا: ” الذُّنُوْبَ “} میں الف لام استغراق کے لیے ہے، اس لیے تمام گناہوں کی مغفرت کے وعدے کے لیے {” يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ “} ہی کافی تھا، مگر {” جَمِيْعًا “} کے ساتھ مزید تاکید فرما دی کہ اللہ تعالیٰ توبہ کے ساتھ تمام گناہ، حتیٰ کہ شرک جیسے اکبر الکبائر کو بھی بخش دیتا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں {”اَنِيْبُوْۤا “} اور {” اَسْلِمُوْا “} وغیرہ الفاظ کے ساتھ وضاحت آ رہی ہے۔
(8) {اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ:” الْغَفُوْرُ “ ”غَفَرَ يَغْفِرُ“} کا اصل معنی پردہ ڈالنا ہے اور {” الْغَفُوْرُ “} اس سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کے گناہوں پر بہت زیادہ پردہ ڈالنے والا ہے۔ یہ عذاب کا باعث بننے والی چیزوں کو دور کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
(9) {” الرَّحِيْمُ “ ”رُحْمٌ“} سے مبالغے کا صیغہ ہے کہ وہ بے حد رحم کرنے والا ہے۔ یہ مغفرت کے بعد مزید رحمت کے نتیجے میں عطا ہونے والی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان دونوں کا فرق شعراوی نے ایک مقام پر ایک مثال کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی ہے، اگرچہ یہ مکمل نہیں ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی چور کو چوری کرتے ہوئے پکڑ لیتا ہے، اب وہ اسے سزا دے یا دلوا سکتا ہے، مگر وہ اس کی منتوں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کے وعدے کی وجہ سے اس کی چوری پر پردہ ڈال دیتا ہے اور کسی کو اس کی اطلاع نہیں دیتا، یہ مغفرت ہے۔ پھر وہ اس کی حالت زار پر رحم کرتے ہوئے اسے کچھ رقم دے کر کاروبار میں کھڑا کر دیتا ہے، یہ اس پر رحم ہے۔
(10) {” اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} میں {” هُوَ “} ضمیر فصل اور خبر {” الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} پر الف لام کی وجہ سے کلام میں تاکید اور حصر پیدا ہو گیا۔ یعنی اس کے سوا کوئی نہ غفور ہے نہ رحیم، اس سے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے کمال کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ تمام وجوہ اللہ تعالیٰ کی کمال مغفرت و رحمت پر اور بندوں کے اس سے کسی حال میں بھی ناامید نہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے ان میں سے وافر حصہ عطا فرمائے۔ (آمین)
➏ {اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا …: ” وَ اَنِيْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ “} اور بعد کی آیات سے ظاہر ہے کہ یہ وعدہ صرف ان لوگوں سے ہے جو توبہ کریں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی یہی تفسیر اختیار فرمائی ہے، کیونکہ اگر وہ کافر و مشرک ہے تو کفر و شرک سے توبہ کرنے اور اسلام قبول کرنے کے بغیر اس کی بخشش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر وہ مسلمان ہے تو اس کے تمام گناہوں کی معافی کا وعدہ توبہ یا اس کے قائم مقام اعمال کے ساتھ ہے، ورنہ اس کی بخشش اللہ تعالیٰ کی مشیّت پر موقوف ہے، وہ جسے چاہے گا بخش دے گا، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ» [النساء: ۱۱۶] ”بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا۔“ اگر یہ کہا جائے کہ ہر مسلمان کے تمام گناہ توبہ کے بغیر معاف ہو جائیں گے تو شریعت کے احکام کی کوئی وقعت باقی نہیں رہتی۔ البتہ اس بات میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس مسلمان کے گناہ چاہے گا سزا دیے بغیر معاف کر دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا، مگر آخر کار ہر موحّد مسلمان کو جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ اس وقت کفار خواہش کریں گے کہ کاش! وہ بھی مسلمان ہوتے، خواہ کسی درجے کے ہوتے، کیونکہ کفار پر اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتیں حرام کر دی ہیں۔ دیکھیے سورۂ حجر کی آیت (۲) کی تفسیر۔ اگر بخشش کا یہ معنی کیا جائے کہ آخر کار تمام مسلمان جنت میں جائیں گے تو {” اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا “} (بے شک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے) سے صرف کافر مستثنیٰ ہوں گے کہ ان کے گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوں گے۔
