ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 75

قَالَ یٰۤاِبۡلِیۡسُ مَا مَنَعَکَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِیَدَیَّ ؕ اَسۡتَکۡبَرۡتَ اَمۡ کُنۡتَ مِنَ الۡعَالِیۡنَ ﴿۷۵﴾
فرمایا اے ابلیس!تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کے لیے سجدہ کرے جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا؟ کیا تو بڑا بن گیا، یا تھا ہی اونچے لوگوں میں سے ؟ En
خدا نے) فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اس کے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا۔ کیا تو غرور میں آگیا یا اونچے درجے والوں میں تھا؟
En
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجده کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 75تا85) ➊ { قَالَ يٰۤاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ:} اس آیت سے آدم علیہ السلام کا شرف اور ان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ میں نے اسے اپنے دو ہاتھوں سے بنایا۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تاویل کرتے ہیں، مگر جب خود اس نے اپنے ہاتھوں کا ذکر فرمایا ہے تو اس کا انکار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ تفصیل سورۂ مائدہ کی آیت (۶۴) میں اللہ تعالیٰ کے فرمان: «‏‏‏‏بَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ» ‏‏‏‏ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
➋ { اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ: اَسْتَكْبَرْتَ } اصل میں {أَ اِسْتَكْبَرْتَ} تھا، ہمزہ استفہام آنے کے بعد ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی، اس لیے اسے حذف کر دیا۔ تفصیل سورۂ حجر (۳۲ تا ۴۰) میں دیکھیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

75۔ 1 یہ بھی انسان کے شرف و عظمت کے اظہار کے لئے فرمایا، ورنہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

75۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: اے ابلیس! جس انسان کو میں نے اپنے ہاتھوں [70] سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کس بات نے روک دیا؟ کیا تو بڑا بننا چاہتا ہے یا تو ہے ہی اونچا درجہ رکھنے والوں [71] میں سے؟
[70] اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پاؤں:۔
اللہ تعالیٰ نے بڑی صراحت سے فرمایا کہ آدم کے پتلے کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔ اس سے کائنات کی تمام اشیاء پر آدمؑ اور بنی آدم کا شرف اور فضیلت ثابت ہوئی۔ دوسرے اس سے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کا رد ہوا۔ تیسرے ان لوگوں کا جو اللہ کے ہاتھ، آنکھیں اور پاؤں وغیرہ ہونے کے یکسر منکر ہیں۔ ان کی بنائے استدلال یہ ہے کہ اللہ کی ذات ہر جگہ موجود ہے تو اس کے ہاتھ پاؤں کیسے ہو سکتے ہیں لامحالہ ایسی آیات اور ایسے الفاظ کی تاویل کرنا ضروری ہے۔ جس کا جواب یہ ہے کہ اللہ اپنی صفات علم اور قدرت وغیرہ کے لحاظ سے ہر جگہ موجود ہے لیکن اس کی ذات عرش پر ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ خود اپنے ہاتھ، پاؤں اور آنکھوں کا صراحت سے ذکر کرتا ہے تو دوسرا کون اس سے بڑھ کر اس کی تنزیہہ کر سکتا ہے۔ خواہ اس نے اپنے ہاتھ، پاؤں وغیرہ کا ذکر ہمارے سمجھانے کے لئے کیا ہو تاہم کیا تو ہے۔ رہی یہ بات کہ اس کے ہاتھ، آنکھیں اور پاؤں کیسے ہیں۔ تو یہ بات ہم سمجھنے کے نہ مکلف ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں ہماری عافیت بس اس میں ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ فرمائے اسے جوں کا توں تسلیم کر لیں۔
[71] کیا تو اب بڑا بننا چاہتا ہے یا پہلے سے ہی یہ سمجھتا ہے کہ میں دوسروں سے کوئی برتر مخلوق ہوں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