اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَ قُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۲۳﴾
اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے، (ایسی آیات )جو باربار دہرائی جانے والی ہیں، اس سے ان لوگوں کی کھالوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، جس کے ساتھ وہ جسے چاہتا ہے راہ پر لے آتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔
En
خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں۔ یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں
En
اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے، جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں، یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ہدایت جس کے ذریعہ جسے چاہے راه راست پر لگا دیتا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ ہی راه بھلا دے اس کا ہادی کوئی نہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 23) ➊ { اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ …:” نَزَّلَ “} کے مفہوم میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنا پایا جاتا ہے، جیساکہ فرمایا: «وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» [بني إسرائیل: ۱۰۶] ”اور عظیم قرآن، ہم نے اس کو جدا جدا کرکے (نازل) کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے نازل کیا، (تھوڑا تھوڑا) نازل کرنا۔“ {” اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ “} سے مراد اللہ کا کلام ہے، کیونکہ مخلوق کا کلام کبھی بھی خالق کے کلام جیسے حسن والا نہیں ہو سکتا اور نہ مخلوق اس کی مثال پیش کر سکتی ہے۔ (دیکھیے سورۂ بقرہ: ۲۳، ۲۴){ ” الْحَدِيْثِ “} کا معنی ”نئی“ ہے، چونکہ بات بھی نئی ہوتی ہے، اس لیے اسے ”حدیث“ کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے کلام کرتا ہے اور اس کا کلام حدیث اور محدث (نیا) ہوتا ہے۔ (دیکھیے سورۂ انبیاء: ۲۔ شعراء: ۵) بعض لوگوں نے یونانی فلسفیوں کا یہ قاعدہ تسلیم کر لیا کہ ہر محل حوادث حادث ہوتا ہے، یعنی جس سے کوئی نئی چیز صادر ہو وہ ہمیشہ سے موجود ہستی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سننے، دیکھنے، اترنے چڑھنے، کلام کرنے، ہنسنے، غرض بے شمار صفات کا انکار کر دیا، یا ان کی تاویل کی، حالانکہ یہ قاعدہ قرآن کریم کے صریح خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس کے باوجود وہ سمیع بھی ہے بصیر بھی، خالق بھی ہے رزاق بھی، خوش بھی ہوتا ہے ناراض بھی اور کلام بھی کرتا ہے اور ظاہر ہے کلام الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے، جن میں ترتیب اور حدوث پایا جاتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہر آن نئی سے نئی حالت اور نئی سے نئی شان میں ہے، فرمایا: «يَسْـَٔلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ» [الرحمٰن: ۲۹] ” اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔“
یونانی فلسفی چونکہ آسمانی ہدایت کی روشنی سے محروم تھے، اس لیے ان کا فلسفہ قرآن و حدیث سے متصادم ہے اور ان کے ماننے والے قرآن و حدیث پر ایمان کے دعوے کے باوجود ان میں مذکور صفات الٰہی کو ماننے سے دل میں شدید تنگی محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو صریح تحریف ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۴۳)، توبہ (۶)، کہف (۱۰۹)، انبیاء (۲) اور سورۂ شعراء (۵)۔
