(آیت 88) {وَلَتَعْلَمُنَّنَبَاَهٗبَعْدَحِيْنٍ:} یعنی قرآن مجید میں جو وعدے یا وعید آئے ہیں، یا اس نے آئندہ کے متعلق جو کچھ بتایا ہے ان کا حق ہونا کچھ وقت کے بعد دنیا میں دیکھ لو گے، جیسا کہ بدر اور دوسرے مواقع پر کفار نے دیکھ لیا، یا پھر موت کے بعد قیامت کے دن ہر حال میں دیکھ لو گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
88۔ 1 یعنی قرآن نے جن چیزوں کو بیان کیا ہے، جو وعدے وعید ذکر کئے ہیں، ان کی حقیقت و صداقت بہت جلد تمہارے سامنے آجائے گی۔ چناچہ اس کی صداقت یوم بدر کو واضح ہوئی، فتح مکہ کے دن ہوئی یا پھر موت کے وقت تو سب پر ہی واضح ہوجاتی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
88۔ کچھ مدت بعد تمہیں (خود ہی) اس خبر (کی صداقت) معلوم [77] ہو جائے گی۔
[77] یعنی قرآن کریم جس بات کی خبر دے رہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اسلام سر بلند ہو کے رہے گا اور اس کی دعوت کے مخالفوں کو مغلوب اور ذلیل و خوار ہونا پڑے گا۔ کافروں میں سے جو لوگ زندہ رہے وہ تو اپنی آنکھوں سے یہ انجام دیکھ لیں گے اور جو مر گئے ان کو موت کے دروازے سے گزرتے ہی اس حقیقت کا پتہ چل جائے گا کہ قرآن نے جو خبر دی تھی وہ ٹھوس حقیقت پر مبنی تھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