تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
یونانی فلسفی چونکہ آسمانی ہدایت کی روشنی سے محروم تھے، اس لیے ان کا فلسفہ قرآن و حدیث سے متصادم ہے اور ان کے ماننے والے قرآن و حدیث پر ایمان کے دعوے کے باوجود ان میں مذکور صفات الٰہی کو ماننے سے دل میں شدید تنگی محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو صریح تحریف ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۴۳)، توبہ (۶)، کہف (۱۰۹)، انبیاء (۲) اور سورۂ شعراء (۵)۔
➋ { كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا:} اس مقام پر پورے قرآن کو{ ” كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا “} کہا گیا ہے، یعنی قرآن مجید کی تمام آیات مضامین و معانی میں، تمام خبروں کے سچا ہونے اور تمام احکام کے حق ہونے میں ایک دوسری سے ملتی جلتی اور ایک دوسری کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ اگر ایک جگہ بات مختصر ہے تو دوسری جگہ مفصل ہے، کہیں بھی کوئی اختلاف یا تناقض نہیں ہے، فرمایا: «وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا» [النساء: ۸۲] ”اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔“ اسی طرح فصاحت و بلاغت اور حسن و خوبی میں بھی سب ایک جیسی ہیں۔ تیئیس (۲۳) سالوں کے طویل عرصہ میں تھوڑی تھوڑی آیات نازل ہونے کے باوجود کسی بھی مقام پر نہ ان کی حسن و خوبی اور فصاحت و بلاغت میں کوئی تفاوت ہے اور نہ کہیں اس کے جلال اور دبدبے میں کوئی کمی ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۸۲) دوسرے مقام پر قرآن کی بعض آیات کو محکم اور بعض کو {متشابه} کہا گیا ہے، اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۷)۔
➌ {” مَثَانِيَ “ ”ثَنٰي يَثْنِيْ“} ({رَمٰي يَرْمِيْ}) کے اسم مفعول {”مَثْنِيَّةٌ“} بروزن {”مَرْمِيَّةٌ“} کی جمع ہے، معنی دوہرا کرنا یا دہرانا ہے۔ یعنی اس کتاب کی آیات بار بار دہرائی جانے والی ہیں، جنھیں عقائد، احکام، قصص اور ترغیب و ترہیب کو ذہن نشین کرانے کے لیے بار بار، کہیں ایک ہی طرح اور کہیں مختلف انداز میں دہرایا گیا ہے، تاکہ خوب ذہن نشین ہو جائیں اور اگر ایک جگہ بات پوری طرح سمجھ میں نہ آئے تو دوسری جگہ خوب واضح ہو جائے۔ لطف یہ کہ نہ اس کے مختلف مضامین بار بار دہرانے سے طبیعت اکتاتی ہے اور نہ ہی کوئی ایک سورت یا آیت بار بار پڑھنے سے دل سیر ہوتا ہے۔ {” مَثَانِيَ “} کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ عموماً کسی بات کے ذکر کے ساتھ اس کے مقابل کا بھی ذکر ہے، مثلاً ایمان و کفر، جنت و جہنم، ابرار و فجار، ترغیب و ترہیب اور رحمت و عذاب وغیرہ۔
➍ {تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ …:} یعنی جب ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے جلال و قہر کا، یا اس کے عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو خوف کی وجہ سے اپنے رب سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر جب اس کی رحمت و مغفرت کا ذکر آتا ہے تو ان کے چمڑے اور دل امید کی بدولت نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف جھک جاتے ہیں۔ {” تَلِيْنُ “} کے ضمن میں {”تَمِيْلُ“} کا معنی ہونے کی وجہ سے اسے {” اِلٰى “} کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کیفیت کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۲تا۴)، مومنون (۵تا ۱۶) اور سورۂ مائدہ (۸۳، ۸۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک آیت دوسری کے مشابہ اور ایک حرف دوسرے سے ملتا جلتا۔ اس سورت کی آیتیں اس سورت سے اور اس کی اس سے ملی جلی۔ ایک ایک ذکر کئی کئی جگہ اور پھر بے اختلاف بعض آیتیں ایک ہی بیان میں بعض میں جو مذکور ہے اس کی ضد کا ذکر بھی انہیں کے ساتھ ہے مثلاً مومنوں کے ذکر کے ساتھ ہی کافروں کا ذکر، جنت کے ساتھ ہی دوزخ کا بیان وغیرہ۔