➋ { كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا:} اس مقام پر پورے قرآن کو{ ” كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا “} کہا گیا ہے، یعنی قرآن مجید کی تمام آیات مضامین و معانی میں، تمام خبروں کے سچا ہونے اور تمام احکام کے حق ہونے میں ایک دوسری سے ملتی جلتی اور ایک دوسری کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ اگر ایک جگہ بات مختصر ہے تو دوسری جگہ مفصل ہے، کہیں بھی کوئی اختلاف یا تناقض نہیں ہے، فرمایا: «وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا» [النساء: ۸۲] ”اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔“ اسی طرح فصاحت و بلاغت اور حسن و خوبی میں بھی سب ایک جیسی ہیں۔ تیئیس (۲۳) سالوں کے طویل عرصہ میں تھوڑی تھوڑی آیات نازل ہونے کے باوجود کسی بھی مقام پر نہ ان کی حسن و خوبی اور فصاحت و بلاغت میں کوئی تفاوت ہے اور نہ کہیں اس کے جلال اور دبدبے میں کوئی کمی ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۸۲) دوسرے مقام پر قرآن کی بعض آیات کو محکم اور بعض کو {متشابه} کہا گیا ہے، اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۷)۔
➌ {” مَثَانِيَ “ ”ثَنٰي يَثْنِيْ“} ({رَمٰي يَرْمِيْ}) کے اسم مفعول {”مَثْنِيَّةٌ“} بروزن {”مَرْمِيَّةٌ“} کی جمع ہے، معنی دوہرا کرنا یا دہرانا ہے۔ یعنی اس کتاب کی آیات بار بار دہرائی جانے والی ہیں، جنھیں عقائد، احکام، قصص اور ترغیب و ترہیب کو ذہن نشین کرانے کے لیے بار بار، کہیں ایک ہی طرح اور کہیں مختلف انداز میں دہرایا گیا ہے، تاکہ خوب ذہن نشین ہو جائیں اور اگر ایک جگہ بات پوری طرح سمجھ میں نہ آئے تو دوسری جگہ خوب واضح ہو جائے۔ لطف یہ کہ نہ اس کے مختلف مضامین بار بار دہرانے سے طبیعت اکتاتی ہے اور نہ ہی کوئی ایک سورت یا آیت بار بار پڑھنے سے دل سیر ہوتا ہے۔ {” مَثَانِيَ “} کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ عموماً کسی بات کے ذکر کے ساتھ اس کے مقابل کا بھی ذکر ہے، مثلاً ایمان و کفر، جنت و جہنم، ابرار و فجار، ترغیب و ترہیب اور رحمت و عذاب وغیرہ۔
➍ {تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ …:} یعنی جب ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے جلال و قہر کا، یا اس کے عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو خوف کی وجہ سے اپنے رب سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر جب اس کی رحمت و مغفرت کا ذکر آتا ہے تو ان کے چمڑے اور دل امید کی بدولت نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف جھک جاتے ہیں۔ {” تَلِيْنُ “} کے ضمن میں {”تَمِيْلُ“} کا معنی ہونے کی وجہ سے اسے {” اِلٰى “} کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کیفیت کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۲تا۴)، مومنون (۵تا ۱۶) اور سورۂ مائدہ (۸۳، ۸۴)۔
یونانی فلسفی چونکہ آسمانی ہدایت کی روشنی سے محروم تھے، اس لیے ان کا فلسفہ قرآن و حدیث سے متصادم ہے اور ان کے ماننے والے قرآن و حدیث پر ایمان کے دعوے کے باوجود ان میں مذکور صفات الٰہی کو ماننے سے دل میں شدید تنگی محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو صریح تحریف ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۴۳)، توبہ (۶)، کہف (۱۰۹)، انبیاء (۲) اور سورۂ شعراء (۵)۔
