قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ عٰلِمَ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ اَنۡتَ تَحۡکُمُ بَیۡنَ عِبَادِکَ فِیۡ مَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۴۶﴾
تو کہہ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! ہر چھپی اور کھلی کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
En
کہو کہ اے خدا (اے) آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے (اور) پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں فیصلہ کرے گا
En
آپ کہہ دیجئے! کہ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے کھلے کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان امور کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وه الجھ رہے تھے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 46) ➊ { قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} کفار کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مشقتیں اٹھائیں اور ان کی ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ کو جو تکلیفیں پہنچیں اور توحید کے واضح دلائل کے سامنے لاجواب ہو کر بھی وہ جس طرح شرک پر ڈٹے رہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے حکم دیا گیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور سارا معاملہ اس کے سپرد کریں، کیونکہ وہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے اور مخلوق کے تمام حاضر و غائب احوال کو جاننے والا ہے۔ اس لیے ان اسماء و صفات کے وسیلے سے اس سے دعا کریں کہ جب تیری توحید جیسی روشن اور واضح بات میں بھی جھگڑے ہونے لگے اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے اور حاضر و غائب کو جاننے والے کا وقار بھی دلوں میں نہ رہا تو اب تجھی سے فریاد ہے، تو ہی ان جھگڑوں کا فیصلہ فرمائے گا۔
➋ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات قیام کرتے تو اپنی نماز کا افتتاح کس چیز سے کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات اٹھتے تو اپنی نماز کا افتتاح اس دعا سے کرتے: [اَللّٰهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيْلَ وَ مِيْكَائِيْلَ وَ إِسْرَافِيْلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ اهْدِنِيْ لِمَا اخْتُلِفَ فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِيْ مَنْ تَشَاءُ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ] [مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم و دعائہ باللیل: ۷۷۰] ”اے اللہ! اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے! اے حاضر و غائب کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے، مجھے حق کی ان تمام باتوں میں اپنے اذن سے سیدھی راہ پر لگا جن میں اختلاف کیا گیا ہے، کیونکہ تو ہی سیدھے راستے پر لگاتا ہے جسے چاہتا ہے۔“
ابوراشد حُبرانی کہتے ہیں، میں نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے اس میں سے کچھ ہمیں بیان کریں تو انھوں نے میرے سامنے ایک کتاب نکال کر کہا، یہ ہے وہ کتاب جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے۔ میں نے دیکھا تو اس میں لکھا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ مجھے سکھائیں کہ میں صبح اور شام کو کیا پڑھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! یہ پڑھو: [اَللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَ الْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَ مَلِيْكَهُ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ وَ مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَ شِرْكِهِ وَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِيْ سُوْءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلٰی مُسْلِمٍ] [ترمذي، الدعوات، باب دعاء علمہ صلی اللہ علیہ وسلم أبا بکر…: ۳۵۲۹، و قال الألباني صحیح] ”اے اللہ! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، غائب و حاضر کو جاننے والے! تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اے ہر چیز کے رب اور اس کے بادشاہ! میں تجھ سے اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے نفس پر کسی برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلم کا برا کروں۔“
➋ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنھا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات قیام کرتے تو اپنی نماز کا افتتاح کس چیز سے کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات اٹھتے تو اپنی نماز کا افتتاح اس دعا سے کرتے: [اَللّٰهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيْلَ وَ مِيْكَائِيْلَ وَ إِسْرَافِيْلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ اهْدِنِيْ لِمَا اخْتُلِفَ فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِيْ مَنْ تَشَاءُ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ] [مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم و دعائہ باللیل: ۷۷۰] ”اے اللہ! اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے! اے حاضر و غائب کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے، مجھے حق کی ان تمام باتوں میں اپنے اذن سے سیدھی راہ پر لگا جن میں اختلاف کیا گیا ہے، کیونکہ تو ہی سیدھے راستے پر لگاتا ہے جسے چاہتا ہے۔“
