تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ آگ کے عذاب اور ہمیشہ ہمیشہ کی جنت کے ذکر کے ساتھ ہی دنیا کی زندگی کی زیب و زینت اور خوش حالی کے عارضی اور نا پائیدار ہونے کا ذکر فرمایا۔ آسمان سے اترنے والے پانی کے ساتھ پیدا ہونے والی کھیتی کا جو حال اس آیت میں بیان ہوا ہے یہی حال انسان کا ہے، وہ پہلے بچہ ہوتا ہے، پھر جوان ہوتا ہے، پھر پختہ ہو کر بوڑھا ہو جاتا ہے، آخر کار دنیا سے سدھار جاتا ہے۔ دنیا کی ہر چیز کا یہی حال ہے، اس کی سب زینتیں عارضی اور چند روزہ ہیں، اس کے ہر کمال کو زوال ہے اور اس کی ہر چیز کو آخر کار فنا ہونا ہے۔ اس آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۲۴)، کہف (۴۵) اور حدید (۲۰)۔
➌ {ثُمَّ يُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ:} مختلف رنگوں سے مراد مختلف رنگ بھی ہیں، مثلاً سبز، سرخ، زرد وغیرہ اور مختلف قسمیں بھی، مثلاً گندم، جَو اور چنے وغیرہ۔ یہ دلیل ہے کہ ایک ہی پانی اور ایک ہی زمین سے مختلف رنگوں اور ذائقوں کی کھیتیاں پیدا کرنا اندھے بہرے مادے کا کام نہیں، بلکہ ایک قادر و مختار ہستی کا کام ہے۔ دیکھیے سورۂ رعد (۴)۔
➍ {ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا: ”هَاجَ يَهِيْجُ هَيْجًا وَ هِيَاجًا وَ هَيْجَانًا الشَّيْءُ“} کسی چیز کا ابھرنا، حرکت کرنا۔ {”هَاجَ النَّبْتُ“} کھیتی کا خشک ہونا۔
➎ { ثُمَّ يَجْعَلُهٗ حُطَامًا:” حَطِمَ } (س) {الشَّيْءُ حَطَمًا“} کسی چیز کا ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جانا۔ {” حُطَامًا “ ”فُتَاتًا“} کا ہم وزن اور ہم معنی ہے، ریزہ ریزہ شدہ، چورا۔ اس آیت میں {” ثُمَّ يَجْعَلُهٗ حُطَامًا “} (پھر وہ اسے چورا بنا دیتا ہے) فرمایا، جب کہ سورۂ حدید میں فرمایا: «ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا» [الحدید: ۲۰] ”پھر وہ چورا بن جاتی ہے۔“ یہ فرق اس لیے ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت و صنعت کی بات ہو رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر اسے چشموں کی صورت میں زمین میں چلایا، پھر یہاں مختلف رنگوں کی کھیتی اُگانے اور اس کے پکنے کا ذکر ہے، اس لیے فرمایا، پھر وہ اسے چورا بنا دیتا ہے اور سورۂ حدید میں {” الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا “} (دنیا کی زندگی) سے بات کا آغاز ہوا ہے، اس لیے آخر میں فرمایا، پھر وہ چورا بن جاتی ہے۔
➏ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى …: ” لَذِكْرٰى “} میں تنکیر تعظیم کے لیے ہے، یعنی اس میں عقلوں والوں کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ ان کی زندگی بھی اس کھیتی کی طرح نا پائیدار اور فنا ہونے والی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا انھیں دوبارہ اسی طرح زندہ کر ے گا جس طرح وہ مردہ زمین کو پانی کے ذریعے سے زندہ کر دیتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آج ایک جوان اور خوبصورت نظر آتی ہے کل بڑھیا اور بدصورت ہو جاتی ہے۔ آج ایک شخص نوجوان طاقت مند ہے کل وہی بوڑھا کھوسٹ اور کمزور نظر آتا ہے۔ پھر آخر موت کے پنجے میں پھنستا ہے۔ پس عقلمند انجام پر نظر رکھیں بہتر وہ ہے جس کا انجام بہتر ہو۔
اکثر جگہ دنیا کی زندگی کی مثال بارش سے پیدا شدہ کھیتی کے ساتھ دے گئی ہے جیسے «وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا» ۱؎ [18-الكهف:45] میں ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ جس کا سینہ اسلام کے لیے کھل گیا، ذرا سوچو! جس نے رب کے پاس سے نور پا لیا وہ اور سخت سینے اور تنگ دل والا برابر ہو سکتا ہے۔ حق پر قائم اور حق سے دور یکساں ہو سکتے ہیں؟ ‘
جیسے فرمای ا «اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَجَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:122]، ’ وہ شخص جو مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کر دیا اور اسے نور عطا فرمایا جسے اپنے ساتھ لیے ہوئے لوگوں میں چل پھر رہا ہے اور یہ اور وہ جو اندھیریوں میں گھرا ہوا ہے جن سے چھٹکارا محال ہے۔ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ‘ پس یہاں بھی بطور نصیحت بیان فرمایا کہ ’ جن کے دل اللہ کے ذکر سے نرم نہیں پڑتے احکام الٰہی کو ماننے کے لیے نہیں کھلتے رب کے سامنے عاجزی نہیں کرتے بلکہ سنگدل اور سخت دل ہیں ان کے لیے ویل ہے خرابی اور افسوس و حسرت ہے یہ بالکل گمراہ ہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يُذَكِّرُ تعالى أولي الألباب ما أنزلَه من السماء من الماء، وأنَّه سلكه ينابيع في الأرض؛ أي: أودعه فيها ينبوعاً يُسْتَخْرَجُ بسهولةٍ ويسرٍ. {ثم يخرِجُ به زرعاً مختلفاً ألوانُهُ}: من بُرٍّ وذرةٍ وشعيرٍ وأرزٍّ وغير ذلك، {ثم يَهيجُ}: عند استكمالِهِ أو عند حدوث آفةٍ فيه، {فتراه مصفرًّا ثم يَجْعَلُه حطاماً}: متكسِّراً. {إنَّ في ذلك لَذِكْرى لأولي الألبابِ}: يذكرون به عنايةَ ربِّهم ورحمتَه بعبادِهِ، حيث يَسَّرَ لهم هذا الماء وخَزَنَه بخزائنِ الأرض تبعاً لمصالحهم، ويذكرون به كمالَ قدرتِهِ، وأنَّه يُحيي الموتى كما أحيا الأرض بعد موتِها، ويذكُرونَ به أنَّ الفاعلَ هو المستحقُّ للعبادة. اللهم! اجْعَلْنا من أولي الألباب، الذين نَوَّهْتَ بذِكْرِهم، وهديتَهم بما أعطيتَهم من العقول وأرَيْتَهم من أسرارِ كتابِكَ وبديع آياتِكَ ما لم يصِلْ إليه غيرُهم؛ إنَّك أنت الوهابُ.