دیکھئیے ابرار کے ذکر کے ساتھ ہی فجار کا بیان ہے «إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ» [82-الانفطار:14،13]۔ سجین کے ساتھ ہی علیین کا بیان ہے «كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ» ۱؎ [83-المطففين:7] «كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ» ۱؎ [83-المطففين:18]۔ متقین کے ساتھ ہی طاعین کا بیان ہے «هَٰذَا ذِكْرٌ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآبٍ» ۱؎ [38-ص:49] «هَٰذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ» ۱؎ [38-ص:55]۔ ذکر جنت کے ساتھ ہی تذکرہ جہنم ہے۔
یعنی معنی ہیں مثانی کے اور متشابہ ان آیتوں کو کہتے ہیں وہ تو یہ ہے اور «ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ» ۱؎ [3-آل عمران:7] میں اور ہی معنی ہیں۔ اس کی پاک اور بااثر آیتوں کا مومنوں کے دل پر نور پڑتا ہے وہ انہیں سنتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں سزاؤں اور دھمکیوں کو سن کر ان کا کلیجہ کپکپانے لگتا ہے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انتہائی عاجزی اور بہت ہی بڑی گریہ و زاری سے ان کے دل اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اس کی رحمت و لطف پر نظریں ڈال کر امیدیں بندھ جاتی ہیں۔ ان کا حال سیاہ دلوں سے بالکل جداگانہ ہے۔ یہ رب کے کلام کو نیکیوں سے سنتے ہیں۔ وہ گانے بجانے پر سر دھنستے ہیں۔ یہ آیات قرآنی سے ایمان میں بڑھتے ہیں۔ وہ انہیں سن کر اور کفر کے زینے پر چڑھتے ہیں یہ روتے ہوئے سجدوں میں گر پڑتے ہیں۔ وہ مذاق اڑاتے ہوئے اکڑتے ہیں۔
فرمان قرآن ہے «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ» ۱؎ [8-الانفال:4-2]، یعنی ’ یاد الٰہی مومنوں کے دلوں کو دہلا دیتی ہے، وہ ایمان و توکل میں بڑھ جاتے ہیں، نماز و زکوٰۃ و خیرات کا خیال رکھتے ہیں، سچے با ایمان یہی ہیں، درجے، مغفرت اور بہترین روزیاں یہی پائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا» ۱؎ [25-الفرقان:73] یعنی ’ بھلے لوگ آیات قرآنیہ کو بہروں اندھوں کی طرح نہیں سنتے پڑھتے کہ ان کی طرف نہ تو صحیح توجہ ہو نہ ارادہ عمل ہو بلکہ یہ کان لگا کر سنتے ہیں دل لگا کر سمجھتے ہیں غور و فکر سے معانی اور مطلب تک رسائی حاصل کرتے ہیں ‘۔ اب توفیق ہاتھ آتی ہے سجدے میں گر پڑتے ہیں اور تعمیل کے لیے کمربستہ ہو جاتے ہیں۔ یہ خود اپنی سمجھ سے کام کرنے والے ہوتے ہیں دوسروں کی دیکھا دیکھی جہالت کے پیچھے پڑے نہیں رہتے۔
تیسرا وصف ان میں برخلاف دوسروں کے یہ ہے کہ قرآن کے سننے کے وقت با ادب رہتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کی تلاوت سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جسم و روح ذکر اللہ کی طرف جھک آتے تھے ان میں خشوع و خضوع پیدا ہو جاتا تھا لیکن یہ نہ تھا کہ چیخنے چلانے اور ہاہڑک کرنے لگیں اور اپنی صوفیت جتائیں بلکہ ثبات سکون ادب اور خشیت کے ساتھ کلام اللہ سنتے دل جمعی اور سکون حاصل کرتے اسی وجہ سے مستحق تعریف اور سزاوار توصیف ہوئے رضی اللہ عنہم۔