➋ { كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا:} اس مقام پر پورے قرآن کو{ ” كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا “} کہا گیا ہے، یعنی قرآن مجید کی تمام آیات مضامین و معانی میں، تمام خبروں کے سچا ہونے اور تمام احکام کے حق ہونے میں ایک دوسری سے ملتی جلتی اور ایک دوسری کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔ اگر ایک جگہ بات مختصر ہے تو دوسری جگہ مفصل ہے، کہیں بھی کوئی اختلاف یا تناقض نہیں ہے، فرمایا: «وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا» [النساء: ۸۲] ”اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔“ اسی طرح فصاحت و بلاغت اور حسن و خوبی میں بھی سب ایک جیسی ہیں۔ تیئیس (۲۳) سالوں کے طویل عرصہ میں تھوڑی تھوڑی آیات نازل ہونے کے باوجود کسی بھی مقام پر نہ ان کی حسن و خوبی اور فصاحت و بلاغت میں کوئی تفاوت ہے اور نہ کہیں اس کے جلال اور دبدبے میں کوئی کمی ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۸۲) دوسرے مقام پر قرآن کی بعض آیات کو محکم اور بعض کو {متشابه} کہا گیا ہے، اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۷)۔
➌ {” مَثَانِيَ “ ”ثَنٰي يَثْنِيْ“} ({رَمٰي يَرْمِيْ}) کے اسم مفعول {”مَثْنِيَّةٌ“} بروزن {”مَرْمِيَّةٌ“} کی جمع ہے، معنی دوہرا کرنا یا دہرانا ہے۔ یعنی اس کتاب کی آیات بار بار دہرائی جانے والی ہیں، جنھیں عقائد، احکام، قصص اور ترغیب و ترہیب کو ذہن نشین کرانے کے لیے بار بار، کہیں ایک ہی طرح اور کہیں مختلف انداز میں دہرایا گیا ہے، تاکہ خوب ذہن نشین ہو جائیں اور اگر ایک جگہ بات پوری طرح سمجھ میں نہ آئے تو دوسری جگہ خوب واضح ہو جائے۔ لطف یہ کہ نہ اس کے مختلف مضامین بار بار دہرانے سے طبیعت اکتاتی ہے اور نہ ہی کوئی ایک سورت یا آیت بار بار پڑھنے سے دل سیر ہوتا ہے۔ {” مَثَانِيَ “} کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ عموماً کسی بات کے ذکر کے ساتھ اس کے مقابل کا بھی ذکر ہے، مثلاً ایمان و کفر، جنت و جہنم، ابرار و فجار، ترغیب و ترہیب اور رحمت و عذاب وغیرہ۔
➍ {تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ …:} یعنی جب ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے جلال و قہر کا، یا اس کے عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو خوف کی وجہ سے اپنے رب سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، پھر جب اس کی رحمت و مغفرت کا ذکر آتا ہے تو ان کے چمڑے اور دل امید کی بدولت نرم ہو کر اللہ کی یاد کی طرف جھک جاتے ہیں۔ {” تَلِيْنُ “} کے ضمن میں {”تَمِيْلُ“} کا معنی ہونے کی وجہ سے اسے {” اِلٰى “} کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کیفیت کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۲تا۴)، مومنون (۵تا ۱۶) اور سورۂ مائدہ (۸۳، ۸۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23۔ 1 اَحْسَنُ الْحَدِیْثِ سے مراد قرآن مجید ہے، ملتی جلتی کا مطلب، اس کے سارے حصے حسن کلام، اعجاز و بلاغت صحت معانی وغیرہ خوبیوں میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یا یہ بھی سابقہ کتب آسمانی سے ملتا ہے یعنی ان کے مشابہ ہے مثانی، جس میں قصص و واقعات اور مواعظ و احکام کو بار بار دہرایا گیا ہے۔ 23۔ 