تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ …:} یعنی کافر اس سوال کے جواب میں خاموش رہیں تو آپ خود فرما دیں کہ مجھے تو اللہ کافی ہے، تمام بھروسا کرنے والے اسی پر بھروسا کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمام بھروسا کرنے والوں کو اسی پر بھروسا کرنا لازم ہے، کیونکہ جب کسی بات کا زیادہ زور سے حکم دینا ہو تو اسے خبر کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے، مثلاً کہنا ہو کہ آج سب لوگ فلاں جگہ عصر کی نماز پڑھیں، تو کہا جائے گا، آج سب لوگ عصر کی نماز فلاں جگہ پڑھ رہے ہیں یا پڑھیں گے۔
➌ {هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ …:} اللہ کے سوا ہستیوں کو مؤنث کے صیغے کے ساتھ ذکر کرنے سے ان کے بے اختیار ہونے کا اظہار اور ان کی تحقیر مراد ہے۔
➍ ”اللہ کے سوا نفع یا نقصان کا کوئی بھی مالک نہیں“ یہ مضمون اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے قرآن مجید میں جا بجا بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ رعد (۱۴ تا ۱۶)، فرقان (۳)، انعام (۱۷) اور سورۂ یونس (۱۰۶، ۱۰۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ولئن سألتَ هؤلاء الضلالَ الذين يخوِّفونَكَ بالذين من دونِهِ وأقمتَ عليهم دليلاً من أنفسهم، فقلتَ: {مَن خَلَقَ السمواتِ والأرضَ}: لم يُثْبِتوا لآلهتهم من خَلْقِها شيئاً، {لَيَقولُنَّ اللهُ}: الذي خلقها الله وحده. {قل}: لهم مقرِّراً عجز آلهتهم بعدما بينت قدرة الله: {أفرأيتُم}؛ أي: أخبروني {ما تَدْعونَ من دون الله إنْ أرادَنِيَ الله بضُرٍّ}: أيَّ ضُرٍّ كان، {هل هنَّ كاشفاتُ ضُرِّهِ}: بإزالته بالكلِّية أو بتخفيفه من حال إلى حال؟ {أو أرادني برحمةٍ}: يوصل إليَّ بها منفعةً في ديني أو دنياي، {هل هنَّ ممسكاتُ رحمتِهِ}: ومانعاتُها عني؟ سيقولونَ: لا يكشفون الضُّرَّ ولا يمسِكونَ الرحمة، قل لهم بعدما تبيَّن الدليلُ القاطعُ على أنَّه وحدَه المعبودُ، وأنَّه الخالق للمخلوقات، النافعُ الضارُّ وحده، وأنَّ غيره عاجزٌ من كلِّ وجه عن الخَلْق والنفع والضرِّ، مستجلباً كفايته، مستدفعاً مَكْرَهم وكيدَهم. {قل حَسْبِيَ الله عليه يتوكَّلُ المتوكلون}؛ أي: عليه يعتمدُ المعتمدونَ في جلب مصالحهم ودفع مضارِّهم، فالذي بيدِهِ وحدَه الكفايةُ هو حسبي سيكفيني كلَّ ما أهمَّني، وما لا أهتمُّ به.