تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ نیند کی حالت میں جان قبض ہونے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر موت کا لفظ استعمال فرمایا، اگرچہ یہ بڑی اور آخری موت سے پہلے موت کی ایک قسم ہے، جو زندگی میں آدمی پر بار بار آتی اور جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ هُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ وَ يَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ» [الأنعام: ۶۰] ”اور وہی ہے جو تمھیں رات کو قبض کر لیتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم نے دن میں کمایا۔“ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ إِذَا أَوٰی إِلٰی فِرَاشِهِ قَالَ بِاسْمِكَ أَمُوْتُ وَ أَحْيَا وَ إِذَا قَامَ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَ إِلَيْهِ النُّشُوْرُ] [بخاري، الدعوات، باب ما یقول إذا نام: ۶۳۱۲] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر جاتے توکہتے: ”تیرے ہی نام کے ساتھ مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں۔“ اور جب بیدار ہوتے توکہتے: ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں زندگی بخشی، اس کے بعد کہ اس نے ہمیں موت دی اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“
➌ بعض اہلِ علم نے یہاں روح کی دو قسمیں بنائی ہیں، ایک روح حیوانی اور ایک روح نفسانی اور بعض نے نفس کو الگ اور روح کو الگ قرار دیا ہے، مگر یہ بات قرآن یا حدیث سے ثابت نہیں، بلکہ جس طرح قرآن مجید میں نیند کے وقت نفسوں کو قبض کرنے کا ذکر ہے اسی طرح بخاری، ابوداؤد، نسائی اور مسند احمد وغیرہ میں نیند کے وقت ارواح کو قبض کرنے کا ذکر ہے۔ چنانچہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ رضی اللہ عنھم کے رات کے سفر کے دوران سو جانے کا اور سورج نکلنے کے بعد بیدار ہونے کا ذکر کیا ہے، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِيْنَ شَاءَ، وَ رَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِيْنَ شَاءَ] [بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب الأذان بعد ذھاب الوقت: ۵۹۵] ”اللہ تعالیٰ نے تمھاری ارواح کو قبض کر لیا جب چاہا اور انھیں تمھیں واپس کر دیا جب چاہا۔“ اس بحث سے معلوم ہوا نیند کے وقت قبض ہونے والی چیز نفس بھی کہلاتی ہے اور روح بھی۔
➍ { وَ يُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى:} مقرر وقت سے مراد بڑی اور آخری موت ہے۔
➎ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ:} غور و فکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں، جن میں سب سے پہلی تو اللہ کا وحدہ لا شریک لہ ہونا ہے کہ موت و حیات اور سلانے اور جگانے کا سلسلہ صرف اس کے ہاتھ میں ہے، اگر اس کا کوئی شریک ہوتا تو یہ اختیار یا اس کا کچھ حصہ اس کے پاس بھی ہوتا، اس لیے ہر طرح کی عبادت کا حق دار اللہ تعالیٰ ہے، یہی دلیل اللہ کے خلیل علیہ السلام نے پیش فرمائی تھی: «رَبِّيَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ» [البقرۃ: ۲۵۸] ”میرا رب وہ ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔“ دوسری نشانی یہ ہے کہ جو پروردگار ہر روز موت دیتا ہے اور مرنے کے بعد زندگی عطا کرتا ہے وہ قیامت کے دن بھی تمام مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے اور یقینا انھیں زندہ کرے گا اور وہی اکیلا سب کا فیصلہ کرے گا، کوئی اس کی مرضی کے بغیر سفارش بھی نہیں کر سکے گا، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔
2۔
3۔
