ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 45

وَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحۡدَہُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اِذَا ذُکِرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۴۵﴾
اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں۔ En
اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں
En
جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کایقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا (اور کا) ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45) ➊ {وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ …: اِشْمَأَزَّ} نفرت سے بھر گیا، تنگ پڑ گیا۔ یہ بات دنیا بھر کے مشرکوں میں مشترک ہے، خواہ وہ نام کے مسلمان کیوں نہ ہوں کہ کوئی شخص اکیلے اللہ کا اور اس کی کبریائی اور توحید کا ذکر کرے تو ان کے دل نفرت سے بھر جاتے ہیں اور تنگ پڑ جاتے ہیں اور ان کے چہروں پر ناگواری اور نفرت کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ شخص اولیاء اور بزرگوں کو نہیں مانتا، اسی لیے صرف اللہ ہی کی بات کرتا چلا جاتا ہے، نہ کسی ولی کی قوت و تصرف کا ذکر کرتا ہے جو (ان کے خیال میں) اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا تیر راستے سے واپس ہٹا لاتے ہیں اور نہ کسی دستگیر یا گنج بخش یا مشکل کُشا کی دستگیری یا مشکل کُشائی کا بیان کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا» [بني إسرائیل: ۴۶] اور جب تو قرآن میں اپنے رب کا، اکیلے اسی کا ذکر کرتا ہے تو وہ بدکتے ہوئے اپنی پیٹھوں پر پھر جاتے ہیں۔
➋ { الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ:} یعنی اکیلے اللہ کے ذکر پر ان کے دلوں کے تنگ پڑنے کی وجہ آخرت پر یقین نہ ہونا ہے، اگر آخرت پر یقین ہوتا اور وہ ایمان رکھتے کہ ہمیں اس دن اس اکیلے کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے تو وہ ایسا کبھی نہ کرتے۔
➌ {وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ …: يَسْتَبْشِرُوْنَ} باب استفعال میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یعنی بہت خوش ہو جاتے ہیں، جیسا کہ { اشْمَاَزَّتْ } میں حروف کی زیادتی ان کی نفرت اور دل کی تنگی کے زیادہ ہونے کا اظہار کرتی ہے۔ {اِشْمِئْزَازٌ} اور {اِسْتِبْشَارٌ} کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اکیلے اللہ کے ذکر پر دل کی تنگی میں اور من دون اللہ کے ذکر پر اس کی خوشی میں وہ انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ { اِذَا } مفاجات کے لیے ہے اچانک یعنی جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے بغیر اس کے سوا اور ہستیوں کا ذکر کیا جائے اور ان کی جھوٹی سچی کرامات بیان ہونا شروع ہوں تو اچانک ان کے چہروں پر خوشی پھیل جاتی ہے۔ مفسر آلوسی نے روح المعانی میں اپنا تجربہ لکھا ہے کہ ایک دن میں نے ایک آدمی سے کہا جو اپنی کسی مشکل میں کسی فوت شدہ سے استغاثہ کر رہا تھا اور اسے پکار کر کہہ رہا تھا کہ اے فلاں! میری مدد کر۔ میں نے اس سے کہا، تم یا اللہ کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «‏‏‏‏وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۸۶] اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ تو وہ شخص سخت غصے میں آ گیا۔ بعد میں لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ کہتا تھا، یہ شخص اولیاء کا منکر ہے۔ کچھ لوگوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اس نے کہا، اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت ولی جلدی سن لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گمراہی سے محفوظ رکھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

45۔ 1 یا کفر اور استکبار، مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے جب یہ کہا جائے کہ معبود صرف ایک ہی ہے تو ان کے دل یہ بات ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ 45۔ 1 ہاں جب یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں بھی معبود ہیں یا وہ بھی آخر اللہ کے نیک بندے ہیں وہ بھی کچھ اختیار رکھتے ہیں وہ بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرسکتے ہیں تو پھر مشرکین بڑے خوش ہوتے ہیں منحرفین کا یہی حال آج بھی ہے جب ان سے کہا جائے کہ صرف یا اللہ مدد کہو کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے تو سیخ پا ہوجاتے ہیں یہ جملہ ان کے لیے سخت ناگوار ہوتا ہے لیکن جب یا علی مدد یا یارسول اللہ مدد کہا جائے اسی طرح دیگر مردوں سے استمداد واستغاثہ کیا جائے مثلا یا شیخ عبد القادر شیئ اللہ وغیرہ تو پھر ان کے دل کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں۔ فتشابھت قلوبھم۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ اور جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل گھٹ جاتے [61] ہیں اور جب اللہ کے علاوہ دوسروں کا ذکر کیا جائے تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں
[61] مشرکوں کی ایک پکی علامت توحید خالص سے چڑ :۔
اس آیت میں مشرکوں کی ایک پکی خصلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مشرک بتوں کے پجاری ہوں یا قبروں کے یا پیروں فقیروں کے نیز کسی بھی دور کے مشرک ہوں سب میں یہ خصلت پائی جاتی ہے کہ اگر اللہ اکیلے کی ہی صفات بیان کی جائیں، اس کے محیر العقول کارنامے بیان کیے جائیں، اس کی حکمت سے لبریز آیات کی تشریح بیان کی جائے تو اس سے مشرکوں کے سینے ٹھنڈے نہیں ہوتے بلکہ ان میں انقباض اور گھٹن پیدا ہونے لگتی ہے۔ اور بسا اوقات وہ بیان کرنے والے کو بتوں کا یا اولیاء اللہ کا منکر ہونے کا طعنہ دینے لگتے ہیں۔ اس کے بجائے اگر ولیوں کی کرامات بیان کی جائیں۔ اور یہ بتایا جائے کہ فلاں بزرگ نے اپنی گستاخی کا یوں انتقام لیا تھا۔ فلاں شخص کی قسمت میں ایک لڑکا بھی نہیں لکھا تھا لیکن فلاں بزرگ نے اللہ تعالیٰ سے اصرار اور تکرار کر کے اس شخص کے حق میں سات بیٹے اللہ تعالیٰ سے منوا لیے۔ چنانچہ اس کے ہاں سات بیٹے پیدا ہوئے۔ جب کوئی ایسے من گھڑت قصے بیان کرتا ہے تو سامعین سبحان اللہ! کے نعرے لگانے لگتے ہیں اور بڑے خوش رہتے ہیں البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ان کے بزرگوں کے بیان میں اگر کہیں اللہ کا نام آجائے تو اسے گوارا کر لیتے ہیں۔ لیکن اصل محبت انہیں اپنے اولیاء سے ہی ہوتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے حال اور ان کے شرک کے تقاضے کا ذکر کرتا ہے۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے یعنی جب اس کی توحید کا ذکر کیا جاتا ہے، دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرکے عمل کرنے اور اس کے سوا دیگر معبودوں کو چھوڑنے کے لیے کہا جاتا ہے جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، تو وہ منقبض ہو جاتے ہیں، نفرت کرتے ہیں اور شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اور جب اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور خود ساختہ معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور دعوت دینے والا ان کی عبادت اور ان کی مدح کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ۠ تو وہ اپنے معبودوں کا ذکر سن کر فرحت اور خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ کیونکہ شرک ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے، ان کی یہ حالت بدترین حالت ہے، مگر ان سے روز جزا تک کے لیے مہلت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس لیے اس دن ان سے حق وصول کیا جائے گا اور اس دن دیکھا جائے گا کہ آیا ان کے معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں جن کی یہ لوگ عبادت کیا کرتے ہیں؟
اسی لیے فرمایا: ﴿قُ٘لِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یعنی کہہ دیجیے: اے اللہ! زمین و آسمان کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے والے ﴿عٰؔلِمَ الْغَیْبِ اور ان تمام امور کو جاننے والے جو ہماری آنکھوں اور ہمارے علم سے غائب ہیں ﴿وَالشَّهَادَةِ اور جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ ﴿اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں، فیصلہ کرے گا۔ اور سب سے بڑا اختلاف جو موحد و مخلص بندوں، جو کہتے ہیں کہ ان کا موقف حق ہے اور آخرت میں صرف انھی کے لیے بھلائی ہے، اور مشرکین کے درمیان ہے جنھوں نے تجھے چھوڑ کر بتوں اور دوسری ہستیوں کو اپنا معبود بنا لیا اور ان ہستیوں کو تیرے برابر ٹھہرایا جو کسی طرح بھی برابر نہیں ہیں وہ تجھے انتہائی حد تک ناقص قرار دیتے ہیں، جب ان کے خود ساختہ معبودوں کا ذکر ہوتا ہے تو خوشی سے کھل اٹھتے ہیں اور جب تیرا ذکر ہوتا ہے تو وہ نہایت کراہت سے منقبض ہو جاتے ہیں بایں ہمہ ان کو زعم ہے کہ وہ حق پر ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں اور وہ آخرت میں بھلائی سے بہرہ مند ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ هَادُوْا وَالصّٰؔبِــِٕیْنَ وَالنَّ٘صٰرٰى وَالْمَجُوْسَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَؔكُوْۤا١ۖ ۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ (الحج: 22؍17) بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے، جو یہودی، عیسائی، صابی اور مجوسی ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔
اس کے بعد آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَ٘صْمٰنِ اخْ٘تَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١ٞ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؔءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ۰۰ یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَالْجُلُوْدُؕ۰۰ وَلَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ۰۰كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِؒ۰۰ اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْ٘هٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا١ؕ وَلِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ (الحج: 22؍19-23) یہ جھگڑے کے دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔ پس ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان کو آگ کے کپڑے پہنائے جائیں گے اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر تک کے حصے گل جائیں گے اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے، جب بھی وہ غم کے مارے جہنم سے نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹادیے جائیں گے (اور انھیں کہا جائے گا:) اب جلا دینے والے عذاب کا مزا چکھو، بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ انھیں اس میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْ٘بِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ (الانعام: 6؍82) وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہ کیا، وہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے (مکمل) امن ہے اور وہی راہ راست پر ہیں۔ اور فرمایا: ﴿اِنَّهٗ مَنْ یُّ٘شْ٘رِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ (المائدۃ: 5؍72) جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو بلاشبہ اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عموم تخلیق، عموم علم اور بندوں کے درمیان عموم حکم کا بیان ہے، تمام مخلوقات اس کی قدرت سے پیدا ہوئی ہے اس کا علم ہر شے کو محیط ہے اور دلالت کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور انھیں دوبارہ زندہ کرے گا، بندوں کے اچھے برے اعمال اور ان کی جزاوسزا اور اس کی تخلیق اس کے علم پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ (الملک:67؍14) کیا وہ نہیں جانتا جس نے (انھیں) پیدا کیا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يذكُرُ تعالى حالةَ المشركين وما الذي اقتضاه شركُهم: أنَّهم {إذا ذُكِرَ الله} تعالى توحيداً له وأمرًا بإخلاص الدين له وتركِ ما يعبُد من دونه؛ أنهم يشمئزُّون وينفُرون ويكرهون ذلك أشدَّ الكراهة. {وإذا ذُكِرَ الذين من دونِهِ}: من الأصنام والأنداد، ودعا الداعي إلى عبادتها ومدحها؛ {إذا هم يستبشرونَ}: بذلك فرحاً بذِكْرِ معبوداتهم، ولكونِ الشرك موافقاً لأهوائهم وهذه الحال أشرُّ الحالات وأشنعها ولكن موعدَهم يومُ الجزاء؛ فهناك يؤخَذُ الحقُّ منهم ويُنْظَرُ: هل تنفعهُم آلهتُهم التي كانوا يَدْعون من دون الله شيئاً؟! ولهذا قال: {قل اللهمَّ فاطرَ السمواتِ والأرض}؛ أي: خالقهما ومدبِّرهما، {عالم الغيبِ}: الذي غاب عن أبصارِنا وعِلْمِنا {والشَّهادةِ}: الذي نشاهده، {أنت تحكُمُ بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفونَ}.

وإن من أعظم الاختلاف اختلافُ الموحِّدين المخلِصين القائلين: إنَّ ما هم عليه هو الحقُّ وإنَّ لهم الحسنى في الآخرة دون غيرهم، والمشركين الذين اتَّخذوا من دونِكَ الأندادَ والأوثانَ وسَوَّوا بك مَنْ لا يَسْوَى شيئاً، وتنقَّصوك غايةَ التنقُّص، واستبشروا عند ذِكْرِ آلهتهم، واشمأزوا عند ذكرك وزعموا مع هذا أنَّهم على الحقِّ وغيرهم على الباطل وأنَّ لهم الحسنى؛ قال تعالى: {إنَّ الذين آمَنوا والذينَ هادوا والصَّابِئينَ والنَّصارى والمَجوسَ والذين أشْرَكوا إنَّ الله يَفْصِلُ بينَهم يومَ القيامةِ إنَّ الله على كلِّ شيءٍ شهيدٌ}، وقد أخبرنا بالفصل بينَهم بعدَها بقوله: {هذانِ خصمانِ اختَصَموا في ربِّهم فالذين كَفَروا قُطِّعَتْ لهم ثيابٌ من نارٍ يُصَبُّ من فوقِ رؤوسهم الحميمُ يُصْهَرُ به ما في بُطونِهِم والجلودُ ولهم مقامِعُ من حديدٍ ... } إلى أن قال: {إنَّ الله يُدْخِلُ الذين آمنوا وَعَمِلُوا الصالحاتِ جناتٍ تَجْري من تحتِها الأنهارُ يُحَلَّوْنَ فيها من أساوِرَ من ذهبٍ ولُؤْلُؤاً ولباسُهُم فيها حريرٌ}، وقال تعالى: {الذين آمنوا ولم يَلْبِسوا إيمانَهم بِظُلْمٍ أولئكَ لهم الأمنُ وهم مهتدونَ}، {إنَّه مَن يُشْرِكْ بالله فقد حَرَّمَ الله عليه الجنَّةَ ومأواه النارُ}؛ ففي هذه الآية بيانُ عموم خلقِهِ تعالى وعموم علمِهِ وعموم حكمِهِ بين عباده؛ فقدرتُهُ التي نشأت عنها المخلوقات، وعلمُهُ المحيطُ بكلِّ شيء دالٌّ على حكمه بين عبادِهِ وبعثِهِم وعلمِهِ بأعمالهم خيرِها وشَرِّها وبمقاديرِ جزائها، وخلقُهُ دالٌّ على علمِهِ، ألا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ.