ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 67

قُلۡ ہُوَ نَبَؤٌا عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۶۷﴾
کہہ دے وہ ایک بہت بڑی خبر ہے ۔ En
کہہ دو کہ یہ ایک بڑی (ہولناک چیز کی) خبر ہے
En
آپ کہہ دیجئے کہ یہ بہت بڑی خبر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 68،67) {قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِيْمٌ …:} پچھلی آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے کا حکم دیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور معبود صرف اللہ ہے جو مذکورہ صفات کا مالک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اللہ کے عذاب سے اور قیامت سے ڈراتے تھے، جس پر وہ فوراً مطالبہ کرتے کہ وہ عذاب لاؤ، قیامت لے آؤ، یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ یہاں ان کا سوال ذکر کیے بغیر اس کا جواب دینے کا حکم دیا کہ ان سے کہہ دیجیے کہ وہ قیامت بہت بڑی خبر اور بہت بڑا واقعہ ہے جس سے تم منہ موڑنے والے ہو۔ رہا مجھ سے یہ سوال کہ وہ کب آئے گی؟ تو یہ بتانا میرا کام نہیں، قیامت تو بہت دور کی بات ہے، مجھے تو آسمانوں پر فرشتوں کی مجلس میں ہونے والی بات چیت اور بحث کا بھی کبھی علم نہیں ہوتا، سوائے اس کے جو میری طرف وحی کی جائے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

67۔ 1 یعنی میں تمہیں جس عذاب اخروی سے ڈرا رہا اور توحید کی دعوت دے رہا ہوں یہ بڑی خبر ہے، جس سے اعراض و غفلت نہ برتو، بلکہ اس پر توجہ دینے اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ آپ ان سے کہئے کہ: یہ ایک بہت بڑی خبر ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