2 کیونکہ وہ ان وعیدوں کو اور تخویف و تہدید کو سمجھتے ہیں جو نافرمانوں کے لئے اس میں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ اللہ نے بہترین کلام نازل [36] کیا جو ایسی کتاب ہے جس کے مضامین ملتے جلتے [37] اور بار بار دہرائے [38] جاتے ہیں۔ جن سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کی جلدیں اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب [39] ہو جاتے ہیں۔ یہی اللہ کی ہدایت ہے، وہ جسے چاہتا ہے۔ اس (قرآن) کے ذریعہ راہ راست پر لے آتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔
[36] قرآن بہترین کلام کیسے ہے؟
قرآن بہترین کلام اس لحاظ سے ہے کہ اس کی آیات ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں۔ اس کا انداز بیان دلنشین ہے۔ اس کے دلائل عام فہم ہیں۔ جن سے ایک دیہاتی بھی ایسے ہی مستفید ہو سکتا ہے جیسے ایک جید عالم، اور اس کے احکام وفرامین دنیا میں بہترین زندگی گزارنے کا راستہ بتاتے ہیں۔ نیز اس کے احکام محض نظریاتی نہیں بلکہ سب قابل عمل ہیں اور اگر ان پر عمل کیا جائے تو اخروی فلاح کے ضامن ہیں۔ اور یہ سب خوبیاں اللہ کے کلام کے علاوہ دوسرے کسی کے کلام میں نہیں ہو سکتیں۔
[37] ملتی جلتی آیات سے مراد؟
یعنی قرآن میں ایک مضمون اگر بیس مقامات پر آیا ہے تو بھی اس میں اختلاف اور تضاد واقع نہیں ہوتا۔ اندازِ بیان اور اختلاف الفاظ کے باوجود ایک جگہ کا مضمون دوسری جگہ کے مضمون کی تائید و توثیق ہی کرتا ہے۔ جس سے بات پوری طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے اسی لئے کہتے ہیں کہ: ﴿إنَّ الْقُرْآنَ يُفَسِّرُ بَعَضَه بَعْضًا﴾ یہ تو ممکن ہے کہ ایک جگہ اجمال ہو اور دوسری جگہ تفصیل۔ مگر اختلاف اور تضاد واقع نہیں ہوتا۔ مثلاً قرآن نے ایک حکم دیا ہے کہ کسی غیرمسلم کو اپنا دلی دوست اور راز دار نہ بناؤ، تو کسی جگہ آپ کو یہ بات نہیں ملے گی کہ سیاست میں کوئی بات یا کوئی اصول حرف آخر نہیں ہوتا۔
[38] مثانی سے مراد کیسی آیات ہیں :۔
مثانی سے مراد ایک تو ایسی آیات ہیں جو بار بار پڑھی اور دہرائی جاتی ہیں۔ اسی لحاظ سے سورۃ فاتحہ کو سبع من المثانی کہا گیا ہے کہ یہ سورت کم از کم نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔ پھر نماز کے علاوہ بھی پڑھی جاتی ہے۔ دوسری مراد وہ آیات ہیں جو قرآن میں بہ تکرار وارد ہیں۔ مثلاً ﴿وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِيْنَ﴾ یا ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآن للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ یا ﴿فَبِايِّ اٰلاَءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ اور ایسی آیات جو دو دو یا تین بار وارد ہیں وہ بہت ہیں۔ تیسری مراد اقوام سابقہ کے انجام سے خبردار کرنے والی آیات یا انبیاء کے قصص ہیں جو قرآن میں بار بار مختلف پیرایوں میں مذکور ہوئے ہیں۔ ایسے ہی شرک کے ابطال اور توحید کے دلائل ہر سورۃ کی بے شمار آیات میں مذکور ہیں۔ جو سب ایک دوسری کی تائید کرتی ہیں اور چوتھی مراد ایسی آیات ہیں جن میں نوعی تقابل پایا جاتا ہے۔ مثلاً جہاں اہل جنت کا ذکر ہے وہاں اہل دوزخ کا ذکر بھی آجاتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ جہاں رات کا ذکر ہے وہاں دن کا بھی ذکر ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ کی صفت قہار کا ذکر ہے تو اگلی آیت میں صفت غفار یا غفور کا بھی ذکر آگیا ہے۔
[39] قرآن سننے پر حال پڑنا محض ریا کاری ہے :۔
