اس آیت کی تفسیر آیت 84 میں تا آیت 86 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
85۔ کہ میں جہنم کو تجھ [75] سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو تیری پیروی کریں گے
[75] ”تجھ“ سے مراد ابلیس، اس کی اولاد اور اس کا پورا لاؤ لشکر ہے جو بنی آدم کو مختلف طرح کی گمراہیوں میں مبتلا کرنے میں مصروف ہے۔ انہیں صرف اپنے گناہوں کا ہی عذاب نہیں دیا جائے گا بلکہ بنی آدم سے جن لوگوں نے ان کی پیروی کی اور گناہ کرتے رہے ان کے گناہوں کا حصہ رسدی بھی انہیں بھگتنا ہو گا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ قصہ آدم و ابلیس اس لئے سنایا کہ وہ سوچ لیں کہ اللہ کی نافرمانی کرنے پر ابلیس کا کیا حشر ہوا اور اب جو وہ اللہ کے رسول کی نافرمانی کر رہے ہیں تو وہ بھی اپنے لئے ایسے ہی انجام کی امید رکھیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