پھر فرماتا ہے ’ یہ ہیں صفتیں ان لوگوں کی جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے۔ ان کے خلاف جنہیں پاؤ سمجھ لو کہ اللہ نے انہیں گمراہ کر دیا ہے اور یقین رکھو کہ رب جنہیں ہدایت دینا چاہیئے انہیں کوئی راہ راست نہیں دکھا سکتا ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن كتابه الذي نزَّله أنَّه أحسنُ {الحديث} على الإطلاق؛ فأحسنُ الحديث كلامُ الله، وأحسنُ الكتبِ المنزلةِ من كلام الله هذا القرآن، وإذا كان هو الأحسنَ؛ عُلِمَ أنَّ ألفاظه أفصحُ الألفاظ وأوضحُها، وأنَّ معانِيَه أجلُّ المعاني؛ لأنَّه أحسنُ الحديث في لفظه ومعناه. {متشابهاً}: في الحسن والائتلاف وعدم الاختلاف بوجهٍ من الوجوه، حتى إنه كلَّما تدبَّره المتدبِّر وتفكَّر فيه المتفكِّر؛ رأى من اتِّفاقه ـ حتى في معانيه الغامضة ـ ما يُبْهِرُ الناظرين ويجزم بأنَّه لا يصدُرُ إلاَّ من حكيم عليم، هذا المراد بالتَّشابُهِ في هذا الموضع، وأما في قوله تعالى: {هو الذي أنْزَلَ عليك الكتابَ منه آياتٌ محكماتٌ هنَّ أمُّ الكتابِ وأخَرُ متشابهاتٌ}؛ فالمرادُ بها: التي تشتبهُ على فهوم كثيرٍ من الناس، ولا يزول هذا الاشتباه إلاَّ بردِّها إلى المحكم، ولهذا قال: {منه آياتٌ محكماتٌ هنَّ أمُّ الكتاب وأخَرُ متشابهاتٌ}: فجعل التشابه لبعضِهِ، وهنا جَعَلَه كلَّه متشابهاً؛ أي: في حسنه؛ لأنه قال: {أحسنَ الحديثِ}، وهو سورٌ وآياتٌ، والجميعُ يشبِهُ بعضُه بعضاً؛ كما ذكرنا. {مثانيَ}؛ أي: تُثَنَّى فيه القصصُ والأحكامُ والوعدُ والوعيدُ وصفاتُ أهل الخير وصفاتُ أهل الشرِّ، وتُثَنَّى فيه أسماءُ الله وصفاتُه، وهذا من جلالتِهِ وحسنِهِ؛ فإنَّه تعالى لمَّا عَلِمَ احتياجَ الخلقِ إلى معانيه المزكِّية للقلوب المكمِّلة للأخلاق، وأنَّ تلك المعاني للقلوب بمنزلة الماء لسقي الأشجار؛ فكما أنَّ الأشجار كلَّما بَعُدَ عهدُها بسقي الماء؛ نقصت، بل ربَّما تَلِفَتْ، وكلَّما تكرَّر سقيُها؛ حَسُنَتْ وأثمرتْ أنواع الثمارِ النافعةِ؛ فكذلك القلبُ يحتاجُ دائماً إلى تكرُّر معاني كلام الله تعالى عليه، وأنَّه لو تكرَّر عليه المعنى مرةً واحدةً في جميع القرآن؛ لم يقعْ منه موقعاً، ولم تحصُلِ النتيجةُ منه.
ولهذا سلكتُ في هذا التفسير هذا المسلكَ الكريم؛ اقتداءً بما هو تفسيرٌ له؛ فلا تجدُ فيه الحوالةَ على موضع من المواضع، بل كلُّ موضع تجدُ تفسيرَه كاملَ المعنى غيرَ مراع لما مضى مما يُشْبِهُهُ، وإنْ كان بعضُ المواضع يكون أبسطَ من بعضٍ وأكثرَ فائدة، وهكذا ينبغي للقارئ للقرآنِ المتدبِّر لمعانيه أن لا يَدَعَ التدبُّرَ في جميع المواضع منه؛ فإنَّه يحصُلُ له بسبب ذلك خيرٌ كثيرٌ ونفعٌ غزيرٌ. ولما كان القرآنُ العظيمُ بهذه الجلالة والعظمةِ؛ أثَّر في قلوب أولي الألباب المهتدين؛ فلهذا قال تعالى: {تَقْشَعِرُّ منه جلودُ الذين يَخْشَوْنَ ربَّهم}: لما فيه من التخويف والترهيب المزعج، {ثمَّ تَلينُ جلودُهم وقلوبُهم إلى ذِكْرِ اللَّهِ}؛ أي: عند ذكر الرجاء والترغيب؛ فهو تارةً يرغِّبُهم لعمل الخير، وتارةً يرهِّبُهم من عمل الشر. {ذلك}: الذي ذكره الله من تأثير القرآن فيهم {هدى الله}؛ أي: هدايةٌ منه لعباده، وهو من جملة فضله وإحسانه عليهم، {يَهْدي به}؛ أي: بسبب ذلك {مَن يشاءُ} من عبادِهِ. ويُحْتَمَلُ أنَّ المرادَ بقوله: {ذلك}؛ أي: القرآن الذي وَصَفْناه لكم {هدى الله}: الذي لا طريقَ يوصِلُ إلى الله إلاَّ منه. {يَهْدي به مَن يَشاءُ} من عبادِهِ، ممَّن حَسُنَ قصدُه؛ كما قال تعالى: {يَهْدِي بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوانَه سُبُلَ السلام}. {ومَن يُضْلِلِ اللهُ فما لَهُ من هادٍ}: لأنَّه لا طريق يوصِلُ إليه إلاَّ توفيقُه، والتوفيقُ للإقبال على كتابِهِ، فإذا لم يحصُلُ هذا؛ فلا سبيل إلى الهدى، وما هو إلاَّ الضلالُ المبين والشقاء.