➐ اس آیت اور بعد کی آیات سے اللہ تعالیٰ کی بے انتہا رحمت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کو کس قدر معاف فرمانے والا ہے۔ سورۂ فرقان (۶۹، ۷۰) میں شرک، قتل ناحق اور زنا کرنے والوں کے ساتھ توبہ، ایمان اور عمل صالح کے بعد ان کی گزشتہ برائیوں کو نیکیوں میں بدل دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس لیے کسی بندے کو اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے، خواہ اس کے گناہوں سے زمین و آسمان بھرے ہوئے ہوں۔ صرف اللہ کی طرف پلٹنے اور اس کے سامنے اعتراف کے بعد توبہ کی ضرورت ہے، وہ سب گناہ معاف فرما دے گا، کیونکہ اسے اپنے بندوں کی توبہ بہت ہی محبوب ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: «اَلَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ» [التوبۃ: ۱۰۴] ”کیا انھوں نے نہیں جانا کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔“ اور فرمایا: «وَ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا» [النساء: ۱۱۰] ”اور جو بھی کوئی برا کام کرے، یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے وہ اللہ کوبے حد بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔“ منافقین کے متعلق فرمایا: «اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيْرًا (145) اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا» [النساء: ۱۴۵، ۱۴۶] ”بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور تو ہرگز ان کا کوئی مدد گار نہ پائے گا۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی۔“ اور فرمایا: «لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَ اِنْ لَّمْ يَنْتَهُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [المائدۃ: ۷۳] ”بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بے شک اللہ تین میں سے تیسرا ہے، حالانکہ کوئی بھی معبود نہیں مگر ایک معبود، اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو یقینا ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا انھیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا۔“ پھر انھی کے متعلق فرمایا: «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [المائدۃ: ۷۴] ”توکیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے، اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“
ابن کثیر رحمہ اللہ نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے {” قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ “} کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی مغفرت کی دعوت دی جنھوں نے کہا مسیح خود اللہ ہے اور جنھوں نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے اور جنھوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور جنھوں نے کہا اللہ فقیر ہے اور جنھوں نے کہا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے اور جنھوں نے کہا اللہ تین میں تیسرا ہے، ان سب سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [المائدۃ: ۷۴] ”توکیا وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے اور اس سے بخشش نہیں مانگتے، اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ پھر اسے بھی توبہ کی دعوت دی جس نے ان سے بھی بڑی بات کہی: «اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى» [النازعات: ۲۴] ”میں تمھارا سب سے اونچا رب ہوں۔“ اور جس نے کہا: «مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ» [القصص: ۳۸] ”میں نے اپنے سوا تمھارے لیے کوئی معبود نہیں جانا۔“ چنانچہ فرمایا: «وَ اِنِّيْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى» [طٰہٰ: ۸۲] ”اور بے شک میں یقینا اس کو بہت بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر چلے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”جو شخص اس کے بعد بھی اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے اس نے اللہ کی کتاب کا انکار کیا، لیکن بندہ توبہ نہیں کر سکتا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس پر مہربانی فرمائے۔“ مسلمانوں کو آگ سے بھری ہوئی خندقوں میں ڈالنے والوں (اصحاب الاخدود) کے متعلق فرمایا: «اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ» [البروج: ۱۰] ”یقینا وہ لوگ جنھوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آزمائش میں ڈالا، پھر انھوں نے توبہ نہیں کی تو ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔“ حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس جود و کرم کو دیکھو! ان لوگوں نے اس کے دوستوں کو قتل کیا اور وہ انھیں توبہ اور مغفرت کی دعوت دے رہا ہے۔“ (ابن کثیر)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کی بہت سی آیات ہیں۔ احادیثِ صحیحہ میں ننانوے آدمیوں کے بعد سوویں آدمی کے قاتل کی توبہ کا ذکر معروف ہے، جسے نیک لوگوں کی بستی کی طرف جاتے ہوئے راستے میں موت آ گئی۔ [دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب قبول توبۃ القاتل، إن کثر قتلہ: ۲۷۶۶] اسی طرح اللہ تعالیٰ کا بندے کی توبہ پر اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہونے کا ذکر ہے جو اپنی گم شدہ اونٹنی ملنے پر خوشی کی شدت میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: ”یا اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب“ اور خوشی کی شدت میں خطا کر جاتا ہے۔ [دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب في الحض علی التوبۃ والفرح بھا: ۲۷۴۷] اسی طرح اس بندے کا ذکر ہے جس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ وہ اس کے فوت ہونے کے بعد اس کی لاش کو جلا کر اس کی راکھ کچھ پانی میں بہا دیں اور کچھ ہوا میں اڑا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کرکے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ تو اس نے کہا: ”یا اللہ! تیرے ڈر سے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ [دیکھیے مسلم، التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…: ۲۷۵۶] پھر اللہ تعالیٰ کا یہ بھی کرم ہے کہ بندہ جتنی بار بھی گناہ کرے، پھر اس کے بعد جتنی بار توبہ کرے وہ معاف فرما دیتا ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی أَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ يَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ! اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی عَبْدِيْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ يَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ! اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی أَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَ يَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ] [مسلم، التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب…: ۲۷۵۸] ”ایک بندے نے گناہ کیا، پھر اس نے کہا: ”اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا، پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔“ پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا اور کہا: ”اے میرے رب!مجھے میرا گناہ بخش دے۔“ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔“ پھر ایک بار اور اس نے گناہ کیا اور کہا: ”اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے۔“ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے گناہ کیا پھر جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر پکڑتا ہے۔ (میرے بندے!) تو جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
53۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی وسعت کا بیان ہے۔ اسراف کے معنی ہیں گناہوں کی کثرت اور اس میں افراط۔ ' اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ' کا مطلب ہے کہ ایمان لانے سے قبل یا توبہ و استغفار کا احساس پیدا ہونے سے پہلے کتنے بھی گناہ کئے ہوں، انسان یہ نہ سمجھے کہ میں بہت زیادہ گنہگار ہوں، مجھے اللہ تعالیٰ کیونکر معاف کرے گا؟ بلکہ سچے دل سے اگر ایمان قبول کرلے گا یا توبہ کرلے گا تو اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف فرما دے گا۔ شان نزول کی روایت سے بھی یہی مفہوم ثابت ہوتا ہے کچھ کافر و مشرک تھے جنہوں نے کثرت سے قتل اور زنا کاری کا ارتکاب کیا تھا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت صحیح ہے لیکن ہم لوگ بہت زیادہ خطا کار ہیں اگر ہم ایمان لے آئیں تو کیا وہ سب معاف ہوجائیں گے جس پر اس آیت کا نزول ہوا۔ صحیح بخاری، تفسیر سورة زمر۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ کی رحمت و مغفرت کی امید پر خوب گناہ کیے جاؤ اس کے احکام و فرائض کی مطلق پروا نہ کرو اور اس کے حدود اور ضابطوں کو بےدردی سے پامال کرو اس طرح اس کے غضب و انتقام کو دعوت دے کر اس کی رحمت و مغفرت کی امید رکھنا نہایت نادانش مندی اور خام خیالی ہے یہ تخم حنظل بو کر ثمرات و فواکہ کی امید رکھنے کے مترادف ہے ایسے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جہاں اپنے بندوں کے لیے غفور رحیم ہے وہاں وہ نافرمانوں کے لیے عزیز ذو انتقام بھی ہے چناچہ قرآن کریم میں منعدد جگہ ان دونوں پہلوؤں کو ساتھ ساتھ بیان کیا گیا مثلا نبیء عبادی انی انا الغفور الرحیم وان عذابی ہو العذاب الالیم (الحجر) غالبا یہی توبہ کر کے صحیح معنوں میں اس کا بندہ بن جائے گا اس کے گناہ اگر سمندر کے جھاگ کے برابر بھی ہوں گے تو معاف فرما دے گا وہ اپنے بندوں کے لیے یقینا غفور رحیم ہے جیسے حدیث میں سو آدمیوں کے قاتل کی توبہ کا واقعہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
