ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 44

قُلۡ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیۡعًا ؕ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۴۴﴾
کہہ دے شفاعت ساری کی ساری اللہ ہی کے اختیار میں ہے، آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، پھر تم اسی کی طرف لو ٹائے جاؤ گے۔ En
کہہ دو کہ سفارش تو سب خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اسی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے
En
کہہ دیجئے! کہ تمام سفارش کا مختار اللہ ہی ہے۔ تمام آسمانوں اور زمین کا راج اسی کے لیے ہے تم سب اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44) {قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيْعًا …:} لفظ { لِّلّٰهِ } پہلے آنے سے کلام میں حصر پیدا ہو گیا۔ یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ سفارش کی تمام صورتوں کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر ہی نہیں سکتا، اس لیے اسی کو پکارنا چاہیے، کیونکہ وہ اجازت دے گا تو کوئی سفارش کرے گا۔ سفارش ہی نہیں آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، کسی اور کا دخل نہ سفارش میں ہے نہ بادشاہی میں، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یعنی اللہ کے روبرو سفارش ہے، پر اللہ کے حکم سے، نہ کہ تمھارے کہے سے، جب موت آئے کسی کے کہے سے عزرائیل نہیں چھوڑتا۔ (موضح) (یاد رہے! ملک الموت کا نام عزرائیل کتاب و سنت سے ثابت نہیں) شفاعت کے متعلق دیکھیے آیت الکرسی (بقرہ: ۲۵۵) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

44۔ 1 یعنی شفاعت کی تمام اقسام کا مالک صرف اللہ ہی ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش ہی نہیں کرسکے گا، پھر صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کیوں نہ کی جائے تاکہ وہ راضی ہوجائے اور شفاعت کے لئے کوئی سہارا ڈھونڈھنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ آپ ان سے کہئے کہ سفارش پوری کی پوری اللہ ہی کے [60] اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کی حکومت ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
[60] سفارش سے متعلق جملہ اختیارات اللہ کو ہیں :۔
اس آیت میں سفارش کا ضابطہ واضح فرما دیا کہ سفارش کے جملہ اختیارات تو اللہ کو ہیں اور سفارش تو وہ کر سکے گا جسے اللہ اجازت دے گا۔ اب کیا تمہیں معلوم ہے کہ جن بتوں کو یا ان کی روحوں کو یا بزرگوں کو تم نے شفیع بنا رکھا ہے یا سمجھ رکھا ہے انہیں سفارش کی اجازت بھی دے گا یا نہیں؟ سفارش کے لئے دوسری شرط یہ ہے کہ سفارش اسی کے حق میں قبول ہو گی جن کے لئے اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو۔ کیا تم بتا سکتے ہو کہ اللہ تمہارے حق میں سفارش کی کسی کو اجازت دے دے گا؟ گویا جس سفارش پر تم بھروسہ کئے بیٹھے ہو اس کا خیال دل سے نکال دو۔ یعنی اگر سفارش کرنے والا اپنی مرضی سے سفارش کر ہی نہ سکے جب تک اللہ کی طرف سے اجازت نہ ہو تو پھر یہ اللہ کے حکم کی تعمیل ہوئی اس کا اختیار کہاں سے آگیا؟ قیامت کے دن کچھ لوگ دوسروں کی سفارش کریں گے ضرور۔ لیکن اس پر پابندیاں ایسی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی مرضی کے تحت ہو گا۔ اس میں سفارش کرنے والے بھی اللہ کے حکم کے پابند اور جن کے حق میں سفارش ہو گی وہ بھی اللہ کی رضا کے تحت۔ تو جملہ اختیارات تو اللہ کے ہوئے اور کسی دوسرے کے اختیار یا پسند کو اس میں کچھ دخل نہ ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین کی مذمت ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں ‘۔
اس لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ’ ان سے کہہ دو، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کر لے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے، زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،۔ اس وقت وہ عدل کے ساتھ تم سب میں سچے فیصلے کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔
ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ توحید کا کلمہ سننا انہیں ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس کا سننا بھی انہیں پسند نہیں۔ ان کا جی اس میں نہیں لگتا۔ کفر و تکبر انہیں روک دیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ يَسْتَكْبِرُونَ» [37-الصافات:35]‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ ایک کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے اور ماننے سے جی چراتے تھے ‘۔
چونکہ ان کے دل حق کے منکر ہیں اس لیے باطل کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ جہاں بتوں کا اور دوسرے اللہ کا ذکر آیا، ان کی باچھیں کھل گئیں۔