سیدنا عبد اللہؓ بن زبیر نے اپنی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب قرآن پڑھا جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا کیا حال ہوتا تھا۔ وہ کہنے لگیں کہ ”ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور بدن پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے“ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ”ہمارے زمانہ میں تو بعض لوگ ایسے ہیں کہ قرآن سننے سے ان کو غش آجاتا ہے“ سیدہ اسماء نے کہا ”اللہ کی پناہ شیطان مردود سے“ اور جلدوں اور دلوں کے نرم پڑنے کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑی خوش دلی اور رغبت کے ساتھ اللہ کی عبادت بجا لاتے ہیں۔ یہ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان لوگوں کی صفات ہیں جو فی الواقع قرآن کی تاثیر قبول کرتے ہیں۔ پھر کچھ لوگوں نے تصنع سے ایسے طریقے ایجاد کر لئے کہ قرآن سننے سے غش آجائے اور وہ گر پڑیں جسے ہماری زبان میں حال پڑنا یا حال کھیلنا کہتے ہیں۔ ریا کار اور مصنوعی پیر قسم کے لوگ عام لوگوں پر اپنی بزرگی کی دھاک بٹھانے کے لئے ایسے کام کرتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عراق کے ایک ایسے شخص پر سے گزرے جو مدہوش گرا ہوا تھا۔ انہوں نے پوچھا: ”اسے کیا ہوا؟“ لوگوں نے کہا:”جب یہ قرآن سنتا ہے تو اس کا یہی حال ہو جاتا ہے“ سیدنا عبد اللہ کہنے لگے: ہم بھی اللہ سے ڈرتے ہیں مگر گرتے نہیں اور ایسے لوگوں کے پیٹ میں شیطان ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا یہ طریقہ نہ تھا اور ابن سیرین سے کسی نے پوچھا: ”کچھ لوگ قرآن سن کر گر جاتے ہیں۔“ انہوں نے کہا: ایسے لوگوں کو ایک چھت پر اس طرح بٹھاؤ کہ وہ نیچے کی طرف دیوار کے ساتھ پاؤں لٹکائے ہوئے ہوں پھر انہیں قرآن سناؤ۔ اگر وہ نیچے گر پڑیں تب وہ سچے ہیں ورنہ وہ جھوٹے اور ریا کار ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قرآن حکیم کی تاثیر ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی اس کتاب قرآن کریم کی تعریف میں فرماتا ہے کہ ’ اس بہترین کتاب کو اس نے نازل فرمایا ہے جو سب کی سب متشابہ ہیں اور جس کی آیتیں مکرر ہیں تاکہ فہم سے قریب تر ہو جائے ‘۔
ایک آیت دوسری کے مشابہ اور ایک حرف دوسرے سے ملتا جلتا۔ اس سورت کی آیتیں اس سورت سے اور اس کی اس سے ملی جلی۔ ایک ایک ذکر کئی کئی جگہ اور پھر بے اختلاف بعض آیتیں ایک ہی بیان میں بعض میں جو مذکور ہے اس کی ضد کا ذکر بھی انہیں کے ساتھ ہے مثلاً مومنوں کے ذکر کے ساتھ ہی کافروں کا ذکر، جنت کے ساتھ ہی دوزخ کا بیان وغیرہ۔
دیکھئیے ابرار کے ذکر کے ساتھ ہی فجار کا بیان ہے «إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ» [82-الانفطار:14،13]۔ سجین کے ساتھ ہی علیین کا بیان ہے «كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ» ۱؎ [83-المطففين:7] «كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ» ۱؎ [83-المطففين:18]۔ متقین کے ساتھ ہی طاعین کا بیان ہے «هَٰذَا ذِكْرٌ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآبٍ» ۱؎ [38-ص:49] «هَٰذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ» ۱؎ [38-ص:55]۔ ذکر جنت کے ساتھ ہی تذکرہ جہنم ہے۔
یعنی معنی ہیں مثانی کے اور متشابہ ان آیتوں کو کہتے ہیں وہ تو یہ ہے اور «ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ» ۱؎ [3-آل عمران:7] میں اور ہی معنی ہیں۔ اس کی پاک اور بااثر آیتوں کا مومنوں کے دل پر نور پڑتا ہے وہ انہیں سنتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں سزاؤں اور دھمکیوں کو سن کر ان کا کلیجہ کپکپانے لگتا ہے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انتہائی عاجزی اور بہت ہی بڑی گریہ و زاری سے ان کے دل اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اس کی رحمت و لطف پر نظریں ڈال کر امیدیں بندھ جاتی ہیں۔ ان کا حال سیاہ دلوں سے بالکل جداگانہ ہے۔ یہ رب کے کلام کو نیکیوں سے سنتے ہیں۔ وہ گانے بجانے پر سر دھنستے ہیں۔ یہ آیات قرآنی سے ایمان میں بڑھتے ہیں۔ وہ انہیں سن کر اور کفر کے زینے پر چڑھتے ہیں یہ روتے ہوئے سجدوں میں گر پڑتے ہیں۔ وہ مذاق اڑاتے ہوئے اکڑتے ہیں۔
فرمان قرآن ہے «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ» ۱؎ [8-الانفال:4-2]، یعنی ’ یاد الٰہی مومنوں کے دلوں کو دہلا دیتی ہے، وہ ایمان و توکل میں بڑھ جاتے ہیں، نماز و زکوٰۃ و خیرات کا خیال رکھتے ہیں، سچے با ایمان یہی ہیں، درجے، مغفرت اور بہترین روزیاں یہی پائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا» ۱؎ [25-الفرقان:73] یعنی ’ بھلے لوگ آیات قرآنیہ کو بہروں اندھوں کی طرح نہیں سنتے پڑھتے کہ ان کی طرف نہ تو صحیح توجہ ہو نہ ارادہ عمل ہو بلکہ یہ کان لگا کر سنتے ہیں دل لگا کر سمجھتے ہیں غور و فکر سے معانی اور مطلب تک رسائی حاصل کرتے ہیں ‘۔ اب توفیق ہاتھ آتی ہے سجدے میں گر پڑتے ہیں اور تعمیل کے لیے کمربستہ ہو جاتے ہیں۔ یہ خود اپنی سمجھ سے کام کرنے والے ہوتے ہیں دوسروں کی دیکھا دیکھی جہالت کے پیچھے پڑے نہیں رہتے۔
تیسرا وصف ان میں برخلاف دوسروں کے یہ ہے کہ قرآن کے سننے کے وقت با ادب رہتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کی تلاوت سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جسم و روح ذکر اللہ کی طرف جھک آتے تھے ان میں خشوع و خضوع پیدا ہو جاتا تھا لیکن یہ نہ تھا کہ چیخنے چلانے اور ہاہڑک کرنے لگیں اور اپنی صوفیت جتائیں بلکہ ثبات سکون ادب اور خشیت کے ساتھ کلام اللہ سنتے دل جمعی اور سکون حاصل کرتے اسی وجہ سے مستحق تعریف اور سزاوار توصیف ہوئے رضی اللہ عنہم۔
ایک آیت دوسری کے مشابہ اور ایک حرف دوسرے سے ملتا جلتا۔ اس سورت کی آیتیں اس سورت سے اور اس کی اس سے ملی جلی۔ ایک ایک ذکر کئی کئی جگہ اور پھر بے اختلاف بعض آیتیں ایک ہی بیان میں بعض میں جو مذکور ہے اس کی ضد کا ذکر بھی انہیں کے ساتھ ہے مثلاً مومنوں کے ذکر کے ساتھ ہی کافروں کا ذکر، جنت کے ساتھ ہی دوزخ کا بیان وغیرہ۔
دیکھئیے ابرار کے ذکر کے ساتھ ہی فجار کا بیان ہے «إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ» [82-الانفطار:14،13]۔ سجین کے ساتھ ہی علیین کا بیان ہے «كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ» ۱؎ [83-المطففين:7] «كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ» ۱؎ [83-المطففين:18]۔ متقین کے ساتھ ہی طاعین کا بیان ہے «هَٰذَا ذِكْرٌ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآبٍ» ۱؎ [38-ص:49] «هَٰذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ» ۱؎ [38-ص:55]۔ ذکر جنت کے ساتھ ہی تذکرہ جہنم ہے۔
یعنی معنی ہیں مثانی کے اور متشابہ ان آیتوں کو کہتے ہیں وہ تو یہ ہے اور «ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ» ۱؎ [3-آل عمران:7] میں اور ہی معنی ہیں۔ اس کی پاک اور بااثر آیتوں کا مومنوں کے دل پر نور پڑتا ہے وہ انہیں سنتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں سزاؤں اور دھمکیوں کو سن کر ان کا کلیجہ کپکپانے لگتا ہے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انتہائی عاجزی اور بہت ہی بڑی گریہ و زاری سے ان کے دل اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اس کی رحمت و لطف پر نظریں ڈال کر امیدیں بندھ جاتی ہیں۔ ان کا حال سیاہ دلوں سے بالکل جداگانہ ہے۔ یہ رب کے کلام کو نیکیوں سے سنتے ہیں۔ وہ گانے بجانے پر سر دھنستے ہیں۔ یہ آیات قرآنی سے ایمان میں بڑھتے ہیں۔ وہ انہیں سن کر اور کفر کے زینے پر چڑھتے ہیں یہ روتے ہوئے سجدوں میں گر پڑتے ہیں۔ وہ مذاق اڑاتے ہوئے اکڑتے ہیں۔
فرمان قرآن ہے «اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ» ۱؎ [8-الانفال:4-2]، یعنی ’ یاد الٰہی مومنوں کے دلوں کو دہلا دیتی ہے، وہ ایمان و توکل میں بڑھ جاتے ہیں، نماز و زکوٰۃ و خیرات کا خیال رکھتے ہیں، سچے با ایمان یہی ہیں، درجے، مغفرت اور بہترین روزیاں یہی پائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمًّا وَعُمْيَانًا» ۱؎ [25-الفرقان:73] یعنی ’ بھلے لوگ آیات قرآنیہ کو بہروں اندھوں کی طرح نہیں سنتے پڑھتے کہ ان کی طرف نہ تو صحیح توجہ ہو نہ ارادہ عمل ہو بلکہ یہ کان لگا کر سنتے ہیں دل لگا کر سمجھتے ہیں غور و فکر سے معانی اور مطلب تک رسائی حاصل کرتے ہیں ‘۔ اب توفیق ہاتھ آتی ہے سجدے میں گر پڑتے ہیں اور تعمیل کے لیے کمربستہ ہو جاتے ہیں۔ یہ خود اپنی سمجھ سے کام کرنے والے ہوتے ہیں دوسروں کی دیکھا دیکھی جہالت کے پیچھے پڑے نہیں رہتے۔
تیسرا وصف ان میں برخلاف دوسروں کے یہ ہے کہ قرآن کے سننے کے وقت با ادب رہتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کی تلاوت سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جسم و روح ذکر اللہ کی طرف جھک آتے تھے ان میں خشوع و خضوع پیدا ہو جاتا تھا لیکن یہ نہ تھا کہ چیخنے چلانے اور ہاہڑک کرنے لگیں اور اپنی صوفیت جتائیں بلکہ ثبات سکون ادب اور خشیت کے ساتھ کلام اللہ سنتے دل جمعی اور سکون حاصل کرتے اسی وجہ سے مستحق تعریف اور سزاوار توصیف ہوئے رضی اللہ عنہم۔
عبدالرزاق میں ہے کہ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اولیاء اللہ کی صفت یہی ہے کہ قرآن سن کر ان کے دل موم ہو جائیں اور ذکر اللہ کی طرف وہ جھک جائیں ان کے دل ڈر جائیں ان کی آنکھیں آنسو بہائیں اور طبیعت میں سکون پیدا ہو جائے۔ یہ نہیں کہ عقل جاتی رہے حالت طاری ہو جائے۔ نیک و بد کا ہوش نہ رہے۔ یہ بدعتیوں کے افعال ہیں کہ ہا ہو کرنے لگتے ہیں اور کودتے اچھلتے اور پکڑے پھاڑتے ہیں یہ شیطانی حرکت ہے۔ ذکر اللہ سے مراد وعدہ اللہ بھی بیان کیا گیا ہے۔“
پھر فرماتا ہے ’ یہ ہیں صفتیں ان لوگوں کی جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے۔ ان کے خلاف جنہیں پاؤ سمجھ لو کہ اللہ نے انہیں گمراہ کر دیا ہے اور یقین رکھو کہ رب جنہیں ہدایت دینا چاہیئے انہیں کوئی راہ راست نہیں دکھا سکتا ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ یہ ہیں صفتیں ان لوگوں کی جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے۔ ان کے خلاف جنہیں پاؤ سمجھ لو کہ اللہ نے انہیں گمراہ کر دیا ہے اور یقین رکھو کہ رب جنہیں ہدایت دینا چاہیئے انہیں کوئی راہ راست نہیں دکھا سکتا ‘۔