53۔ آپ لوگوں سے کہہ دیجئے: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں [71] پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ ﴿غفور رحيم﴾ ہے
[71] اسلام لانے سے، پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں :۔
اس آیت کے انداز سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ کسی سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہے اور ان لوگوں کے لئے پیغام امید لے کر آئی ہے جو دور جاہلیت میں قتل، زنا، چوری، ڈاکے اور ایسے ہی سخت گناہوں میں غرق رہ چکے تھے اور اس بات سے مایوس تھے کہ یہ قصور کبھی معاف نہ ہو سکیں گے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے:
1۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کچھ مشرکوں نے بہت خون کئے تھے اور بکثرت زنا کرتے رہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے:”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں اور جس دین کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ اچھا ہے۔ کیا اچھا ہو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ بتا دیں کہ ہمارا اسلام لانا ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا؟“ اس وقت (سورہ فرقان کی) یہ آیت: ﴿وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ﴾ یہ آیت: ﴿قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ﴾ تا آخر نازل ہوئی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہ معاف کر دیتا ہوں تم مجھ ہی سے معافی مانگو۔ میں معاف کر دوں گا۔ [مسلم۔ کتاب البر والصلۃ۔ باب تحریم الظلم]
1۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کچھ مشرکوں نے بہت خون کئے تھے اور بکثرت زنا کرتے رہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے:”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں اور جس دین کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ اچھا ہے۔ کیا اچھا ہو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ بتا دیں کہ ہمارا اسلام لانا ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا؟“ اس وقت (سورہ فرقان کی) یہ آیت: ﴿وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ﴾ یہ آیت: ﴿قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ﴾ تا آخر نازل ہوئی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندو! تم رات دن گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہ معاف کر دیتا ہوں تم مجھ ہی سے معافی مانگو۔ میں معاف کر دوں گا۔ [مسلم۔ کتاب البر والصلۃ۔ باب تحریم الظلم]
تحریف معنوی کی ایک مثال :۔
اس آیت کی بعض لوگوں نے بہت عجیب سی تاویل کی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے کہہ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو! یعنی بندے اللہ کے نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔ یہ تاویل دراصل تاویل نہیں بلکہ بد ترین قسم کی تحریف ہے۔ کیونکہ یہ تاویل قرآن کی ساری تعلیم کے برخلاف ہے۔ نیز اس سے رسول اللہ کی شان بڑھتی نہیں بلکہ ان پر سخت الزام آتا ہے۔ آپ اس لئے مبعوث ہوئے تھے کہ سب لوگوں کو دوسرے معبودوں کی بندگی سے ہٹا کر خالص اللہ کے بندے بنائیں۔ نہ یہ کہ اپنے ہی بندے بنانا شروع کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اللہ کے بندے تھے اور اس بندگی کا اقرار کرنے سے ہی ایک شخص اسلام میں داخل ہو سکتا ہے اور اس بندگی کا اقرار ہم سب نمازوں میں کئی بار کرتے ہیں۔ اس تاویل کو دیکھ کر بے اختیار ڈاکٹر اقبال (رح) کے یہ شعر یاد آجاتے ہیں:
زمن برصوفی و ملا سلامے
کہ پیغام خدا گفتند ما را
ولے تاویل شان در حیرت انداخت
خدا و جبرئیل و مصطفی را
زمن برصوفی و ملا سلامے
کہ پیغام خدا گفتند ما را
ولے تاویل شان در حیرت انداخت
خدا و جبرئیل و مصطفی را
ترجمہ :
میری طرف سے صوفی و ملا کو سلام ہو جنہوں نے ہمیں اللہ کا پیغام پہنچایا۔ لیکن ان کی تاویل نے اللہ، جبرئیل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ (کہ ہم نے کیا کہا تھا اور ان لوگوں نے اس کا کیا مطلب لے لیا ہے)
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ ٭٭
اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68]، یہ اور آیت نازل ہوئی }۔۱؎ [صحیح بخاری:4810]
