اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۷﴾
نہیں ہے یہ مگر ایک نصیحت تمام جہانوں کے لیے۔
En
یہ قرآن تو اہل عالم کے لئے نصیحت ہے
En
یہ تو تمام جہان والوں کے لئے سراسر نصیحت (وعبرت) ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 87) {اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
87۔ 1 یعنی یہ قرآن، وحی یا وہ دعوت، جو میں پیش کر رہا ہوں، دنیا بھر کے انسانوں اور جنات کے لئے نصیحت ہے۔ بشرطیکہ کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے کا قصد کرے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
87۔ یہ قرآن تو جملہ اہل عالم کے لئے نصیحت ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کر دیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں، کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا جاتا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگو! جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہدے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لیے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے «لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّـهِ آلِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّا أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ» [6-الانعام: 19] تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ «وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» [11-هود: 17] جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے۔
میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گی یعنی مرتے ہی، قیامت کے قائم ہوتے ہی۔ موت کے وقت یقین آ جائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ «واللہ اعلم بالصواب» ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ ص کی تفسیم ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگو! جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہدے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ قرآن تمام انسانوں اور جنوں کے لیے نصیحت ہے جیسے اور آیت میں ہے «لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّـهِ آلِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّا أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ» [6-الانعام: 19] تاکہ میں تمہیں اور جن جن لوگوں تک یہ پہنچے آگاہ اور ہوشیار کر دوں اور آیت میں ہے کہ «وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» [11-هود: 17] جو شخص بھی اس سے کفر کرے وہ جہنمی ہے۔
میری باتوں کی حقیقت میرے کلام کی تصدیق میرے بیان کی سچائی میرے زبان کی صداقت تمہیں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گی یعنی مرتے ہی، قیامت کے قائم ہوتے ہی۔ موت کے وقت یقین آ جائے گا اور میری کہی ہوئی خبریں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔ «واللہ اعلم بالصواب» ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ ص کی تفسیم ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے انعام و احسان پر اس کا شکر ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنْ هُوَ ﴾ یعنی یہ وحی اور یہ قرآن ﴿اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ﴾ ”جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔“ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کے لیے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔
یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قرآن کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے نیز یہ سورۂ مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتدا میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لیے یاددہانی ہے، پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے، مثلاً: فرمایا ﴿وَاذْكُرْ عَبْدَنَاۤ ﴾ ”اور یاد کرو ہمارے بندے کو“ ﴿وَاذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ﴾ ”اور یاد کرو ہمارے بندوں کو“ ﴿رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَذِكْرٰى ﴾ ”یہ رحمت ہے ہمارے طرف سے اور نصیحت ہے“ ﴿هٰؔذَا ذِكْرُ ﴾ ”یہ نصیحت ہے۔“ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیز کو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنْ هو}؛ أي: هذا الوحي والقرآن {إلاَّ ذِكْرٌ للعالَمين}: يتذكَّرون به كلَّ ما ينفعُهم من مصالح دينهم ودُنياهم، فيكون شرفاً ورفعةً للعالمين به وإقامةَ حجَّة على المعاندين.
فهذه السورة العظيمة مشتملةٌ على الذِّكْر الحكيم، والنبأ العظيم، وإقامةِ الحُجَج والبراهين على مَنْ كذَّب بالقرآن، وعارَضَه، وكذَّب مَنْ جاء به، والإخبار عن عباد الله المخلَصين، وجزاء المتَّقين والطاغين؛ فلهذا أقسم في أولها بأنَّه ذو الذِّكْر، ووصفه في آخرها بأنَّه ذِكْرٌ للعالمين، وأكثَرَ التَّذْكيرَ بها فيما بين ذلك؛ كقوله: {واذْكُرْ عَبْدَنا}، {واذْكُرْ عِبَادَنا}، {رحمةً منّا وذِكْرى}، {هذا ذكرٌ}. اللهمَّ علِّمْنا منه ما جهلنا، وذكِّرْنا منه ما نَسينا نِسيانَ غفلةٍ ونسيان تركٍ.