ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 51

فَاَصَابَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا ؕ وَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ ہٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیۡبُہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا ۙ وَ مَا ہُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۵۱﴾
تو ان پر ان (اعمال) کے وبال آپڑے جو انھوں نے کمائے اور وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا ان پر بھی جلد ہی ان (اعمال) کے وبال آ پڑیں گے جو انھوں نے کمائے اور وہ ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہیں۔ En
ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔ اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں ان پر ان کے عملوں کے وبال عنقریب پڑیں گے۔ اور وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے
En
پھر ان کی تمام برائیاں ان پر آ پڑیں، اوران میں سے بھی جو گناه گار ہیں ان کی کی ہوئی برائیاں بھی اب ان پر آ پڑیں گی، یہ (ہمیں) ہرا دینے والے نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) ➊ { فَاَصَابَهُمْ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا: سَيِّاٰتُ } سے مراد ان کے اعمال کے برے نتائج اور وبال ہیں، یعنی ان کے اعمالِ بد کے نتائج ان پر مختلف عذابوں کی صورت میں آ پڑے۔
➋ { وَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ …:} یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے اور بعد کے تمام کفار کو تنبیہ ہے کہ اگر پہلے لوگوں کی طرح وہ بھی ناشکری اور ظلم (کفر و شرک) سے باز نہ آئے تو ان کے اعمال کے برے نتائج بہت جلد ان پر آ پڑیں گے۔
➌ { وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِيْنَ: بِمُعْجِزِيْنَ } کی باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ وہ ہر گز عاجز کرنے والے نہیں ہیں۔ یعنی جب ان کے اعمال کے برے نتائج اور وبال مختلف عذابوں کی صورت میں ان پر آئے تو یہ نہ انھیں روک سکیں گے اور نہ کسی صورت یہ ہو گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس کرکے اس کی گرفت سے نکل کر بھاگ جائیں، یا چھپ جائیں۔ چنانچہ ان میں سے جو زندہ رہے ان پر دنیا ہی میں قحط، خوف، جنگ، قید اور قتل کی صورت میں اللہ کے عذاب آئے اور فوت ہونے والوں کے لیے عذاب شدید انتظار میں ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51۔ 1 برائیوں سے مراد ان کی برائیوں کی جزا ہے ان کو مشاکلت کے اعتبار سے سیئات کہا گیا ہے ورنہ برائی کی جزا برائی نہیں ہے جیسے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا میں ہے فتح القدیر 49۔ 2 یہ کفار مکہ کو تنبیہ ہے چناچہ ایسا ہی ہوا یہ بھی گزشتہ قوموں کی طرح قحط قتل واسارت وغیرہ سے دو چار ہوئے اللہ کی طرف سے آئے ہوئے ان عذابوں کو یہ روک نہیں سکے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ چنانچہ اپنی کمائی کے برے نتائج انہیں بھگتنے پڑے اور ان لوگوں [69] میں سے جو ظلم کر رہے ہیں وہ بھی عنقریب اپنے کاموں کے برے نتائج بھگت لیں گے اور یہ لوگ (ہمیں) عاجز کر سکنے والے نہیں
[69] مال کی کشادگی اللہ کی رضا کی دلیل نہیں :۔
پہلی قومیں بھی اس غلط فہمی میں مبتلا رہیں کہ ہماری آسودہ حالی اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارا پروردگار ہم سے راضی اور خوش ہے۔ پھر اس بات کو وہ اپنے آبائی شرکیہ دین کی صداقت پر دلیل لاتے تھے۔ سو انہیں ان باتوں کا جو انجام دیکھنا پڑا وہ سب کو معلوم ہے اور اب جو مشرکین انہی کی ڈگر پر چل رہے ہیں تو یہ بھی ایسے ہی انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ یہ کہیں بھاگ کر اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