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن یہ بڑے بڑے گناہ جو ہم سے ہو چکے ہیں ان کا کفارہ کیا ہو گا؟ اس پر آیت «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:68]، یہ اور آیت نازل ہوئی }۔۱؎ [صحیح بخاری:4810]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { حضور علیہ السلام فرماتے ہیں { مجھے ساری دنیا اور اس کی ہرچیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوئی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے }۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جس نے شرک کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد فرمایا: { خبردار رہو جس نے شرک بھی کیا ہو تین مرتبہ یہی فرمایا } }۔ ۱؎ [مسند احمد:275/5:ضعیف]
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ } اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد]
ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ۱؎ [11-ھود:46] اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53]۔ ۱؎ [مسند احمد:454/6:ضعیف]
پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ‘۔
اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:110]، ’ جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا ‘۔
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ { ایک بوڑھا بڑا شخص لکڑی ٹکاتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرے چھوٹے موٹے گناہ بہت سارے ہیں کیا مجھے بھی بخشا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا تو اللہ کی توحید کی گواہی نہیں دیتا؟ } اس نے کہا ہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی بھی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تیرے چھوٹے موٹے گناہ معاف ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:385/4:صحیح بالشواهد]
ابوداؤد ترمذی وغیرہ میں ہے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ اس آیت کی تلاوت اسی طرح فرما رہے تھے «اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ» ۱؎ [11-ھود:46] اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53]۔ ۱؎ [مسند احمد:454/6:ضعیف]
پس ان تمام احادیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ توبہ سے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کو رحمت رب سے مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ گو گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی کثرت سے ہوں۔ توبہ اور رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا رہتا ہے اور وہ بہت ہی وسیع ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ» ۱؎ [9-التوبة:104] ’ کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ‘۔
اور فرمایا «وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا» ۱؎ [4-النساء:110]، ’ جو برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے پھر اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا پائے گا ‘۔
منافقوں کی سزا جو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہو گی اسے بیان فرما کر بھی فرمایا «إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّـهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:145-146] یعنی ’ ان سے وہ مستثنیٰ ہیں جو توبہ کریں اور اصلاح کر لیں ‘۔
مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:73] کہ ’ اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ’ یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے ‘۔
ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ’ جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے ‘۔
مشرکین نصاریٰ کے اس شرک کا کہ وہ اللہ کو تین میں کا تیسرا مانتے ہیں ذکر کر کے ان کی سزاؤں کے بیان سے پہلے فرما دیا «وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:73] کہ ’ اگر یہ اپنے قول سے باز نہ آئے تو ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ عظمت و کبریائی جلال و شان والے نے فرمایا «أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّـهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ’ یہ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے اور کیوں اس سے استغفار نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی غفور و رحیم ہے ‘۔
ان لوگوں کا جنہوں نے خندقیں کھود کر مسلمانوں کو آگ میں ڈالا تھا ذکر کرتے ہوئے بھی فرمایا ہے کہ ’ جو مسلمان مرد عورتوں کو تکلیف پہنچا کر پھر بھی توبہ نہ کریں ان کیلئے عذاب جہنم اور عذاب نار ہے ‘۔
امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اللہ کے کرم و جود کو دیکھو کہ اپنے دوستوں کے قاتلوں کو بھی توبہ اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔“ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے { جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3470] یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ’ یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے ‘۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔“
بخاری و مسلم کی حدیث میں اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے { جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک عابد سے پوچھا کہ کیا اس کیلئے بھی توبہ ہے؟ اس نے انکار کیا اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر ایک عالم سے پوچھا اس نے جواب دیا کہ تجھ میں اور توبہ میں کوئی روک نہیں اور حکم دیا کہ موحدوں کی بستی میں چلا جا چنانچہ یہ اس گاؤں کی طرف چلا لیکن راستے میں ہی موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں آپس میں اختلاف ہوا۔ اللہ عزوجل نے زمین کے ناپنے کا حکم دیا تو ایک بالشت بھر نیک لوگوں کی بستی جس طرف وہ ہجرت کر کے جا رہا تھا قریب نکلی اور یہ انہی کے ساتھ ملا دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح کو لے گئے۔ یہ بھی مذکور ہے کہ وہ موت کے وقت سینے کے بل اس طرف گھسیٹتا ہوا چلا تھا۔ اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو جانے کا اور برے لوگوں کی بستی کے دور ہو جانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3470] یہ ہے اس حدیث کا خلاصہ، پوری حدیث اپنی جگہ بیان ہو چکی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ”اللہ عزوجل نے تمام بندوں کو اپنی مغفرت کی طرف بلایا ہے انہیں بھی جو مسیح علیہ السلام کو اللہ کہتے تھے، انہیں بھی جو آپ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے، انہیں بھی جو عزیز علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کو فقیر کہتے تھے، انہیں بھی جو اللہ کے ہاتھوں کو بند بتاتے تھے، انہیں بھی جو اللہ تعالیٰ کو تین میں کا تیسرا کہتے تھے، اللہ تعالیٰ ان سب سے فرماتا ہے کہ ’ یہ کیوں اللہ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں اس سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں چاہتے؟ اللہ تو بڑی بخشش والا اور بہت ہی رحم و کرم والا ہے ‘۔ پھر توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ نے اسے دی جس کا قول ان سب سے بڑھ چڑھ کر تھا۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں۔ جو کہتا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی معبود میرے سوا ہو۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اس کے بعد بھی جو شخص اللہ کے بندوں کو توبہ سے مایوس کرے، وہ اللہ عزوجل کی کتاب کا منکر ہے۔ لیکن اسے سمجھ لو کہ جب تک اللہ کسی بندے پر اپنی مہربانی سے رجوع نہ فرمائے اسے توبہ نصیب نہیں ہوتی۔“
طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کتاب اللہ قرآن کریم میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت «اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» الخ ۱؎ [2-البقرہ:255] آیت الکرسی ہے اور خیر و شر کی سب سے زیادہ جامع آیت «إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [16-النحل:90]ہے اور سارے قرآن میں سب سے زیادہ خوشی کی آیت سورۃ الزمر کی «قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ہے اور سب سے زیادہ ڈھارس دینے والی آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» [65-الطلاق:3-2] ہے، یعنی ’ اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کی مخلصی خود اللہ کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں کا اسے خیال و گمان بھی نہ ہو ‘۔ مسروق رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک آپ رضی اللہ عنہ سچے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔“[تفسیر ابن ابی حاتم]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک واعظ کو دیکھا جو لوگوں کو نصیحتیں کر رہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ ”تو کیوں لوگوں کو مایوس کر رہا ہے؟ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔“[تفسیر ابن ابی حاتم]
(ان احادیث کا بیان جن میں ناامیدی اور مایوسی کی ممانعت ہے)
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره]
{ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2748]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے } اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:80/1:ضعیف]
