ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 52

اَوَ لَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۵۲﴾
اور کیا انھوں نے نہیں جانا کہ اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں ان لوگوںکے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔ En
کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
En
کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے روزی کشاده کر دیتا ہے اور تنگ (بھی)، ایمان ﻻنے والوں کے لیے اس میں (بڑی بڑی) نشانیاں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 52) ➊ {اَوَ لَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ …:} پچھلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ موجودہ اور پہلے کفار کا دھوکے میں مبتلا ہونے کا باعث انھیں عطا ہونے والا مال اور دوسری نعمتیں ہیں۔ انھوں نے اپنی جہالت سے یہ سمجھا کہ مال و دولت کی کثرت ان کی اپنی مہارت و قابلیت اور علم و عقل کا نتیجہ ہے اور یہ ان کے حق پر ہونے کی اور اللہ تعالیٰ کے ان پر خوش ہونے کی دلیل ہے۔ فرمایا، نہ رزق کی کشادگی کسی شخص کے علم و عقل یا مہار ت پر موقوف ہے نہ اس کا تنگ ہونا کسی کے علم و عقل یا مہارت کی کمی کی وجہ سے ہے اور نہ اس کی زیادتی یا کمی اللہ تعالیٰ کے خوش یا ناخوش ہونے کی دلیل ہے، بلکہ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مشیّت پر موقوف ہے، وہ جس کا رزق جب چاہتا ہے فراخ کر دیتا ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بد اور جب چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے، نیک ہو یا بد اور اس کی حکمت اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اگر رزق علم و عقل اور مہارت و قابلیت پر موقوف ہوتا تو کوئی عالم و عاقل رزق کی تنگی میں مبتلا نہ ہوتا اور نہ ہی کسی جاہل یا کم عقل کو رزق یا دوسری نعمتوں کی فراوانی حاصل ہوتی۔
➋ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} یعنی رزق کی فراخی اور تنگی میں ایمان والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، کیونکہ اس سے وہی فائدہ اٹھاتے اور عبرت حاصل کرتے ہیں، کیونکہ وہی ایمان رکھتے ہیں کہ رزق فراخ کرنے والا اور اسے تنگ کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اور وہ یہ فیصلہ کسی کے نیک یا بد ہونے کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی حکمت و رحمت کے تحت کرتا ہے، کیونکہ وہ اپنے بندوں کا حال بہتر جانتا ہے۔ کبھی وہ اپنے بندے کا رزق تنگ کر دیتا ہے کہ اگر اس کا رزق فراخ کر دیا تو یہ سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے گا، کبھی اس کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ آیا وہ اس فقر و فاقہ میں صبر کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرتا اور اسے کوسنا شروع کر دیتا ہے۔ کبھی وہ دل جوئی اور انعام کے طور پر یا حجت تمام کرنے کے لیے رزق فراخ کر دیتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49۔ 1 یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں بھی اللہ کی توحید کے دلائل ہیں یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں صرف اسی کا حکم و تصرف چلتا ہے اسی کی تدبیر موثر اور کارگر ہے اسی لیے وہ جس کو چاہتا ہے رزق فراواں سے نواز دیتا ہے اور جس کو حاہتا ہے فقر وتنگ دستی میں مبتلا کردیتا ہے اس کے ان فیصلوں میں جو اس کی حکمت ومشیت پر مبنی ہوتے ہیں کوئی دخل انداز ہوسکتا ہے نہ ان میں رد وبدل کرسکتا ہے تاہم یہ نشانیاں صرف اہل ایمان ہی کے لیے ہیں کیونکہ وہی ان پر غور وفکر کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے اور اللہ کی مغفرت حاصل کرتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ جس کے لئے چاہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کر دیتا ہے۔ اس میں بھی ان لوگوں کے لئے کئی نشانیاں [70] ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔
[70] رزق کا انحصار مشیئت الٰہی پر ہے :۔
نشانیوں سے مراد یہ ہے کہ رزق کی اس کمی بیشی کی حکمتوں پر غور صرف اہل ایمان ہی کرتے ہیں۔ کیونکہ رزق کے حصول کا مسئلہ ایسا مسئلہ ہے جس کا انحصار محض اللہ کی مرضی اور حکمت پر ہے۔ رزق کا انحصار نہ عقل پر ہے نہ علم پر، نہ قابلیت اور تجربہ پر، نہ جسمانی قوت اور استعداد پر۔ سب انسان ہی یہ چاہتے ہیں اور اس کام کے لئے بھرپور کوشش بھی کرتے ہیں کہ انہیں زیادہ سے زیادہ مال و دولت حاصل ہو۔ الا ماشاء اللہ مگر تھوڑے ہی لوگ ہوتے ہیں جو آسودہ حال ہوتے ہیں زیادہ ایسے ہی ہوتے ہیں جو رزق کی تنگی کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔ اگر رزق کا انحصار عقل پر ہوتا تو بے وقوف بھوکے مر جاتے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر عقلمند تو پریشان حال ہوتے ہیں جبکہ عقل سے کورے لوگ مال و دولت میں کھیلتے ہیں۔ اسی طرح بسا اوقات راست باز اور نیک لوگ پریشان حال ہوتے ہیں۔ جبکہ ظالم اور اللہ کے نافرمانوں کو وافر مقدار میں رزق دیا جاتا ہے۔ تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ جس کو مال و دولت ملا ہے اللہ اس سے خوش ہے۔ قطعاً غلط ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ رزق کی تقسیم کے لئے ضابطہ الٰہی دوسرا ہے اور اس کی حکمتیں قرآن کریم میں جا بجا مذکور ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایاکہ یہ لوگ اپنے مال کی وجہ سے فریب میں مبتلا ہو گئے ہیں اور اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ مال اپنے مالک کے حسن حال پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردار کرتے ہوئے فرمایاکہ اس کا رزق اس بات پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ اپنے بندوں میں سے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد، جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے۔ ﴿وَیَقْدِرُ اور جس کو چاہتا ہے نپاتلا دیتا ہے، یعنی وہ اپنے بندوں میں سے خواہ وہ نیک ہوں یا بد جس کا چاہے اس کا رزق تنگ کر دیتا ہے، اس کا رزق تمام مخلوق میں مشترک ہے، مگر ایمان اور عمل صالح صرف ان لوگوں کے لیے مختص کرتا ہے جو مخلوق میں بہترین لوگ ہوتے ہیں۔
﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ بے شک اس میں بھی ان کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔ یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں ہیں۔ کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ رزق کی تنگی اور کشادگی کا مرجع محض اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کو خوب جانتا ہے۔ کبھی کبھی اپنے بندوں پر لطف و کرم کی وجہ سے بھی ان پر رزق تنگ کر دیتا ہے کیونکہ اگر وہ ان کا رزق کشادہ کر دے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے ہیں۔ رزق کی اس تنگی میں اللہ تعالیٰ ان کے دین کی اصلاح کی رعایت رکھتا ہے جو ان کی سعادت اور فلاح کی بنیاد ہے۔ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذكر أنهم اغترُّوا بالمال وزعموا بِجَهْلِهِم أنَّه يدلُّ على حسن حال صاحبه؛ أخبرهم تعالى أنَّ رزقَه لا يدلُّ على ذلك، وأنه {يَبْسُطُ الرزقَ لِمَن يشاءُ}: من عبادِهِ، سواء كان صالحاً أو طالحاً. {ويَقْدِرُ}: الرزق؛ أي: يضيِّقُه على مَنْ يشاء صالحاً أو طالحاً؛ فرِزْقُهُ مشتركٌ بين البريَّة، والإيمانُ والعملُ الصالح يخصُّ به خَيْرَ البريَّة {إن في ذلك لآيات لقوم يؤمنون}؛ أي: بَسْطُ الرزق وقبضُه؛ لعلمهم أنَّ مرجع ذلك عائدٌ إلى الحكمةِ والرحمةِ، وأنَّه أعلمُ بحال عبيدِهِ؛ فقد يضيِّقُ عليهم الرزقَ لطفاً بهم؛ لأنَّه لو بَسَطَه؛ لَبَغَوْا في الأرض، فيكون تعالى مراعياً في ذلك صلاح دينهم الذي هو مادةُ سعادتِهِم وفلاحِهم. والله أعلم.