ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 43

اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ شُفَعَآءَ ؕ قُلۡ اَوَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یَمۡلِکُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۳﴾
یا انھوں نے اللہ کے سوا کچھ سفارشی بنا لیے ہیں۔ کہہ دے کیا اگرچہ وہ کبھی نہ کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں۔ En
کیا انہوں نے خدا کے سوا اور سفارشی بنالئے ہیں۔ کہو کہ خواہ وہ کسی چیز کا بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ (کچھ) سمجھتے ہی ہوں
En
کیا ان لوگوں نے اللہ تعالی کے سوا (اوروں) کو سفارشی مقرر کر رکھا ہے؟ آپ کہہ دیجیئے! کہ گو وه کچھ بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43) ➊ { اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ:} یعنی بجائے اس کے کہ یہ لوگ موت اور نیند کی کیفیت سے کوئی سبق حاصل کریں اور ہر معاملے کا مختار صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھیں، انھوں نے کچھ دوسرے معبود بنا لیے ہیں، جنھیں وہ اللہ کے حضور سفارشی سمجھتے ہیں۔
➋ {قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا يَمْلِكُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَعْقِلُوْنَ: كَانُوْا } کی وجہ سے { لَا يَمْلِكُوْنَ شَيْـًٔا } کی نفی میں استمرار پیدا ہو گیا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کیا اگرچہ وہ کبھی نہ کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں۔ یعنی کیا پھر بھی یہ لوگ انھیں اپنا سفارشی سمجھ کر ان کی پوجا کرتے رہیں گے، ان کے نام کی نذر و نیاز مانتے رہیں گے اور اپنی دعاؤں میں ان کا وسیلہ ڈالتے رہیں گے؟ ظاہر ہے جن ہستیوں کو بھی یہ پکارتے ہیں وہ نہ ان کی بات سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں، کیونکہ سمجھی تو وہی بات جاتی ہے جو سننے میں آئے، بلکہ وہ فوت شدہ ہیں زندہ نہیں ہیں، خود انھیں اپنے متعلق علم نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ نحل (۲۰، ۲۱)، فاطر (۱۳، ۱۴) اور احقاف (۵، ۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

43۔ 1 یعنی شفاعت کا اختیار تو کجا، انہیں تو شفاعت کے معنی و مفہوم کا بھی پتہ نہیں، کیونکہ وہ پتھر ہیں۔ یا بیخبر ہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا کچھ اور سفارشی بنا رکھے ہیں؟ آپ ان سے کہئے کہ: اگر وہ کسی چیز کا اختیار ہی نہ رکھتے ہوں اور نہ عقل رکھتے [59] ہوں (تو سفارش کیسے کریں گے؟)
[59] مشرکین مکہ اپنے بتوں کی پرستش کے لئے یہ دلیل دیتے تھے کہ یہ اللہ کی بارگاہ میں ہمارے سفارشی ہیں۔ ان ہی کی سفارش سے کام بنتے ہیں۔ سو پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی کے شفیع ہونے سے یہ کب لازم آتا ہے کہ اسے معبود بنا لیا جائے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ان بتوں کو نہ عقل ہے، نہ سمجھ ہے، نہ سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں۔ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتے کسی بھی بات کا یہ اختیار نہیں رکھتے تو پھر تمہاری سفارش کیسے کریں گے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین کی مذمت ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ ’ وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں ‘۔
اس لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ’ ان سے کہہ دو، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کر لے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے، زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے،۔ اس وقت وہ عدل کے ساتھ تم سب میں سچے فیصلے کرے گا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔
ان کافروں کی یہ حالت ہے کہ توحید کا کلمہ سننا انہیں ناپسند ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ اس کا سننا بھی انہیں پسند نہیں۔ ان کا جی اس میں نہیں لگتا۔ کفر و تکبر انہیں روک دیتا ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ يَسْتَكْبِرُونَ» [37-الصافات:35]‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے جب کہا جاتا تھا کہ اللہ ایک کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے اور ماننے سے جی چراتے تھے ‘۔
چونکہ ان کے دل حق کے منکر ہیں اس لیے باطل کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ جہاں بتوں کا اور دوسرے اللہ کا ذکر آیا، ان کی باچھیں کھل گئیں۔