4۔ ان دونوں قسم کی روحوں میں سے کسی بھی ایک قسم کی روح کے خاتمہ سے دوسری قسم کی روح کا از خود جسم سے تعلق ختم ہو جاتا ہے اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک شخص سوتے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہے کہ کسی دوسرے شخص نے اسے سوتے میں قتل کر دیا۔ تو اب روح نفسانی خواہ کہیں بھی سیر کرتی ہو گی، دوبارہ اس جسم میں داخل نہیں ہو گی بلکہ اللہ تعالیٰ اسے وہیں قبض کر لے گا۔ اس کے برعکس صورت یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی انسان کی روح نفسانی کو خواب میں قبض کر لیں تو بستر پر سونے والا آدمی بغیر کسی حادثہ یا بیماری کے مر جائے گا۔
5۔
6۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور آیت میں ہے «وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:60-61]، یعنی ’ وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو جانتا ہے پھر تمہیں دن میں اٹھا بٹھاتا ہے تاکہ مقرر کیا ہوا وقت پورا کر دیا جائے پھر تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔ وہی اپنے سب بندوں پر غالب ہے وہی تم پر نگہبان فرشتے بھیجتا ہے۔ تاوقتیکہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ تقصیر اور کمی نہیں کرتے ‘۔
پس ان دونوں آیتوں میں بھی یہی ذکر ہوا ہے پہلے چھوٹی موت کو پھر بڑی موت کو بیان فرمایا۔ یہاں پہلے بڑی وفات کو پھر چھوٹی وفات کو ذکر کیا۔ اس سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ملاء اعلیٰ میں یہ روحیں جمع ہوتی ہیں جیسے کہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب تم میں سے کوئی بستر پر سونے کو جائے تو اپنے تہ بند کے اندرونی حصے سے اسے جھاڑ لے، نہ جانے اس پر کیا کچھ ہو پھر یہ دعا پڑھے «بِاسْمِكَ رَبِّـي وَضَعْـتُ جَنْـبي، وَبِكَ أَرْفَعُـه، فَإِن أَمْسَـكْتَ نَفْسـي فارْحَـمْها، وَإِنْ أَرْسَلْتَـها فاحْفَظْـها بِمـا تَحْفَـظُ بِه عِبـادَكَ الصّـالِحـين» یعنی اے میرے پالنے والے رب تیرے ہی پاک نام کی برکت سے میں لیٹتا ہوں اور تیری ہی رحمت میں جاگوں گا۔ اگر تو میری روح کو روک لے تو اس پر رحم فرما اور اگر تو اسے بھیج دے تو اس کی ایسی ہی حفاظت کرنا جیسی تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے}۔۱؎ [صحیح بخاری:6320]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مردوں کی روحیں اللہ تعالیٰ روک لیتا ہے اور زندوں کی روحیں واپس بھیج دیتا ہے اور اس میں کبھی غلطی نہیں ہوتی غور و فکر کے جو عادی ہیں وہ اسی ایک بات میں قدرت الٰہی کے بہت سے دلائل پا لیتے ہیں۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنه المتفرِّدُ بالتصرُّف بالعباد في حال يقظتهم ونومهم وفي حال حياتهم وموتهم، فقال: {الله يتوفَّى الأنفسَ حين موتِها}: وهذه الوفاةُ الكبرى وفاةُ الموت، وإخبارُه أنَّه يتوفَّى الأنفس وإضافةُ الفعل إلى نفسِهِ لا ينافي أنَّه قد وَكَّلَ بذلك مَلَكَ الموت وأعوانه؛ كما قال تعالى: {قُلْ يَتَوفَّاكم مَلَكُ الموتِ الذي وُكِّل بكم}، {حتى إذا جاء أحَدَكُمُ الموتُ توفَّتْه رُسُلُنا وهم لا يفرِّطونَ}؛ لأنَّه تعالى يضيفُ الأشياء إلى نفسه باعتبار أنَّه الخالق المدبِّرُ، ويضيفُها إلى أسبابها باعتبار أنَّ من سننِهِ تعالى وحكمتِهِ أن جعل لكلِّ أمر من الأمور سبباً. وقوله: {والتي لم تَمُتْ في منامها}: وهذه الموتةُ الصغرى؛ أي: ويمسك النفسَ التي لم تَمُتْ في منامها، {فيُمْسِكُ}: من هاتين النفسين النفسَ {التي قضى عليها الموتَ}، وهي نفسُ مَنْ كان ماتَ أو قُضِيَ أنْ يموتَ في منامه، {ويرسلُ} النفسَ {الأخرى إلى أجل مسمًّى}؛ أي: إلى استكمال رِزْقِها وأجَلِها. {إنَّ في ذلك لآياتٍ لقوم يتفكَّرونَ}: على كمال اقتدارِهِ وإحيائِهِ الموتى بعد موتهم.
وفي هذه الآية دليلٌ على أنَّ الرُّوح والنفس جسمٌ قائمٌ بنفسِهِ، مخالفٌ جوهرُهُ جوهَرَ البدن، وأنَّها مخلوقةٌ مدبَّرةٌ يتصرَّفُ الله فيها في الوفاةِ والإمساكِ والإرسال، وأنَّ أرواحَ الأحياء والأموات تتلاقى في البرزخ فتجتمعُ فتتحادثُ، فيرسِلُ الله أرواحَ الأحياء، ويُمْسِكُ أرواح الأمواتِ.