ابوراشد حُبرانی کہتے ہیں، میں نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے اس میں سے کچھ ہمیں بیان کریں تو انھوں نے میرے سامنے ایک کتاب نکال کر کہا، یہ ہے وہ کتاب جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے۔ میں نے دیکھا تو اس میں لکھا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ مجھے سکھائیں کہ میں صبح اور شام کو کیا پڑھوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! یہ پڑھو: [اَللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَ الْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَ مَلِيْكَهُ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ وَ مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَ شِرْكِهِ وَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِيْ سُوْءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلٰی مُسْلِمٍ] [ترمذي، الدعوات، باب دعاء علمہ صلی اللہ علیہ وسلم أبا بکر…: ۳۵۲۹، و قال الألباني صحیح] ”اے اللہ! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، غائب و حاضر کو جاننے والے! تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اے ہر چیز کے رب اور اس کے بادشاہ! میں تجھ سے اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے نفس پر کسی برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلم کا برا کروں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے آغاز میں یہ پڑھا کرتے تھے اللھم رب چبریل ومیکائیل واسرفیل فاطر السموات والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ آپ کہئے: اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں میں ایسی چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے [62] ہیں
[62] مشرکوں کو سمجھانے کے بعد دعا :۔
یعنی جب اتنی موٹی موٹی باتوں میں بھی اختلاف اور جھگڑے ہونے لگیں۔ اللہ کے وقار اور اس کی عظمت کا احساس تک نہ رہے۔ اور ساری وفاداریاں اور نیاز مندیاں اللہ کے بجائے اللہ کے پیاروں کے لئے ہی وقف ہو کر رہ جائیں۔ تو اے اللہ! اب تجھ سے فریاد ہے اور تیرا ہی حوصلہ ہے جو یہ سب کچھ برداشت کئے جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو مہلت دیئے جاتا ہے۔ اور ان کا فیصلہ قیامت کے دن پر ٹال رکھا ہے۔ جب کوئی شخص حق بات سننے کو تیار نہ ہو اور ناحق جھگڑا کرتا ہو تو ہر شخص کو یہ دعا پڑھنی چاہئے۔ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو سکھائی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صبح و شام کے بعض و ظائف ٭٭
مشرکین کو جو نفرت توحید سے ہے اور جو محبت شرک سے ہے اسے بیان فرما کر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» فرماتا ہے کہ ’ تو صرف اللہ تعالیٰ واحد کو ہی پکار جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور اس وقت اس نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ نہ یہ کچھ تھے نہ ان کا کوئی نمونہ تھا۔ وہ ظاہر و باطن چھپے کھلے کا عالم ہے۔ یہ لوگ جو جو اختلافات اپنے آپس میں کرتے تھے سب کا فیصلہ اس دن ہو گا جب یہ قبروں سے نکلیں اور میدان قیامت میں آئیں گے ‘۔
{ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”اس دعا سے «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» “ یعنی اللہ اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اسے حاضر و غائب کئے جانے والے تو ہی اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ کرنے والا ہے جس جس چیز میں اختلاف کیا گیا ہے تو مجھے ان سب میں اپنے فضل سے حق راہ دکھا تو جسے چاہے سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:770]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو بندہ اس دعا کو پڑھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اس بندے نے مجھ سے عہد لیا ہے اس عہد کو پورا کرو۔ چنانچہ اسے جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ وہ دعا یہ ہے، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنْ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنْ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» } یعنی { اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اے غائب و حاضر کے جاننے والے میں اس دنیا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میری گواہی ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور میری یہ بھی شہادت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ تو اگر مجھے میری ہی طرف سونپ دے گا تو میں برائی سے قریب اور بھلائی سے دور پڑ جاؤں گا۔ اللہ مجھے صرف تیری رحمت ہی کا سہارا اور بھروسہ ہے پس تو بھی مجھ سے عہد کر جسے تو قیامت کے دن پورا کرے یقیناً تو عہد شکن نہیں }۔ اس حدیث کے راوی سہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے جب کہا کہ عون اس طرح یہ حدیث بیان کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ہماری تو پردہ نشین بچیوں کو بھی یہ حدیث یاد ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:412/1:ضعیف و منقطع]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو بندہ اس دعا کو پڑھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اس بندے نے مجھ سے عہد لیا ہے اس عہد کو پورا کرو۔ چنانچہ اسے جنت میں پہنچا دیا جائے گا۔ وہ دعا یہ ہے، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنْ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنْ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» } یعنی { اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونے کے پیدا کرنے والے اے غائب و حاضر کے جاننے والے میں اس دنیا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میری گواہی ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور میری یہ بھی شہادت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ تو اگر مجھے میری ہی طرف سونپ دے گا تو میں برائی سے قریب اور بھلائی سے دور پڑ جاؤں گا۔ اللہ مجھے صرف تیری رحمت ہی کا سہارا اور بھروسہ ہے پس تو بھی مجھ سے عہد کر جسے تو قیامت کے دن پورا کرے یقیناً تو عہد شکن نہیں }۔ اس حدیث کے راوی سہیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے جب کہا کہ عون اس طرح یہ حدیث بیان کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ہماری تو پردہ نشین بچیوں کو بھی یہ حدیث یاد ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:412/1:ضعیف و منقطع]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک کاغذ نکالا اور فرمایا کہ { یہ دعا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بے نمونہ پیدا کرنے والے چھپی کھلی کے جاننے والے تو ہرچیز کا رب ہے اور ہرچیز کا معبود ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں اور فرشتے بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔ میں شیطان سے اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں اپنی جان پر کوئی گناہ کروں یا کسی اور مسلمان کی طرف کسی گناہ کو لے جاؤں۔ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں اس دعا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سکھایا تھا اسے سونے کے وقت پڑھا کرتے تھے }۔ ۱؎ [مسند احمد:171/2:صحیح لغیره]
اور روایت میں ہے کہ { ابو راشد حبرائی رحمہ اللہ نے کوئی حدیث سننے کی خواہش سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب نکال کر ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا یہ ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے میں نے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صبح و شام کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ پڑھو، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَہہ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوء أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» } }؎ [سنن ترمذي:3529،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس دعا کے پڑھنے کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح شام اور سوتے وقت حکم دیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3592،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری آیت میں ظالموں سے مراد مشرکین ہیں۔ فرماتا ہے کہ ’ اگر ان کے پاس روئے زمین کے خزانے اتنے ہی اور ہوں تو بھی یہ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلے انہیں اپنے فدیئے میں اور اپنی جان کے بدلے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن اس دن کوئی فدیہ اور بدلہ قبول نہ کیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں ‘۔
جیسے کہ اور آیت میں بیان فرما دیا ہے، ’ آج اللہ کے وہ عذاب ان کے سامنے آئیں گے کہ کبھی انہیں ان کا خیال بھی نہ گذرا تھا جو جو حرام کاریاں بدکاریاں گناہ اور برائیاں انہوں نے دنیا میں کی تھیں اب سب کی سب اپنے آگے موجود پائیں گے دنیا میں جس سزا کا ذکر سن کر مذاق کرتے تھے آج وہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی ‘۔
اور روایت میں ہے کہ { ابو راشد حبرائی رحمہ اللہ نے کوئی حدیث سننے کی خواہش سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک کتاب نکال کر ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا یہ ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے میں نے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صبح و شام کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ پڑھو، «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَىْءٍ وَمَلِيكَہہ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِى وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوء أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسلِمٍ» } }؎ [سنن ترمذي:3529،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد کی حدیث میں ہے { سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس دعا کے پڑھنے کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح شام اور سوتے وقت حکم دیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3592،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری آیت میں ظالموں سے مراد مشرکین ہیں۔ فرماتا ہے کہ ’ اگر ان کے پاس روئے زمین کے خزانے اتنے ہی اور ہوں تو بھی یہ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلے انہیں اپنے فدیئے میں اور اپنی جان کے بدلے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ لیکن اس دن کوئی فدیہ اور بدلہ قبول نہ کیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں ‘۔
جیسے کہ اور آیت میں بیان فرما دیا ہے، ’ آج اللہ کے وہ عذاب ان کے سامنے آئیں گے کہ کبھی انہیں ان کا خیال بھی نہ گذرا تھا جو جو حرام کاریاں بدکاریاں گناہ اور برائیاں انہوں نے دنیا میں کی تھیں اب سب کی سب اپنے آگے موجود پائیں گے دنیا میں جس سزا کا ذکر سن کر مذاق کرتے تھے آج وہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی ‘۔