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔“ جناب باری نے فرمایا ’ جا تو ان پر مسلط ہے ‘۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی ‘۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ’ بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے ‘، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا ‘۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔“
اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے ‘۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا ‘۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ’ توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے ‘، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ’ میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں ‘۔ [ابن ابی حاتم]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم خطائیں کرتے کرتے زمین و آسمان پر کر دو پھر اللہ سے استغفار کرو تو یقیناً وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے اگر تم خطائیں کرو ہی نہیں تو اللہ عزوجل تمہیں فنا کر کے ان لوگوں کو لائے گا جو خطا کر کے استغفار کریں اور پھر اللہ انہیں بخشے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:238/3:صحیح لغیره]
{ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنے انتقال کے وقت فرماتے ہیں ایک حدیث میں نے تم سے آج تک بیان نہیں کی تھی اب بیان کر دیتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ ہی نہ کرتے تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو پیدا کرتا جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا } }۔۱؎ [صحیح مسلم:2748]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { گناہ کا کفارہ ندامت اور شرمساری ہے } اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لاتا جو گناہ کریں پھر وہ انہیں بخشے }۔ ۱؎ [مسند احمد:279/1:اسنادہ ضعیف]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو کامل یقین رکھنے والا اور گناہوں سے توبہ کرنے والا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:80/1:ضعیف]
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابلیس ملعون نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھے آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا ہے اور میں اس پر اس کے بغیر کہ تو مجھے اس پر غلبہ دے غالب نہیں آسکتا۔“ جناب باری نے فرمایا ’ جا تو ان پر مسلط ہے ‘۔ اس نے کہا ”اللہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عطا فرما۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا بنی آدم میں جتنی اولاد پیدا ہو گی اتنی ہی تیرے ہاں بھی ہو گی ‘۔ اس نے پھر التجا کی باری تعالیٰ کچھ اور بھی مجھے زیادتی دے۔ پروردگار عالم نے فرمایا ’ بنی آدم کے سینے میں تیرے لیے مسکن بنا دوں گا اور تم ان کے جسم میں خون کی جگہ پھرو گے ‘، اس نے پھر کہا کہ کچھ اور بھی مجھے زیادتی عنایت فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ جا تو ان پر اپنے سوار اور پیادے دوڑا، اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کر اور انہیں امنگیں دلا ‘۔ گو حقیقتاً تیرا امنگیں دلانا اور وعدے کرنا سراسر دھوکے کی ٹٹی ہیں۔“
اس وقت آدم علیہ السلام نے دعا کی کہ ”اے میرے پروردگار تو نے اسے مجھ پر مسلط کر دیا اب میں اس سے تیرے بچائے بغیر بچ نہیں سکتا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ سنو تمہارے ہاں جو اولاد ہو گی اس کے ساتھ میں ایک محافظ مقرر کردوں گا جو شیطانی پنجے سے محفوظ رکھے ‘۔ آدم علیہ السلام نے اور زیادتی طلب کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’ ایک نیکی کو دس گنا کر کے دوں گا بلکہ دس سے بھی زیادہ اور برائی اسی کے برابر رہے گی یا معاف کر دوں گا ‘۔ آپ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی یہی دعا جاری رکھی۔ رب العزت نے فرمایا ’ توبہ کا دروازہ تمہارے لیے اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح جسم میں ہے ‘، آدم نے دعا کی اللہ مجھے اور زیادتی بھی عطا فرما۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی کہ ’ میرے گنہگار بندوں سے کہہ دو وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں ‘۔ [ابن ابی حاتم]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ { جو لوگ بوجہ اپنی کمزوری کے کفار کی تکلیفیں برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین میں فتنے میں پڑ گئے ہم اس کی نسبت آپس میں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی نیکی اور توبہ قبول نہ فرمائے گا ان لوگوں نے اللہ کو پہچان کر پھر کفر کو لے لیا اور کافروں کی سختی کو برداشت نہ کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ہمارے اس قول کی تردید کر دی اور «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا» سے «وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ» (سورۂ الزمر آیات 53 تا 55) تک آیتیں نازل ہوئیں }۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا }
ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا }۔ ۱؎ [سیرۃ ابن اسحاق]
بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ’ وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں ‘۔
جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں نے اپنے ہاتھ سے ان آیتوں کو لکھا اور ہشام بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا }
ہشام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { میں اس وقت ذی طویٰ میں تھا میں انہیں پڑھ رہا تھا اور باربار پڑھتا جاتا تھا اور خوب غور و خوض کر رہا تھا لیکن اصلی مطلب تک ذہن رسائی نہیں کرتا تھا۔ آخر میں نے دعا کی کہ پروردگار ان آیتوں کا صحیح مطلب اور ان کو میری طرف بھیجے جانے کا صحیح مقصد مجھ پر واضح کر دے۔ چنانچہ میرے دل میں اللہ کی طرف سے ڈالا گیا کہ ان آیتوں سے مراد ہم ہی ہیں یہ ہمارے بارے میں ہیں اور ہمیں جو خیال تھا کہ اب ہماری توبہ قبول نہیں ہو سکتی اسی بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اسی وقت میں واپس مڑا اپنا اونٹ لیا اس پر سواری کی اور سیدھا مدینے میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا }۔ ۱؎ [سیرۃ ابن اسحاق]
بندوں کی مایوسی کو توڑ کر انہیں بخشش کی امید دلا کر پھر حکم دیا اور رغبت دلائی کہ ’ وہ توبہ اور نیک عمل کی طرف سبقت اور جلدی کریں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے عذاب آ پڑیں ‘۔
جس وقت کہ کسی کی مدد کچھ کام نہیں آتی اور انہیں چاہیئے کہ عظمت والے قرآن کریم کی تابعداری اور ماتحتی میں مشغول ہو جائیں اس سے پہلے کہ اچانک عذاب آئیں اور یہ بے خبری میں ہی ہوں، اس وقت قیامت کے دن بے توبہ مرنے والے اور اللہ کی عبادت میں کمی لانے والے بڑی حسرت اور بہت افسوس کریں گے اور آرزو کریں گے کہ کاش کہ ہم خلوص کے ساتھ احکام اللہ بجا لاتے۔ افسوس! کہ ہم تو بےیقین رہے۔ اللہ کی باتوں کی تصدیق ہی نہ کی بلکہ ہنسی مذاق ہی سمجھتے رہے اور کہیں گے کہ اگر ہم بھی ہدایت پالیتے تو یقیناً رب کی نافرمانیوں سے دنیا میں اور اللہ کے عذاب سے آخرت میں بچ جاتے اور عذاب کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر اب دوبارہ دنیا کی طرف جانا ہو جائے تو دل کھول کر نیکیاں کرلیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”بندے کیا عمل کریں گے اور کیا کچھ وہ کہیں گے، ان کے عمل اور ان کے قول سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دیدی اور فی الواقع اس سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ نہ اس سے زیادہ سچی خبر کوئی دے سکتا ہے۔“
بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ’ اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح]
جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا ‘۔
بدکاروں کے یہ تینوں قول بیان فرمائے اور دوسری جگہ یہ خبر دیدی کہ ’ اگر یہ واپس دنیا میں بھیجے جائیں تو بھی ہدایت کو اختیار نہ کریں گے، بلکہ جن کاموں سے روکے گئے ہیں انہی کو کرنے لگیں گے اور یہاں جو کہتے ہیں سب جھوٹ نکلے گا ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { ہر جہنمی کو اس کی جنت کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کاش کہ اللہ مجھے ہدایت دیتا۔ یہ اس لیے کہ اسے حسرت و افسوس ہو۔ اور اسی طرح ہر جنتی کو اس کی جہنم کی جگہ دکھائی جاتی ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دیتا تو وہ جنت میں نہ آسکتا۔ یہ اس لیے کہ وہ شکر اور احسان کے ماننے میں اور بڑھ جائے }۔ ۱؎ [مسند احمد:512/2:صحیح]
جب گنہگار لوگ دنیا کی طرف لوٹنے کی آرزو کریں گے اور اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہ کرنے کی حسرت کریں گے اور اللہ کے رسولوں کو نہ ماننے پر کڑھنے لگیں گے تو اللہ سبحان و تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ اب ندامت لاحاصل ہے پچھتاوا بےسود ہے دنیا میں ہی میں تو اپنی آیتیں اتار چکا تھا۔ اپنی دلیلیں قائم کر چکا تھا، لیکن تو انہیں جھٹلاتا رہا اور ان کی تابعداری سے تکبر کرتا رہا، ان کا منکر رہا۔ کفر اختیار کیا، اب کچھ نہیں ہوسکتا ‘۔